بھارت کشمیر میں غلطی کر رہا ہے - بلومبرگ ایڈیٹوریل بورڈ

انڈیا کا اس ہفتے ریاست جموں کشمیر کی خود مختاری صلب کرنے کا ششدر کردینے والا فیصلہ وزیر اعظم نریندر مودی کے لیے اہم امتحان ہے۔ اگر راستہ تبدیل نہیں کیا تو زیادہ امکانات یہ ہیں کہ وہ ناکام ہو جائے گا۔

کشمیر کو بلاشبہ نفرت پیدا کرنے والے برطانوی انڈیا کی تقسیم کی بدترین یادگار کہا جاسکتا ہے۔ کشمیر پانچ سو سے زیادہ ریاستوں جو اس وقت نوابوں اور راجاؤں کے زیرحکمرانی تھیں، میں سے ایک ریاست تھی۔ جب پاکستان کی رضامندی سے قبائلیوں نے اس کے سکھ حکمران کا تختہ اُلٹنے کی کوشش کی تو اس نے اپنا وزن بھارت کے پلڑے میں ڈال دیا۔ اس کے بعد سے دونوں اقوام اس مسلم اکثریتی علاقے کے لیے تین جنگیں لڑ چکی ہیں۔ بھارت کے پاس زیادہ رقبہ ہے، پاکستان کے پاس ایک تہائی زمین ہے، جبکہ چین بھی اس ہمالیائی سطح مرتفع کے ایک حصّے پر دعوی رکھتا ہے۔

بھارت اپنے زیرقبضہُ کشمیر کے بارے میں کیسا رویہ رکھتا ہے؟ دو وجوہات کی بناء پر اہم ہے۔ پہلی تو یہ کہ بنیادی طور پر یہ دنیا کی خطرناک ترین ایٹمی جنگ کے آغاز کی ممکنہ وجہ ہے، اور دہشت گردانہ حملے کئی مرتبہ پاکستان اور بھارت کو جنگ کے دہانے تک لا چکے ہیں۔ اس کے علاوہ یہ ہندو اکثریت والے بھارت کی واحد مسلمان اکثریتی ریاست ہے اس لیے یہ ملک کے مختلف جہت کے لوگوں کے ساتھ پُرامن بقائے باہمی اور ایک دوسری کے لیے برداشت و قبولیت کا بھی اہم امتحان ہے۔

ان حساسیتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے، مودی حکومت کو اس معاملے کو خاموشی اور غیر محسوس طریقے سے دیکھنا چاہیے تھا۔ لیکن اس نے بالکل اُلٹا کیا اور بغیر کسی کو خبردار کیے اس نے بھارتی آئین کی دفعہ ۳۷۰ کو منسوخ کردیا اور ریاست کو دو مرکزی زیر اہتمام علاقہ جات میں تقسیم کرکے براہ راست دہلی کے کُنٹرول میں دے دیا۔ اس کے ساتھ ہی سینکڑوں مقامی سیاستدانوں کو گھروں نظر بند کردیا گیا، پہلے بہت بڑی فوجی موجودگی کے باوجود ہزاروں مزید فوجی بھیج دیے گئے، سیاحوں کوباہرنکال کر، کرفیو لگا دیا گیا اور سارے مواصلاتی رابطے توڑ دیے گئے۔ حکومت نے جس طرح سے اس فیصلے کو پارلیمنٹ کے ذریعے بلڈوز کرنے کے لیے جو طریقے استعمال کیے، وہ اتنے مشکوک ہیں کہ ابھی سے بھارتی سپریم کورٹ میں پہنچ گئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   وہ سترہ دن جب پاکستان، پاکستان بنا تھا - احسان کوہاٹی

یہ سب کچھ کرنے کی کوئی ضرورت نہیں تھی، زیادہ تر خصوصی حقوق ریاست کو دیے گئے وہ ویسے ہی عملی طور پر ہڑپ کیے جاچکے ہیں، صرف کاغذوں پر ہیں۔ نہ ہی کوئی شخص بعض دوسری بھارتی ریاستوں کو دئیے ہوئے خصوصی استحقاق پر اعتراض کرتا ہے۔ اس کا واضع مطلب یہی نکلتا ہے کہ مودی کی ہندو بھارتیہ جنتا پارٹی بجائے بھارت میں ایک مسلم ریاست پر فخر کرنے کے، اسے ختم کرنے کے درپے ہے۔

