وقت وقت کی بات - مولانا محمد جہان یعقوب

ایک وقت تھا جب اپنے قریب و دور کے کسی عزیز رشتے دار یا دوست کو کوئی مسئلہ پیش آتا تھا تو اپنی جیب اور فرصت کی پروا کیے بغیر اس کے پاس پہنچ کر خود کو ہر قسم کی مدد کے لیے پیش کیا جاتا تھا۔ کوئی اریب قریب والا یا اس کے متعلقین میں سے کوئی بیمار ہوتا تھا تو اس کی بیمارپرسی صرف فیس بک کمنٹس اور میسیج کے ذریعے نہیں، بلکہ خود پہنچ کر یا کم ازکم فون کال کے ذریعے کی جاتی تھی

کسی کے ہاں شادی، تقریب یا ولادت ہوتی تو تحفے تحائف لے کر حاضری دینا لازمی سمجھا جاتا تھا۔ عید وغیرہ پر بڑوں کی خدمت میں، چاہے وہ خاندان اور قوم کے بڑے ہوں یا اساتذہ و عمائدین، بنفس نفیس حاضر ہو کر ان کی دعائیں لی جاتی تھیں۔ کوئی اپناسفر سے آئے تو اس سے ملاقات تک چین نہ آتا تھا۔ یہ آگ یکطرفہ نہیں، دوطرفہ لگی ہوتی تھی۔ اِدھرسے دوچار دن تک ملنے نہ جاؤ تو خود وہ ملنے کے لیے پہنچ جایا کرتاتھا کہ سوچا آپ شاید زیادہ مصروفیت کی وجہ سے نہ آپائے، اس لیے خود حاضر ہوگیا۔

چھوٹے چاہے وہ اپنے گھرکے ہوتے یاگلی محلے کے، بڑوں کو گزرتا دیکھ کر نظریں جھکائے، سہمتے ہوئے سلام کے لیے دوڑ پڑتے تھے۔ بڑوں کی تنبیہ پر اپنی فوری اصلاح کر لیا کرتے تھے۔

اب وقت بدل گیا، نہیں وقت تو وہی ہے۔ وہی لیل و نہار، وہی خزاں و بہار، وہی سبزے و لالہ زار۔ ہاں لوگ بدل گئے۔ لوگ یعنی میں، آپ۔۔۔ جی ہاں! ہم بدل گئے۔ ہم نے اپنے میل جول اور اٹھنے بیٹھنے کے پیمانے بھی بدل لیے۔ اب معیار خُلوص کی جگہ فُلوس بن گیا۔ اب قرابت و محبت کی جگہ مفادات نے لے لی۔ جس سے کوئی مفاد وابستہ ہو، فقط وہی اپنا، باقی سارا جگ پرایا۔ سادگی کی جگہ تکلفات نے لے لی۔

یہ بھی پڑھیں:   نکاح والی رات بات، نکاح والی رات ملاقات - صدام حسین

ملاقاتیں محدود ہوگئیں، صرف چیٹ پر اکتفا کافی سمجھ لیاگیا۔ سب کچھ آن لائن ہونے لگا، بالمشافہ اور دوبدو بیٹھنا، بولناچالنا، اپنے دُکھڑے سنانا، اگلوں کے دُکھوں میں شرکت کرنا۔۔ سب قصہ ماضی بن گیا۔

انسان دن بہ دن گھٹتا جا رہا ہے اور سائے بڑھتے جا رہے ہیں۔ مشینوں کی حکومت ہے اور انسان عضوِمعطل بنتا جا رہا ہے۔ فطرت سے یہ دُوری، تکلفات کی یہ آہنی زنجیریں، مفادات کے یہ لمبے حصار، مطلب پرستی کی یہ منہ زورآندھی۔ کہیں ہمارے دلوں کی موت پر تو منتج نہیں ہو رہی؟

کاش! ہم سوچیں۔ سوچنے کے لیے وقت نکالیں۔ کہیں متاعِ کارواں کے ساتھ ساتھ ہم احساسِ زیاں سے بھی محروم نہ ہوجائیں۔


وائے ناکامی، متاعِ کارواں جاتا رہا

کارواں کے دِل سے احساسِ زیاں جاتا رہا

Comments

مولانا محمد جہان یعقوب

مولانا محمد جہان یعقوب

مولانا محمد جہان یعقوب فاضل درس نظامی ہیں، گزشتہ بارہ سال سے جامعہ بنوریہ عالمیہ سے شائع ہونے والے اخبارکے ادارتی صفحے کی نگرانی کے ساتھ ساتھ تفسیر روح القرآن کے تالیفی بورڈ کے رکن رکین اور تخصص فی التفسیر کے انچارج ہیں، مختلف اداروں کے تحت صحافت کا کورس بھی کراتے رہے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.