زندگی ایک لمحہ فکریہ - بشارت حمید

میں اور آپ آج کہیں اکیلے بیٹھ کر اپنا تجزیہ تو کریں اور اب تک کی گزری زندگی پر غور کریں۔ کیا پلان تھا، کیا حاصل کیا اور کیا نہیں ملا؟ زندگی کے کتنے سال گزار چکے۔۔کن چکروں میں الجھے رہے۔۔ کن مسائل کو بہت بڑا سمجھا اور یہ خیال کیا کہ یہ حل ہو جائیں تو سکون مل جائے۔

ہمارے ہاں ایک صحت مند انسان کی اوسط عمر کتنی ہے 60-65 یا 70 برس۔۔ ذرا بیٹھ کر سوچیں کہ اگر کوئی ناگہانی نہ ہو تو باقی کتنا وقت رہ گیا ہے ہمارے پاس۔۔ جس انجام کی طرف ہم تیزی سے دوڑتے ہوئے جا رہے ہیں اس کی ہمیں کتنی فکر ہے۔ یہاں جو تھوڑا وقت باقی ہے اس کے آرام و سکون کے لیے کتنے پاپڑ بیلتے ہیں کہیں سماجی ویلفئیر کہیں سیاست کہیں کاروبار کہیں جاب۔۔ کس کس سرگرمی میں تن من دھن سے مصروف رہتے ہیں۔ اپنی پسندیدہ جماعت یا گروہ کی کس درجے تک حمایت کرتے ہیں اور مخالف نقطہ نظر کو کس طرح رد کرتے ہوئے دوستوں سے تعلقات خراب کئے رکھتے ہیں۔

ہم جس ٹاون سوسائٹی شہر یا ملک میں رہتے ہیں کیا یہاں ہمیشہ کے لیے رہیں گے۔ جو لوگ اقتدار میں ہیں اور دولت اکٹھی کرنا نصب العین بنا کر بیٹھے ہیں اس دولت کو کتنا عرصہ استعمال کر سکیں گے۔ جو حزب اختلاف میں ہیں اور اقتدار حاصل کرنے کیلئے تڑپ رہے ہیں کیا یہی زندگی کا مقصد ہے کہ سیاسی غلبہ حاصل کیا جائے۔ جن معمولی باتوں پر لمبی بحثیں کرتے ہیں، کیا واقعی وہ اتنی ہی اہم ہیں کہ ان کی وجہ سے آپس کے تعلقات خراب کیے جائیں۔

جتنی فکر ہمیں ان دنیاوی معاملات کی ہے، کیا اس کے مقابلے میں بیس پچیس فیصد فکر آخرت کی اور اپنے انجام کی بھی ہے؟ جو اقتدار میں ہے کیا وہ ہمیشہ رہے گا۔ جو حزب اختلاف میں ہے اس کے پاس کتنا وقت باقی ہے۔ ہم میں سے کسی کو نہیں معلوم کہ رات سوئے ہیں تو صبح اٹھ بھی سکیں گے یا نہیں۔ جو زیادتیاں اور ناانصافیاں ہم دوسروں کے ساتھ کر چکے ہیں ہمیں انکی تلافی کا کوئی خیال بھی کبھی آیا، کسی پر جھوٹا الزام لگایا، سنی سنائی پر تہمت لگا دی، کسی کی توہین کر دی، کسی کی عزت اچھالی، کسی پر ناجائز ہی چڑھ دوڑے، کسی پر اپنا رعب جمانے کو برے رویئے سے پیش آئے۔ دوسروں کو کمتر اور حقیر جانا۔ کیا کبھی ہم نے یہ سوچا کہ ہماری پیدائش سے قبل ہماری اوقات کیا تھی۔۔ ہماری پہچان کیا تھی۔۔ کتنے لوگ ہمارے نام سے ہماری ہستی سے واقف تھے۔۔

یہ بھی پڑھیں:   موت - عائشہ یاسین

اور میں اس زندگی میں کتنا ہی زور آور بن جاوں۔۔ میرا رعب میری طاقت کتنی ہی زیادہ ہو جائے۔۔ لوگ میری طاقت سے یا میرے شر سے ڈرتے ہوئے میری عزت کریں۔۔ مجھے جھک کر سلام کریں۔۔ میرے آگے پیچھے پھریں۔۔ ایک دن یہ سب ختم ہو کر رہنا ہے۔۔ اور وہ دن آنے سے پہلے کوئی اعلان نہیں ہو گا ۔۔ کوئی پیشگی اطلاع نہیں ملے گی۔۔ وہ اچانک ہی آ پہنچے گا۔۔ اور پھر ۔۔۔۔ سب ٹھاٹھ پڑا رہ جائے گا۔۔جب لاد چلے گا بنجارہ۔۔

اس سے قبل کہ وہ وقت آ پہنچے ہمارے پاس مہلت باقی ہے۔ میں اور آپ جس طرح دنیا کی زندگی کی آسائش کیلئے فکر مند رہتے ہیں اتنی ہی فکر اس آنے والی ہمیشہ کی زندگی کے لئے بھی کریں۔ اللہ ہمیں صراط مستقیم پر چلنے کی توفیق عطا فرما دے اور ہمیں معاملات کا درست فہم عطا کردے تاکہ ہم حقائق کو سمجھ سکیں اور اپنی مصروفیات کا رخ صحیح سمت کی طرف موڑ کر کامیاب و کامران ہو جائیں۔

Comments

بشارت حمید

بشارت حمید

بشارت حمید کا تعلق فیصل آباد سے ہے. بزنس ایڈمنسٹریشن میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی . 11 سال سے زائد عرصہ ٹیلی کام شعبے سے منسلک رہے. روزمرہ زندگی کے موضوعات پر دینی فکر کے تحت تحریر کے ذریعے مثبت سوچ پیدا کرنے کی جدوجہد میں مصروف ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.