بستی بسنا کھیل نہیں ہے - ہارون الرشید

مسلم برصغیر کا المیہ یہ ہے کہ آزادی کے باوجود تمیزِ بندہ و آقا میں گرفتار ہے۔ سرکار سنگ دل، ناتربیت یافتہ عوام بے نیاز اور مایوس۔ کب تک ، آخر کب تک؟

ڈپٹی کمشنر سمیت اسلام آباد کی انتظامیہ میں اتفاق سے ڈھنگ کے کچھ لوگ ہیں، جن سے امید وابستہ رہتی ہے۔ اس زمانے میں ایک ذرا سا حسنِ ظن جب افسر شاہی زنگ کھائے دروازے جیسی ہو چکی۔ کھولنا مشکل، بند کرنا اور بھی مشکل۔ مستقل طور پر روٹھے ہوئے ایک ناراض نوجوان کی طرح، جس پر دلیل اثر انداز ہو اور نہ التجا۔

واقعہ چونکا دینے والا اور اذیت ناک تھا۔ دو ماہ پہلے نافذ کیے گئے ایک قانون کے تحت، سرکاری ٹیم بلو ایریا کے ایک مشہور ریستوران پہنچی کہ پولی تھین کے لفافے استعمال کرنے کی شکایت تھی۔ ریستوران کیا، مرجع خلائق ایک مرکز ہے۔ ہر شہر میں ایسے مقام ہوتے ہیں۔ نوادرات کی کوئی پرانی دکان، کوئی بوڑھا خیاط۔ کافی کی پیالی میں سحر گھولنے والا کوئی ہنر مند۔ وہ شہر کی مقدس روایات کا حصہ ہوتے ہیں۔ اسلام آباد ایک شہر نہیں بنا، تشکیل کے مرحلے میں ہے۔ کبھی متشکل ہو سکا تو شاید یہ ریستوران بھی اس کے مظاہر میں سے ایک ہو۔ جس طرح دلی کی شاہی مسجد کے مقابل کریم ہوٹل، کراچی میں برنس روڑ کی نہاری، لاہور کے نیلا گنبد میں سفید داڑھی والے حاجی غلام رسول۔ اپنی توقیر کا جنھیں احساس رہتا ہے اور گاہک کو جو مہمان سمجھتے ہیں۔

30 برس ہونے کو آئے، آج بھی اس چہرے کے نقوش اور اس کا تاثر یاداشت میں ازبر ہے۔ سادگی، شرافت اور وقار۔ راولپنڈی کی کالج روڈ پر یہ ایک چھوٹا سا ریستوران تھا۔ ریستوران کاہے کا، بس ایک چھوٹی سی دکان۔ مرغ پلاؤ کا ایک پتیلا، اس کے پیچھے دھری پیڑھی اور عقب میں دو پرانی سی میزوں کے گرد پانچ سات کرسیاں۔ اس ریستوران کا سراغ عادل صاحب نے لگایا تھا۔ میری طرح ایک چٹورے آدمی، شام کا کھانا ریستوران میں کھانا پسند کرتے۔ یہ ایک عظیم دریافت تھی۔ مبلغ دس روپے میں پلاؤ کی ایک پلیٹ، دو شامی کباب اور ایک چکن پیس۔ تازہ اور لذیذ۔ پورے تین عشرے بیت چکے۔ اب بھی ہر دوسرے تیسرے ہفتے نہایت رغبت سے میں یہ کھانا کھاتا ہوں۔ فرق یہ ہے کہ نرخ اس کا دس روپے سے 150روپے ہو چکا۔ کالج روڈ کے علاوہ جڑواں شہروں میں اب دوسری شاخیں بھی ہیں۔ اسی ریستوران میں منگل کی شام وہ واقعہ پیش آیا، جس نے ہر اس آدمی کو آزردہ کیا جو ان بھلے لوگوں سے واقف ہے۔

اللہ کے آخری رسولؐ کا فرمان یہ ہے کہ رزق کے دس میں سے نوحصے تجارت میں رکھے گئے۔ کاروبار کی کرامت یہ ہے کہ خلوص اور دیانت کارفرما ہو تو گاہے برسات کے سبزے کی طرح پھلتا پھولتا ہے۔ بلو ایریا والی شاخ کے باہر ٹریفک کا یہ عالم ہوتا ہے کہ مسلسل اور متواتر ٹریفک درہم برہم رہتی ہے۔ چیخ کر ویٹر کو آپ متوجہ کرتے ہیں یا صبرِ ایوب کے ساتھ قطار میں کھڑے ہو کر انتظار۔

یہ بھی پڑھیں:   کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے - غریدہ فاروقی

منگل کی شام جب سرکاری ٹیم یہاں پہنچی تو ایک ہنگامہ برپا ہو گیا۔ سوشل میڈیا منظر کو لے اڑا اور پل بھر میں عام کر دیا۔ ایک جواں سال سرکاری افسر کو دھکے اور دھمکیاں دے کر وسیع وعریض ہال سے باہر دھکیلا جا رہا تھا۔ دھکے پہ دھکا اور دھمکی پہ دھمکی۔ توہین اور تحقیر کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ۔ اسے غنڈہ قرار دیا گیا۔ چاہیے تھا کہ خاموشی سے باہر نکل جاتا اور حکام کو مطلع کرتا۔ ناتجربہ کار آدمی سے غلطی یہ ہوئی کہ مزاحمت کی اس نے کوشش کی۔ مزاحمت مگر شائستگی اور دلیل کے ساتھ۔ دلیل ایسے میں کون سنتا ہے۔ زورِ بازو کے مقابل شائستگی کس کام آتی ہے۔ بحیثیتِ مجموعی پاکستان کے مسلمان تاجر کبھی سلیقہ مند نہ تھے۔ 1947ء کے بعد انہوں نے آغازِ کار کیا۔ شریف خاندان کے چالیس سالہ اقتدار نے اور بھی بگاڑ دیا۔ راہ چلنے والوں کے نہیں، فٹ پاتھ تمہارے ہیں۔ ایف بی آر والوں کو رشوت دو اور نون لیگ کو چندہ۔ ٹیکس ادا کرنے کی ہرگز کوئی ضرورت نہیں۔ کوئی قانون پسند نہ آئے تو دروازے بند کر دو۔ اس پر بھی حکومت اگر تعمیل نہ کرے تو بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے سے انکار کر دو۔ مگر یہ تو اور طرح کے لوگ تھے۔ نمک کی کان میں کیا وہ بھی نمک ہو گئے؟

سوشل میڈیا پر جاری کردہ ڈپٹی کمشنر کے بیان کا خلاصہ یہ ہے: اپنے کارنامے کی ریستوران والوں نے معافی مانگ لی ہے۔ جرمانہ ادا کر دیا ہے۔ مقدمہ برقرار ہے اور ملزم پولیس کی حراست میں۔ اس ناچیز کا احساس یہ ہے کہ غنڈہ گردی کا ارتکاب کرنے والوں کے خلاف مقدمہ برقرار رہنا چاہیے کہ عدالت فیصلہ صادر کرے۔ ملزموں کو البتہ رہا کر دینا چاہیے کہ شرمندگی اور غلطی کا اعتراف ایک طرح کی توبہ ہوتی ہے۔ غالبؔ نے کہا تھا


