عرب ممالک میں قادیانیت کی ہزیمت - مفتی محمد مبشر بدر

قادیانی اپنے جھوٹے مذہب کی ترویج کے لیے اتنے متحرک ہیں کہ انہوں نے پوری دنیا میں دعوتی سرگرمیاں پھیلانے کا عزم کر رکھا ہے۔ یہ مکر و فریب، جھوٹ اور دجل کا ایسا گورکھ دھندا ہے کہ پوری دنیا کو دھوکا دیا ہوا ہے کہ قادیانیت اور اسلام میں کوئی فرق نہیں۔ اسی جذبے کے تحت انہوں نے عرب مسلمانوں کو اپنے دام تزویر میں پھنسانا شروع کر دیا۔ سب سے پہلے 1928ٰء میں اسرائیلی شہر حیفا میں قادیانی تبلیغی مرکز کھولا۔ جہاں سے انہوں نے پورے عرب کو اپنی دعوتی سرگرمیوں کا مرکز بنایا۔ عرب خطے میں قادیانی تبلیغ کی صد سالہ محنت کے نتیجے میں ان کا ایک حلقہ بن چکا ہے۔ ذرائع ابلاغ پر کنٹرول حاصل کر کے اسے تبلیغی سرگرمیوں کے لیے استعمال کیا جارہا ہے۔ اردو زبان سے ناواقفیت کی بنا پر اہل عرب قادیانی عقائد اور چالاکیوں سے بے خبر رہے، وہ انہیں ایک عام مسلمان تنظیم سمجھتے رہے، اور اب بھی اکثر عرب ان کی اصلیت سے ناواقف ہونے کی بنا پر ان کے لیے نرم گوشہ رکھتے ہیں۔ تبھی ان کی گمراہانہ جال کا شکار ہو جاتے ہیں۔

ہانی طاہر کا کہنا ہے کہ جب تک مرزا قادیانی کی کتب کا عربی میں ترجمہ نہیں ہوا تھا تب تک قادیانی جو کچھ بتاتے ہم اسے سچ سمجھتے رہے لیکن جب غلام احمد قادیانی کی کتابوں کا عربی میں ترجمہ ہوا تو ہم پر اس گروہ کی حقیقت کھلنا شروع ہوگئی، اور میں اس نتیجے تک پہنچا کہ مرزا غلام احمد نہ تو مسیح موعود ہے اور نہ ہی مہدی بلکہ وہ ایک جھوٹا اور اور مکار شخص ہے۔ مجھے افسوس ہے کہ میں ایسے شخص کے لیے تبلیغ کرتا رہا اور اپنی زندگی کے بہترین لمحات اس کے پرچار میں گنوا دیے۔ ہانی طاہر نے مرزا کی کتابوں سے تضادات اور تناقضات کو اکٹھا کرکے ویڈیو کلپ بنا کر یوٹیوب پر لگانے شروع کیے اور ساتھ ہی مرزا کی عربی دانی کا پول کھول دیاکہ اس میں انتہائی فاش قسم کی صرفی، نحوی اور ادبی اغلاط موجود ہیں جو قطعا کلام الٰہی نہیں ہوسکتیں اور نہ ہی وہ الہامی عبارات ہوسکتی ہیں۔ ہانی طاہر نے واضح کیا کہ مرزا نے کس طرح عرب ادباء کی ادبی عبارتوں اور جملوں کو چوری کیا اور انہیں الہام اور وحی کا درجہ دے کر عامۃ الناس کو دھوکہ دیا۔ مرزا کے دجل و فریب سے نقاب اٹھتے دیکھ کر قادیانیوں کی نیندیں اڑ گئیں۔ ہانی طاہر کے دلائل اتنے قوی اور مضبوط ہوتے کہ خود قادیانی بھی جماعتی سطح پر اس کا جواب نہیں دے سکے، جس کے نتیجے میں بہت سے قادیانیت کا شکار عربوں نے قادیانیت سے توبہ کی اور ہانی طاہر کی ٹیم کا حصہ بن گئے۔

