’’تبدیلی‘‘ اور قربانی- محمد بلال غوری

ہمارے عہد کے بڑے مزاح نگار مشتاق احمد یوسفی کے الفاظ مستعار لوں تو اسلام کے لئے سب سے زیادہ قربانیاں بکروں نے دی ہیں مگر اب بکروں میں بھی قربانی کا جذبہ ماند پڑتا جا رہا ہے۔ 2017میں عیدالاضحی کے موقع پر 10ملین جانور قربان کئے گئے جن کی مالیت 3بلین ڈالر بنتی ہے، 2018میں سنتِ ابراہیمی زندہ رکھنے کے لئے قربان کئے گئے جانوروں کی تعداد گھٹ کر 8.1ملین رہ گئی، جبکہ چند روز قبل منائی گئی عید پر 6.6ملین جانوروں کے حلقوم پر چھری پھیری گئی جن کی مالیت 1.33بلین ڈالر بنتی ہے۔ بنگلہ دیش میں پاکستان کے مقابلے میں قربان کئے گئے جانوروں کی تعداد میں اضافہ ہوا۔ امسال بنگالیوں نے 11.18ملین جانوروں کی قربانی دی۔ اسلام میں قربانی اور ہندو مت میں بھینٹ کا تصور پایا جاتا ہے مگر فرزندانِ اسلام کے ہاں اسے ایک تہوار کا درجہ حاصل ہے۔ ہمارے معاشرے کے مذہبی رجحانات و میلانات اس نوعیت کے ہیں کہ غربت و تنگدستی کا معاملہ کتنا ہی سنگین کیوں نہ ہو، قربانی کرنے کی ہرممکن کوشش کی جاتی ہے۔ بعض لوگ نہایت نیک نیتی اور خلوص سے یہ سمجھ کر قربانی کرتے ہیں کہ اللہ کی راہ میں خرچ کرنے سے ان کے رزق میں برکت ہوگی اور ان کے دن پلٹ جائیں گے مگر قربانی پر مائل کرنے والا یہ اکلوتا پہلو نہیں بلکہ دیگر کئی عوامل بھی اس فیصلے پر اثر انداز ہوتے ہیں۔

بیوی، بچوں کی طرف سے اصرار کے باعث لوگ استطاعت نہ ہونے کے باوجود قربانی کا جانور خریدنے پر مجبور ہو جاتے ہیں اور پھر یہ جملہ اونٹ کی کمر پر آخری تنکا ثابت ہوتا ہے کہ لوگ کیا کہیں گے۔ معاشرتی دبائو اس قدر شدید ہوتا ہے کہ عزیز و اقارب، ہمسائیوں اور ملنے جلنے والوں کے طعنے سننے کے بجائے انسان سفید پوشی کا بھرم رکھنے کے لئے قربانی کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے، چاہے کسی سے قرض ہی کیوں نہ لینا پڑے۔ وہ لوگ بھی بہت خشوع و خضوع سے قربانی کرتے ہیں جنہیں لوگ غیر مذہبی یا لادین قراردے چکے ہوتے ہیں۔ بالفاظ دیگر جانوروں کو قربانی کا بکرا بنانا ہمارا مذہبی فریضہ ہی نہیں قومی و ثقافتی تہوار بھی ہے۔ لوگ عیدالاضحی پر سنت ابراہیمی کو زندہ کرنے سے قاصر ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ ان کی قوتِ خرید نہایت کم ہو چکی ہے اور عمومی تصور اور حکومتی دعوئوں کے برعکس ملکی معیشت درست سمت میں آگے نہیں بڑھ رہی۔

قربانی کے جانوروں کی تعداد کم ہونے کے علاوہ ایک اور تشویشناک پیشرفت یہ ہوئی ہے کہ قربانی کی کھالوں کی کوئی قدر و قیمت نہیں رہی۔ پاکستان ٹینرز ایسوسی ایشن کے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ برس 5ارب 20کروڑ روپے کی کھالیں خریدی گئیں جبکہ اس سال ایک ارب 31کروڑ روپے کی کھالیں خریدی گئیں، یوں قربانی کے موقع پر کھالوں کی خرید و فروخت میں 75فیصد کمی واقع ہوئی۔ چند برس قبل عید الاضحی کے موقع پر مذہبی و سیاسی جماعتیں اور خیراتی ادارے قربانی کی کھالیں جمع کرنے کے لئے دست و گریباں ہوتے تھے اور کھالیں جمع کرنے کے لئے بہت بھرپور انداز میں مہم چلائی جاتی تھی مگر اب ایسی چہل پہل اور رونق دکھائی نہیں دی کیونکہ پاکستانی کرنسی کی طرح قربانی کی کھالوں کی بھی کوئی وقعت و اہمیت نہیں رہی۔ قبل ازیں قربانی کی کھالوں کی باقاعدہ تجارت ہوا کرتی، قصاب لوگوں سے کھالیں خریدتے، ہر شہر کی مرکزی شاہراہوں پر کھالیں خریدنے کے لئے اسٹال لگتے، کھالیں کئی ہاتھوں سے ہوتی ہوئی بڑے دباغوں کے پاس پہنچتیں اور ہر ’’وچولا‘‘منافع کماتا۔ کئی لوگ تو ایک کھال پر کئی سو روپے کما لیا کرتے تھے۔ کھالوں کے علاوہ جانوروں کی آنتیں اور دیگر آلائشیں بھی فروخت ہوا کرتی تھیں مگر اس بار کھالیں خریدنے والا کوئی نہ تھا۔

