عمران خان اس لعنت سے نجات دلا سکتے ہیں! تنویر قیصر شاہد

نام تو اُن کا نجانے کیا تھا لیکن سارے محلّے میں انھیں ’’حاجی بابا‘‘کے نام سے پکارا جاتا تھا۔ لاہور میں مینارِ پاکستان کے مغرب میں بڈھے راوی کے کنارے واقع قلعہ لچھمن سنگھ میں اُن کی دودھ دہی اور سبزی کی اکٹھی،بڑی سی دکان تھی ۔ اس دکان سے چند گھر چھوڑ کر میرا مکان تھا۔ حاجی بابا کی خاصیت اور عرفیت یہ تھی کہ وہ کسی گاہک کو نہ تو پلاسٹک شاپر میں دودھ دہی دیتے تھے اور نہ ہی سبزی ۔سخت لہجے میں کہتے :’’ ان منحوس شاپروں میں سودا دینے سے برکت اُٹھ جاتی ہے ۔

سودا لینا ہے تو گھر سے کوئی برتن ساتھ لاؤ یا تھیلا۔‘‘ یہ کئی سال پہلے کی بات ہے۔ پلاسٹک کے شاپر بیگ نئے نئے متعارف ہُوئے تھے۔ اُس وقت ہم میں سے کسی کو احساس تھا نہ پیش بینی کہ مستقبل میں یہی پلاسٹک شاپرز ماحولیاتی تباہی کا باعث بن جائیں گے۔ پلاسٹک شاپرز کی تباہ کاریاں ہمہ گیر ہیں اور ساری دُنیا ان سے نجات کے طریقے ڈھونڈ بھی رہی ہے اور ان کے متبادل بھی ۔ بھارت کے تین بڑے شہروں میں پچھلے ایک سال سے پلاسٹک بیگز کا استعمال قطعی ممنوع ہے۔

اب وزیر اعظم عمران خان صاحب کی حکومت بھی پاکستان کو پلاسٹک تھیلوں کی تباہ کاریوں اور ان سے پیدا ہونے والی ماحولیاتی آلودگیوں سے نجات دلانے کی طرف کچھ قدم اُٹھا رہی ہے اللہ کرے اس میں مطلوبہ کامیابی ملے۔

جون 2019ء کے وسط میں وزیراعظم کے معاونِ خصوصی برائے موسمیاتی تبدیلی، ملک امین اسلم، نے اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس میں صاف الفاظ میں اعلان کرتے ہُوئے کہا تھا: ’’ 14 اگست2019ء کے بعد خریداری کے لیے پلاسٹک کے تھیلے استعمال اور فروخت کرنے پر 50 ہزار سے50 لاکھ روپے تک جرمانہ عائد کیا جائے گا۔وفاقی کابینہ نے ان پر پابندی کے قانون کی منظوری دے دی ہے اور اس کا اطلاق سب سے پہلے وفاقی دارالحکومت میں ہو گا۔‘‘ انھوں نے پلاسٹک کے شاپنگ بیگز کی ہلاکت خیزی کا ذکر کرتے ہُوئے یہ بھی کہا تھا: ’’پاکستان میں 55 ارب پلاسٹک کے تھیلے سالانہ استعمال ہو رہے ہیں جو ماحول کے لیے انتہائی خطرناک ہیں۔

اگر پاکستان میں پلاسٹک شاپرزکا استعمال ایسے ہی جاری رہا تو 2050 ء تک ہمارے سمندرمیں مچھلیوں سے زیادہ شاپنگ بیگ ہوں گے۔ 14 اگست کے بعد اسلام آباد میں پلاسٹک شاپرز نہیں، کپڑے کے تھیلے یا کاغذی لفافے استعمال ہوں گے۔پاکستان میں پلاسٹک شاپروں نے جو ماحولیاتی آلودگی پھیلا رکھی ہے ، پی ٹی آئی کی حکومت اس لعنت سے عوام کو نجات دلا کر رہے گی۔‘‘خانصاحب کے وزیر کا یہ اعلان مستحسن بھی ہے اور قابلِ ستائش بھی ۔

شرط مگر یہ بھی ہے کہ اس پر پوری طاقت اور سختی سے عمل کیا جائے ۔ پی ٹی آئی حکومت اب تک عوامی بہبود کے لیے اعلانات تو ماشاء اﷲ بہت سے کر چکی ہے ۔ خدا کرے پلاسٹک شاپروں کی پیدا کردہ ماحولیاتی تباہی کے خاتمے کے لیے یہ حکومت اپنے اعلان پر عملدرآمد بھی کروا سکے ۔ 14اگست تو گزر چکا ہے لیکن واقعہ یہ ہے کہ ابھی تک وفاقی دارالحکومت میں پلاسٹک شاپروں کی حکومت ختم نہیں کی جا سکی ۔

سچی بات یہ ہے کہ عوام کی اکثریت مہلک پولی تھین کیمیکل کے بنے ان پلاسٹک شاپروں سے پیچھا چھڑانا چاہتی ہے ۔ ان پر سرکاری پابندی کے بعد کچھ دنوں تک ہم سب کو دقّت تو ہوگی لیکن رفتہ رفتہ گھروں سے کپڑے کے تھیلے یا ہینڈ باسکٹس لے جانے کی عادت ڈیولپ ہو جائے گی۔راقم نے جب اپنے محلّے کے سبزی فروش سے یہ کہا کہ حکومت پلاسٹک شاپروں پر مکمل پابندی عائد کرنے والی ہے تو وہ بہت خوش ہُوا ۔ مسکراتے ہُوئے کہنے لگا: ’’ اس لعنت سے جتنی جلد نجات مل جائے ، اتنا ہی اچھا ہے۔ لوگوں کو گھروں سے کپڑے کے تھیلے ساتھ لانے چاہئیں۔‘‘ پھر وہ پندرہ بیس فٹ کے فاصلے پر بہتی بدرَو کی طرف اشارے کرتے ہُوئے کہنے لگا: ’’ برسات کے موسم میں یہ اکثر بند ہو جاتی ہے ۔ چندہ اکٹھا کرکے صفائی والے کو بلایا جاتا ہے تو اس کے اندر سے بکثرت یہی پلاسٹک تھیلے برآمد ہوتے ہیں ۔ یہ منحوس گلتے ہی نہیں ہیں ۔‘‘

