حافظ زبیر صاحب کا "تصور روایت و شریعت" - محمد زاہد صدیق مغل

برادر حافظ حافظ زبیر صاحب روایت دین و شریعت کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

"فقہ، شریعت نہیں ہے بلکہ اس کا فہم ہے۔ شریعت تو متن ہے۔ تو دوام متن کو حاصل ہے نہ کہ فہم کو۔ فہم تو بدلتا رہتا ہے۔ ہمارا روایت کے بارے نقطہ نظر یہی ہے کہ اصلاً روایت، شریعت ہے اور وہ کتاب وسنت کا عربی متن ہے، اور وہ ایک ہی ہے۔ رہی فقہ واجتہاد تو یہ شریعت کا فہم ہے لہذا ایک سے زائد بھی ہو سکتے ہیں۔"

"آئمہ کرام کی جدوجہد کا خلاصہ صرف اتنا تھا کہ ہم اپنے زمانے کے علماء ہیں اور اجتہاد کر رہے ہیں اور عام لوگ ہمارے ان اجتہادات میں ہماری اتباع کرتے ہیں تو آنے والے زمانے کے علماء اپنے زمانے کے احوال وظروف کے مطابق اجتہاد کریں گے اور ان کے زمانے کے لوگ ان کی اتباع کریں گے۔"

ان بیانات کی رو سے - دینی روایت صرف اور صرف قرآن و سنت کے متن کے عربی الفاظ ہیں، اس کے علاہ سب کچھ اس کا فہم ہے جو نہ دینی روایت ہے اور نہ شریعت۔ - صحابہ، تابعین و آئمہ دین کا فہم بھی روایت دین کا حصہ نہیں کیونکہ ان میں سے کسی کا بھی فہم نص نہیں۔ - فہم دین کی روایت (یعنی طریقہ فہم) اور اس روایت سے اخذ ہونے والا فہم دین (یعنی نتائج) دونوں میں سے کچھ بھی شریعت و روایت نہیں، روایت و شریعت تو صرف الفاظ ہیں۔

حافظ صاحب علامہ ابن تیمیہ کے بہت مداح ہیں اور اس مضمون میں بھی بار بار ان کی تعریف کررہے ہیں لیکن پتہ نہیں کیوں؟ ظاہر ہے علامہ بن تیمیہ کی باتیں بھی صرف فہم متن ہے نہ کہ متن یا شریعت۔ انہوں نے بھی اپنے دور کے لحاظ سے ہی متن کو کچھ سمجھ لیا تھا۔ یہ کیا بات ہوئی کہ ہزار سال پرانے فہم کا اعادہ بار بار کیا جائے یا اس کا حوالہ دیا جائے؟

یہ بھی پڑھیں:   “نہیں، قرآن نہ سنو” عابدہ بانو

- نیا فہم اسلام بنانے اور اپنانے میں کوئی علمی و شرعی قباحت نہیں جیسے مثلا غامدی صاحب یا نئے دور کے دیگر لوگوں نے بنایا ہے۔

- علامہ ابن تیمیہ اور غامدی صاحب میں روایت پر عمل پیرا ہونے اور نہ ہونے کے اعتبار سے کوئی فرق نہیں، تمام تجدد پسند حضرات بھی اہل روایت ہیں کیونکہ سب اسی عربی متن کی بنیاد پر اپنی بات کرتے ہیں جسے انہوں نے روایت کا واحد مصداق قرار دیا ہے۔

- چونکہ "شریعت" صرف عربی کے الفاظ ہیں لہذا ماننا پڑے گا کہ شریعت پر عمل ناممکن ہے، جونہی آپ متن پر عمل کرنے کی کوشش کریں گے تو حافظ صاحب کے نظرئیے کے مطابق وہ شریعت نہ رہے گا کیونکہ وہ لازما آپ کا فہم ہوجائے گا جو شریعت سے باہر ہے ("متن بدون فہم" ایسی شریعت نہیں بن سکتا جس پر دنیا کا کوئی ایک بھی انسان عمل کرسکے، یہاں تک کہ خود حافظ صاحب بھی نہیں)، تو اس نظرئیے کا حاصل یہ ہے کہ شریعت و روایت بس تلاوت نص اور ان کے الفاظ کو منتقل کرنے کا نام ہے۔

- حافظ صاحب نے روایت کے بارے میں یہ نظریہ "ایک شریعت" ثابت کرنے کے شوق میں وضع کیا ہے، چنانچہ وہ فرماتے ہیں کہ " اصلا روایت سے مراد کتاب وسنت کا متن ہے اور اس کا سب سے بڑا خاصہ اور امتیاز یہ ہے کہ یہ ایک ہی ہے اور سب کے نزدیک وہی ہے"۔ یہ دعوی بھی محل نظر ہے کیونکہ یہ بات اہل علم جانتے ہیں کہ ایک حدیث کسی کے نزدیک موضوع ہوتی ہے تو کسی کے نزدیک مقبول، کسی کے نزدیک ضعیف تو کسی کے نزدیک صحیح۔ ایسے میں اس بات کا کوئی مطلب نہیں کہ چونکہ متن ایک ہے لہذا شریعت ایک ہے۔ روایت و شریعت کے بارے میں اس نظرئیے سے پیدا ہونے والی مشکل کا حل یہ ہے کہ صرف قرآن کو متن کہہ دیا جائے۔

یہ بھی پڑھیں:   “نہیں، قرآن نہ سنو” عابدہ بانو

- حافظ صاحب فرماتے ہیں کہ "ہمارے نزدیک اصل منہج یہ ہے کہ تمام فقہوں کے فقہی ذخیرے سے برابر طور استفادہ کرتے ہوئے "ترجیحی اجتہاد" کیا جائے یعنی ایک قول کو دوسرے پر بوجوہ ترجیح دی جائے"۔ یہ بات سمجھ نہیں آئی کہ آخر تمام فقہوں کے زخیرے میں سے کسی قول کو ترجیح دینے کے اس کام کو بھی کیوں کر "اصل منہج" مانا جائے؟ جب کسی بھی فقہ کے اقوال نہ تو دلیل ہیں اور نہ ہی شریعت، تو سب کے مجموعے کو یہ حیثیت کیسے دی جائے کہ انہی کے اندر ترجیح کا پیمانہ قائم کیا جائے؟ آخر نئی نئی آراء بنانے میں کیا مضائقہ اور غیر روایتی ہے؟

Comments

محمد زاہد صدیق مغل

محمد زاہد صدیق مغل

محمد زاہد صدیق مغل نسٹ یونیورسٹی کے شعبہ اکنامکس میں تدریس کے فرائض سر انجام دیتے ہیں۔ قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد سے معاشیات میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔ ملکی و غیر ملکی جرائد و رسائل میں تسلسل کے ساتھ تحقیقی آراء پیش کرتے رہتے ہیں۔ ان کی تحقیق کے خصوصی موضوعات میں معاشیات، اسلامی فنانس وبینکنگ اور جدیدیت سے برآمد ہونے والے فکری مباحث شامل ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.