سوشل میڈیا کے ٹرک کی سرخ بتی - مظفر اعجاز

کئی دن سے واٹس اپ اور دیگر سماجی میڈ یا گروپوں میں ایک پوسٹ گردش میں ہے کہ آگے بڑھیں اقوام متحدہ کو آج کا دن گزرنے سے پہلے تین لاکھ دستخط پورے کرکے دینے ہیں اور بس ہم نے سماجی میڈیا پر کشمیر فتح کرلیا۔

ایک خاتون نے سویڈن سے منگل کی دوپہر 12.27 پر شیئر کیا 15141 دستخط درکار تھے۔ ہم نے اسے غور سے دیکھا، متعلقہ ویب سائٹ پر کلک کیا، اقوام متحدہ کا لوگو نظر آیا اور اس پر کشمیر میں بھارتی اقدام کے خلاف دستخطی مہم کا ذکر تھا۔ پبلک ایڈ گروپ پر 1427 پر بھی دوپہر 2.27 بجے یہی پیغام آیا، اسی ویب سائٹ پر جائیں وہاں 70893 دستخطوں کی ضرورت تھی، یعنی بارہ بجے 15141 پر دستخط درکار تھے، اور ٹھیک دو گھنٹے بعد ان دستخطوں کی ضرورت تقریباً ساڑھے چار گنا بڑھ گئی۔ یہ کیسے ممکن ہے؟

اب اور گروپس کا جائزہ لینے کی ٹھانی تو کئی گروپ کھنگال ڈالے۔ کراچی اسٹاپ پر پیر کی رات نو بج کر سینتیس منٹ پر 70136 دستخط درکار تھے، اسی گروپ پر پیر کی رات بارہ بج کر بیس منٹ پر 23289 دستخط کی ضرورت تھی، پھر اسی گروپ میں منگل کو دوپہر بارہ بج کر اننچاس منٹ پر اعداد نے پھر پلٹا کھایا، اب یہاں 86876 دستخط درکار ہیں۔ سمجھ میں نہیں آیا یہ کیا ماجرا ہے۔ کون سا کھیل ہے ایک تو یہ کہ آج کا دن ختم کب ہوگا۔ اور آج کے دن سے مراد کیا ہے۔ ابھی اور تحقیق یا تفریح کا موڈ تھا، اس لیے ورلڈ جرنلسٹ کلب کے گروپ میں دیکھا کہ پیر کی رات اٹھ بج کر انتیس منٹ پر 10964 دستخطوں کی کمی کا ذکر ہے، اسی گروپ میں رات نو بج کر سینتیس منٹ پر یہ مطلوبہ تعداد 70126 رہ گئی، میڈیا اینڈ نیوز اپڈیٹ میں پیر منگل کی رات بارہ بج کر بیس منٹ پر 11549 دستخط درکار تھے، یہ گروپ لندن سے آپریٹ ہوتا ہے۔ اسی گروپ میں منگل کی دوپہر ایک بج کر چھبیس منٹ پر کسی نے رات بارہ والی پوسٹ ری پیٹ کی اس پر ویب سائٹ کھولی، کاؤنٹر چل رہا تھا، ڈھائی لاکھ سے زیادہ دستخط ظاہر کیے جا رہے تھے، گویا تین لاکھ دستخط میں صرف چار ہزار سے کچھ زیادہ دستخط درکار تھے، خیال تھا کہ جذبہ ایمانی رکھنے والے چند لمحوں میں تعداد پوری کر دیں گے لیکن جماعت اسلامی ضلع قائدین کے گروپ میں منگل کی صبح سات بج کر چوبیس منٹ پر یہی پیغام شیئر ہوا۔ اب یہاں سے وزٹ کیا تو وہی ڈھائی لاکھ دستخط تھے۔ کوئی بتلائے کہ ہم بتلائیں کیا؟

