سپر مین بچھیا اور ببن میاں۔عبدالخالق بٹ

چَھنن، چَھنن ، چَھنن ، چَھنن ۔یہ چھناچَھن دو روز سے گلی میں گونج رہی ہے۔ اور اس کے ساتھ بچوں کا شور بھی۔ جانور’شریف‘ہے، اس لیے بچے اسے گُھماتے پھر رہے ہیں۔ ان آوازوں کے درمیان گاہے گاہے ایک آواز ’ ببن میاں ‘کی بھی ابھرتی ہے: ’ ابے ’سمال‘ کے جھنڈا زمین پہ ناں لگے‘۔

جانور ببن میاں کا ہے ، بچے محلے والوں کے اور جھنڈا مملکتِ خدادادِ پاکستان کا۔جو اس صحت مندجانور پر کچھ اس طرح بندھا ہے کہ اگر جانور اڑ سکتا تو بِنا چَڈّی کا ’سپر مین‘ کہلاتا ۔

’ ارے ببن میاں یہ کیا ؟ ‘۔۔۔۔ اختر خالو نے حیرت سے بچھیا کو دیکھتے ہوئے پوچھا

’ بچھیا ‘ ۔۔۔۔۔ ببن میاں نے عارفانہ تجاہل برتا۔

’ میں جھنڈے کا پوچھ رہا ہوں ‘ ۔۔۔۔ اختر خالو کے لہجے میں جھنجھلاہٹ آگئی۔

’ جھنڈا پا کستان کا ہے‘ ۔۔۔۔ ببن میاں کی بے نیازی میں کوئی فرق نہیں آیا۔

’ تو اس غریب جانور پر کیوں باندھ دیا، خود اُڑھ لیتے ‘ ۔۔۔۔ اختر خالو کے ضبط کا بندھن ٹوٹ گیا۔وہ بُڑبُڑاتے ہوئے پلٹے تو ببن میاں نے لپک کر ان کا بازو تھام لیا اور انہیں پُچکارتے، بھلاتے، پُھسلاتے اور کسی قدر کھینچتے ہوئے گلی میں بچھے تخت تک لے آئے۔

’ اماں اختر میاں کاہے غصہ ہوتے ہو۔۔۔لو گلوری کھاؤ ‘ ۔۔۔۔ ببن میاں نے پان کی ڈبیا اُن کی جانب بڑھادی۔

’ قربانی کے جانور پر جھنڈا ۔ یہ قربانی کا مذاق اور جھنڈے کی توہین ہے‘ ۔۔۔۔ یہ کہتے ہوئے اختر خالو نے تلے اوپر دو مختصر گلوریاں کلّے میں داب لیں۔

پھر چُٹکی میں لگے کتھے کو اپنے سر سے پونچھا اور طنز کا تیر چلایا : ’ اچھی تربیت کر رہے ہو بچوں کی‘ ۔

’ تربیت ہی تو کرریا ہوں بچوں کی‘۔۔۔۔ببن میاں نے ’تربیت‘ پر زور دیا۔

’ وہ کیسے؟ ‘ ۔۔۔۔ اختر خالو کا منہ حیرت سے کھلا تو پیلے دانت اور لال زبان پکار اٹھے: ’ دیکھو ’ہمیں‘ جو دیدہ عبرت نگاہ ہو‘۔

ببن میاں نے جواب میں مناظرے باز مولوی کا سا انداز اختیار کیا اور سائل کو سوال ہی کی راہ سے گھر پہنچا دیا۔

’ قربانی کس لیے ؟ ‘

’ اللہ کے لیے ‘ ۔۔۔۔۔ اختر خالو نے جوابی سنجیدگی کا مظاہرہ کیا۔

’ پاکستان کس کے نام پر بنا ؟‘

’ اسلام کے ‘

’ گائے کون ذبح کرتا ہے؟ ‘

’ مسلمان ‘

’گائے کون پوجتا ہے؟‘ ۔۔۔۔

اس سوال کے ساتھ ہی جیسے اختر خالو بات کی تِہ تک پہنچا گئے ۔۔۔ بے ساختہ نعرہ لگایا: ’ پاکستان زندہ باد‘۔۔۔۔پھر لپک کر ببن میاں کا ماتھاچوم لیا۔جس کا نتیجہ ماتھے پر رنگین لعاب کی صورت میں ثبت ہوگیا۔

اختر خالو جو اب تک ٹانگیں لٹکائے بیٹھے تھے، جوتا اتار کر صحیح سے تخت نشین ہوگئے اور بولے : ’ ببن میاں تم نے تو قربانی۔آزادی اور دو قومی نظریے کو ایک بچھیا ہی میں نبٹا دیا ۔۔۔۔ اب ایک پروبلم ہماری بھی سلجھا دو‘۔

’ وہ کیا ‘ ۔۔۔۔ ببن میاں بھی سنبھل کے بیٹھ گئے۔

’عید الاضحیٰ کا کیا مطلب ہے ؟ ۔۔۔ درست لفظ بکرا عید یا بقر عید؟‘۔

ببن میاں ’فارم‘ میں آچکے تھے،چنانچہ گویا ہوئے تو جیسے دبستاں کُھل گیا:

