امریکہ و روس کو شکست دی تو بھارت کیوں نہیں؟ اعظم علی

لوگ کہتے ہیں کہ پاکستان کی فوج نے افغانستان میں روس و امریکہ کو شکست دی تھی تو اب بھارت سے جنگ کرنے میں کیا مسئلہ ہے؟

کیا پاکستان نے باقاعدہ فوجیں داخل کرکے روس اور امریکہ کو شکست دی تھی؟

یہی ایک بہت بڑا مسئلہ ہے ہمارے ”مجاہدین“ کا۔ معروضی حالات سمجھنے کی صلاحیت سے محروم، اپنی مرضی کی مثالوں کو منتخب کرکے پوری قوم کو اپنی پسند کے محاذ پر جھونکنے کا شوق۔

مجھے یقین ہے کہ آئندہ پاک بھارت جنگ کروڑوں نہیں تو کم از کم لاکھوں افراد کیُ اموات پر ختم ہوگی اور اس کے نتیجے میں ممکنہ طور پر پاکستان اور بھارت دونوں بطور ملک باقی نہیں رہیں گے۔ جب معاملات اتنے گھمبیر ہوں تو دونوں ممالک کے لیے کھلی جنگ کا فیصلہ آسان نہیں ہوتا۔ اسی لیے خواہش کے باوجود بظاہر ہتھیاروں اور افرادی قوت دونوں کے غلبے کے باوجود بھارت حملہ کرنے کی جرات نہیں کر پا رہا۔ حالانکہ بھارت کی موجودہ قیادت بھی اتنی ہی انتہا پسند اور جنگ کی شوقین ہے جتنے ہمارے فیس بُک مجاہد۔ بس احمق نہیں ہیں یا شاید ہمارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے مطابق اونٹ کی رسیوں کو باندھ کر کہیں جانے کے قائل ہیں۔ بجائے ہمارے مجاہدانہ توکل کے۔

ایک بات یہ یاد رکھیں، انگریز ہوں یا روس و امریکہ، تینوں طاقتوں نے افغانستان کو فوجی طور پر تو شکست دے کر قبضہ کر ہی لیا تھا۔ اصل کھیل تو بعد میں شروع ہوا۔ جب افغانوں نے بطور قوم (فوج نہیں) گوریلا جنگ کے ذریعے خون نکال نکال کر بھینسے کو گرنے پر مجبور کر دیا۔ یہی کچھ ویت نام میں ہوا اور امریکہ کو عبرتناک شکست ہوئی۔ ( یاد رہے کہ افغانستان کی جنگ میں امریکہ کا جانی نقصان ویت نام کا عشر عشیر بھی نہیں ہوا) عراق میں بھی فوجی شکست تو چند دنوں میں مکمل ہوگئی تھی لیکن مزاحمت چند سال نکال گئی۔

میرے بھائی! افغانستان کی مثالیں دینا آسان ہے، لیکن یاد رکھیں افغانستان میں کوئی فوج نہیں لڑی۔ فوج ایک بڑا ٹارگٹ ہوتی ہے جس کے اڈے اور مستقر، آلات ہوتے ہیں اور کسی بھی بڑی جنگی قوت کے لیے اسے بہتر فضائی طاقت کے ذریعے قابو پانا آسان ہوتا ہے۔ لیکن اس کے بعد قومی مزاحمت ہوتی ہے جو کسی بھی ہاتھی کو چیونٹیوں کے ذریعے مار گراتی ہے۔ کیا آپ واقعتاً یہ سمجھتے ہیں کہ برصغیر کے غلامانہ مسلم معاشرہ، جس نے انگریزوں سمیت (سوائے چند پاکٹوں کے) تمام قابضوں کے ساتھ تعاون و سمجھوتہ کیا، بطور قوم جنگ لڑ نے کے قابل ہوگا؟

معذرت۔ جس دن اس فوج نے شکست فاش کھائی، پاکستان صفحہ ہستی سے مٹ جائے گا۔ بعد میں سب خوشی خوشی نہ سہی، مجبوراً ہی سہی، وندے ماترم گا رہے ہوں گے۔ اس لیے اس فوج کی بھی مجبوری ہے کہ کسی ایسی جنگ میں پڑنے سے پہلے کوئی ایسا فیصلہ نہ کرے جس کے نتائج میرے منہ میں خاک۔

۳۱۳ کے لشکر نے ۱۰۰۰ کفار مکہ کو شکست دی تھی لیکن اس کی قیادت صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں تھی۔ آج ہم آپ جیسے بھاشن دیتے ہیں، مگر یہ نہیں سمجھتے کہ اگر بدر و احد میں شکست ہوتی تو اسلام ختم ہو جاتا۔ اللہ پاک کی نصرت اپنے نبی آخرالزمان کے ساتھ آنی ہی تھی۔ اب ہم اسلامی اُمہ کا ایک چھوٹا سا حصہ ہیں، اور ہم نہیں تو کوئی اور اس قیادت کو سنبھال لے گا، اللہ ہم سے بہتر قوم کو منتخب کرلے گا۔

موجودہ صورتحال میں وہی راستہ بچتا ہے جو افغانستان میں اختیار کیا گیا۔ یعنی بظاہر خود کو دور رکھتے ہوئے گوریلا جنگ کی سپورٹ۔ اور اس ہاتھی کو چیونٹی کی مدد سے مارا جائے۔ اور شاید یہی کیا جا رہا ہے۔۔ گوریلا اور خفیہ جنگوں میں پٹے ہوئے یا ایکسپوز مہروں کو میدان سے باہر ک رکے دوسروں کو آگے لایا جاتا ہے۔

کشمیر کی خفیہ جنگ میں صرف اور صرف کشمیری تنظیموں اور کو استعمال کیا جانا چاہیے۔ کسی بھی غیر کشمیری کی علی الااعلان شرکت ہمارے لیے خلاف مصلحت ہوگی۔ جن لوگوں کو واقعتاً مدد و تعاون کرنا ہے تو خاموشی سے میڈیا کی نگاہوں سے دور رہ کر کریں۔ بلکہ میڈیا کو بھی قومی جنگی مفاد میں بعض خبروں کا بلیک آؤٹ کرنا چاہیے۔ بالخصوص جب کشمیر میں پاکستانی افراد و تنظیموں کا معاملہ ہو۔