دو قومی نظریہ :سیکولرزم /اسلام- اوریا مقبول جان

جموں کشمیر کی پہلی آئین ساز اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے 31 اکتوبر 1951 ء کو شیخ عبداللہ نے آئین سازی کے مقاصد بتائے اور کہا "Normally under the principles governing the partition of India, our Riyasat of Jammu and Kashmir should have gone to Pakistan, but we choose India for its secularism." (اگر ہندوستان کی تقسیم کے اصولوں کو مدنظر رکھا جائے تو ہماری ریاست جموں و کشمیر کا الحاق پاکستان کے ساتھ ہونا چاہیے تھا لیکن ہم نے بھارت کا انتخاب اس کے سیکولرزم کی وجہ سے کیا)۔ اسکے بعد شیخ عبداللہ نے بھارت کے جمہوری نظام اور اسکی کشمیریوں سے محبت کا بھی تذکرہ کیا۔ برصغیر پاک و ہند کے مسلمانوں کے درمیان اس انتخاب پر بحث کئی دہائیوں سے جاری تھی کہ وہ ایک سیکولر ہندوستان میں رہنا چاہتے ہیں یا ایک اسلامی طرز حکومت و سیاست سے مزین علیحدہ ریاست، پاکستان انکی منزل ہوگی ۔اصل میں ، یہی دو قومی نظریہ تھا۔ جو لوگ اسکو ہندو اور مسلمان کے درمیان تفریق تک محدود کرتے ہیں وہ اسکی اصل روح سے واقف نہیں ہیں ۔چودہ اگست 1947 ء کو سیکولرازم اور اسلام کے درمیان ہی فیصلہ ہوا تھا ۔ دراصل کانگریس کی تحریک ایک سیکولر بھارت کے قیام کی تحریک تھی اور مسلم لیگ کی تحریک ایک مسلم پاکستان کی تحریک تھی۔

یہی وجہ ہے کہ بھارت میں اس وقت موجود تین کروڑچالیس لاکھ مسلمانوں نے پاکستان کی مسلم ریاست کی بجائے سیکولر بھارت میں رہنے کا انتخاب کیا تھا۔ اگر 1947ء میں راشٹریا سیوک سنگھ کے نظریے کے مطابق یہ اعلان کر دیا جاتا کہ برطانوی ہندوستان دو قوموں میں تقسیم کیا جارہا ہے ایک ہندو اور دوسری مسلمان تو شاید ہی کوئی مسلمان ایسے ہندو بھارت کا انتخاب کرتا۔ کانگریس کی ساری سیاست سیکولر، لبرل بلکہ اپنے زمانے کے اعتبار سے کسی حد تک بالشویک کیمونسٹ سیاست تھی۔ لیکن قائداعظم اس ملمع سازی اور مکاری کو جانتے تھے۔ اسی لئے جب کانگریس نے 35سالہ ابوالکلام آزاد کو اپنا صدر بنایا تو قائداعظم نے انہیں Congress show boy یعنی مسلمانوں کو دھوکا دینے کے لیے ’’کانگریس کا بہروپیا‘‘ کہا۔ تحریک پاکستان کی جنگ دراصل انہی دو نظریوں سیکولرزم اور اسلام کی جنگ تھی۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان جن خطوں پر مشتمل ہوا، ان میں مسلمانوں کی آبادی سات کروڑ پچاس لاکھ تھی جبکہ اس سے نصف یعنی 3 کروڑ 40 لاکھ مسلمانوں نے سیکولر طرز زندگی کا انتخاب کر کے بھارت میں ہی رہنا پسند کیا۔ جبکہ آج کے پاکستان یعنی 1947ء کے مغربی پاکستان کی آبادی کا اگر بھارت میں رہ جانے والی آبادی سے موازنہ کریں تو پاکستان میں مسلمانوں کی آبادی تین کروڑ سینتیس لاکھ تھی جبکہ بھارت میں موجود مسلمان ان سے تین لاکھ زیادہ تھے۔

