کشمیر اور امتِ مسلمہ- خورشید ندیم

دارالعلوم دیوبند برِ صغیر کا تاریخ ساز مدرسہ ہے۔ بھارتی حکومت نے جب اپنے آئین کی دفعہ 370 کو ختم کیا تو مجھے جستجو ہوئی کہ میں اس ادارے کا ردِ عمل معلوم کروں۔ میں نے جب دارالعلوم کی ویب سائٹ کو دیکھا تو مجھے مکمل خاموشی دکھائی دی۔ میں نے خیال کیا کہ یہ ایک تعلیمی ادارہ ہے اور ممکن ہے کہ اس نے خود کو سیاسی امور سے لا تعلق رکھنے کا فیصلہ کیا ہو۔ بعد میں اس کی تصدیق ہوئی جب ادارے کے نائب مہتمم کا موقف سامنے آیا۔ موقف یہی تھا کہ یہ ادارہ سیاسی معاملات میں کلام کرنے سے گریز کرتا ہے۔
یہ موقف ایک پہلو سے قابلِ فہم تھا۔ مسلک دیوبند نے اپنے ہاں کچھ اس طرح تقسیمِ کار کا اصول اپنایا ہے کہ تعلیم و تدریس کے لیے دارالعلوم اور ذیلی مدارس، دعوت کے لیے تبلیغی جماعت اور سیاست کے لیے جمعیت علمائے ہند کے فورمز مختص ہیں۔ یہ تقسیم آج سے نہیں، کم و بیش ایک صدی سے ہے۔ اب میں نے جمعیت علمائے ہند کی ویب سائٹ کی طرف رجوع کیا۔ مجھے یہ جان کر حیرت ہوئی کہ یہاں بھی کشمیر کے معاملے میں مکمل خاموشی کو روا رکھا گیا ہے۔ روہنگیا مسلمانوں کا ذکر ہے۔ فلسطین کی تازہ ترین صورتِ حال پر جمعیت کا موقف موجود ہے لیکن اگر کسی موضوع پر زباں بندی ہے تو وہ کشمیر ہے۔
میں نے جمعیت کا فیس بک پیج دیکھا۔ وہاں بھی خاموشی کا راج تھا، سوائے ایک سروے کے۔ جمعیت کی طرف سے فیس بک سروے میں، بھارتی حکومت کے اس اقدام پر لوگوں کی رائے مانگی گئی تھی۔ چودہ فی صد نے حمایت کی تھی اور چھیاسی فی صد نے اسے غلط قرار دیا تھا۔ یہ بات پیشِ نظر رہے کہ ماضی میں کشمیر سمیت، ہر معاملے میں جمعیت علمائے ہند اپنی ریاست کے ساتھ کھڑی رہی ہے۔

