’جج کا فیصلہ تاریخ اور عوام کرتے ہیں‘ - جسٹس جواد ایس خواجہ

(سابق چیف جسٹس جواد ایس خواجہ سے ان کے شاگرد عمر گیلانی ایڈووکیٹ نے غیر رسمی گفتگو کی ہے جس میں مختلف موضوعات زیربحث آئے۔ ان میں سے بعض موضوعات عوامی دلچسپی کے حامل ہیں، اس گفتگو کو قارئین کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے۔)

سوال: آپ 17 برس تک پاکستان میں جج کے عہدہ پر فائز رہے۔ منصب عدل پر بیٹھ کر کیسا محسوس ہوتا ہے؟
جواب: منصب عدل ایک بہت بڑی آزمائش ہے اور ایک ایک لمحہ اس منصب پر امتحان کا درجہ رکھتا ہے۔

سوال: عام تاثر یہ ہے کہ ایک ذہین یا چالاک جج کے سامنے قانون موم کی ناک کی طرح ہوتا ہے۔ بالآخر فیصلہ وہی ہوتا ہے جو جج دینا چاہتا ہے۔ کیا یہ تاثر درست ہے؟
جواب : آپ کے اس سوال سے مجھے اپنے عہد شباب کی کچھ باتیں یاد آ رہی ہیں۔ مجھے شرف حاصل ہے کہ مَیں نے اے آر کارنیلیس صاحب کے ساتھ خاصہ عرصہ گذارا ہے۔ یہ وہ نیک نام چیف جسٹس ہیں جو تقریباً آٹھ سال تک چیف جسٹس پاکستان کے عہدے پر فائز رہے۔ انھوں نے جب اپنی وصیت لکھی ان کے دو بیٹے ہیں جو ملک سے باہر رہتے ہیں لیکن مجھے اپنی وصیت کا ایگزیکٹرexecutor نامزد کیا۔ ایک دن کارنیلیس صاحب نے مجھے کہا اور یہ اس وقت کی بات ہے جب میرا دفتر لاہور نوائے وقت بلڈنگ میں ہوتا تھا جو کوئنز روڈ پر ہے۔ صبح کے وقت وہ تین چار گھنٹے کے لیے وہاں آتے تھے اور میں بھی عموماً وہیں ہوتا تھا۔ جب وہ چائے پیتے تو بعض اوقات مجھے بھی اپنے پاس بلا لیتے تھے۔ یہ لمحے میری زندگی کا بہت بڑا اثاثہ ہیں۔

’ایک دن کارنیلیس صاحب نے مجھے بتایا کہ چیف جسٹس منیر جو ان سے پہلے چیف جسٹس رہے تھے، انھوں نے ایک روز کہا کہ مَیں کسی بھی مقدمے کا فیصلہ سائل کے حق میں بھی کر سکتا ہوں اور سائل کے خلاف بھی کر سکتا ہوں، اب مجھے اچھی طرح یاد ہے، کارنیلیس صاحب نے اپنے کانوں کو ہاتھ لگایا اور کہا ”مائی ڈئیر جواد! یہ کوئی شعبدہ باز جگلر ہی کر سکتا ہے۔‘

جج کے لیے یہ ناممکن ہے۔ جج صرف ایک فیصلہ کرتا ہے۔ سوچ بچار وہ ضرور کر سکتا ہے لیکن جب وہ ایک نتیجے پر پہنچ جاتا ہے پھر وہ جج کا فیصلہ اس کے ضمیر کا فیصلہ ہوتا ہے۔ وہ کوئی دوسرا فیصلہ لکھ سکتا ہو یہ جج کے لیے نا ممکن ہے انھوں نے یہ بات بڑی وضاحت سے کہی۔ مجھے جب مسند قضا پر بیٹھنے کا موقع اللہ تعالیٰ نے دیا تو مجھے اس چیز کا بخوبی ادراک ہوا کہ یہ واقعی بات سچ ہے کہ کسی بھی مقدمہ کے فیصلہ کرنے کے نتیجہ تک جب مَیں پہنچتا ہوں اس کا ایک لفظ ایک جملہ تک میں آگے پیچھے نہیں کر سکتا۔ کیونکہ مَیں شعبدہ باز یا جگلر نہیں ہوں۔ یا ہاتھ کی صفائی دکھانے والا میلوں کا مداری یا جادو گر نہیں ہوں۔ مَیں جج ہوں لہٰذا جس کڑی آزمائش میں سے ایک جج گذرتا ہے۔ وہ واقعی ہی امتحان ہے اور اللہ تعالیٰ نے بھی کلام پاک میں اس کا حوالہ اور ذکر کیا ہوا ہے کہ ”انصاف پر قائم رہو“۔