گویا کانگریس کے سیکولر بھارت کا انتخاب کرنے والے اور پاکستان کی موجودہ سرزمین میں بسنے والوں کی تعدادتقریبا برابر تھی۔ آج بھی پاکستان اور بھارت میں مسلمانوں کی آبادی میں کوئی زیادہ فرق نہیں ہے۔ پاکستان میں مسلمانوں کی آبادی بائیس کروڑ ہے جبکہ سیکولر لبرل بھارت میں سرکاری طور پر مسلمان آبادی بھی بائیس کروڑ ہے۔ اس میں وہ نوے لاکھ کشمیری بھی شامل ہیں جنکے شیخ عبداللہ نے بغیر لگی لپٹی رکھے دو قومی نظریے یا دو نظریات کے تصادم کا ذکر ہندو مسلمان تفریق کے طور پر نہیں بلکہ سیکولر بمقابلہ اسلام قرار دیاتھا ۔ جموں و کشمیر کی آئین ساز اسمبلی کا بھارت کے سیکولر آئین سے الحاق، وہ آخری تقسیم ہے جو اس سرزمین پر ہوئی جسکے بعد مسلمان دو حصوں میں تقسیم ہوگئے۔ ایک وہ جو سیکولر طرز زندگی کے تحت بھارت میں رہنا چاہتے ہیں اور دوسرے وہ جو اسلامی طرز زندگی و طرز حکومت اور طرز سیاست کے تحت پاکستان میں زندگی گزارنا چاہتے ہیں۔ آج تاریخ سے نا بلد، نظریات کی بحث سے نا آشنا، ایسے کسی بھی شخص سے سوال کریں کہ کیا بھارت کے وہ مسلمان زیادہ آسودہ، پرسکون، آزاد اور باعزت ہیں جنہوں نے 1947 ء میں سیکولر طرز زندگی کا انتخاب کیا تھا یا وہ مسلمان جنہوں نے ایک نام نہاد سہی مگر مسلم طرز زندگی والے ملک کا انتخاب کیا تھا تو پوری دنیا میں کوئی ایک بھی حقیقت پسند آپکو ایسا نہیں ملے گا جو سیکولر لبرل بھارت میں مسلمانوں کی حالت زار کا ماتم نہ کرے اور پاکستان میں موجود مسلمانوں کو ان سے ہزار درجہ بہتر نہ بتائے ۔

یہ تاریخ کی سب سے بڑی سچائی ہے کہ جس چڑیا کا نام سیکولرزم یا لبرل ازم ہے وہ دنیا میں کہیں بھی اپنا وجود نہیں رکھتی۔ یہ ایک سراب ہے جو چند بہروپیوں نے دنیا کو دھوکا دینے کے لیے پیدا کیا ہوا ہے ۔دراصل اسکے ذریعے لوگوں کو دھوکہ دے کر اکثریت کی بدترین آمریت قائم کرنا مقصود ہوتا ہے ۔ اگر سیکولرازم ایک کامیاب طرز زندگی ہوتا یا وہ انسان کے مزاج کے عین مطابق ہوتا تو آج امریکہ، کینیڈا، آسٹریلیا اور یورپ کے تیس سے زیادہ ممالک میں اسلام فوبیا کی نفرت انگیز صورتحال پیدا نہ ہوتی۔ یہ ان سیکولر لبرل معاشروں میں قوت برداشت کی کمی، نسلی برتری اور مذہبی منافرت ہے، جسے گذشتہ ایک سو سال کی جمہوری، لبرل سیکولر طرز سیاست و طرز زندگی بھی ختم نہیں کرسکی۔ جن سیکولر معاشروں میں مذہبی منافرت موجود نہ ہو یعنی صرف ایک ہی مذہب کے لوگ رہتے ہوں، ایسے سیکولر معاشروں میں نسل، رنگ اور زبان کا تعصب اقلیتوں کا جینا دوبھر کر دیتا ہے۔ ہندوستان میں اسی سیکولر بمقابلہ اسلام پر مبنی دو قومی نظریے پر دو ملک وجود میں آئے۔13 دسمبر 1946 ء کو بھارت کی قانون ساز اسمبلی کے اجلاس میں جواہر لال نہرو نے ایک قراردادِ مقاصد منظور کروائی جو ایک سیکولر جمہوری بھارت کے تصور پر مبنی تھی۔ لیکن اسکے بالکل برعکس دو سال تین ماہ بعد 12 مارچ 1949 ء کو پاکستان کی قانون ساز اسمبلی نے ایک قرارداد مقاصد منظور کی جو مکمل طور پر اسلامی ریاست کا پیش لفظ تھی۔ ان دونوں نظریاتی ممالک میں رہنے والے مسلمان تعداد کے لحاظ سے آج آپس میں برابرتقسیم ہیں۔

