کشمیر ہندوستان کے لیے خوبصورت عورت ہے یا ایک زمین کا ٹکڑا - امت جلکا

بنیادی طور پر کشمیر کے متعلق ہندوستانی سماج اور سیاسی سوچ میں پچھلی سات دہائیوں سے ایک تسلسل ہے۔ وہ یا تو ہمارے لیے ایک خوبصورت عورت ہے یا ایک خوبصورت زمین کا ٹکڑا۔ اور اس کے اچھے بھلے کا فیصلہ صرف ہم کر سکتے ہیں۔ اگر وہ ہم سے دور جانا چاہے، تو اس کا مطلب یہ کہ وہ اپنا اچھا بھلا نہیں سمجھ سکتی/سکتے، اور اس کی لگام مزید کھینچ لینی چاہیے۔

ہندوستان کے وزیر داخلہ امت شاہ نے آئین کی دفعہ 370 کو ایک صدارتی حکم نامہ کے ذریعہ منسوخ کرتے ہوئےکشمیر کے خصوصی درجہ کو ختم کر دیا۔ یہاں اس ترمیم کی قانونی پیچیدگیوں کےتجزیہ کےبجائے ہندوستانی سماج میں کشمیرکے متعلق عام فہم اور بنیادی تصوری ڈھانچہ پر اظہار خیال ضروری ہےجو کشمیر کے ہندوستان کے ساتھ الحاق سے لےکر اب تک اس کے پالیسی پر اثرانداز ہے۔

دہائیوں سے یا یوں کہنا چاہیے کہ صدیوں سے ہماری کتابیں، افسانے، فلمیں اور دیگر ذرائع ابلاغ کشمیر کا تصور دو طرح سے کرتے ہیں (اور کشمیر سے یہاں میری مراد وادی سے ہے)۔ ایک تو ایک ایسی سرزمین جو نہایت خوبصورت، سرسبز، برفیلے پہاڑوں سے گھری ہوئی ہے۔ اوردوسراپدری نظریہ جس کے تحت کشمیر اور کشمیریوں کا تصور ایک خوبصورت (سفید فام) پہاڑی لڑکی کے روپ میں کیا جاتا ہے جو خوبصورت تو ہے ہی، بھولی بھالی بھی ہے اور اپنا اچھا برا نہیں سمجھ سکتی– اس لیے اس کی حفاظت کرنا ایک سمجھدار مرد (یعنی ہندوستان) کی ذمہ داری ہے۔

اور کیوں کہ اس خوبصورت عورت پر ایک غیر مہذب ہمسایہ یعنی پاکستان اپنی نظریں گاڑے ہوئے ہے، چنانچہ غیرت مند مرد کا یہ فرض ہے کہ اس خوبصورت عورت کی حفاظت کرے۔ حالانکہ قارئین کو یہ محض استعارے لگیں گے، لیکن میرے نزدیک یہ استعارے ہندوستانی قیادت کی سوچ کو اپنے ڈھانچے میں ڈھال کر ریاستی حکمت عملی پراثر انداز ہوئے سیاسی دلائل اور قانونی داؤ پیچ کو اگر ایک لمحے کے لئے بھول جائیں تو 1947ء سے قبل اور پاکستان کی طرف سے قبائلی حملہ کے بعد ہندوستانی قیادت نے صورت حال کو کچھ انھی معنوں میں سمجھا۔ بلکہ آزادی اورکشمیر کے الحاق سے قبل جب مہاراجہ ہری سنگھ نے شیخ عبداللہ کوگرفتار کیا تھا، اس وقت پنڈت نہرو اور آصف علی نے شیخ عبداللہ کی عدالت میں پیش ہوئے بیان کو تحریر کیا تھا، جس کا ایک اقتباس مندرجہ ذیل ہے؛ ’’اگر دور دراز کے ممالک کے لوگ اس کی (کشمیر) کی طرف کھنچے چلے آتے ہیں تو ان لوگوں کے کیا جذبات ہوں گے جو اس سرزمین کی چھاتی (bosom) میں پلے بڑھے ہیں اور اس کی مدہوش ہوا کو اپنےاندر سمائے ہوئے ہیں… چنانچہ ایک بےاختیار شوق ہمیں مجبور کرتا ہے کہ ہم اس غمگین منظر کو بدلیں اور کشمیر کو ویسا بنائیں جیسا اس کی فطرت ہے۔‘‘