سوال: اس وقت پاکستان میں شاید سب سے اہم زیر سماعت مقدمہ فاضل جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا ہے۔ آپ کیا دیکھتے ہیں اس میں کس قسم کا فیصلہ متوقع ہے؟
جواب: مجھے تو امید واثق ہے کہ جو فیصلہ ہو گا وہ قانون و آئین اور ضمیر کے مطابق ہوگا اور ہونا بھی چاہیے۔ میں امید کرتا ہوں کہ جو فیصلہ کرنے والے جج صاحبان ہیں فیصلہ آئین و قانون کے مطابق ہی کریں گے اور کرنا بھی چاہیے۔ اگر ملک کی بہتری اور آئین کی حکمرانی ہونی ہے تو بے باک، بے لاگ فیصلے آئین و قانون کے مطابق کرنے پڑیں گے ۔ البتہ میں یہاں ایک بات آپ کو باور کرانا چاہتا ہوں۔ اگر کوئی ےہ سمجھتا ہے کہ قانونی موشگافیوں کے ذریعے عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکی جا سکتی ہے تو یہ خام خیالی ہے ۔ عوام باشعور ہیں ۔ فیصلہ لکھنے والا چاہے کتنا ہی زیرک کیوں نہ ہو، اگر فیصلہ میں کوئی جھول ہے، تو بالآخر عوام کو معلوم ہو جاتا ہے۔ بھانڈہ پھوٹ ہی جاتا ہے۔

اس حوالے سے ہماری قومی تاریخ کا اہم ترین فیصلہ مولوی تمیزالدین کا مقدمہ ہے۔ اس مقدمہ میں پانچ جج تھے۔ بینچ کی سربراہی چیف جسٹس منیر کر رہے تھے اور جسٹس کارنیلیس بھی اس بینچ کے رکن تھے۔ جب فیصلہ آیا تو صرف کارنیلیس صاحب نے اختلافی فیصلہ لکھا جو اس وقت کی حکومت کے خلاف تھا۔ چیف جسٹس منیر اور باقی تین جج صاحبان نے حکومت کے حق میں فیصلہ دیا۔ اس وقت کارنیلیس صاحب اقلیت میں تھے ۔ مگر آج، ساٹھ سال بعد، مَیں اس وقت یہ وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ پاکستان کے اہلِ علم و دانش اور قانون کو سمجھنے والے تمام لوگ اس بات پر متفق ہیں کہ اختلافی فیصلہ جو کارنیلیس صاحب نے لکھا تھا وہ ہی درست تھا۔ یہ اب ہماری تاریخ کا، ملکی، قومی اور عدلیہ کی تاریخ کا حصّہ بن چکا ہے اور کارنیلیس صاحب کی جو اس وقت عزت اور قدر و منزلت ہے ملک میں اور عدلیہ و قانون کے اداروں میں وہ بالکل واضح ہے۔ اگر میں یہ کہوں کہ ایک طرف جسٹس منیر اور دوسری طرف جسٹس کارنیلیس کا فیصلہ ہے تو شاید ہی کوئی آئین و قانون کا ماہر یہ کہے گا کہ جسٹس کارنیلیس نے اختلافی نوٹ صحیح نہیں لکھا۔

یہ بھی پڑھیں:   جج ارشد ملک مبینہ ویڈیو کیس کا فیصلہ سپریم کورٹ کی ویب سائٹ پر جاری