کشمیر کا مقام یا درجہ تبدیل کرنے سے پاکستان سے تناؤ کم نہیں ہو جائے گا۔ بلکہ اس کے برعکس یہ پاکستان کی فوج جو کہ بھارت کے بقول خطے میں امن کے لیے بڑی رکاوٹ ہے کو مزید طاقتور بنائے گا۔ بھارت کو پاکستان سے سفارتی و معاشی رابطے قائم کرنے کی راہ تلاش کرنے کی شدید ضرورت ہے۔ اس کے بجائے مودی حکومت کو یقین ہے کہ وہ اس دشمن کو نظرانداز، سفارتی و معاشی تنہا کرکے ہی اسے کسی اقدام سے روک سکتی ہے۔ اس کا ایک نتیجہ تو یہ نکلا کہ دونوں ممالک کے درمیان ٹریڈ مکمل طور پر رُک گئی۔

بی جے پی کے لوگ اصرار کرتے ہیں کہ اس اقدام کے ذریعے قریبی تعاون کے ذریعے کشمیری عوام کی زندگیوں میں بہتری آئے گی، ملازمت کے نئے مواقع کے ساتھ ریاست میں سرمایہ کاری کا سیلاب آجائے گا، لیکن یہ بھی سوالیہ نشان ہے (اس سال بھارت میں پرائیوٹ انوسٹمنٹ ۱۴ سال کی کمترین سطح پر ہے، جبکہ بیروزگاری ۴۵ سال کی بدترین سطح پر)۔ اور شاید سب سے حیران کُن بات یہ ہے کہ مودی نے ان لوگوں کو جن کا اس معاملے میں سب بڑا مفاد ہے، (یعنی کشمیری عوام)، انھیں اس معاملے میں اعتماد میں نہیں لیا گیا۔ جیسا بھی ہے یہ کوئی نئی چیز نہیں ہے، لیکن اچانک بیرون ریاست سے کاروباری سرمایہ کاری کے نتیجے میں مقامی لوگ مشکوک اور باہر کے لوگوں سے نفرت کرنے لگیں گے۔

یہ بھی پڑھیں:   کشمیر آور اور صحیح مؤقف - شبیر بونیری

اصل بات یہ ہے کہ بھارت کو آخرکار کشمیر میں جس چیز پر توجہ دینی چاہیے، وہ ملازمتیں نہیں اور نہ ہی دہشت گردی، بلکہ ان کا بھارت سے رشتہ نہ ہونا جو زیادہ تر کشمیری محسوس کرتے ہیں اور اسے بڑھانے کے لیے دم گھٹنے والی ہر طرف فوجی موجودگی جسے وہ ایک قابض فوج سمجھتے ہیں۔ ریاست پر زبردستی مرکزی حکومت کی مرضی تھوپنے سے یہ احساسات صرف اور صرف مزید بڑھیں گے۔

اتنی بڑی اور مختلف النوع جمہوریتیں جیسے کہ بھارت، اندرونی مسائل و تناؤ سے نہیں بچ سکتے۔ لیکن اس دباؤ کو کم کرنے کا طریقہ طاقت کی مرکزیت کم کر کے، عوام کو اپنی حکومت میں زیادہ حصہ، مقامی وسائل کا بڑا کنٹرول ان کے ہاتھ میں دے کر کیا جاسکتا ہے۔ مودی حکومت کشمیر میں اس کے بالکل برعکس سمت جا رہی ہے۔ جب تک بھارت کوئی ایسا طریقہ تلاش کرے کہ کشمیری خود کو مکمل شہری سمجھیں، جو اپنی زندگیوں، اور تقدیروں کے مختار ہیں۔ یہ سرزمین ایسے ہی رہے گی جیسا کہ اب تک ہے۔ ایک پریشان کن جگہ، امن اور ترقی کے لیے خطرہ۔