روایت اور جدیدیت کیا ہے؟ حافظ محمد زبیر

اس کے دو جواب ہیں؛ وہ لوگ جو جدیدیت سے متاثر ہیں، تو وہ تو مغرب ہی سے اس کا جواب حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں، اور ان کے بقول "لوتھر ازم" کا نام جدیدیت ہے یعنی مارٹن لوتھر متوفی [1546ء] کا یہ نعرہ کہ پوپ مجسم شیطان ہے اور پاپائیت یعنی پوپ اور پادریوں کی مذہبی اجارہ داری کا دین مسیح علیہ السلام سے کوئی تعلق نہیں اور ایک عام آدمی بھی خدا کے کلام کو سمجھںے کا ویسا ہی حق رکھتا ہے جیسا کہ پوپ اور پادری کو حاصل ہے، ان کے نزدیک جدیدیت کا نقطہ آغاز ہے۔

اس طبقے کا خیال ہے کہ جب مارٹن لوتھر کی تحریک کے زیر اثر ایک عام عیسائی نے بائبل کا مطالعہ شروع کیا تو اسے مذہب پر اعتراضات پیدا ہوئے اور یوں عیسائی معاشرہ دن بدن مذہب بیزار ہوتا چلا گیا لہذا مسلمانوں میں بھی رجوع الی القرآن یا رجوع الی الکتاب والسنۃ یعنی کتاب وسنت کی طرف رجوع کی جو بھی تحریکیں اور صورتیں ہیں، وہ دراصل مسلمان معاشروں کو مذہب بیزاری کی طرف لے کر جا رہی ہیں، معاذ اللہ، ثم معاذ اللہ۔ یہ لوگ اپنے تئیں اپنے آپ کو مغرب کا ناقد سمجھتے ہیں لیکن در اصل مغرب سے سب سے زیادہ متاثر مسلمانوں کا یہی طبقہ ہے جو مغرب پر نقد بھی مغرب ہی کے تصورات ادھار لے کر کرتے ہیں۔

ان کا زعم ہے کہ مارٹن لوتھر کی تحریک پر عیسائیوں کو جس دین عیسائیت پر اعتراضات پیدا ہوئے اور جس دین سے وہ بیزار ہوئے، وہ عیسی علیہ الصلاۃ والسلام کا لایا ہوا دین تھا، معاذ اللہ، ثم معاذ اللہ۔ مارٹن لوتھر کے دور میں دین مسیح علیہ الصلاۃ والسلام موجود نہیں تھا بلکہ سینٹ پال متوفی 67ء کا دین، عیسائیت کے نام پر موجود تھا۔ تو حامد کمال الدین صاحب نے بجا طور یہ سوال اٹھایا ہے کہ دین عیسائیت میں جدیدیت کی نسبت سینٹ پال کی طرف کیوں نہیں کہ جس نے اصلا شریعت موسوی کو ساقط کیا تھا اور پاپائیت کو جنم دیا اور مارٹن لوتھر ہی کی طرف کیوں جو اس سے ڈیڑھ ہزار سال بعد آیا ؟

تو یہ بہت ضروری ہے کہ ہم کتاب وسنت سے یہ سمجھنے کی کوشش کریں کہ سابقہ آسمانی ادیان میں انحراف کیسے اور کب پیدا ہوا ؟ تو جدیدیت کیا ہے ؟ اس کو سمجھںے کی دوسری ایپروچ یہ ہے کہ اس سوال کا جواب مغرب سے نہیں، کتاب وسنت سے حاصل کیا جائے۔ قرآن مجید نے دین عیسائیت میں جدیدیت کی بنیاد پاپائیت کے رائج ہونے کو بنایا ہے کہ عیسائیوں نے اپنے فقہاء اور صوفیاء کو رب بنا لیا تھا اور یہی دین عیسائیت میں جدیدیت کی ابتداء تھی جیسا کہ ارشاد باری تعالی ہے: اتَّخَذُوا أَحْبَارَهُمْ وَرُهْبَانَهُمْ أَرْبَابًا مِّن دُونِ اللَّهِ وَالْمَسِيحَ ابْنَ مَرْيَمَ۔ ترجمہ: انہوں نے اپنے فقہاء اور صوفیاء کو بھی رب بنا لیا اور عیسی ابن مریم کو بھی۔

