باتوں سے آگے، عمل درآمد کا وقت! شیخ خالد زاہد

معلوم نہیں دکھ کو کیوں اتنی جلا دی جا رہی ہے۔ سارا سارا دن میڈیا پر بیٹھے لوگ کشمیر میں ہونے والے مظالم پر بحث و مباحثوں میں لگے ہوئے ہیں، جبکہ آج بیسواں دن ہے کہ ہمارے کشمیرکی وادی میں رہنے والے ایک ایسی جیل میں قید ہیں جہاں نہ کھانا ہے نہ پانی ہے نہ دوا ہے بس ہے تو صرف اور صرف خوف کہ اب کیا ہوگا اور کب کیا ہوگا۔ دعاؤں کا علم نہیں کون کر رہا اور کون نہیں۔ بھارت نے یقینا انسانیت کی توہین کی تمام حدیں عبور کرلی ہیں، بھارت نے دنیا میں انسانیت کے دفاع کے لیے بنائے گئے تمام قوانین کی ڈنکے کی چوٹ پر خلاف ورزی کرتا چلا جا رہا ہے، بھارت مذہبی منافرت کی نئی حدیں متعین بلکہ اپنے مذہب کو دنیا پر نافذ کرنے کے خواب دیکھ رہا ہے۔بھارت کے خطے میں ایسے کالے کارناموں پر دنیا کی خاموشی حیرانگی سے کہیں زیادہ ہے۔انسانیت کے دعوایداروں سے شکوہ اپنی جگہ لیکن، انسانیت کی بقاء کی خاطر دنیا میں بھیجے جانے والے خاتمین النبینﷺ کے ماننے والے اپنے بھائیوں کے دفاع کیلئے انہیں اس غیر قانونی اور غیر انسانی عقوبت خانے سے نجات دلانے کے لیے ایک نہیں ہو رہے۔ کیا واقعی لوگوں نے اب یہ سمجھ لیا ہے کہ ہم نے سماجی میڈیا پر پسند اور ناپسند کرکے اپنا حق ادا کردیا ہے؟ترکی میں فوجی بغاوت روکنے والی عوام تھی اور اس عوام کا حصہ وہ مرد آہن تھا جو فوجی ٹینک کے آگے ایسی سیسہ پلائی دیوار ثابت ہوا کہ وہ بغاوت ایک قصہ پارینہ ہو کر رہ گئی، یہ ایک مثال دی گئی ہے۔ ترکی میں عوام کا فوج کے سامنے اپنی جمہوریت اپنے پسندیدہ حکمران کیخلاف کئے جانے والے یہ واقع نا صرف ترکی کی تاریخ میں جلی حروف میں جگمگاتا رہیگابلکہ دنیا کی تاریخ میں بھی ترکی کی ولولہ انگیز عوام کو خراج تحسین پیش کرتی رہیگی۔ مثالیں ہمیشہ زندہ قومیں ہی قائم کرتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   کشمیر: دنیا کی سب سے بڑی جیل - عابد محمود عزام

ہم ابھی بھی پاکستانیوں کو اس نگاہ سے دیکھتے ہیں کہ یہ اکیسویں کیا بیسویں صدی میں بھی آنے کے اہل نہیں تھے، کیونکہ ہم نے کام نکالو کے فلسفے کو اپنی زندگیوں کا اول اور آخری اصول بنا یا ہوا ہے۔ ہم تحقیق سے زیادہ مباحثوں میں الجھ گئے ہیں یا ہمیں باضابطہ طور پر الجھا دیا گیا لیکن گندم تو ہم بھی کھاتے ہی ہیں۔ اس الجھاؤ کے ایسے عادی ہوچکے ہیں کہ گلے سڑ ے نظاموں میں الجھتے چلے جا رہے ہیں۔ پولیس نے نوجوان کو بغیر کسی یقین دہانی کے ڈاکو سمجھ کر گولیاں چلادیں اور اس معصوم بچے کے گھر میں صف ماتم بچھا دی گئی۔ معاشرہ مسلسل تنزلی کا شکار ہوا جا رہا ہے۔ کسی کا کسی پر اعتبار نہیں رہا۔