سوال : ہماری عدلیہ میں کچھ نام تو بلاشبہ انتہائی تابناک ہیں، جیسے کارنیلیس صاحب کا۔ مگر مجموعی طور پر آپ پاکستان کی تاریخ میں عدلیہ کے کردار کو کیسے دیکھتے ہیں؟
جواب: بدقسمتی ہے کہ ہماری عدلیہ کا تاریخی کردار اتنا روشن اور تابناک نہیں رہا جتنا کہ ہونا چاہئے تھا۔ میں اس بحث میں نہیں پڑنا چاہوں گا کہ وہ کیوں اور کیسے ہوا لیکن بحرحال اگر عوام الناس میں یہ تاثر قائم ہے، تو بے جا نہیں ہے بلا جواز نہیں ہے۔ شاید کچھ کمزوریاں عدلیہ میں ظاہر ہوئی ہوں یا ہوئی تھیں۔ اب آپ یہ دیکھیں کہ وہ بھی پانچ جج تھے اور آج بھی پانچ جج ہیں وہ ضرور اس حقیقت سے شناسا ہیں کیونکہ وہ قانون سے بخوبی واقف ہیں کہ تاریخ تو بالکل واضح اور بے لاگ فیصلہ دیتی ہے اور اس سے جو بھی انکاری ہے وہ تاریخ کے اوراق میں لکھا جائے گا اور یاد رکھا جائے گا۔

سرحد پار بھی ایک واقعہ ہوا،چلیں اس کا بھی ذکر کرتے چلیں۔ جب 1975 میں بھارتی وزیراعظم اندرا گاندھی نے انڈیا میں ایمرجنسی کا نفاذ کیا تھا، اس نفاذ کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا گیا تو وہاں بھی پانچ جج بیٹھے تھے۔ ان پانچ میں سے چیف جسٹس سمیت تین ججوں نے اس ایمر جنسی کو جائز قرار دیا اور ایک جج جسٹس شرما نے کہا کہ یہ ایمر جنسی غیر آئینی ہے۔ آج اگر آپ بھارتی سپریم کورٹ میں چلے جائیں تو جسٹس شرما کی قد آور تصویر وہاں آویزاں ہے ۔ باقی چار جج کون تھے، یہ پتہ نہیں کہ کون تھے۔ ہمارے لیے یہ لمحہ فکریہ ہے کہ ایسا کیوں ہے کہ ہماری عدالتی تاریخ اتنی تابناک اور روشن نہیں اور تاریخ خود بنتی ہے ۔ تاریخ کا دھارا جو بالکل صحیح ڈگر پر بہتا ہے اور جو جج صاحبان عوام الناس کی نظر میں ایسے ہوتے ہیں جنھوں نے یا تو کوئی کمزوری ظاہر کی ہو یا ان کے فیصلوں میں کوئی جھول نظر آتا ہو تو تاریخ انھیں معاف نہیں کرتی۔

سوال: کیا ہر جج پر دباؤ ہوتا ہے؟
جواب: اس کا جواب یہ ہے کہ مَیں سترہ سال مسندِ قضا پر رہا ہوں سوائے ان دو سالوں کے جب مَیں نے لاہور ہائی کورٹ سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ مجھے تو کسی ادارے یا شخص نے آ کر نہیں کہا کہ آپ فلاں مقدمہ کا فیصلہ ایسے کر دیں یا ویسے کر دیں۔ باقی معاشرتی دباﺅ وغیرہ ہوتے ہوں گے۔ مثلاً مَیں نے محسوس کیا کہ میڈیا میں کچھ توہین آمیز قسم کے پروگرام کیے گئے، میرے خلاف بھی کیے گئے۔ اب نیک نیتی پر مبنی کوئی بھی تنقید ٹھیک ہے کیونکہ یہ عوام الناس کا حق ہے۔ لیکن بد نیتی پر مبنی تنقید اور دباﺅ جج کو قبول نہیں کرنے چاہئیں۔ یہ تو مَیں نے اپنی بات کی۔ آپ نے پوچھا کسی اور کے بارے میں بتائیں تو میں صرف اتنا کہوں گا کہ ہر جج اپنے حلف، اپنے آئین اور اپنے ضمیر کا محافظ ہے۔