یہ بھی پڑھیں:   بھارت ’پاکستان فوبیا‘ کا شکار - قادر خان یوسف زئی

اس پر ہمیں یاد آیا کہ جب واٹس ایپ اور سوشل میڈیا نیا نیا آیا تھا تو اسی طرح ایک پیغام چل رہا تھا کہ فلسطینی تنظیم حماس نے اس جمعے کو سورۃ فتح کا وردکرنے کی اپیل کی ہے۔ اس وقت تو کہا جا سکتا تھا کہ سوشل میڈیا نیا نیا آیا ہے اس لیے لوگ سمجھے نہیں یہ ’’اس جمعہ‘‘ کئی مہینے تک چلتا رہا اور ہم ایمانی جذبے کے تحت اسے فارورڈ کرتے رہے۔ اس وقت ہم نے توجہ دلائی کہ بھائیو… یہ کون سا جمعہ ہے جو کئی مہینے سے چل رہا ہے۔ پھر اس قسم کے دوسرے پیغامات کے بارے میں بھی توجہ دلائی۔ لیکن سوشل میڈیا ہمارے کچے ذہنوںکو بہا کر لے گیا۔ اب بڑے دعوے کیے جاتے ہیں کہ ہم سوشل میڈیا کے چمپئن بن گئے ہیں۔ لیکن اب بھی سب آنکھ بند کر کے اقوام متحدہ کے دستخطوں والے پیغام کو دھڑا دھڑ فارورڈ کر رہے ہیں۔ وہ آج کا دن ہے کہ ختم ہی نہیں ہو رہا۔ پیر سے منگل اور منگل سے بدھ آگیا اور بدھ کو یہ اطلاع یوں سامنے آئی کہ آج کا دن ختم ہونے تک پانچ لاکھ دستخط پورے ہونے میں صرف 11 ہزار اور چند دستخط باقی ہیں۔ لہٰذا ایمانی جذبے سے ویب سائٹ پرلوگ جا جا کر دستخط یا پٹیشن سائن کر رہے ہیں۔

اچھا چلیں مان لیتے ہیں کہ یہ آج کا دن ایک دن کے لیے ہوتا ہے، دوسرا دن تین لاکھ پٹیشن کا تھا۔ دوسرا آج کا دن پانچ لاکھ پٹیشن کا تھا۔ اس ساری بحث سے قطع نظر اگر پانچ لاکھ نہیں پانچ کروڑ پٹیشن سائن کر دی جائیں توکیا ہوگا۔ آرٹیکل 270 کی موجودگی میں 72 برس سے کشمیر ریاست نہیں رہا۔ بلکہ ایک مقبوضہ علاقہ رہا اور ایک جیل کی طرح رہا۔ 72میں سے 35 برس تو ہڑتالوں اور کرفیو میں ریاست بند رہی۔ سیاسی رہنمائوں کے لیے جیل اور حریت پسندوں کے لیے ٹارچر سیل۔ ماہرین کہتے ہیں کہ آرٹیکل 370 کا پھر بھی فائدہ تھا۔ پتا نہیں کیا فائدہ تھا۔ اسی طرح دفعہ 35 اے مسلمانوں کے تحفظ کی ضمانت تھی۔ کوئی بتا سکتا ہے کہ دفعہ 35 اے نے مسلمانوں کا کتنا تحفظ کیا۔ یہ تو قانونی باتیں ہیں قانون ضرور ہونا چاہیے۔ اور پاکستانی حکام اور عوام چاہیں تو اسے یہ فیصلہ واپس لینے پر مجبور بھی کر سکتے ہیں۔ لیکن خدارا ہوائی پوسٹوں کے پیچھے نہ دوڑیں۔ کروڑوں خطوط اور کروڑوں پٹیشنیں کسی کام کی نہیں جو کام چار پانچ ہزار مجاہدین کرتے تھے وہ بہت تھا۔ یہ سوشل میڈیا کے ٹرک کی سرخ بتی ہے اس کے پیچھے بھاگتے رہیں منزل کا پتا نہیں چلے گا۔