ایک صحیح حدیث کے مطابق عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ، جو حاتم الطائی کے بیٹھے تھے اور عیسائی سے مسلمان ہوئے تھے، نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال بھی کیا تھا کہ ہم تو اپنے فقہاء اور صوفیاء کی عبادت نہیں کرتے تھے تو قرآن مجید پھر یہ کیوں کہتا ہے ؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب میں کہا کہ اے عدی، کیا ایسا نہیں تھا کہ تمہارے فقہاء اور صوفیاء جس کو حلال کہتے تھے، تم حلال مان لیتے تھے۔ اور جسے حرام کہتے تھے، اسے حرام مان لیتے تھے تو یہی تو ان کو رب بنا لینا ہے۔

تو جس دینی تعبیر یا مذہبی روایت میں فقہاء اور صوفیاء اخیر اتھارٹی (ultimate authority) بن جائیں، وہ دین خدا کا دین نہیں، دین جدیدیت ہے کہ جسے حضرت مجدد الف ثانی رحمہ اللہ نے یوں بیان کیا کہ جس دینی روایت میں "فصوص" [شیخ ابن عربی کی ایک کتاب کا نام] کو "نصوص" یعنی کتاب وسنت پر ترجیح دی جائے تو سمجھ لو وہ دین محمدی نہیں ہے۔ تو اخیر اتھارٹی تو صرف کتاب وسنت ہیں جیسا کہ امام شافعی رحمہ اللہ نے کہا کہ علماء رستہ ہیں، منزل نہیں۔

تو حامد کمال الدین صاحب کے سوال کا جواب یہ ہے کہ سینٹ پال جو اصلا دین عیسائیت میں جدیدیت کا بانی ہے، اس لیے جدیدیت کی اس کی طرف نسبت نہیں کی گئی کہ وہ سینٹ تھا، یعنی صوفی تھا اور اس طرح صوفی ازم پر زد پڑتی تھی۔ سینٹ پال کے احوال زندگی اٹھا کر دیکھ لیں تو وہ یہ کہتا تھا کہ خدا کا کلام مجھے دو طرح سے ملا ہے؛ ایک حواریوں کے ذریعے سے، جو ظاہر کلام ہے اور دوسرا مکاشفے یعنی کشف کے ذریعے سے میں نے یہ کلام براہ راست مسیح علیہ السلام سے حاصل کیا ہے اور یہی کلام کے اصل معنی ہے۔ تو ہمارے ہاں بھی جدیدیت کے بانی اصلا وہی ہیں جنہوں نے یہ دعوی کیا کہ انہیں کلام الہی دو طریقوں سے ملا، ایک ظاہری طریقے سے یعنی قراء کرام سے اور یہ صرف الفاظ ہیں اور دوسرا باطنی طریقے سے اور یہ اس کا اصل معنی ہے۔

پھر چوتھی اور ساتویں صدی ہجری میں اس تحریک باطنیت [esotericism] نے خدا کے کلام کے معانی متعین کرتے ہوتے خالق اور مخلوق کے وجود کو ایک قرار دے کر خدا اور مخلوق کا فرق ختم کر دیا اور یوں اس امت میں شرک عظیم کا رستہ کھلا۔ اور جن لوگوں نے اس شرک عظیم پر تنقید کرتے ہوئے یہ نعرہ لگایا کہ ہمیں عقائد کے باب میں کتاب وسنت کی نصوص، صحابہ کرام، تابعین عظام اور ائمہ اربعہ کی تشریحات کی طرف رجوع کرنا چاہیے تو انہیں روایت کا ناقد قرار دے کر ان پر جدیدیت کا لیبل لگا دیا گیا۔