سوال: یہ کیسے پتا چلتا ہے کہ جج نے فیصلہ اپنے ضمیرکے مطابق کیا ہے یا دباﺅ میں آ کر اور بد نیتی پر؟
جواب : دلوں کا حال تو صرف اس ذات کو معلوم ہے، کیونکہ نیک نیتی اور بد نیتی تو ذہن میں ہوتی ہے۔ مگر انسان کے طرزعمل سے بھی اس کے بارے میں کچھ ظاہری شواہد سامنے آتے ہیں۔ بطور وکیل اور جج ہماری تربیت ایسی ہوتی ہے کہ ہم حالات سے بھی ذہن اور نیت، بد نیتی نیک نیتی کے بارے میں کسی نتیجے پر پہنچ جاتے ہیں۔ بدنیتی کے ظاہری عوامل عیاں ہیں۔ دنیا بھر میں عیاں ہیں۔ میں نے بطور چیف جسٹس پاکستان اپنی الوداعی تقریر نو ستمبر ۵۱۰۲ءمیں کہا ہے کہ ”میں نے عدلیہ میں خوف کے بہت سے روپ دیکھے ہیں“۔ اب میں اس خوف اور دباﺅ اور ضمیر کے بارے میں ایک سابق چیف جسٹس نسیم حسن شاہ کا ذکر کروں گا جنھوں نے واضح طور پر اس بات کا اعتراف کیا کہ ذوالفقار علی بھٹو کیس میں ان کے اوپر دباﺅ تھا۔ مَیں نے وہ کلپ دیکھا ہے جس میں وہ بات کر رہے تھے کہ انھوں نے دباﺅ قبول کرتے ہوئے اپنا فیصلہ تبدیل کیا۔ یہ ایک شہادت موجود ہے کہ ججوں کے اوپر دباﺅ ڈالا جاتا ہے اور بعض جج دباﺅ قبول بھی کر لیتے ہیں۔ میرے نزدیک کوئی ایسا شخص جو دباﺅ قبول کرے اور اپنا فیصلہ اس دباﺅ کی وجہ سے دے وہ اپنے منصب کا اہل ہی نہیں ہے۔ پھر آپ نے جو بات کی مَیں اس سے متفق ہوں کہ اگر جج با ایمان اور اپنے حلف اور ضمیر کے مطابق فیصلہ نہیں کرتا تو صرف کسی ایک مقدمہ میں نہیں بلکہ سارے عدلیہ کے اداروں کو ناقابل تلافی نقصان ہوتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   جج ارشد ملک مبینہ ویڈیو کیس کا فیصلہ سپریم کورٹ کی ویب سائٹ پر جاری

سوال: میں اپنے ابتدائی سوال کی طرف لوٹنا چاہتا ہوں۔ آپ کیا دیکھتے ہیں، فاضل جسٹس قاضی فائز عیسیٰ ریفرنس میں کس قسم کا فیصلہ متوقع ہے؟
جواب: مَیں نہیں جانتا کہ کیا ہوگا اور نہ ہی مجھے ان حقائق سے آگہی ہے جس کی بنیاد پر یہ ریفرنس دائر ہوا ہے اور نہ ہی مجھے یہ معلوم ہے کہ ریفرنس کے جواب میں جج صاحبان نے کیا موقف اختیار کیا ہے۔ پچھلی عید پر آپ میری طرف آئے تھے، اس دوران ہماری جو غیر رسمی گفتگو ہوئی، اس میں میں یہ کہہ چکا ہوں کہ عدالتی ساکھ سب سے زیادہ اہم اثاثہ ہے کسی جج یا کسی عدالت کا۔ عدالتی ساکھ کا تقاضہ یہ ہے کہ حقائق کو برملا عیاں کیا جائے ۔ مَیں نے میمو کیس کے فیصلہ میں ایک اضافی نوٹ لکھا تھا جس میں یہی چیز میں نے واضح کی تھی کہ ریاستی امور میں شفافیت بہت ضروری ہے۔ احتساب کا سب سے اہم طریقہ یہی ہے کہ عوام الناس کو معلوم ہونا چاہیے کہ ان کی عدلیہ کے جج صاحبان کیا کر رہے ہیں۔ آئین کے آرٹیکل 19A کے تحت بھی یہی آئینی تقاضا ہے بلکہ ایک بنیادی حق ہے عوام کا کہ انھیں پتہ ہو کہ کیا ہورہا ہے اور کیا الزامات کسی پر لگے ہیں اور جج نے ان الزامات کے خلاف اپنی صفائی میں کیا موقف اختیار کیا ہے ۔ جانبین نے کیا ثبوت پیش کئے ہیں۔

