کیا سودی نظام سے چھٹکارا ممکن ہے؟ عبد الغنی محمدی

معاشیات میرا سبجیکٹ تو نہیں لیکن اس حوالے سے کچھ نہ کچھ پڑھنے کا موقع ملا ہے۔ شریعہ اکیڈمی اسلام آباد میں "انسداد سود" کے حوالے سے ایک سیمینار میں شرکت کا موقع ملا۔ اس میں پاکستان میں مختلف اوقات میں انسداد سود کے حوالے سے کی گئی کاوشوں کا ذکر ہوا۔ موجودہ صورتحال کیاہے؟ چیلنجز اور ذمہ داریاں کیا ہیں؟ ان چیزوں کے حوالے سے مختلف محاضرین کی جانب سے کافی مفید گفتگو ہوئی۔

مغرب کی موجودہ ترقی کے پیچھے دو عنصر کارفرما نظر آتے ہیں اور مغرب کا ذاتی دعویٰ بھی یہی ہے۔ ایک سرمایہ دارانہ نظام ، دوسرا سائنسی ترقی۔ سائنسی ترقی بھی سرمایہ دارانہ نظام کی مرہون منت ہے اور اسی کو سپورٹ کرتی ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام کا مطلب ہے کہ سرمایہ کو فارغ نہیں رہنا چاہیے بلکہ اس کے ذریعے مزید سرمایہ آتا رہنا چاہیے۔ ماقبل دور میں جب کرنسی ایجاد نہیں ہوئی تھی یا ہونے کے بعد سونا چاندی اور ایسی صورتوں میں تھی۔ یہ کرنسی کسی بھی ملک کی مجموعی دولت اور وسائل کی نمائندہ نہیں ہوسکتی تھی۔ (کرنسی کی ایجاد اور پھر اس کے بعد مختلف مراحل کا مطالعہ خاصی دلچسپ چیز ہے جس کا سردست موقع نہیں ہے )۔ یہ کرنسی ایک مخصوص مقدار میں ہو سکتی تھی اس سے زیادہ نہیں۔ اسی طرح اس وقت تک کوئی ایسا سسٹم نہیں تھا جو اس کرنسی کو ہر حال میں مصروف عمل رکھے۔ اس کرنسی کو اگر کسی نے جمع کیا ہوا ہے تو وہ اسی کے فائدے کے لیے ہے اور اسی کے کام آسکتی ہے، اس کے علاوہ کوئی دوسرا اس سے فائدہ نہیں اٹھا سکتا تھا۔

کرنسی کی ایجاد نے انسانوں کو بہت سی مشکلات سے نجات دی ۔ تبادلہ اشیاء کے درمیان کرنسی کا واسطہ بہت سی آسانیاں لے کر آیا۔ کا غذی کرنسی سونے اور چاندی کی کرنسی کا نمائندہ بن کر آئی۔ اس کو اعتباری زر کہتے ہیں جبکہ حقیقی زر آج بھی سونا ہے۔ بیکنگ سسٹم جو کہ سرمایہ دارانہ نظام کا نمائندہ ہے۔ اس میں ہوتا یہ ہے کہ ہر شخص اپنی رقم کو حفاظت کے لیے، کاروبار کے لیے یا جس مد میں بھی رکھنا چاہے، اس رقم کو بینک آگے استعمال کرتا ہے۔ اور رقم کایہ استعمال ایک مرتبہ نہیں ہوتا ہے۔ مثال کے طور دس ہزار کی رقم سے ایک لاکھ تک کا کاروبار کیا جاتا ہے۔ بینک کے پاس دس ہزار کی رقم ہے، ایک شخص جس نے دوسرے کا دس ہزار دینا ہے، اس کو چیک دیتا ہے، رقم بینک میں اسی طرح رہتی ہے، غرض اس دس ہزار نے دس بندوں کے کام بھی آجانا ہے اور بینک میں اسی طر ح پڑے بھی رہنا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   غیر سودی بینکاری اور حضرت شیخ الاسلام کے خلاف کمپین - محمد احمد

سرمایہ دارانہ نظام کا دعویٰ یہ ہے کہ دس ہزار سے ایک لاکھ کا کام لیاجائے گا تو ترقی کی رفتار دس گنا ہوجائے گی۔ اسی طرح وہ لوگ جن کے پاس سرمایہ نہیں ہے اور وہ کاروبار کا کسی قسم کا کوئی آئیڈیا رکھتے ہیں، وہ بینک کے پاس جائیں گے اور سرمایہ لے کر اپنے آئیدیا کو عملی صورت دے سکتے ہیں، کاروبار بڑھاسکتے ہیں۔ اس طرح تاریخ میں پہلی مرتبہ وہ شخص جس کے پاس پاس پیسہ نہیں ہے، کاروبار کرنے کی پوزیشن میں آگیا ہے اور ہر ایک کے لیے کاروبار کے یکساں مواقع پیدا ہوچکے ہیں۔ اس میں حقیقت کتنی ہے اور عملی صورت میں ایسا کس حد تک ہوپا تاہے؟ اس پر ماہرین معاشیات ہی بہتر روشنی ڈال سکتے ہیں۔