ہانی طاہر کی کاوشوں سے ہدایت پانے والے خوش نصیبوں میں لندن قادیانی مرکز کے مؤذن، نائب امام اورمرزا مسرورکے انتہائی قریبی عکرمہ نجمی بھی شامل ہیں جنہوں نے ہانی طاہر کی ویڈٰوز سے متاثر ہوکر قادیانیت پر چار حرف بھیجے۔ قادیانیوں نے انہیں لندن میں مرزا مسرور کی رہائش گاہ کے قریب عالیشان گھر دیا ہوا تھا۔ عکرمہ نجمی عرب قادیانیوں میں صف اول کے مبلغ شمار ہوتے تھے اور پیدائشی قادیانی تھے۔ ان کے نانا نے سب سے پہلے قادیانیت قبول کی اور یوں ان کا گھرانہ اس سلسلے میں جڑ گیا۔ عکرمہ نجمی نے خود اپنے اسلام قبول کرنے سے متعلق لکھا کہ جب ہانی طاہر کے دندان شکن اعتراضات کا جواب قادیانیوں سے نہیں بن پڑا تو مرزا مسرور نے مجھ سے اس بابت پوچھا۔ میں نے کہا اس کے دلائل کے سامنے ہماری جماعت بے بس دکھائی دیتی ہے اور کوئی خاطر خواہ جواب نہیں بن پا رہا۔ مرزا مسرور نے یہ سن کر میری ذمہ داری لگائی کہ تم تیاری کرو اور اس کا جواب دو۔ میں نے انتہائی جاں فشانی سے ہانی طاہر کو جواب دینے کی کوشش کی لیکن جب مرزا قادیانی کی کتب کی طرف مراجعت کی اور جوں جوں کتب پڑھتا گیا میں انکار، خوف، تنگی، شدید افسوس، کوفت اور دقت جیسےکئی مرحلوں سے گزرتا گیا۔ میرے لیے بیان کرنا مشکل ہے کہ میں کس اضطراب اور بے چینی میں مبتلا ہوگیا، یہاں تک کہ ہدایت کا مرحلہ آیا اور میں نے مرزائیت سے برائت کا اعلان کردیا۔

مجھے معلوم ہوچکا تھا کہ مرزا قادیانی نے عربی کتب سے سرقہ کیا ہے۔ حالانکہ جماعت احمدیہ یہ باور کراتی رہی تھی کہ مرزا غلام احمد نے کسی سے عربی تعلیم حاصل نہیں کی، یہ وہبی اور عطائی صلاحیت ہے جو اللہ نے انہیں خصوصیت سے معجزانہ طور پر عطا فرمائی ہے۔ مرزا کی کتب میں عربی ادب کی اہم کتاب "مقامات حریری" کے ابتدائی چالیس صفحوں کے (1000) ادیبانہ جملے دیکھے جو مرزا نے چوری کرکے اپنی عربی تحاریر میں فٹ کیے تھے۔ ہانی طاہر نے مرزا کی کتب سے سو نحوی اور لغوی غلطیاں بھی نکالیں جس سے مجھ پر اس کا کذب اور جھوٹ کھل گیا۔ وہ شخص کیسے الہامی یا من جانب اللہ مقرر شدہ نبی و مہدی ہوسکتا ہے جو مقامات حریری اور دیگر عربی کتب کے ادبی جملوں کی چوری کرکے اپنی کتابوں میں لکھے اور کہے کہ یہ کلام من جانب اللہ نازل ہوا ہے؟ اسی طرح مرزا کی پیشین گوئیاں جو جھوٹی ثابت ہوئیں اور محمدی بیگم بارے مرزا کی اشتہار بازی، پیشین گوئی اور اس سے نکاح کی مذموم کوشش جس میں قادیانی بالکل ناکام رہا اور ساری پیشین گوئیاں جھوٹی ثابت ہوئیں، ان تمام چیزوں نے میری نگاہ میں مرزا کا دجل کھول دیا۔