اس اقتباس میں لفظ چھاتی کا استعمال (بجائے گود/lap) اس چیز کا اشارہ کر رہی ہے کہ نہرو اور آصف علی دونوں کشمیر کو ایک خوبصورت عورت کی طرح تصور کرتے تھے۔ علاوہ ازیں لفظ فطرت کا استعمال کشمیر کے سیاسی مستقبل (بادشاہت کا خاتمہ اور ہندوستان کے ساتھ الحاق) کو ایک فطری عمل قرار دیتا ہے۔ اسی ضمن میں نہرو کے دو اور اقتباسات ملاحظہ کریں جو انہوں نے شیخ عبداللہ کی گرفتاری کہ ایک ماہ بعد لکھے تھے؛ ’’اس پہاڑی جگہ (کشمیر)، جس کو قدرت نے ایک تاج کی طرح ہندوستان کے سر پر رکھ دیا ہے۔ (24 ستمبر 1946)‘‘ اور مجھے یقین ہے کہ ’’اگر کشمیر پاکستان کے پاس چلا گیا تو یہ اس کی مکمل تباہی ہوگی۔ ایک وحشیانہ قوم ہندوستان کے سب سے مہذب اور دانشمند لوگوں پر غالب ہوجائیں گے۔ (17 دسمبر 1948)‘‘

نہرو کے علاوہ پٹیل بھی کچھ ایسا ہی نظریہ رکھتے تھے۔ مہاراجہ ہری سنگھ کو 3 جولائی 1947 کو تحریر کیے ایک خط میں وہ یہ نصیحت دیتے ہیں؛ ’’میں آپ کو یقین دلانا چاہتا ہوں کہ کشمیر کی بھلائی بلا تاخیر ہندوستان اور اس کی قانون ساز اسمبلی میں شامل ہونے میں ہے ۔ کشمیر کی تاریخ اور روایت بھی اس طرف اشارہ کرتی ہے اور پورا ہندوستان آپ کے اس فیصلے کا منتظر ہے۔ اسی فیصد ہندوستان اس طرف ہے۔‘‘

یہ سارے بیان، جن میں سے تین کشمیر کے الحاق سے قبل اور ایک اس کے بعد لکھا گیا تھا، اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ کشمیر کا ہندوستان سے الحاق دہلی میں بیٹھے سیاست داں ایک فطری عمل سمجھتے تھے، جس کے بنا کشمیر کی بقا اور تشخص کو خطرہ ہے۔ اور کشمیر کو ان معنوں میں تصور کرنے کے باعث ہندوستان خود کو کشمیر کا محافظ سمجھتا تھا ۔ دوسری غور طلب بات یہ ہے کہ اس سوچ کے عناصر الحاق سے قبل بھی ہندوستانی سیاست دانوں میں پائے جاتے تھے۔ تیسرا، یہ سوچ ہندوستانی قیادت میں کسی عالم غیب سے نہیں آئی بلکہ یہ ہندوستانی سماج میں تاریخ سے اب تک پائی جاتی ہے۔ چاہے یہ مشہور زمانہ شعر ہوکہ؛


گر فردوس بر روئے زمین است

ہمیں است و ہمیں است و ہمیں است


یا پھر1948 کی فلم ‘برسات’ جس میں دو شہر کے لڑکے دو خوبصورت اور بھولی بھالی پہاڑی لڑکیوں کے ساتھ ’رومانس‘ کرتے ہیں۔ اس کے بعد آئی شمی کپور اور شرمیلا ٹیگور کی فلم’کشمیر کی کلی‘ (1964)، اور ایسی بے شمار فلموں میں کشمیر کے برفیلے پہاڑوں پر کھیلتے اور کشمیری لڑکیوں کے ساتھ عشق لڑاتے ہوئے پردیسی،گویا کشمیر کے لیے ایک جنسی شوق ہندوستان اور برصغیر کے خواص و عام پر طاری رہا ہے۔ جس کی وجہ سے 1947ء میں ہندوستان نے اپنا کردار ایک محافظ مرد کے طور پر متعین کیا، جو ایک خوبصورت لڑکی کو وحشی لٹیروں سے بچا رہا ہے۔

