کیمیائی ہتھیار،سانحہ بھوپال اور مستقبل - ضیغم قدیر

(کیمیائی حادثات کی تاریخ کا ایک بڑا سانحہ جس میں پندرہ ہزار تک لوگ مارے گئے)
پہلی جنگ عظیم ہورہی ہے۔ برتری حاصل کرنے کی چاہ میں جرمنی اگلی حدوں تک جانے کی مکمل تیاری کر چُکا ہے۔ اب کی بار وہ عام روایتی ہتھیاروں کی بجائے دشمن پر کیمیائی ہتھیار پھینکے جارہا ہے۔

اپریل بائیس انیس سو پندرہ وہ دن تھا جب پہلی بار کلورین گیس کی مدد سے دشمن کو مارا گیا۔ اسکے بعد جرمنی ”فاس جین“نامی کیمیائی گیس کو دنیا میں پہلی بار استعمال کرتا ہے خراب بھوسے کی سی خوشبو کی حامل یہ گیس کلورین کے مقابلے میں 6 گُنا زیادہ نقصاندہ ہے۔ اس گیس کا شکار ہونے والے لوگ سانس لینے میں دشواری کا سامنا کرنے کے بعد گھٹن کی وجہ سے داراجل کوچ کرنے لگ جاتے ہیں۔ دوسری جنگ عظیم میں کیمیائی ہتھیاروں سے ہونے والی پچاسی فیصد ہلاکتوں کی ذمہ دار یہ گیس اب کھاد بنانے میں استعمال ہوتی ہے۔ یونین کاربائڈ فیکٹری کے رات کی شفٹ والے ملازم کنٹرول روم میں بیٹھے تھے۔ رات کے بارہ بجے کنٹرول روم اطلاع پہنچتی ہے کہ فیکٹری کے کسی حصے میں گیس لیک ہو رہی ہے۔ کہاں سے لیک ہو رہی ہے اس بات کا پتا کرنے کے لئے کنٹرول انچارج باہر جاتا ہے۔ اور پوری فیکٹری کی جانچ کے بعد وہ نوٹس کرتا ہے کہ کنٹینر”ای چھ سو دس“میں غیر معمولی دڑاڑیں ہیں اور اس میں گڑگڑاہٹ ہورہی ہے۔ مگر کیوں؟ پتا نہیں چونکہ کنٹرول روم کے آلات پرانے اور ناقابل بھروسہ ہیں ‘ اس لئے ان سے کچھ نہیں پتا چل رہا کہ گیس کہاں سے لیک ہو رہی ہے۔اسی کنٹینر سے یا کہیں اور سے۔

وقت گزرتا ہے اور کچھ ہی دیر بعد الارم بولنے لگ پڑتا ہے۔ یہ ہنگامی صورتحال کی نشاندہی تھی۔ کنٹرولر سب سے پہلی حفاظتی تدبیر پہ عمل کرتا ہے اور گیس جو کہ لیک ہو رہی تھی ان کو محفوظ پائیپوں کی طرف منتقل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ مگر ناکام، دوسری حفاظتی تدبیر عمل میں لائی جاتی ہے اور گیس کو جلانے کی کوشش کی جاتی ہے مگر ناکام۔پسینے میں شرابور کنٹرول روم کا عملہ تیسری تدبیر پر عمل کرتا ہے اور چمنیوں سے نکلنے والے دھویں پہ پانی کا چھڑکاؤ کرتا ہے مگر پانی کا اتنا پریشر نہیں کہ وہ وہاں تک جا سکتے سو یہ والی تدبیر بھی ناکام ہو جاتی ہے۔ دھواں پانچ لاکھ سکونتیوں کے شہر بھوپال میں جانا شروع ہوجاتا ہے۔ دو دسمبر سن انیس سو چوراسی وقت رات بارہ بج کرچالیس منٹ ...... یہ رات بھی بھوپال کے پانچ لاکھ سے زائد باشندوں کے لئے ایک نارمل رات تھی،سب اپنے اپنے بستروں میں محواستراحت تھے۔ سارا دن محنت مزدوری کر کے تھکنے والے مزدور اس وقت سکون سے سو رہے تھے۔جونہی آدھی رات بیتتی ہے اچانک سے ہر کسی کو کھانسی آنا شروع ہوجاتی ہے۔دیکھتے ہی دیکھتے گھروں کے اندر لیٹے لوگوں کا دم گھُٹنے لگ جاتا ہے۔ تمام لوگوں گھروں سے بھاگ کر باہر نکلنا شروع ہوجاتے ہیں۔ باہر گلیاں لوگوں سے کھچا کھچ بھری ہوتی ہیں۔ ہر کوئی اپنی جان بچانے کی خاطر دوڑ رہا ہوتا ہے۔ کسی کو کسی کی بھی پرواہ نہیں۔