بائیس کروڑ سرحد کے ایک جانب اور بائیس کروڑ سرحد کی دوسری جانب۔ لیکن اس سیکولرزم کے بہروپ سے ہندو بالادستی کا خونخوار جن نقاب پھاڑ کر باہر آ چکا ہے اور اس نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ دنیا کے دیگر تمام ممالک کی طرح بھارت کا سیکولرزم بھی ایک غیر فطری نظریہ ہے۔ آدمی قیامت تک اپنے مذہب کے خول سے باہر نہیں آسکتا۔ یہ ہے وہ حقیقت جس نے نہ صرف کشمیر میں سیکولر بھارت پرست سیاست الٹ کر رکھ دی ہے بلکہ پورے بھارت میں بائیس کروڑمسلمان آبادی کو بھی بے یقینی کی سولی پر لٹکا دیا ہے اور یہ بے یقینی اب یقین میں بدل چکی ہے کہ سیکولر بھارت میں اب مسلمان کا کوئی مستقبل نہیں۔بلکہ خوف اسقدر ہے کہ کل وہ اس سیکولر بھارت کے شہری بھی رہیں گے یا نہیں۔ آج کے نیویارک ٹائمز کے ٹائٹل پر ایک تصویر ہے جس میں آسام کے شہر خاروپوتیہ میں ایک اہلکار ڈوپٹہ اوڑھے ایک مسلمان خاتون کا فارم چیک کر رہا ہے۔ اس نیم تاریک کمرے کی کھڑکی میں چند مسلمان کھڑے اپنی باری کا انتظار کر رہے ہیں۔ یہ فارم آسام میں بانٹے گئے ہیں جنکا مقصد اصل بھارتی اور باہر سے آئے ہوے کے درمیان فرق کرنا ہے ۔ وہاں کے رہنے والوں کو خصوصا مسلمانوں کویہ کہا گیا ہے کہ وہ ثابت کریں کہ وہ واقعی بھارتی ہیں۔ ان معلومات کی بنیاد پر ایک نیشنل شہری رجسٹر(National Citizen Register) مرتب ہو رہا ہے۔

آسام کے بعد یہ ایکٹ پورے بھارت میں نافذ ہوگا۔ جھونپڑیوں میں رہنے والے، صدیوں سے آبا اجداد کی زمین پرآباد مسلمان جنکے پاس ہو سکتا ہے نہ کوئی کاغذی ثبوت ہو اور نہ ہی بستی کے ہندو انکی گواہی دیں تو وہ مسلمان چشم زدن میں سیکولر بھارت کی شہریت سے خارج ہو جائیں گے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کا نعرہ "کانگریس مکت (سے آزاد)بھارت" تھا، لیکن یہ دراصل "مسلمان مکت (سے آزاد ) بھارت" ہے۔ یہ تجربہ برما کے روہنگیا مسلمانوں کے ساتھ کیا جا چکا ہے اور آج بیس لاکھ روہنگیا مسلمانوں کا کوئی وطن، پاسپورٹ یا شہریت نہیں ہے۔ کل بائیس کروڑ بھارتی مسلمانوں کا بھی کوئی وطن پاسپورٹ یا شہریت نہیں ہوسکتی۔ وہ جنکے آبا و اجداد نے سیکولر ہندوستان کا انتخاب کیا تھا، سوچتے تو ہوں گے کہ کس قدر سچے تھے وہ لوگ جو پکار پکار کر کہتے تھے، "مسلم ہے تو مسلم لیگ میں آ"۔ مسلمان ملک میں کم ازکم شناخت کا مسئلہ تو نہیں ہوتا۔ سیکولر ملک تو اسی کو پہچانتا ہے جسکی اکثریت ہو۔ اس لیے کہ سیکولرازم کی سیڑھی جمہوریت ہے اور جمہوریت میں اسی کا مذہب، اسی کی زبان، اسی کی نسل اور اسی کی قوم بالادست ہوتی ہے جس کی اکثریت ہو ۔