پاکستان اکھنڈ بھارت کے سامنے ڈھال ہے - شمس الدین امجد

پاکستان ہندوستان کے مسلمانوں کے علاوہ بنگلہ دیش اور افغانستان کے مسلمانوں لیے بھی ایک ڈھال ہے۔ خدانخواستہ پاکستان کو کچھ ہوا تو آر ایس ایس ذہنیت کے لیے ڈھاکہ اور کابل پر قبضہ کرنا کوئی مشکل نہیں ہوگا۔

ڈھاکہ یونیورسٹی کے آخری وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر سید سجاد حسین (جو خود بنگالی ہیں) نے ''شکست آرزو'' میں لکھا ہے کہ تین طرف سے بھارت میں گھرے بنگلہ دیش کی آزادی ہر وقت خطرے میں رہے گی۔ بھارت جب چاہے گا اس پر قبضہ کر لے گا۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ اگرچہ انتظام حسینہ واجد کے ہاتھ میں ہے، مگر را کی مداخلت گزشتہ 50 سالوں میں واضح ہے۔ باوجویکہ بنگلہ دیشی قوم بھارت کے لیے اچھے جذبات نہیں رکھتی، اور خود آسام و مغربی بنگال اور ملحقہ ریاستوں میں ایک کروڑ سے زائد بنگالی مسلمانوں کو شہریت کا مسئلہ درپیش ہے، مگر بنگلہ دیشی وزرا اور حکمران کا بھارت کے سامنے بچھے جانا اور گھگھیاتے رہنا ہمارے سامنے کی کہانی ہے۔ یہی معاملہ کچھ افغانستان کی اشرافیہ کا ہے۔

اکھنڈ بھارت کی حامل ذہنیت جو اس وقت بھارت پر حکمران ہے، صرف پاکستان پر حق ملکیت کا دعوی نہیں کرتی بلکہ پوری جنوبی ایشیا بمع برما و افغانستان تک کو اس میں شامل کرتی ہے، اور بعض زیادہ جنونی اکھنڈ بھارت کے نقشے کو تھائی لینڈ سے ہوتے ہوئے انڈونیشیا اور ملائیشیا تک پھیلا دیتے ہیں۔

اکھنڈ بھارت ذہنیت کے حاملین مسلمانوں کے ساتھ کیا سلوک کرنا چاہتے ہیں۔ سید علی گیلانی صاحب کے داماد افتخار گیلانی نے اپنے حالیہ کالم میں اس کی جھلک کچھ یوں دکھلائی ہے: ''مجھے یاد ہے کہ 90 کی دہائی کے اوائل میں تعلیم اور روزگار کی تلاش میں جب میں وارد دہلی ہوا، تو ایک روز معلوم ہوا،کہ کانسٹی ٹیوشن کلب میں ہندو قوم پرستوں کی مربی تنظیم راشٹریہ سیویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کی اسٹوڈنٹ ونگ اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد کی طرف سے کشمیر پر مذاکرہ ہو رہا ہے۔ بطور سامع میں بھی حاضر ہوگیا۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کے سلجھے ہوئے اور اعتدال پسند مانے جانے والے لیڈر ارون جیٹلی خطاب کر رہے تھے۔ وہ ان دنوں ابھی بڑے لیڈروں کی صف میں نہیں پہنچے تھے اور تب تک سپریم کورٹ کے زیرک وکیلوں میں ہی شمار کئے جاتے تھے۔ چونکہ وہ مقتدر ڈوگرہ کانگریسی لیڈر گردھاری لال ڈوگرہ کے داماد ہیں، اس لئے جموں و کشمیر کے ساتھ ان کا تعلق بنتا ہے۔ اپنے خطاب میں جیٹلی صاحب کا شکوہ تھا کہ پچھلے 50سالوں میں مرکزی حکومتو ں نے کشمیر میں غیر ریاستی باشندوں کو بسانے کی کوئی کوشش نہیں کی۔ اگر ہندوستان کے دیگر علاقوں سے لوگوں کو کشمیر میں بسنے کی ترغیب دی گئی ہوتی، اور اس کی راہ میں قانونی اور آئینی پیچیدگیوں کو دور کیا جاتا، تو کشمیر کا مسئلہ کبھی بھی سر نہیں اٹھاتا۔ ان کا کہنا تھا کہ کشمیریت اور کشمیری تشخص کو بڑھاوادینے سے کشمیری نفسیاتی طور پر اپنے آپ کو برتر اور الگ سمجھتے ہیں اور ہندوستان میں ضم نہیں ہو پاتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   حکومت صلاح الدین ایوبی بنے - حبیب الرحمن