روایت کیا ہے؟
جن لوگوں نے جدیدیت کے مقابلے میں روایت کے تمسک کا نعرہ لگایا تھا، ان کی روایت سے مراد ہر مذہب کی روایت تھی۔ اسی لیے روایت پسندی کے مکتب فکر کے بانی رینے گینوں کے ہاں وحدت ادیان کے تصورات عام ملتے ہیں۔ ان کے نزدیک ہندو روایت ہو یا بدھ، اسلامی ہو یا عیسائی، سب ایک ہی تصور توحید کی مختلف فارمز ہیں۔ جدیدیت کے رد میں تشکیل پانے والا یہ تصور روایت جب فرانس سے سفر کر کے برصغیر پہنچا تو یہ روایت پرستی کی صورت اختیار کر چکا تھا۔ مذہبی حلقوں میں جو لوگ تقلیدی جمود کا شکار تھے، انہوں نے اسے ہاتھوں ہاتھ لیا۔ اور جو کام رینے گینوں نے تمام مذاہب کی روایت کے ساتھ کیا کہ چونکہ وہ روایت ہے لہذا ہمیں اس کا دفاع کرنا ہے تو یہی کام ایک پڑھے لکھے مذہبی طبقے کی طرف سے یہاں فقہ، کلام اور تصوف کی ہر روایت کے ساتھ ہونے لگا۔

لیکن مذہبی روایت کے دفاع کا یہ کام اس بھونڈے طریقے سے ہوا کہ تقلیدی جمود کا شکار مذہبی طبقات نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب روایت کو تو صحیح وغلط میں تقسیم کر دیا لیکن فقہ، کلام اور تصوف میں ہر روایت کا دفاع ایسے ہونے لگا جیسے کتاب وسنت کا دفاع ہو۔ علامہ ابن الجوزی رحمہ اللہ کی "الموضوعات" یعنی موضوع اور من گھڑت احادیث کے مجموعے کو موضوع اور من گھڑت کہنے والے دوسری طرف تصوف کی کتب میں منقول ہر قسم کے دیومالائی قصوں اور کہانیوں کے لیے عقلی توجیہات تلاش کر رہے تھے۔ یعنی وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب روایت پر تو نقد کرنے کے حق میں تھے لیکن "تذکرہ غوثیہ" اور "ارواح ثلاثہ" جیسی کتابوں میں منقول بزرگوں کی جھوٹی کرامات کو وہ بغیر سند بھی قبول کرنے کے لیے لڑنے مرنے کو تیار بیٹھے تھے۔

تو اوائل اسلام میں کتاب وسنت سے تمسک کے نتیجے میں تین قسم کی روایتیں؛ فقہ، کلام اور تزکیہ وجود میں آئیں۔ وقت کے ساتھ ساتھ دین عیسائیت کی طرح یہ روایات بھی خرافات کا شکار ہو گئیں تو اللہ عزوجل نے وقفے وقفے کے ساتھ اس امت میں ایسے مجددین کو پیدا کیا کہ جنہوں نے ان روایات کے انکار کی بجائے، ان کی اصلاح کی پوزیشن لی اور انہیں اسی طرح بحال کرنے کی کوشش کی جیسا کہ وہ خیر القرون میں تھیں۔ ان مجددین میں امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ انہوں نے تینوں روایات کو خیر القرون کے حال پر لوٹانے کی جدوجہد کی اور اس میں کامیابی بھی حاصل کی۔ فقہ کی روایت کے بانیوں میں ائمہ اربعہ تھے اور ائمہ اربعہ کے نزدیک "عدم تقلید" بالکل مذموم نہ تھی۔

ائمہ اربعہ اجتہاد کے دعویدار تھے اور اسی کے داعی تھے۔ اگر غیر مقلد ہونا اتنی ہی برائی ہے تو امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ بھی غیر مقلد تھے۔ اگر تقلید لازم امر ہوتی تو ائمہ اربعہ خلفائے راشدین کی تقلید کرتے۔ امام کرخی اور امام بزدوی رحمہما اللہ کا یہ قول بالکل درست ہے کہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ قول صحابی کو اس صورت حجت نہیں مانتے تھے جبکہ وہ اجتہادی ہو۔ تو امام صاحب صحابہ کرام کے اجتہاد سے اختلاف کے قائل تھے اور انہوں نے کیا بھی۔ تو امام بن تیمیہ رحمہ اللہ کی فکر یہی تھی کہ اگر ائمہ اربعہ خلفائے راشدین کی اجتہادی آراء سے اختلاف کر سکتے ہیں تو بعد میں آنے والے علماء، ائمہ اربعہ سے اختلاف کیوں نہیں کر سکتے ؟