پلاسٹک کے تھیلوں یا پلاسٹک شاپروں سے صرف گلی محلّوں ہی کے نالے نالیوں کے ’’سانس‘‘ بند نہیں ہو رہے، عالمی سمندروں کے لیے بھی سانس لینا دشوار ہورہا ہے ۔ انھی کی وجہ سے شارک اور وہیل مچھلیاں بھی ہلاک ہو رہی ہیں ۔ پچھلے دنوں ناروے کے ساحل پر ایک 40ٹن وزنی مردہ وہیل مچھلی پائی گئی ۔آپریشن کے بعد اُس کے پیٹ سے 30پلاسٹک تھیلے نکلے ۔ اسی طرح فرانس میں ایک ایسی مردہ شارک پائی گئی ہے جس کے پیٹ سے 80کلوگرام وزنی پلاسٹک کی اشیا پائی گئیں۔ پلاسٹک شاپروں نے جنگلی حیات بھی تباہ کر ڈالی ہے۔ پچھلے مہینے خبر آئی کہ جاپان کے ایک جنگل( نارا پارک) میں 9 قیمتی( سیکا) ہرن پلاسٹک شاپرز نگلنے سے ہلاک ہو گئے ۔

جنگل میں گئے سیاح جب پلاسٹک شاپروں میں بچا کھچا کھانا وہیں چھوڑ گئے تو یہ باقیات پلاسٹک شاپروں سمیت کھانے سے یہ ہرن موت کا لقمہ بن گئے ۔ آپریشن کے بعد ایک مرے ہُوئے ہرن کے معدے سے 4کلوگرام وزن کے شاپر بیگ نکلے۔اس واقعہ نے پورے جاپان میں پلاسٹک شاپروں کے خلاف مہم چلانے اور آگاہی پیدا کرنے میں خاصا اہم کردار ادا کیا ہے۔پلاسٹک شاپروں سے ہر کوئی عاجز آ چکا ہے ۔مجھے پچھلے دنوں بچوں کے ساتھ مری، نتھیا گلی اور ناران کاغان جانے کا اتفاق ہُوا۔ یہ دیکھ کر دل کُڑھتا رہا کہ وطنِ عزیز کے ان جنت نظیر علاقوں میں بھی پلاسٹک شاپروں نے تباہی پھیلا رکھی ہے ۔ناران سے ہم بذریعہ جیپ سیکڑوں فٹ بلند جھیل سیف الملوک تک پہنچے جسے ’’پریوں کا دیس‘‘ بھی کہا جاتا ہے ۔ واقعی اس جھیل کا دیکھنا ایک دل افروز تجربہ ہے ۔

یہ دیکھ کر مگر دل افسردہ اور ملول ہو گیا کہ پلاسٹک شاپروں نے وہاں بھی قیامت برپا کر رکھی ہے۔ ایک روز ہم ناران کے مین بازار میں بیٹھے تھے کہ بارش سے پہلے تیز آندھی آئی ۔ ناران کا سارا بازار پلاسٹک شاپروں کی طوفانی اُڑان سے اَٹ گیا۔ یہ شاپر اُڑتے ہُوئے قریب بہتے دریائے کنہار کے صاف شفاف اور شیریں پانیوں میں گر کر اُسے بھی آلودہ کررہے تھے لیکن مقامی انتظامیہ اور خیبر پختونخوا حکومت قطعی لاپروا ہے ۔

یہ حکومت تو ملک کے شمالی علاقوں میں ٹورزم کو فروغ دینے کے آئے روز اعلانات کرتی سنائی دیتی ہے لیکن مذکورہ بالا آلودگی پھیلانے والے عناصر کے تدارک کی طرف کوئی توجہ نہیں ہے ۔ وزیر اعظم عمران خان کے حکم پر سول ایوی ایشن اتھارٹی نے ملک بھر کے ایئر پورٹس پر پلاسٹک بیگز کے استعمال پر پابندی بھی عائد کر دی ہے۔ یہ ایک مستحسن اقدام ہے ۔چند دن پہلے اسلام آباد میں ایک تھنک ٹینک (ایس ڈی پی آئی)نے پلاسٹک شاپروں کی تباہ کاریوں پر ایک آگاہی سیمینار بھی کروایا ہے ۔

اسلام آباد کے ڈپٹی کمشنر ، حمزہ شفقات، بھی شاپروں کے خاتمے کے لیے خاصے متحرک پائے جا رہے ہیں۔ انھوں نے وفاقی دارالحکومت کے ایک ریستوران کے خلاف پلاسٹک تھیلوں کی بنیاد پر ہونے والے جھگڑے پر جوایکشن لیاہے، یہ دوسروں کے لیے بھی سبق بنے گا۔ سبھی نے مذکورہ ڈی سی صاحب کے اقدام کی تعریف کی ہے۔ اسلام آباد کا ٹیسٹ کیس کامیاب ہو گیا تو اُمید رکھنی چاہیے کہ اس تجربے کو ملک بھر میں پھیلایا جائے ۔ اس معاملے میں جناب وزیر اعظم کا مسلسل تعاون ملک بھر کی انتظامیہ کے لیے تقویت کا باعث بنے گا۔