اس پر چند سوالات اٹھتے ہیں۔
٭ بھارت میں بیس کروڑ مسلمان آباد ہیں۔ ان میں تمام مسالک کے لوگ شامل ہیں۔ بھارت کے یہ شہری کیا امتِ مسلمہ کا حصہ نہیں ہیں؟
٭ دارالعلوم دیوبند سمیت بھارت میں ہر مسلک کے ہزاروں دینی مدارس ہیں جہاں سینکڑوں علما خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔ اس میں شیخ التفسیر ہیں اور شیخ الحدیث بھی۔ مفتی صاحبان ہیں اور متکلمین بھی۔ زاہد بھی عابد بھی۔ شب بیدار بھی عبادت گزار بھی۔ کیا یہ سب امتِ مسلمہ میں شامل نہیں؟
میں ان سوالات کو بھارت تک محدود نہیں رکھتا۔ مسلمان امریکہ کے شہری ہیں اور برطانیہ کے بھی۔ روس کے بھی اور فرانس کے بھی۔ کیا ہر وہ شخص جو رسالت مآب سیدنا محمدﷺ کی نبوت و رسالت پر، اس کے تمام تقاضے سامنے رکھتے ہوئے ایمان لایا، امتِ مسلمہ کا حصہ نہیں ہے؟ ایسے لوگوں سے ہم کیا توقع رکھتے ہیں؟ کیا وہ اپنے اپنے ملک کے موقف سے انحراف کرتے ہوئے، کشمیر اور فلسطین کے لوگوں کے ساتھ کھڑے ہو جائیں؟ اگر نہ ہوں تو کیا وہ امتِ مسلمہ کا حصہ نہیں رہیں گے؟ کیا بھارت کے ایک مدرسے کا شیخ التفسیر جو تہجد گزار بھی ہے اور روزانہ نبیﷺ پر درود بھیجتا ہے، آپؐ کا امتی نہیں ہے؟
یہ سوالات اس تناظر میں اہم ہیں کہ جب بھی کسی مسلم جمعیت پر کوئی مشکل وقت آتا ہے، ہمارے ہاں تکرار کے ساتھ سوال اٹھتا ہے کہ امتِ مسلمہ کہاں ہے؟ ہم خیال کرتے ہیں کہ اس کے بعد اگر مسلمان دنیا بھر میں ہم آواز نہیں ہوتے تو یہ امتِ مسلمہ کی ناکامی ہے۔ میرا احساس ہے کہ یہ سوالات ایک غلط فہمی سے اٹھتے ہیں۔ غلط فہمی یہ ہے کہ امتِ مسلمہ ایک سیاسی وحدت کا نام ہے۔
دنیا کا ہر وہ انسان جو نبیﷺ پر ایمان لایا وہ امتِ مسلمہ کا حصہ ہے۔ یہ ممکن ہے کہ اس کا وطن امریکہ ہو۔ ہو سکتا ہے کہ وہ بھارت کا شہری ہو۔ یہ سب اپنی دینی شناخت کے اعتبار سے مسلمان ہیں اور کوئی شبہ نہیں کہ امتِ مسلمہ کا حصہ ہیں۔ اس حوالے سے سب مسلمان ایک دوسرے کے بھائی ہیں؛ تاہم ان کی سیاسی شناخت، نسلی شناخت کی طرح ایک حقیقت ہے اور وہ اس کے تقاضے نبھانے کے پابند ہیں۔

مثال کے طور پر ایک مسلمان امریکہ کا شہری ہے۔ اس نے ریاست امریکہ کے ساتھ ایک معاہدہ کیا ہے۔ اسلام عہد کو نبھانے کا حکم دیتا ہے۔ صاحبِ ایمان وہی ہے جو عہد کی پاس داری کرنے والا ہو۔ اب مسلمان پر لازم ہے کہ وہ اس حلف کا پابند رہے جو شہریت حاصل کرتے وقت، اس نے اٹھایا ہے؛ تاہم اگر وہ یہ سمجھتا ہے کہ ریاست اسے کسی ایسے حکم کو ماننے پر مجبور کرتی ہے جو اس کے دینی تصورات کے خلاف ہے تو اسے ماننے سے انکار کر سکتا ہے۔ ایک مسلمان ریاست کے شہری کو بھی ایسا ہی کرنا چاہیے۔
اس وقت ہم قومی ریاستوں کے عہد میں زندہ ہیں۔ اب ہماری سیاسی شناخت کا تعلق ہمارے جغرافیے سے ہے۔ سیاسی تجسیم ہمیشہ حالات کے تابع ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں مذہب کی بنیاد پر سیاسی اجتماعیت تشکیل دینے کا حکم نہیں دیا۔ اجتماعیت کے باب میں اس کی تمام تعلیمات اِس امکان کے تناظر میں ہیں کہ اگر کہیں مسلمانوں کے ہاتھ میں اقتدار آ جائے تو انہیں کیا کرنا چاہیے۔ آج سیاسی تشکیل جغرافیے کے مطابق ہو رہی ہے۔ سب نے ایک عالمی معاہدے کے تحت اسے قبول کیا ہے۔ اگر بھارت کے مسلمان اپنے ریاستی مفادات کے حوالے سے کوئی رائے قائم کرتے ہیں تو ان کا یہ عمل امتِ مسلمہ سے ان کے تعلق کو ختم نہیں کرتا۔