لیکن یہ تصور جیسے جیسے سیاسی قیادت اور عوام پر طاری ہوتا گیا، ویسے ویسے حفاظت کا جذبہ ایک منفی صورت اختیار کرنے لگا اور رفتہ رفتہ محافظ قابض میں بدلتا گیا۔ ابتدائی دور میں ریاست کشمیر کو جو خودمختاری دی گئی، اس میں دہلی کی مداخلت بڑھنے لگی اور کشمیر کا خصوصی درجہ نام کے لیے تو تھا، لیکن عملی طور سے اس میں انحطاط آ گیا تھا۔ کشمیر کے انتخابات میں مسلسل دھاندلی ہوتی رہی، اور اس سبب علیحدگی کا جذبہ عوام میں پھیلتا گیا۔ اس جذبے کے کئی عناصر تھے جن میں سے بعض عسکری حل کی طرف گامزن تھے، بعض عدم تشدد اور عوامی مزاحمت میں یقین رکھتے تھے، بعض ترقی پسند تھے اور بعض اسلامی نظریے میں اپنی عقیدت رکھتے تھے۔

اور یہ بھی کہنا درست ہوگا کہ کشمیر کی اس مقامی تحریک کو کسی حد تک پاکستان نے بھی اغوا کر لیا تھا۔ لیکن یہ سب تحریکیں شاید ایک نقطہ نظر پر متفق تھیں۔ وہ یہ کہ ہندوستان اپنے عہد پر استوار نہ رہ سکا۔ لیکن مرکزی حکومت اور ہندوستانی معاشرے نے اس ساری سرگرمیوں کا ایک ہی مطلب نکالا کہ یہ مخالفت دہشت گردی ہے اور پاکستان نے بھولی اور نا سمجھ کشمیری عوام کو ورغلایا ہے۔

نوے اور سن دوہزار کی پہلی دہائی میں بنی کچھ فلمیں جیسے ’روجا‘ اور ’دی ہیرو: لو سٹوری آف اے سپائی‘ میں بھی کشمیر میں جاری تحریکوں کو صرف پاکستان کی حمایت سےچلنے والی اسلامی انتہاپسندی کے روپ میں دکھایا گیا، اور کشمیریوں کو یا تو ایک خوبصورت لڑکی کی طرح دکھایا گیا جس کو ایک بہادر ہندوستانی سپاہی بچاتا ہے (سنی دیول) یا ایک دہشت گرد (پنکج کپور)، یا ایک نااہل شخص جو پاکستان کی باتوں میں آ کر اپنا اچھا بھلا سوچنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔

یہی تصور اس عرصے میں کی گئی سیاسی تقاریراور سوشل میڈیا پر بھی دیکھنے کو ملا۔ دفعہ 370 کے منسوخ ہونے کے بعد سوشل میڈیا پر بہت سے لوگوں نے خوشی کا اظہار کیا کہ اب وہ کشمیری لڑکیوں کے ساتھ شادی کر سکتے ہیں اور ڈل کے کنارے زمین خرید سکتے ہیں، اور ایسی ہی بات بی جے پی اور سنگھ پریوار کے کچھ لیڈروں نے بھی کی۔ یہ اس بات کی تصدیق ہے کہ بنیادی طور پر کشمیر کے متعلق ہندوستانی سماج اورسیاسی قیادت کی سوچ میں پچھلی سات دہائیوں سے ایک تسلسل ہے۔ وہ یا تو ہمارے لیے ایک خوبصورت عورت ہے یا ایک خوبصورت زمین کا ٹکڑا، اور اس کے اچھے بھلے کا فیصلہ صرف ہم کر سکتے ہیں۔ اور اگر وہ ہم سے دور جانا چاہے، تو اس کا مطلب یہ کہ وہ اپنا اچھا بھلا نہیں سمجھ سکتی/سکتے، اور اس کی لگام مزید کھینچ لینی چاہیے۔ اور اسی طرح ایک زمانے کا محافظ اب قابض بن چکا ہے۔ سمجھنے کی بات یہ ہے کہ جن جذبات کو آج سیاست داں اور میڈیا اجاگر کر رہے ہیں، وہ کچھ نیا نہیں ہے۔ آزادی سے لے کر اب تک یہ نظریہ ہماری سیاست اور معاشرے کی نفسیات میں گھل چکاہے اور اگر ہماری پالیسی کا جائزہ لیا جائے تو وہ اس نظریے کی حدود کو پار نہیں کر پائی ہے۔ اور جب تک ہمارا سماج اپنی پدری سوچ اور قومی ریاستوں کے تنگ نظریے سے ابھرےگا نہیں، تب تک برصغیر میں کشمیر اور دیگر علاقے تشدد کے زیرسایہ رہیں گے، دفعہ 370 رہے یا نہ رہے۔

(امت جلکا نیشنل یونیورسٹی آف سنگاپور میں مقیم بین الاقوامی تعلقات اور بر صغیر کی سیاست کےمحقق ہیں۔)