گزشتہ دنوں پاکستان نے انٹرنیٹ کی دنیا میں انقلابی سہولت ۵ جی کا کامیاب تجربہ کیا، اس کامیاب تجربے کی بات یہ ہے کہ ابھی دنیا کے کچھ ہی ممالک ہیں جہاں اس سہولت کے لیے تجربات کیے جا چکے ہیں۔ جی ہاں! دنیا مرنے والے کے ساتھ مرتی نہیں ہے بلکہ اپنے مرنے تک زندگی کی تگ و دو میں مصروف عمل رہنے کو ترجیح دیتے ہیں اور یہ جان کر بھی دکھ ہوگا کہ دفنانے والے کے ہونے یا نا ہونے سے پڑنے والے فرق سے بھی دور دور کا واسطہ نہیں ہوتا، ۵ جی اس دوری کو بڑھانے میں مدد گار ضرور ثابت ہوگی لیکن کشمیر کے حل کےلیے عملی طور پر کچھ خاص کرنا پڑے گا۔ آخر کب تک ہم دنیا کو جمع کرنے میں لگے رہیں گے۔ ہمیں سمجھ کیوں نہیں آتی کہ دنیا کو رقص اور سرور میں مزہ آتا ہے جو آپ سے کہیں زیادہ بھارت فراہم کرتا ہے، آپ بھلے کچھ بھی کرلیں پاکستان سے اسلامی جمہوریہ کو الگ کر ہی نہیں سکتے۔ تحمل اور برداشت کا وقت گزرچکا۔ آج دشمن ہاتھ پیر باندھ کر آپ کے ساتھ ہر قسم کی زیادتی کر رہا ہے اور ہم ہیں کہ دنیا کو آوازیں دے رہے ہیں کہ دیکھو بھارت ہمارے لوگوں کیساتھ زیادتی کر رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   بنگلہ دیش کی پاکستان کے ساتھ پیاز ڈپلومیسی

کل ایک کشمیر سے موصول ہونے والی ویڈیو میں خون آلود سڑک دکھائی جس پر جگہ جگہ خون پڑا ہوا ہے اور کسی مخصوص حصے میں نہیں بلکہ بہت دور تک بالکل ایسے ہی جیسے پاکستان کی سڑکوں پر سنت ابراہیمی ؑ کی ادائیگی کے بعد دیکھا جاسکتا ہے۔ ہماری بہنوں بیٹیوں کی عصمتیں تار تار ہورہی ہیں، وحشی درندے ظلم کی نئی تاریخ رقم کرنے پر تلے ہوئے ہیں اور ہم کشمیر کشمیر کا ماتم اپنی آرام گاہوں میں بیٹھ کر سماجی میڈیا پر کر رہے ہیں۔ یقینا ۵جی اور بہت سارے کاموں میں خصوصی طور پر جو ہمارے معاشرے کو مزید عدم تحفظ کی جانب دھکیل نے میں تو کار گر ہوسکتا ہے جو پیسہ بنانے کیلئے تو کارگر ثابت ہوسکتا ہے لیکن اس وقت امت کا سب سے سگین مسلۂ کشمیر ہے تو مسلۂ فلسطین بھی برابر ہے لیکن کشمیر ہمارا پڑوسی ہی نہیں بلکہ ہمارا حصہ ہے (کشمیر پاکستان کا اٹوٹ انگ ہے)۔

پاکستانی حکمران، فوج اور عوام تاریخ کو باور کروائیں کہ ہم ہی ہیں جنہوں نے دنیا کی سرحدوں کا تعین کیا تھا اور ہم پھر سے یہ معاملہ جو کہ ہم پر مسلط کیا جارہا ہے ایک بار پھر سرحدوں کے تعین میں ہماری معاونت کے لیے ہمیں پکار رہا ہے، ہم نے ساری دنیا کو بتا دیا ہے کہ ہم امن پسند لوگ ہیں ہم گولے بارود کی تباہ کاریوں کو پچھلی دو دہائیوں سے بھگت رہے ہیں، جھیل رہے ہیں، اس جدت سے لبریز دنیا میں ہم سے بہتر بارود کی بو کو کوئی نہیں پہچانتا۔ اللہ نے کشمیر کو اب آزادی دینی ہے بس دیکھنا یہ ہے کہ پاکستان اور پاکستانی اس کار خیر میں اپنا حصہ کیسے ڈالیں گے۔اب میڈیا پر بیٹھ کر باتیں کرنے سے آگے عملدرآمد کا وقت ہوا چاہتا ہے۔