بکروں اور دنبوں کی کھالیں 100روپے میں بکتی رہیں اور پھر عید کے تیسرے دن تو لوگوں نے تنگ آکر کھالیں پھینکنا شروع کردیں۔ ان کھالوں پر نہ صرف چمڑا سازی کی مقامی صنعت کا انحصار ہے بلکہ پاکستان کو زرمبادلہ بھی حاصل ہوتا ہے۔ گزشتہ مالی سال کے دوران کھالوں کی برآمدات میں 11فیصد کمی ہوئی کیونکہ 2017میں 948ملین ڈالر کی کھالیں برآمد کی گئیں جبکہ 2018میں کھالوں کی برآمدات 843ملین ڈالر رہیں۔ لیدر انڈسٹری دنیا بھر میں ترقی کر رہی ہے اور اس کا حجم 120بلین ڈالر تک جا پہنچا ہے۔ بھارت اور چین ہی نہیں بنگلہ دیش بھی اس انڈسٹری سے اپنا حصہ وصول کر رہا ہے۔ بنگلہ دیش کی لیدر انڈسٹری سالانہ 336.8ملین ڈالر کی مصنوعات برآمد کرتی ہے اور ایشین ڈویلپمنٹ بینک کی رپورٹ کے مطابق بنگلہ دیش اس شعبے میں نہایت تیزی سے ترقی کر رہا ہے۔ اسکے علاوہ بنگلہ دیش اٹلی سمیت کئی ممالک کو جانوروں کی کھالیں بھی فروخت کرتا ہے۔

بنگلہ دیش نے کئی سال سے کھالوں کی برآمد پر پابندی عائد کر رکھی تھی مگر اس سال یہ پابندی اُٹھا لی گئی ہے۔ بنگلہ دیش کے برعکس ہمارے ہاں یہ صنعت زوال پذیر ہے۔ اس کاروبار سے وابستہ افراد کا خیال ہے کہ ہمارے ہاں سہولتیں دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے عید کے موقع پر 30سے 40فیصد کھالیں خراب ہو جاتی ہیں۔ موجودہ سال قربانی کی کھالیں نہ خریدے جانے کی بیشمار وجوہات ہیں۔ نئے ٹیکس اور ڈیوٹیز کے نفاذ سے بھی تاجروں کی حوصلہ شکنی ہوئی ہے مگر سب سے بنیادی وجہ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کی طرف سے متوقع فیصلہ ہے جسکے تحت پاکستان کو بلیک لسٹ قرار دیا جا سکتا ہے۔ اس تجارت سے وابستہ افراد کا خیال ہے کہ آئندہ چند ماہ کے دوران فیصلہ پاکستان کے خلاف آیا تو برآمدات کا شعبہ سب سے زیادہ متاثر ہوگا اور انہی خدشات کے پیش نظر کوئی بھی سرمایہ کار کھالیں خریدنے کو تیار نہیں۔

گاہے خیال آتا ہے جیسے ہم عوام بھی قربانی کے بکرے ہیں جنہیںقصابو ں کے حوالے کردیا گیا ہے۔ قربانی کے جانوروں کے برعکس ہمیں تو ’’میں میں‘‘ کرنے کی بھی اجازت نہیں۔ جس طرح قربانی کے بکروں سے ان کی مرضی معلوم نہیں کی جاتی، اس طرح عوام سے بھی یہ پوچھنے کا تکلف نہیں کیا جاتا کہ وہ قربانی دینے کے قابل بھی ہیں یا نہیں بس کوئی کہہ دیتا ہے کہ عوام قربانی دینے کو تیار ہیں اور پھر قربان گاہ سج جاتی ہے۔