شام کے راندۂ درگاہ- نذیر ناجی

شام میں کئی برس سے جاری جنگ اور شورش کے بعد اب تک لاکھوں خاندان ترکِ وطن پر مجبور ہو چکے ہیں۔ لبنان میں مقیم ان شامی خاندان میں سے ہر ایک کی اپنی کہانی ہے۔ان کے بچے تعلیم جیسی بنیادی ضرورت سے بھی محروم ہیں۔ایک اندازے کے مطابق اس وقت 6 لاکھ 66 ہزار 491 شامی بچے بے گھر ہونے کے بعد لبنان میں مہاجرین کے طور پر زندگی گزار رہے ہیں۔ ان بچوں میں سے 46 فیصد کو رسمی وغیر رسمی تعلیم تک رسائی حاصل نہیں ہے۔ بچوں کی بہت بڑی تعداد‘ جن میں 10 برس اور اس سے زائد عمرکے بچے شامل ہیں اپنا نام تک نہیں لکھ سکتے۔ مہاجرین کے ساتھ بڑھتی ہوئی دشمنی کا لبنانی حکام کا فیصلہ‘ نئی تصویر پیش کررہا ہے۔ اس موسمِ بہار میں لبنان کی سپریم ڈیفنس کونسل نے فیصلہ دیا کہ 24 اپریل کے بعد کوئی بھی شامی جو مناسب دستاویزات کے بغیر ملک میں داخل ہوا تھا‘ ملک بدر کردیا جائے گا۔ اس کا اثر فوری طور پر ہوا‘ 26 اپریل کو غیر ملکی میڈیا کے مطابق بیروت ہوائی اڈے پر کم سے کم 16 شامی شہریوں کو مختصر طور پر جلاوطن کردیا گیا۔ بیشتر شامی گھرانے واپس لوٹ آئے کیونکہ ان پر تشدد اور ظلم و ستم کا خدشہ ظاہر کیا گیا تھا۔ اس سے قبل لبنان کی سرکاری سطح پر چلنے والی قومی خبر رساں ایجنسی کے مطابق مئی میں 301 شامی باشندوں کو ملک سے جلاوطن کیا گیا تھا۔

بیروت میں ہیومن رائٹس تنظیموں نے زبردستی جلاوطنی کے معاملات کو اجاگر کیا‘ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے عالمی اعلامیے کی خلاف ورزیوں کا دعویٰ بھی کیاگیا‘ جس کا لبنان مرتکب ہے۔ ہیومن رائٹس تنظیموں نے یہ الزام بھی لگایا کہ مہاجرین کو لبنانی سکیورٹی فورسز نے تشدد کا نشانہ بنایا‘ قانونی مشورے اورنسلر رسائی سے انکار کیا گیا‘ اوریوں افراد شام کو واپس چلے گئے۔ غیر ملکی ادارے کی رپورٹ کے مطابق مبینہ طور پر ایک مہاجر کو لبنان کی سکیورٹی فورسز نے شامی حکام کے حوالے کیا‘ دمشق منتقل کیاگیا اور اس کے بعد کوئی خیر خبر کی اطلاعات موصول نہیں ہوئیں۔
جبری طور پر ملک بدری کے ساتھ‘ لبنانی حکام بھی مہاجروں کو ملک سے بے دخل کرنے کے لئے ایک مہم میں مصروف ہیں۔ ایک امر یہ بھی ہے‘ کام کے نئے قوانین مزدور شامی شہریوں کو لبنان میں مستقل طور پر زندگی گزارنا مشکل بنا رہے ہیں۔ جون میں وزیر محنت کامل ابو سلیمان نے کسی ایسے کاروبار پر سخت مالی پابندیاں عائد کرنے کے حکومتی منصوبے کا اعلان کیا جس میں بغیر کسی اجازت نامے کے غیر ملکی کارکنوں کو ملازمت فراہم کرنے سے سختی سے منع کردیا گیا۔ اس منصوبے کے نتیجے میں ملک بھر میں مزدوروں کی برطرفی ہوئی ہے۔ مزدوری کے لیے اجازت نامہ کی لاگت 1200ڈالر رکھی گئی ‘ جو بہت سے شامی مہاجرین کی پہنچ سے باہر ہے۔ مہاجرین کے اہل خانہ کی دیکھ بھال نہ ہونے وجہ سے انہیں وہاں سے کوچ کر جانے پرمزید دباؤ ڈالا جارہا ہے۔ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق لبنان میں پناہ گزینوں کی حیثیت سے 9 لاکھ سے زیادہ شامی رجسٹرڈ ہیں۔ لبنانی حکومت مزید 5 لاکھ غیر رجسٹرڈ شامی شہریوں کی گنتی میں لاتی ہے۔ لبنانی سیاست دانوں کا مؤقف ہے کہ پناہ گزینوں کی اتنی بڑی آمد معیشت پر دباؤ ڈال رہی ہے‘ جس کی وجہ سے لبنانی شہری ملازمت سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ لبنانی ریسرچ سینٹر کی نئی تحقیق میں لبنانی سیاست دانوں کی تقریروں اور اخباروں میں شامیوں کے خلاف رائے عامہ کو تبدیل کرنے کے لیے متعدد واقعات کو اجاگر کیا گیا ہے۔