اب میری ذمہ داری تھی کہ میں جماعت کے سامنے حق بات کھول کر بیان کروں اور مرزا اور اس کی جماعت کی حقیقت بیان کروں۔ چنانچہ سب سے پہلے میں نے مرزائی خلیفہ مسرور کو خط لکھا اور مرزا کی تمام خرافات بارے بات کی، نیز یہ کہ ہانی طاہر سچ کہہ رہا ہے۔ اب سارا معاملہ آپ کے ہاتھ ہے، اس وقت آپ خلافت کے تخت پر ہیں، سب لوگ آپ کی بات توجہ سے سنتے ہیں اور اس پر عمل کرتے ہیں۔ آپ ہی موجودہ لوگوں اور آنے والی نسلوں کو اس ورطے سے نکال سکتے ہیں۔ آپ کو آج حق بتا دینا چاہیے اور اس دجل سے پردہ ہٹا دینا چاہیے۔ کم از کم اتنا ہوگا کہ قادیانی احباب کو بہت زیادہ دکھ و الم ہوگا لیکن اس کے بعد آخرت کی رسوائی سے تو بچ جائیں گے۔ آپ اپنی جماعت کا رخ کسی مثبت فلاحی کاموں کی طرف موڑیں اور ان دعاوی کو چھوڑ دیں جن کی کوئی حقیقت نہیں۔ اگر آپ نے ایسا عظیم الشان کام کردکھایا تو تاریخ آپ کا نام سنہری حروف سے لکھے گی اور اس پر آپ کو اللہ تعالیٰ اور لوگوں کی طرف سے بہت اچھا بدلہ ملے گا۔ اگر آپ میری تجویز قبول کریں تو میں آخر تک آپ سے تعاون کرنے کو تیار ہوں۔ میں نے خط انہیں دیا، انہوں نے پوچھا کہ اس خط میں کیا ہے؟ میں نے کہا آپ کے پڑھنے سے پہلے میں کچھ نہیں بتا سکتا، آپ اسے پڑھیں اس کے بعد آپ سے ملاقات ہوگی۔ میں نے یہ توقع نہیں کی تھی کہ میری ساری زندگی اس طرح کے خواب دیکھ سکے گی! انہوں نے کہا، " کیا بات ہے، کیا تم جماعت چھوڑنا چاہتے ہو؟ میں نے کہا میں نے آپ کو خط کے مندرجات پڑھنے تک بات ملتوی رکھنے کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا ٹھیک ہے میں ایک یا دو دن میں اسے پڑھ کر دوبارہ ملوں گا۔ چالیس منٹ بعد ایک خادم نے آکر کہا آپ کو خلیفہ صاحب بلا رہے ہیں۔ جب میں اندر گیا تو میں نے دیکھا کہ ان کے کلام میں ارتعاش تھا۔ وہ دوران گفتگو کانپ رہے تھے اور ان کے ہاتھ بہت زیادہ لرز رہے تھے۔ انہوں نے مجھ سے کہا: "تم نے بانی جماعت کے بارے جو غیرمنطقی باتیں کی ہیں، میں انہیں قبول نہیں کرتا۔ ہمارے دین اور طریقے پر تواتر قائم ہوچکا ہے۔ میں نے تمہارا تمام پیغام پڑھ لیا ہے۔ اس کے بعد میں تمہیں ملازمت اور جماعت سے نکالنے پر مجبور ہوں۔ شیخ عکرمہ مزید لکھتے ہیں کہ بجائے اس کے کہ مجھے قائل کیا جاتا اور مرزا قادیانی کی سچائی کے دلائل دیے جاتے اور میرے اشکالات دور کیے جاتے، بلکہ الٹا مجھے صاف جواب دیا کہ میں تمہیں ملازمت سے فارغ کرنےاور جماعت سے نکالنے پر مجبور ہوں۔ یہ کیسی سچائی ہے؟

قارئین! میں نے عکرمہ نجمی کے خط کے ایک حصے کا ترجمہ آپ کے سامنے پیش کیا جبکہ طوالت کے ڈر سے مرزا کے بارے جو باتیں روشن دلائل سے لکھی تھیں، انہیں چھوڑ دیا۔ عکرمہ نجمی پہلے ہی قادیانیت سے توبہ تائب ہوچکے تھے۔ ملازمت سے فارغ کیے جانے اور جماعت سے نکالے جانے کے بعد انہوں نے قادیانیت کی حقیقت سے ان نادان عربوں کو نکالنے کی ٹھانی جو مرزا کے دجل کا شکار ہوچکے تھے۔ جس میں وہ کافی حد تک کامیاب ہوئے اور بہت سے عرب قادیانیوں کی ہدایت کا ذریعے بنے ہوئے ہیں۔ یہ سلسلہ جاری ہے۔ شیخ امجد سقلاوی اردن کے تعلیم یافتہ سکالر ہیں جو قادیانیت کا شکار ہوچکے تھے، بعد ازاں حقیقت کھلنے پر وہ توبہ تائب ہوئے اور بھرپور طریقے سے قادیانیت کے خلاف کام کررہے ہیں۔ میرا مضمون طویل ہوگیا ۔ اگر مزید افراد کے نام لکھوں کو طوالت بڑھ جائے گی۔ یہ افراد اس وقت سوشل میڈیا پر ایکٹو ہیں اور قادیانیت کے خلاف سرگرم ِعمل ہیں۔ میری خوش نصیبی ہے کہ میں ان کے ساتھ ایڈ ہوں انہوں نے میری ریکویسٹ کو قبول کرکے مجھے اعزاز بخشا۔

قارئین! آپ نے پڑھا کہ قادیانیت کا سورج اب سر زمینِ عرب میں ڈوب رہا ہے۔ یہ اب پستی کی طرف لڑھک رہے ہیں۔ ان نو مسلم افراد کی محنت رنگ لارہی ہے جو خود قادیانیت کی گود میں پل کر آئے ہیں اور اللہ نے انہیں ہدایت کی راہ دکھا دی ہے۔ ان شاء اللہ انگریزی ایماء پر قائم کیا ہوا قادیانی شجرہ خبیثہ اب کھوکھلا ہو رہا ہے۔ ان شاء اللہ آنے والے وقتوں میں آپ بہت بڑی خوشخبریاں سنیں گے۔