دارالعلوم دیوبند جیسے دینی اداروں کا معاملہ البتہ دوسرا ہے۔ ادارے کا یہ موقف اصولی ہے اور اس پر کوئی اعتراض نہیں کیا جا سکتا کہ اس نے خود کو سیاسی امور سے الگ رکھا ہے۔ علما اور تعلیمی اداروں کو ایسا ہی کرنا چاہیے؛ تاہم اس کے ساتھ علما کا ایک سماجی کردار ہے اور وہ قرآن مجید نے بیان کیا ہے۔ یہ 'انذار‘ ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ وہ ہر سماجی طبقے اور افراد کو اُخروی انجام سے خبردار کریں اور ان کی اخلاقی ذمہ داریوں کی طرف متوجہ کریں۔ ظلم کوئی فرد کرے یا ریاست، وہ اس کے خلاف آواز اٹھائیں۔
بھارتی حکومت نے ایک عہد کو توڑا ہے۔ یہ عہد عالمی برادری کے ساتھ تھا، پاکستان کے ساتھ تھا اور اہلِ کشمیر کے ساتھ بھی تھا۔ اسی طرح کشمیر کے نہتے شہری ظلم کا شکار ہیں۔ ظلم تو بھارتی آئین کے تحت بھی روا نہیں ہے۔ یہ بھارت کے مسلمان علما کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی ریاست کو اس کی اخلاقی ذمہ داری کا احساس دلائیں۔ یہ دارالعلوم دیوبند ہو، ندوۃ العلما یا علما کا کوئی اور ادارہ۔ دیوبندی ہوں یا بریلوی، ان کا کام ہے کہ وہ اپنی ریاست کو 'انذار‘ کریں۔ اگر کسی دوسرے مذہب کے ماننے والے ظلم کا شکار ہوں تو علما کو ان کے لیے بھی آواز اٹھانی چاہیے۔

اس کا اطلاق پاکستان کے علما پر بھی ہوتا ہے۔ جب 1948ء میں پاکستان کی طرف سے کشمیر میں اقدام کیا گیا تو مولانا مودودی نے اس کی مخالفت کی۔ اس کے لیے انہوں نے دینی دلیل پیش کی کہ جب تک بھارت کے ساتھ ہمارے معاہدے موجود ہیں، ہم کوئی مسلح اقدام نہیں کر سکتے۔ اگر حکومت اقدام ضروری سمجھتی ہے تو پہلے ان معاہدوں کو ختم کرنے کا اعلان کرے۔ مولانا کو اس پر بہت گالیاں سننا پڑیں مگر ایک عالم کی شان یہی ہے کہ وہ تحسین و مذمت سے بے نیاز ہو کر، انذار کی ذمہ داری پوری کرتا ہے۔
حاصل یہ کہ امتِ مسلمہ کو آواز دینے سے پہلے، یہ ذہن میں رہے کہ ہم اُسے پکار رہے ہیں جس کا خارج میں کوئی وجود ہی نہیں۔ امتِ مسلمہ ایک روحانی وحدت ہے، کوئی سیاسی ادارہ نہیں۔
(پس تحریر: سلامتی کونسل نے کشمیر پر کوئی باضابطہ بیان جاری کیا، بھارت کے اقدام کی مذمت کی اور نہ ہی اس کو مزید بحث کا موضوع بنانے کا کوئی عندیہ دیا۔ سی این این کے مطابق فرانس، جرمنی اور امریکہ نے سلامتی کونسل کو اس سے روکا۔ امریکہ نے ایسا کیوں کیا؟ ثالثی کی حقیقت کیا تھی؟ کیا صدر ٹرمپ نے خان صاحب کو امریکی ردِ عمل سے آگاہ کیا تھا؟ آئندہ چند ماہ میں جو پیش قدمی متوقع ہے، اس سے ان سوالات کے جواب مل جائیں گے۔)