اسی طرح مجھے یاد ہے کہ من موہن سنگھ کی وزارت اعظمیٰ کے دور میں ایک بار پارلیامنٹ میں کشمیر پر بحث ہو رہی تھی۔ اپوزیشن بی جے پی نے اتر پردیش کے موجودہ وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کو بطور مقرر میدا ن میں اتارا تھا۔ تقریر ختم کرنے کے بعد وہ پارلیامنٹ کمپلکس کے سینٹرل ہال میں آکر سوپ اور ٹوسٹ نوش کررہے تھے، کہ میں نے جاکر ان سے کہا کہ؛ آپ نے بڑی دھواں دھار تقریر کرکے حکومت کے چھکے تو چھڑائے، مگر کوئی حل پیش نہیں کیا۔ یوگی جی نے میر ی طرف دیکھ کر مسکرا کر کہا کہ؛ اگر میں حل پیش کرتا تو ایوان میں آگ لگ جاتی۔ میں نے پوچھا کہ؛ایسا کون سے حل ہے کہ جس سے دیگر اراکین پارلیامان بھڑک جاتے؟ یوگی مہاراج نے فلسفیانہ انداز میں اسلام اور مسلمانوں کی تاریخ کھنگالنا شروع کیا،اور نتیجہ اخذ کیا کہ؛ مسلمان جہاں بھی اکثریت میں ہوتے ہیں یا ان کی آبادی کچھ زیادہ ہوتی ہے، تو جہادی، جھگڑالو اور امن عامہ کیلئے خطرہ ہوتے ہیں۔ ایک طویل تقریر کے بعد یوگی جی نے فیصلہ صاد ر کر دیا کہ مسلمانو ں کی آبادی کو کسی بھی معاشرہ میں پانچ فیصد سے زیادہ نہیں بڑھنے دینا چاہئے۔ اس لئے ہندوستان اور دیگر تمام ممالک کو مسلمانوں کی آبادی کو کنٹرول کرنے کے طریقے ڈھونڈنے چاہیے۔ ا ن کو مختلف علاقوں میں بکھرا کر اور ان کی افزائش نسل پر پابندی لگا کر ہی دینا میں امن و امان قائم ہوسکتا ہے۔ بس یہی مسئلہ کشمیر کا حل ہے۔وہاں کی آبادی کو پورے ملک میں بکھرا کر وہاں بھاری تعداد میں ہندو آبادی کو بسایا جائے۔ ان دوواقعات کو بیان کرکے کا مقصد یہی ہے کہ معلوم ہو کہ کس ذہنیت کے افراد ملک کے تخت پر برا جمان ہیں۔''

آزادی کے بعد سے پاکستان ایک عرصے تک ترقی کے اعشاریوں میں ہندوستان سے آگے رہا ہے۔ مگر سول ملٹری بیوروکریسی اور سیاسی قیادت کی کوتاہ نظری اور بےحسی کی وجہ سے پہلے نہ صرف ملک دو ٹکڑے ہوا بلکہ بقیہ پاکستان میں بھی تنزلی کا وہ سفر شروع ہوا جو اب تک تھمنے کا نام نہیں لے رہا۔ ہندوستان اب اگرچہ معاشی لحاظ سے بہت آگے نکل گیا ہے، مگر اس تنزلی کے باوجود یہ حقیقت ہے کہ افغانستان سے ملائشیا تک اکھنڈ بھارت کے پورے نقشے میں صرف پاکستان ہے جو بھارت کو چیلنج کر سکتا ہے، اور توسیع پسندانہ ہندو ذہنیت کے راستے میں رکاوٹ بن کر کھڑا ہے۔ بنگلہ دیش اور افغانستان میں حکمران طبقہ جس طریقے سے آر ایس ایس ذہنیت کی حکمرانی کے باوجود ہندوستان کے آگے سرنگوں ہے، وہ ہمارے سامنے ہے، اور کوئی خوش کن منظر پیش نہیں کرتا۔

یہ بھی پڑھیں:   مودی حکومت نے کشمیریوں کے زخم پر مرہم کی جگہ نمک رگڑ دیا ہے

پاکستان وسائل سے مالامال ہے، جغرافیائی اعتبار سے اہم ہونا ہوائی بات نہیں، حقیقت ہے۔ نوجوان اس کی قوت ہیں۔ یہاں کا اصل مسئلہ دیانتدار اور امت کا درد رکھنے والی قیادت ہے۔ جہاں کرپٹ سیاسی قیادت نے منزل کھوٹی کی ہے، وہیں اداروں کی سیاست میں کھلی مداخلت نے یہ مقام دکھایا ہے کہ مودی نے کشمیر پر قبضہ کر لیا ہے اور ہم کوئی جواب دینے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔ بقول شخصے جب پاکستان میں سینیٹ کے انتخابات مینیج کیے جا رہے تھے، عین اسی وقت مودی مقبوضہ کشمیر پر قبضے کی تیاری کر رہا تھا، اور افسوسناک بات یہ ہے کہ اس کا وقت سے پہلے سراغ نہیں لگایا جا سکا۔ وزیرخارجہ سمیت کئی حکومتی ذمہ داران نے اس کا اعتراف کیا۔ جب اندرون ملک مینجمنٹ مائیکرو لیول پر چلی جائے اور ایک کونسلر سے سینیٹر تک کو گرفت میں لینا ضروری ٹھہرے تو بیرونی محاذ پر وہی ہوگا جو اس تاریخ کے اس اہم موڑ پر ہمارے ساتھ ہوا ہے۔

پاکستان نے آگے بڑھنا ہے تو ضروری ہے کہ نہ صرف کرپٹ قیادت سے نجات حاصل کی جائے بلکہ اداروں کو بھی اپنے اصل کام دفاع اور سرحدوں کی حفاظت کی طرف متوجہ ہونا چاہیے، اور ایک جینوئن قیادت کو عوام کی رائے کے مطابق حق حکمرانی ملنا چاہیے۔ تبھی پاکستان آگے بڑھ سکے گا اور ہندوستان کا مقابلہ کر سکے گا۔ پاکستان اس خطے کے مسلمانوں کے لیے ڈھال ہے، اسے اپنی جھوٹی اناؤں اور غلط حکمت عملی کی وجہ سے ٹوٹنے سے بچائیے۔