خانہ کعبہ کے غلاف کا رنگ - عالم خان

جہاں تک ہمارا مشاہدہ ہے اور مسلمانوں کے ہاں معروف ہے کہ کعبہ کا غلاف ہمیشہ سیاہ رنگ رہا ہے اور شاید اسی سیاہ رنگ کو ہم مسنون یا مأمور رنگ تصور کرتے ہیں۔

حالانکہ حقیقت یہ ہے! کہ یہ تاریخی طور پر غلط ہے خانہ کعبہ پر صرف سیاہ نہیں بلکہ سرخ اور سرخ و سفید کا غلاف بھی چڑھایا گیا ہے۔
بعض مصادر میں لکھا گیا ہے کہ جاہلیت کے دور میں خانہ کعبہ پر سرخ رنگ کا غلاف ڈالا جاتا تھا جو فتح مکہ کے بعد رسول اللہ [ص] نے تبدیل نہیں فرمایا اور وہی سرخ رنگ کا غلاف رکھا ۔
اگرچہ! بعض مؤرخین کا خیال یہ ہے کہ رسول اللہ نے سب سے پہلے کعبہ پر غلاف چڑھایا تھا اور وہ یمنی کپڑے سے بنا تھا جو سرخ اور سفید رنگ کا تھا، خلیفہ راشد ابوبکر [رض] نے اپنی خلافت میں تبدیل کرکے صرف سفید رنگ کا غلاف کعبہ پر چڑھایا تھا، بعد میں عبد اللہ بن زبیر [رض] نے تبدیل کرکے دوبارہ سرخ رنگ کا غلاف بنایا اور اسی طرح صدر اوّل میں کبھی سرخ اور کبھی سفید رنگ کا غلاف ہوا کرتا تھا۔

لیکن ! ۲۰۰ ھ میں کعبہ کا غلاف ایک کپڑے کے بجائے دو کپڑوں سے بنایا گیا ایک کا رنگ زرد اور ایک کپڑے کا رنگ سفید تھا، جب مامون الرشید خلیفہ بنے تو آپ نے ایک اور کپڑے کا اضافہ کیا اور یوں کعبہ کا غلاف تین کپڑوں سے تیار کیا گیا جو ایک بار نہیں کئی بار تبدیل کیا جاتا تھا، یوم الترویہ پر سرخ و سفید رنگ کا غلاف چڑھایا جاتا تھا جبکہ رجب میں لائٹ سفید اور رمضان صرف سفید رنگ کا غلاف چڑھایا جاتا تھا۔

جب ! خلیفہ ناصر تخت نشین ہوئے، تو انھوں نے (٦٢٢ھ) میں پہلی مرتبہ سیاہ رنگ کا غلاف بنایا اور کعبہ پر چڑھایا و تاحال یہی رنگ چلا آرہا ہے۔
لہذا ! جن لوگوں کا خیال یہ ہے کہ سیاہ رنگ کا غلاف شاید مسنون یعنی رسول اللہ [ص] کے زمانے سے چلا آرہا ہے تو یہ تاریخی لحاظ سے غلط ہے سیاہ رنگ کا غلاف رسول اللہ کے دور میں نہیں تھا، بلکہ اسکی ابتداء (٦٢٢ھ) میں ہوئی ہے۔

Comments

عالم خان

عالم خان

عالم خان گوموشان یونیورسٹی ترکی، میں فیکلٹی ممبر اور پی ایچ ڈی کے طالب علم ہیں۔ اسلام اور استشراقیت ان کی دلچسپی کا موضوع ہے۔ دلیل کے مستقل لکھاری ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.