ایسے مناظر آپ زومبی فلموں میں ہی دیکھ سکتے ہیں، لیکن چشمِ فلک نے بھوپال میں یہ سب دیکھا۔ کوئی کھانس کھانس کے ہلکان ہو رہا تھا تو کوئی اُلٹیاں کرکے دُہرا۔پورے بھوپال میں قیامت کا سا سماں تھا۔ کسی کو بھی نہیں پتا چل رہا تھا کہ آخرہو کیا رہا ہے۔
اگلے روز تمام اخباروں میں یہ خبر چلتی ہے کہ بھوپال نامی انڈیاکے شہر میں زرعی ادویات ساز کمپنی ’یونین کاربائیڈ‘ میں گیس کی لیکیج کی وجہ سے پانچ لاکھ افراد مُتاثر‘جن میں سے چار ہزار موت کے منہ میں چلے گئے۔ جبکہ غیر سرکاری اعداد و شمار اموات کی تعداد پندرہ ہزار تک بتاتے ہیں۔ بعد کی تحقیقات سے پتا چلتا ہے کہ یونین کاربائڈ کی اس فیکٹری میں یہ حادثہ”ای چھ سو دس“نامی میتھائل آئسو سائنائیٹ یا پھر ایم آئی سی کے کنٹینر میں پانی کے چلے جانے کی وجہ سے ہوا۔ اور یہ پانی رفتہ رفتہ کنٹینر میں جاتا رہا۔ ایم آئی سی پانی کی موجودگی میں گیس کی حالت میں چلی جاتی ہے اور یہ پھیھڑوں میں جا کر ایلویولائی جو کہ خون کو آکسیجن مہیا کرتی ہے‘اسکی نارمل حالت کو خراب کردیتی ہے۔ جسکے نتیجے میں سانس لینے میں دشواری کا سامنا ہوتا ہے اور مریض دم گھٹنے کی وجہ سے مر جاتا ہے۔

ایم آئی سی کو ہم ”میتھائل ایمین اور فاس جین“نامی دو مراکب کو ملا کر بناتے ہیں۔ اور اس تعامل کے نتیجے میں بننے والی ایم آئی سی کو بہت کم ٹمپریچر پہ رکھنا پڑتا ہے اور پانی کیساتھ تعامل پہ گیس کی حالت میں چلی جاتی ہے، جوکہ انسانی صحت کے لئے حد سے زیادہ نقصاندہ ہے۔ اور یہی گیس بھوپال کے سانحے کی وجہ بنی۔
بعد میں یونین کاربائڈ کا پلانٹ بند کر دیا جاتا ہے اور متاثرین کو فی کس چھ سو ڈالر دینے کا اعلان کیا جاتا ہے۔ لیکن یہاں یہ سانحہ ایک سوال چھوڑے جاتا ہے کہ مستقبل میں انسان اگر خدانخواستہ کسی جنگ میں ملوث ہوگیا تو کیا وہ مخالف ملک کو ہرانے کے لئے کیمیائی ہتھیار استعمال نہیں کرے گا۔ یاد رہے اس طرح کا استعمال جنگ عظیم اول میں ہو چکا ہے۔اور نقصانات سامنے ہیں۔ اسی طرح ناکافی سہولیات کی وجہ سے مختلف انڈسٹریز بھی سانحہ بھوپال جیسی تباہی پھیلانے کے لئے تیار بیٹھی ہیں۔انسان ہمیشہ سکے کے دونوں رخ استعمال کرتا ہے۔اور پھر جا کہ سبق سیکھتا ہے۔ جنگ عظیم اول میں ہونے والی ہلاکتوں میں ملوث گیس اب کھادوں میں استعمال ہوکر کئی جانیں بچا رہی ہے لیکن اس کا ذرا سی نالائقی سے کیا گیا استعمال تباہی بھی پھیلا چکا ہے۔

اسی طرح ایٹم بھی بم بن کر تباہی پھیلانے کے بعد اب کئی گھروں کو بجلی فراہم کر رہا ہے۔لیکن ذرا سی نالائقی پہ یوکرائن اور جاپان میں حادثات بھی ہو چکے ہیں۔ امید تو بہتری کی ہی لگانی چاہیے، لیکن یہ انسانی تاریخ ہے کہ اس نے پہلے چیزوں کا غلط استعمال کیا اور پھر درست۔ گو اب ہم کیمیائی اور ایٹمی جنگوں سے نکل گئے ہیں لیکن اب ہمارے سامنے سائیبر اور آرٹیفیشل انٹیلی جنس کی جنگ آوازیں دے رہی ہے۔ اب بھی چین،روس اور امریکہ اپنے بجٹ کا ایک خاص حصہ سائبر سیکیورٹی پہ خرچ کر رہے ہیں۔ امریکہ کے گزشتہ الیکشن میں انہی سائبر حملوں کی وجہ سے روس کی مداخلت کو بعض حلقے تسلیم کرتے ہیں۔ اور اسی طرح سے ان سائبر حملوں کے نتیجے میں کوئی بھی کمپیوٹر ہیکر کئی کئی گرڈ اسٹیشن بند کرکے ملکوں کو اندھیروں میں ڈبو سکتے ہیں اوراسکے علاوہ وہ کسی بھی کیمیائی کمپنی کے کمپیوٹر تک رسائی حاصل کرکے وہ اس کمپنی کو کیمیائی ہتھیار کے طور پہ استعمال کر سکتے ہیں۔ اسی طرحSQL اٹیک کسی بھی ملک کے نیوکلئیر لانچ کوڈز تک رسائی کے لئے بھی استعمال ہوسکتے ہیں۔ اور اس سب میں براہ راست انسانی مداخلت کی بجائے کمپیوٹر کی مداخلت شامل ہے اوریہ مستقبل کے لئے خطرے کی ایک گھنٹی ہے۔