جون2019ء میں وزیر خارجہ جبران باسیل نے کہا کہ لبنانی سب سے بالاتر ہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ لبنانیوں کا جینیاتی امتیاز انہیں اپنے شامی ہم منصبوں سے بالاتر بنا دیتا ہے۔ ایسوسی ایٹڈ پریس
کے مطابق باسیل کی فری پیٹر یاٹک موومنٹ پارٹی کے زیر اہتمام ایک ریلی جس میں ''لبنانیوں کی ملازمت کرو‘‘ کے نعرے کے تحت مظاہرین نے شامی شہری کی ملکیت کی ایک دکان میں توڑ پھوڑ کی اور ''شام کو نکل جاو‘‘ کا نعرہ لگایا‘ جسے ایک وسیع مہم کے حصے کے طور پردیکھا جا رہا ہے۔ اگر کہا جائے کہ شامی باشندے صرف قربانی کے بکرے کے طور پر استعمال ہورہے ہیںتو غلط نہ ہوگا۔تعلیم نہیں ہے‘ نوجوانوں کے لئے کوئی ملازمت یا ہنر مندی کے مواقع نہیں ہیں۔ لبنانی ہو یا شامی‘ بے روزگاری مایوسی کا باعث ہے۔ لبنانی حکام اپنے شہریوں کو غصہ دلانے کی ترغیب دیے ہوئے ہیں۔سیاسی لوگوں کی طرف سے ٹویٹر پر تمام ٹویٹس دیکھیں تو بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ وہ لوگوں اور معاشرے کے ساتھ کس طرح کا سلوک روا رکھے ہوئے ہیں ۔وہ لوگوں کے جذبات سے کھیلتے ہیں۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر بہت سے ایسے ٹویٹ ملیں گے کہ'' آپ کے پاس نوکری نہیں ہے کیونکہ شامی باشندوں نے آپ کی جگہ نوکری لی ہے‘‘۔ہر طرف نفرت پھیل رہی ہے‘بین الاقوامی لیبر کے اعدادوشمار کے مطابق شام کے 92 فیصد مزدوروں کے پاس ملازمت کا باقاعدہ معاہدہ نہیں ہے اور ایک چوتھائی سے بھی کم ماہانہ اجرت حاصل کرتے ہیں۔ زرعی یا گھریلو خدمات میں کام کاج جیسی ملازمتوں میں زیادہ تر لبنانی انہیں ملازم نہیں رکھنا چاہتے ۔کارنیگی مڈل ایسٹ سینٹر کے حالیہ سروے میں بتایا گیا ہے کہ معاشی وجوہ اورسلامتی کی بگڑتی صورتحال کی وجہ سے96 فیصد مہاجرین شام سے فرار ہوگئے تھے۔ جب اپنا وطن محفوظ ہو تو‘کون وطن واپس نہیں آنا چاہے گا۔میزبان معاشروں میں بھیڑ کی وجہ سے عوامی خدمات کی مانگ میں اضافہ ہورہا ہے‘ جس سے صحت کی دیکھ بھال اور تعلیم تک رسائی اور معیار دونوں پر اثر پڑتا ہے۔ زیادہ مانگ کی وجہ سے کرایے کی قیمتوں میں بے حد اضافہ بھی ہوتا ہے۔ شام کے تنازعہ میں‘ لبنان کی قرابت نے اس کی سیاحت کی صنعت کو نقصان پہنچایا ہے اور اس میں سینکڑوں کیمپ نئے مناظر پیش کر رہے ہیں۔