اس تمام نظام میں سود ایک لازمی عنصر کے طور پر شامل ہو جاتا ہے۔ اگر کسی کو قرض کی ضرورت ہے تو کوئی دوسرا شخص بغیر اپنے فائدے کے دیتا نہیں۔ اس میں جہاں قرض دینے والے کا فائدہ ہو تاہے وہیں قرض لینے والے کی ضرورت بھی پوری ہوجاتی ہے۔ اور اس کو بھی کاروبار کے مواقع میسر آجاتے ہیں۔

اس میں دو تین چیزیں قابل غور ہیں۔ یہ سسٹم درست ہے کہ نہیں؟ اس سیمینار میں ایک محاضر کی جانب سے یہ بات آئی کہ یہ سسٹم ہی درست نہیں۔ اسلام میں کاروباری قرضے کا کوئی تصور نہیں اور یہ سود ہے کیونکہ حدیث میں ہے ایک جنس والی اشیاء کا تبادلہ ہاتھوں ہاتھ ہونا چاہیے اور ایک جتنا ہونا چاہیے۔ اگر اسلام میں کاروباری قرضے کا تصور نہیں ہے تو پھر کیا قرضہ صرف اسی صورت میں درست ہے جب کوئی مفلوک الحال ہو؟ گویا اسلام میں کسی کو کاروبار مضبوط کرنے، بہتر بنانے یا نئے سرے شروع کرنے کے لیے تو قرض نہیں دیا جا سکتا ہے۔ ہاں جب وہ خالی اور کنگال ہو جائے تو تب اس کی مدد قرض کے ذریعے کر دو؟ بعض صحابہ حضرت عبد الرحمن بن عوف اور زبیر بن عوام کے متعلق روایات میں آتا ہے کہ وہ کاروباری قرض لیا کرتے تھے اور ان کے ذریعے کاروبار کیا کرتے تھے۔ اگر کاروباری اور تجارتی قرضہ درست نہیں تو ان کے اس فعل کو کیسے دیکھیں گے؟

یہ بھی پڑھیں:   خوابوں کی جھوٹی دنیا اصل مسئلہ ہے - انس اسلام

دوسری چیز یہ ہے کہ اس سسٹم کو خرابیوں سے کیسے پاک کیا جا سکتاہے؟ خرابیوں میں ایک تو سود ہے۔ اسلامی بینکنگ کی اب تک جو صورتیں نظر آ رہی ہیں اس میں سرمایہ دار کا سرمایہ محفوظ رہے اور بچت بھی دے، ان چیزوں کے حوالے سے کوئی اساسی تبدیلی نہیں کی گئی۔ اسی طرح جو شخص قرض لیتا ہے، اس کوبھی اس قرض پر کچھ نہ کچھ دینا پڑتا ہے۔ یہ سب سود کے نام پر ہو یا اور ناموں پر، ایسے میں اسلامی بینکنگ سرمایہ دارانہ نظام میں کوئی بنیادی تبدیلی نہیں لے کر آ رہی۔ اس لئے ضرورت ہے کہ اس پر غور کیا جائے کہ سرمایہ دارانہ نظام کے اساسی تصورات سے ہٹ کر اسلامی بینکنگ کچھ پیش کرسکتی ہے یا بینکنگ سسٹم کا لازمی نتیجہ یہی ہے۔

سرمایہ دارانہ نظام سے ہٹ کر اگر کوئی نظام پیش کیاجائے تو کیا اس نظام میں بھی بڑھوتری اور ترقی اسی طرح ممکن ہوگی؟ اگر ممکن نہیں ہوئی تو وہ سرمایہ دارانہ نظام کا مقابلہ کس طرح کرے گا؟ بعض لوگ یہ بات کردیتے ہیں کہ اس قدر ترقی اور بڑھوتری کی کیا ضرورت ہے؟ اس قدر ترقی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے میں یہ بات ویسے بھی ایک مذاق سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتی ہے لیکن آپ اگر قدیم تصورات پر کھڑے رہ کر ایسا سب کچھ نہیں کرتے ہیں تو دوسری اقوام جو ترقی کے ان ذرائع کو استعمال کررہی ہیں، ان کا مقابلہ کیسے ممکن ہوگا؟