لفظ ’عید‘ کا مطلب ہے ’ جو بار بار آئے‘۔ اسی سے لفظ ’ وعدہ‘ اور ’ وعید‘ بھی ہے۔ان دونوں لفظوں میں لوٹ کر آنے کا تصور موجود ہے۔چونکہ خوشی کا یہ تہوار ہرسال لوٹتا یا ’عود‘ کرتا ہے اس لیے ’عید‘ کہلاتا ہے۔ویسے اس دن ایسے عشاق سے ہشیار رہنا چاہیے جو رسمِ دنیا، موقع اور دستور کو بطور حوالہ پیش کرکے گلے پڑنے کے چکر میں رہتے ہیں۔

رہی بات ’ اضحیٰ ‘ کی تو اس کے معنی ’ قربانی کے جانور ‘ کے ہیں۔دراصل یہ لفظ ’ اُضحٰیہ‘ سے نکلا ہے جو عید پر ذبح کی جانی والی بکری کو کہتے ہیں۔ یوں عید الاضحیٰ کا مطلب ہوا بار بار آنے والا خوشی کا وہ تہوار جس پر جانور ذبح کیے جائیں۔

نور الغات والے مولوی نور الحسن کے مطابق ’عیدِ اضحیٰ‘ لکھنا درست ہے۔ اس عید الاضحیٰ کو ’بقر عید‘ بھی کہتے ہیں۔’بقر‘ عربی میں گائے کو کہتے ہیں اور اس عید پر گائے بھی قربان کی جاتی ہے شائد اس لیے اسے ’ بقر عید ‘ بھی کہ دیتے ہیں۔ویسے اسے بڑی عید، عید قربان اور نمکین عید بھی کہتے ہیں۔

اس عید پر ’ بکرے ‘ بھی ذبح کیے جاتے ہیں مگر اس رعایت سے اسے ’ بکرا عید‘ کہنا درست نہیں، ورنہ یہ سلسلہ چل نکلا تو ’ دنبہ عید اور مینڈھا عید سے ہوتا ہوا اونٹ عید ‘ تک پہنچ جائےگا۔ پھر جو غدر مچے گا اس کا تصور آپ خود کرلو۔

جانور ذبح کرنے والے کو عام طور پر’ قصائی ‘ لکھا جاتا ہے، جب کہ بڑے محقق لکھ گئے ہیں کہ درست لفظ ’ قسائی ‘ ہے، جو قساوت یعنی سنگدلی سے نکلا ہے۔

ہندوؤں میں گوشت فروش کو ’ کھٹیک‘ کہتے ہیں،شائد اس لیے کہ وہ جانور کی گردن ’ کھٹ ‘ سے اڑا دیتا ہے۔واللہ اعلم

گائے سے یاد آیا کہ اسے سنسکرت میں ’ گاؤا ‘ کہتے ہیں۔اسی سے ’راؤ‘ کے وزن پر ’ گاؤ ‘ اور ’ رائے ‘ کے وزن پر ’ گائے ‘ ہے۔ اس کی ایک مختصر صورت ’ گؤ ‘ بھی ہے۔ اسی ’ گؤ ‘ سے ’ گوپال ‘ یعنی گائے پالنے والا اور ’ گوالا ‘ یعنی گائے والا کی ترکیبیں بنی ہیں۔

چونکہ حرف ’ گ ‘ اور ’ ک ‘ اکثر موقعوں پر ایک دوسرے سے بدل جاتے ہیں لہٰذا ہندی کا ’گاؤ‘ انگریزی زبان میں Cow (کاؤ) ہوگیا ہے۔اس صوتی تبدیلی کی ایک مثال لفظ ’ نکہت ‘ بھی ہےجسے ’ نگہت ‘ بولا اور لکھا جاتا ہے۔

عربی۔فارسی اور اردو زبانوں میں اکثر موقع پر حرف ’ن‘ کے ساتھ ’ب‘ آجائے تو ’ میم ‘ کی آواز دیتا ہے۔اسے عربی کے ’منبر‘ اور فارسی کے ’ گنبد‘ میں دیکھا جاسکتا ہے ۔اس بات کو ذہن میں رکھتے ہوئے اب لفظ ’دنبہ ‘ پر غور کریں نام کا مطلب خود ہی ظاہر ہوجائے گا۔اصل میں لفظ ’ دنب ‘ کا تلفظ ’دُم ‘ ہے۔ چونکہ زیر بحث جانور کی دُم خاصی چوڑی چکلی ہوتی ہے لہٰذا اس نسبت سے اسے ’ دنبہ ‘ پکارا جاتا ہے۔اور اس کی دنب کو چکی اور چکتی بھی کہتے ہیں۔

دنبے ہی کا ہم قبیلہ ایک مویشی ’ بھیڑ‘ ہے۔یہ بات ہمیں بہت بعد میں بتا چلی کہ اس کے نر کو بھیڑا اور مینڈھا کہتے ہیں۔ خیر سوال کیا جا سکتا ہے کہ پھر ایک خون خوار جانور کو بھیڑیا کس حساب میں کہتے ہیں؟ توعرض ہے کہ بھیڑیا عام طور پر بھیڑوں کے ریوڑوں اور گلوں پر حملہ آور ہوتاہے لہٰذا بھیڑ کی نسبت سے اسے ’ بھیڑیا‘ کہتے ہیں ۔

اس پہلے کا مضمون بکرا پیڑی بن جائے ہمیں اجازت دیں آئندہ نشست میں کچھ نئے مویشیوں کے ساتھ حاضر ہوں گے۔اللہ حافظ ۔