حد چاہیے سزا میں عقوبت کے واسطے

آخر گناہ گار ہوں ، کافر نہیں ہوں میں


لال مسجد والوں کا قصہ یاد آیا۔ 2007ء کے سانحے سے چند ماہ قبل، جو قاف لیگ کو لے ڈوبا۔ اس ناچیز کو علمائےکرام نے مدعو کیا۔ یاد اللہ بہت دنوں سے تھی۔ اب وہ بہت سنجیدگی کے ساتھ بعض اہم موضوعات پر تبادلۂ خیال کے آرزومند تھے۔ مقدمہ ان کا یہ تھا : بستی میں خرابی بہت ہو چکی۔ کوئی کمزور کسی طاقتور کے ہاتھ سے محفوظ نہیں۔ حد یہ ہے کہ ماں باپ بچیوں پہ ستم ڈھاتے اور بیٹی باپ کے خلاف بغاوت کرتی ہے۔ افسر لوگ سنتے نہیں، عدالت انصاف نہیں دیتی۔ مجبوراً عام لوگ ہم سے رجوع کرتے ہیں۔ ناچیز نے اپنی گزارشات پیش کرنے سے پہلے ایک سوال کیا: لال مسجد سے متصل اور ای سیون کے سبزہ زار میں جو عمارات آپ نے تعمیر کی ہیں، کیا سی ڈی اے سے ان کی اجازت لی ہے؟ جواب ملا: جی نہیں اور چہروں پر لکھا تھا: بھلا اس کی ضرورت کیا تھی؟ عرض کیا معاشرے بگڑ بھی جایاکرتے ہیں، برباد بھی ہو جاتے ہیں۔ اس کا علاج مگر یہ نہیں کہ جتھے بنا کر ریاست کے اندر ریاست تعمیر کی جائے کہ نتیجہ اس کا طوائف الملوکی ہوتا ہے۔ علمائے کرام قائل ہوئے یا نہیں، کچھ اندازہ نہ ہو سکا۔ اپنی بات کہی اور اجازت چاہی۔ چھ سات ماہ کے بعد وہ سانحہ برپا ہوا، جنرل مشرف اور ان کی جماعت کو جس نے ڈبو دیا۔ قاف لیگ نمونہ عبرت بنی اور اب زندہ رہنے کی تگ و دو میں ہے۔ اللہ انہیں صحتِ کاملہ عطا کرے، چوہدری شجاعت حسین کو جب تک زندہ ہیں اور وضع داری ان کی برقرار ہے، کسی نہ کسی طرح جیتی رہے گی مگر کب تک؟

یہ بھی پڑھیں:   کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے - غریدہ فاروقی

معاملے کے دو پہلو ہیں اور دونوں سنگین۔ ریاست کو عام آدمی کی کوئی پرواہ نہیں، جو بنائی ہی اس لیے جاتی ہے کہ کمزور مفلس کی حفاظت کرے۔ عام آدمی ریاست سے نالاں اور ناراض ہے۔ ٹیکس ادا نہ کرنے کی دوسری وجوہات بھی ہیں۔ بائیس کروڑ لوگوں کی قوم کو جس نے بھکاری بنا دیا مگر یہ کہ تھانوں کچہریوں اور پٹوار خانوں میں دل پتھر کے ہیں اور ہاتھ نوسر بازوں کے۔ افسوس کہ ملک میں کوئی سیاسی جماعت نہیں۔ لیڈر ہیں سو اپنی غرض کے بندے۔ پیسے اور اقتدار کے بھوکے۔ کسی کے پاس کوئی جامع منصوبہ نہیں کہ سرکار اور رعایا کو جوڑنے کی تدبیر کرے۔ رفتہ رفتہ بتدریج۔ جس طرح عمارت اٹھائی جاتی ہے، جس طرح کھیت سینچا جاتا ہے، جس طرح چمن آباد کیا جاتا ہے۔


دل کا اجڑنا سہل سہی بسنا سہل نہیں ظالم

بستی بسنا کھیل نہیں ، بستے بستے بستی ہے


مسلم برصغیر کا المیہ یہ ہے کہ آزادی کے باوجود تمیزِ بندہ و آقا میں گرفتار ہے۔ سرکار سنگ دل، ناتربیت یافتہ عوام بےنیاز اور مایوس۔ کب تک، آخر کب تک ؟