سوال: جسٹس قاضی فائز پر حکومت نے یہ الزام لگایا ہے کو وہ بدعملی misconduct کے مرتکب ہوئے اور اپنے عہدے سے بر طرفی کے سزاوار ہیں ۔ جسٹس صاحب کئی سال تک آپ کے رفیق کار رہے۔ آپ نے کئی مقدمات کی سماعت اکٹھے کی۔ ظاہر ہے کہ اس پیشہ ورانہ تعلق کے دوران ان کے کردار کے بارے میں آپ کی کوئی رائے قائم ہوئی ہوگی۔ وہ کیا ہے؟
جواب : یہ سوال آپ پہلے بھی پوچھ چکے ہیں، اور میں مانتا ہوں کہ ایک انسان کے پیشہ ورانہ کردار کے بارے میں اس کے رفقاء کار کی شہادت نسبتاً اہم سمجھی جاتی ہے ۔ میں دہرائے دیتا ہوں کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ سے زیادہ با ایمان جج میں نے نہیں دیکھا۔

سوال : سپریم جوڈیشل کونسل ایک نہیں دو دو ریفرینسز جسٹس فائز عیسیٰ کے خلاف چلا رہی ہے۔ بہت سے اور ریفرنسز زیرِ التوا ہیں ۔ کیا ایسے طرزعمل سے کونسل کی غیر جانبداری پر سوالیہ نشان نہیں اٹھتے؟
جواب: ایسا ہی ہے۔ مَیں یہ بھی کہہ چکا ہوں کہ یہاں پر بے شمار جج صاحبان اےسے بھی ہیں جو اپنے حلف اور ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کرتے رہے ہیں اور کرتے چلے جا رہے ہیں۔ ان جج صاحبان کو تو نہ پوچھا گیا ہے نہ نوٹس دیا گیا ہے۔ اس حوالے سے آپ میرا جو پچھلا انٹرویو ہے، وہ دیکھ لیں۔ اس میں مَیں نے وضاحت کی ہے کہ غیر شفافیت عدلیہ اور سپریم جوڈیشل کونسل کی ساکھ پر اثر انداز ہو سکتی ہے اور ہو گی۔ اگر لوگ یہ تاثر قائم کرتے ہیں کہ یہاں پر شفافیت نہیں ہے تو وہ تاثر میری رائے میں جائز ہوگا۔

سوال : کیا ریفرنس کے حوالے سے جسٹس فائز عیسیٰ آپ سے مشاورت کرتے ہیں؟
جواب: نہیں، ریفرنس کے حوالے سے میری جسٹس فائز عیسیٰ سے کبھی کوئی بات نہیں ہوئی اور نہ ہی مَیں کرنا چاہتا ہوں۔
پچھلے ڈیڑھ دو ماہ سے جب سے یہ سلسلہ شروع ہوا ہے میری ان کے ساتھ کوئی گفتگو نہیں ہوئی۔ مَیں صرف اتنا کہوں گا کہ میں ان کو جانتا ہوں اور انھیں با ایمان اور با کردار انسان man of faith سمجھتا ہوں۔ یہ میری رائے ہے، مگر حتمی فیصلہ تاریخ کرے گی۔

’تاریخ کس طرح سچ کو سامنے لے آتی ہے، اس حوالے سے مَیں پہلے ہی بات کر چکا ہوں۔ سچ، جھوٹ اور منافقت خود ہی سامنے آ جاتے ہیں۔ یہ قانون فطرت ہے۔ مَیں جو انڈیا کے جسٹس شرما کا بتا چکا ہوں اور یہاں جسٹس منیر، جسٹس کارنیلیس اور جسٹس نسیم حسن شاہ کا بتا چکاہوں، یہ تاریخی حوالے ہمارے تمام جج صاحبان اور عدلیہ کے اراکین کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔‘