جنرل قمر جاوید باجوہ اور دینی مدارس کے طلبہ - غلام نبی مدنی

یہ جان کر نہایت خوشی ہوئی کہ دینی مدارس کے طلباء دینی علوم کے ساتھ ساتھ عصری علوم میں بھی اپنا لوہا منواتے نظر آرہے ہیں۔رواں سال مختلف عصری بورڈز سے اعلی پوزیشنیں لینے والےدینی مدارس کے طلباء وطالبات کے لیے جی ایچ کیو روالپنڈی میں ایک شاندار تقریبِ انعامات منعقد کی گئی۔ جس میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ،ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور اور دیگر فوجی افسران سمیت وفاق المدارس، اتحاد تنظیمات مدارس کے علماء کرام اور طلبہ کرام کی موجودگی میں پوزیشن حاصل کرنے والے طلبہ اور طالبات کو انعامات سے نوازا گیا۔ آرمی چیف جنرل قمر جاوید کی جانب سے دینی مدارس کے کردار کو سراہا گیا اور انہیں وطن عزیز پاکستان کی تعمیر وترقی کے لیے اہم ترین اثاثہ قراردیا گیا جو یقیناً لائق تحسین ہے۔

دیکھا جائے تو یہ تقریب کوئی عام تقریب نہیں تھی،مدارس کے طلبہ کرام کو پاکستان کے آرمی چیف جنرل قمر جاوید کے ہاتھوں اعزازات سے نوازا جانا اس بیانیے کی تائید ہی جو دینی مدارس قیام پاکستان سے دنیا کے سامنے بیان کرتے آرہے ہیں۔نائن الیون کے بعد جس طرح سے اسلام اور مسلمانوں بالخصوص ڈاڑھی پگڑی ٹوپی کو دہشت گرد ثابت کرنے کے لیے مغرب نے ایڑھی چوٹی کا زور لگایا، افغانستان عراق شام کو تباہ و برباد کیا پاکستان کو بدامنی سے دوچار کیا وہ سب کے سامنے ہے۔ نائن الیون جنگ کا اصل ہدف اسلام مسلمان اور پاکستان تھے،پھر پاکستان میں بھی دینی مدارس علماء کرام اور دین پسند لوگوں کو سب سے زیادہ ٹارگٹ کیا گیا۔لیکن الحمدللہ دینی مدارس علماء کرام اور دین پسندوں نے استقامت کے ساتھ مقابلہ کیا،پاکستان سے دین پسندوں اور علماء کو کاٹنے کے ہر حربے کو ناکام بنایا اور اپنی آزادی پہچان شناخت معیار اور مقصد کو زندہ رکھا جس پر اہل مدارس اور علماء کرام کو جتنی داد دی جائے کم ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   جنرل باجوہ کا پسندیدہ ترین سابق آرمی چیف کون؟

اس میں کوئی شک نہیں کہ اس وقت پاکستان کو کئی محاذوں پر جنگ کا سامنا ہے،سرحدوں پر جنگ سے زیادہ پاکستان کو اندرونی فکری جنگ کا سب سے زیادہ سامناہے جسے جدید زبان میں فیفتھ جنریشن وار فیئر کہا جاتاہے جو میڈیا کے ذریعے لڑی جارہی ہے۔پاکستانی قوم کو اپنی ریاست سے باغی کرنے کے لیے پراپیگنڈے ،جھوٹ، دھوکہ اور جعلسازی سے گھیرا جا رہا ہے۔ سوشل میڈیا اس کا سب سے بڑا پلیٹ فارم ہے جہاں جھوٹی خبروں اور پراپیگنڈوں کے ذریعے قوم کے ذہنوں کو کنٹرول کیا جا رہا ہے۔ ہائبرڈ وار فئیر جس کا آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ مسلسل ذکر کرتے ہیں یہ بھی اسی فیفتھ جنریشن وار فئیر کا نیا انداز ہے۔پاکستان کو ہائبرڈ وار فیئر اور فیفتھ جنریشن وار فئیر میں کامیابی کے لیے ابھی بہت کچھ کرنا ہے۔اس میں یقیناً علماء کرام دینی مدارس کے طلباء بھرپور کردار ادا کرسکتے ہیں۔کیوں کہ پاکستان کا سب سے بڑا اور حقیقی میڈیا منبرومحراب کی صورت میں ان کے پاس ہے جہاں قوم کے ہرشخص کی آبیاری اور ذہن سازی کی جاتی ہے۔دینی مدارس ،طلباء اور علماء کے خلاف جس طرح سے میڈیا پر سیکولر ز لبرلز اور قوم دشمن غداروں نے پراپیگنڈا کیا اس کے خلاف لڑنے کے لیے اہل مدارس اور علماء کرام کو مزید آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔ یہ فوج، ایجنسیز، پولیس، عدالتیں، حکومت اور حکومتی ادارے، سکولز، کالجز، یونیورسٹیز سب قوم کے مشترکہ قیمتی اثاثے ہیں۔ ان کی نگہبانی قوم کے ہر شخص کی ذمہ داری ہے۔علماء کرام اور اہل مدارس کو ان سے علیحدہ قوم تصور کرنے کی کوشش کی جاتی ہے جو بالکل غلط ہے۔اللہ تعالیٰ نے معاشرے اور قوم کی قیادت کا حق انبیاء کرام کو سونپا،انبیاء کرام کے بعد علماء کرام کو ان کا نائب اور وارث بنایا گیا۔اس نیابت اور وراثت کا تقاضا یہی ہے کہ علماء کرام معاشرے او ر قوم کی ہرمعاملے میں قیادت کریں رہنمائی کریں۔

یہ بھی پڑھیں:   مدرسہ ڈسکورس، دینی مدارس، اسکولز اور ہمارا مؤقف - مفتی منیب الرحمن

اس کے ساتھ ساتھ حکومت اور حکومتی اداروں کو بھی دینی مدارس اور اہلِ مدارس کا خیال رکھنا چاہیے۔دینی مدارس کے لیے انتظامی بنیادوں پر جو مسائل کھڑے کیے جاتے ہیں انہیں حل کرناچاہیے۔جہاں تک نصاب کا معاملہ ہے اس میں علماء کرام اور حکومت کو مل کر اخلاص کے ساتھ اس معاملے کو حتمی نتائج تک پہنچانا چاہیے۔مدارس کی اصل شناخت دین اور دینی اقدار ہے جس پر اہل مدارس بالکل سمجھوتہ نہیں کرسکتے ،تاہم اہل مدارس کو جدید ضروریات کے پیش نظر معاشیات،سیاسیات اور دیگر جدید علوم جو معاشرے کی ضرورت ہیں ان پر توجہ دینی چاہیے جس پر یقینا اہل مدارس کی نظر ہے۔اس وقت پاکستان کی عدالتوں پولیس فوج اور دیگر سرکاری اداروں میں دیانت دار اہل علم لوگوں کی بہت ضرورت ہے جو ان کی اصلاح کے لیے اپنا کردار ادا کریں،دینی مدارس کے طلباء اس میں بھرپور کردار ادا کرسکتے ہیں۔اس کے علاوہ دینی مدارس کے طلباء علماء کرام اور حکومتی فوجی عصری اداروں کے درمیان جو خلیج حائل کرنے کی کوشش کی جاتی رہی اسے ختم کرنے کے لیے دونوں طرف سے یہ سلسلہ جاری رہنا چاہیے تاکہ دشمنوں کو شکست ہو۔اللہ تعالیٰ وطن عزیز پاکستان دینی مدارس علماء کرام کی حفاظت فرمائے اور انہیں اسلام اور امت مسلمہ کی قیادت کے لیے کردار ادا کرنے کی توفیق بخشے۔

Comments

غلام نبی مدنی

غلام نبی مدنی

غلام نبی مدنی مدینہ منورہ میں مقیم ہیں، ایم اے اسلامیات اور ماس کمیونیکیشن میں گریجوایٹ ہیں۔ 2011 سے قومی اخبارات میں معاشرتی، قومی اور بین الاقوامی ایشوز پر کالم لکھ رہے ہیں۔ دلیل کے لیے خصوصی بلاگ اور رپورٹ بھی لکھتے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.