اور ائمہ اربعہ نے کبھی بھی اپنی تقلید کی دعوت نہیں دی۔ یہ تقلیدی جمود تو تیسری چوتھی صدی ہجری کے فقہاء کا فیصلہ ہے کہ جنہوں نے اپنے تئیں اجتہاد اور امام سے اختلاف کا دروازہ ہی بند کر دیا جو کہ خود امام کے قول کے خلاف تھا کہ چاروں فقہی مکاتب فکر کے ائمہ ایسے اقوال بکثرت موجود ہے کہ ہمارے قول کے مقابلے میں اگر کوئی حدیث تمہیں مل جائے تو ہمارے قول کو دیوار پر دے مارنا یا ترک کر دینا۔ تو یہ تقلیدی جمود خود ائمہ اربعہ کی فقہی روایت کی خلاف ورزی اور اس سے انحراف تھا۔ اور امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے فقہ کی روایت کو اس کی اصل پوزیشن میں لے جانے کی کوشش کی کہ جس میں وہ ائمہ اربعہ کے دور میں موجود تھی۔ اور وہ پوزیشن یہ تھی کہ علماء اجتہاد کریں گے اور عوام الناس ان کی اتباع کریں گے۔

اور شیخ ابو زہرہ رحمہ اللہ کا یہ قول بالکل درست ہے کہ قاضی ابو یوسف اور امام محمد رحمہما اللہ دونوں اصول اور فروع دونوں میں امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ سے اختلاف رکھتے تھے، نہ کہ صرف فروعات میں، اور وہ دونوں مجتہد مستقل تھے۔ تو ہم تمام فقہوں کو فقہ اسلامی کے ایک درخت کی شاخیں مانتے ہوئے ان میں ترجیح کے قائل ہیں، ویسے ہی جیسا کہ احناف کے ہاں "اصحاب ترجیح" ہوتے ہیں۔ بس فرق صرف یہ ہے کہ وہ اپنے مذہب یعنی حنفی مذہب میں مروی مختلف اقوال میں ترجیح قائم کرتے ہیں جبکہ ہمارے نزدیک اصل منہج یہ ہے کہ تمام فقہوں کے فقہی ذخیرے سے برابر طور استفادہ کرتے ہوئے "ترجیحی اجتہاد" کیا جائے یعنی ایک قول کو دوسرے پر بوجوہ ترجیح دی جائے اور یہی علماء کے کرنے کا کام ہے۔

اس کی تحریک عصر حاضر میں شیخ یوسف القرضاوی نے چلائی ہے اور پاکستان میں اس کے داعیان میں ڈاکٹر محمود احمد غازی صاحب تھے۔ اور اکابر اہل حدیث علماء کا شروع ہی سے یہی منہج رہا ہے کہ وہ اپنے فتاوی میں فقہ حنفی کے مصادر سے بھی استفادہ کرتے نظر آتے ہیں۔ تو فقہ، شریعت نہیں ہے بلکہ اس کا فہم ہے۔ شریعت تو متن ہے۔ تو دوام متن کو حاصل ہے نہ کہ فہم کو۔ فہم تو بدلتا رہتا ہے۔ تو ہمارا روایت کے بارے نقطہ نظر یہی ہے کہ اصلا روایت، شریعت ہے اور وہ کتاب وسنت کا عربی متن ہے اور وہ ایک ہی ہے۔ رہی فقہ واجتہاد تو یہ شریعت کا فہم ہے لہذا ایک سے زائد بھی ہو سکتے ہیں۔

اور فقہ واجتہاد کو بھی شریعت کی طرح دائمی مان لینا اسے شریعت کے مقابل لانے کے مترادف ہے۔ تو ہر دور میں علماء اجتہاد کریں گے اور عوام ان کی اتباع کریں گے، بس اتنی سی بات ہے۔ کسی امتی کے فہم کا امت کو قیامت تک کے لیے پابند نہیں کیا جا سکتا۔ اور فقہی روایت کو اسی معنی میں ائمہ اربعہ نے اس امت میں اپنے قول وفعل سے جاری کیا ہے اور اسی کے ہم داعی ہیں۔ فقہ کے معاصر روایتی تصورات بعد کی صدیوں کے انحرافات ہیں۔ تو ہم تینوں یعنی فقہ، کلام اور تزکیہ میں سے کسی بھی روایت کے انکار نہیں، بلکہ اصلاح کی پوزیشن لینے کے قائل ہیں۔ اور اصلاح سے مراد ان تینوں روایات کو خیر القرون اور ائمہ اربعہ کے دور کے حال پر لے آنا ہے۔