بگلے کے ایک شکار کی کہانی - محمد وجاہت

Pfeilstorch جرمنی زبان کا لفظ ہے جس میں "Pfeil" کا مطلب تیر یا نیزا اور "Storch" کا مطلب Stork یعنی بگلا ہے۔

زیرِنظر تصویر میں آپ ایک بگلا دیکھ رہے ہیں جس کی گردن میں اک نیزا پیوست ہے۔ اس کے پیچھے کہانی کچھ یوں ہے کہ سن ١٨٢٢ میں جرمن اسٹیٹ "میکلین برگ" کے ایک گاؤں میں ایک آدمی اس بگلے کا شکار کرتا ہے۔ جب بگلا اس آدمی کے ہاتھ آتا ہے تو وہ کیا دیکھتا ہے کہ اس کے گلے میں پہلے سے اک نیزا پیوست ہے جس کے باوجود یہ بگلا اُڑ رہا ہے۔ دراصل اس سے پہلے جس شکاری نے اس بگلے کا شکار کیا تھا، اُس کا نشانہ خطا ہو جانے کی وجہ سے یہ نیزا اس بگلے کی شریانوں کو بنا نقصان پنہچائے گردن سے آر پار ہوا تھا۔

صورتحال چونکہ دلچسپ تھی لہٰذا اس پر مزید تفتیش کی گئی، جس سے معلوم ہوا کہ جو نیزا اس بگلے کی گردن میں ہے، وہ یورپ کے کسی بھی ملک کا ڈیزائن نہیں ہے۔ اب یہ بات ١٨٢٢ میں مزید حیران کر دینے والی لگی۔ جس پر تفتیشی عملے نے مزید اس پر محنت کی تو پتہ چلا کہ نیزا سینٹرل ساؤتھ افریقہ کے اک قصبے کا ہے، جس سے مزید معلوم ہوا کہ یہ بگلا سینٹرل ساؤتھ افریقہ سے ہجرت کرتے ہوئے جرمنی آیا تھا۔

اس کے بعد معلوم ہوا کہ سردی اور گرمی کے پرندے چھ چھ ماہ غائب ہونے کے بعد اپنے گھونسلوں میں سُستاتے نہیں بلکہ ایک ملک سے دوسرے ملک ہجرت کر جاتے ہیں اور جب اُن کا موسم واپس آتا ہے تو وہ بھی لوٹ آتے ہیں۔

جیسا کہ احباب جانتے ہیں کہ ہر سال پاکستان میں بھی ٹھنڈے علاقوں مثلاً سائیبیریا وغیرہ سے مختلف اقسام کے پرندے ستمبر تا مارچ پاکستان کی مختلف جھیلوں پر قیام کرتے ہیں کیونکہ ٹھنڈے علاقوں میں مچھلی اور مرغوب گھاس جو ان کی غذا ہے، وہ برف کی تہہ میں ڈھک جاتی ہ،ے لہٰذا ٹھنڈے علاقوں کے پرندے ایک ملک سے دوسرے ملک ہجرت کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔

گذشتہ ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ہر سال کم و بیش ٢٠٠ مختلف اقسام کے پرندے آتے تھے، جن کی تعداد اب کم ہو کر ٨٠ رہ گئی ہے۔ جس کی خاص وجہ موسم میں ہونے والی تبدیلی اور شکاریوں کا شکار کرنا ہے۔ اس طرف حکومت اور عوام دونوں کو توجہ کی ضرورت ہے۔