میرا کشمیر - صائمہ عبدالواحد

میرا کشمیر جل رہا ہے ۔۔۔۔سلگ رہا ہے۔۔۔ مقبوضہ کشمیر میں روزانہ درجنوں افراد اپنی جان کی بازی ہار جاتے ہیں یہ شہید اپنی آزادی کی جدوجہد میں اپنا سب کچھ لٹارہے ہیں اور بڑے خوش قسمت ہیں کہ انڈیا کے ظلم و ستم اوراسکے چنگل سے آزاد ہوکر اپنے رب کے حضور سرخرو ہوگئے ۔۔۔۔۔موج بڑھے یا آندھی آئے دیا جلائے رکھنا ۔۔۔۔یہ دیا جلانے والے افراد جس بھی قوم زندہ ہوتے ہیں انکے دم سے قومیں زندہ رہتی ہیں۔

کشمیری پچھلے ستر برسوں سے اپنی آزادی کی جنگ لڑرہے ہیں اور مدد کیلئے پاکستان کی جانب دیکھ رہے ہیں ۔۔۔۔اور پاکستان انکا واحد وکیل دنیا کی عدالت میں انکا کیس سنجیدگی سے لڑنے سے قاصر ہے۔۔۔ لفظی گولہ باری کرنے اور کچھ کرکے دکھانے میں زمین آسمان کا فرق ہے آج مقبوضہ کشمیرکے وکیل جو مقبوضہ وادی میں ہونے والے مظالم کو دنیا کے سامنے لانے میں مصروف عمل ہیں ۔۔۔مقبوضہ وادی کو انڈیا کے چنگل سے آزاد کرانے کیلئے لفظوں کی جنگ لڑنا چاہتے ہیں انکے قول وفعل میں تضاد ہے۔۔۔اپنے رب سے کئے گئے وعدے پورے نہیں کررہے جبکہ دنیا کو یہ جتانا چاہتے ہیں کہ ہم کشمیر کےساتھ کھڑے ہیں اب یہ زندہ ضمیر کے ساتھ کھڑے ہیں یا مردہ ۔۔۔۔۔دیکھنے والی آنکھ سب کچھ دیکھ رہی ہے لیکن جن کی آنکھوں پر پٹی بندھی ہو انھیں حقیقت دکھائی نہیں دیتی۔۔ لائن آف کنٹرول پر روزانہ انڈیا کے ہاتھوں پاکستانی سپاہی شہید ہورہے ہیں اور پاکستانی حکمران امن و دوستی کی پینگیں بڑھانا چاہتے ہیں ۔۔۔۔انڈیا روزانہ ہمارے گال پر تھپڑ مارتا ہے اور ہم دوسرا گال آگے بڑھاتے ہیں ۔۔۔۔۔وہ سفارتی عسکری اور نفسیاتی ہر محاذ پر ہمیں شکست دے رہا ہے اورہم امن پسند ملک بننے کے شوق میں اپنی لٹیا ڈبو رہے ہیں ۔۔۔۔۔

ہم فرانس امریکہ چین اور نہ جانے کس کس کے در پر ماتھے ٹیک رہے ہیں اور انڈیا جئے ماتا کا نعرہ لگا کر مسلمانوں کی نسل کشی کر رہا ہے ۔۔۔۔ہم اندازے لگانے میں مصروف ہیں کہ انڈیا کیا کیا کر سکتا ہے اور انڈیاسرحد پر بھی حملہ کررہا ہے اور کشمیریوں کو بھی کاٹ رہا ہے ۔۔۔۔۔ہم لوگوں کو بتا رہے ہیں کہ ہم امن پسند ہیں ایٹمی جنگ نہیں چاہتے اور انڈیا کھلم کھلا ایٹم بم کی دھمکیاں دے رہا ہے۔۔۔۔۔۔ ہمارے وزیر خارجہ ابھی تک یہ دیکھنے میں مصروف ہیں کہ کس اسلامی ملک کی انڈیا میں کتنی سرمایہ کاری ہے اور کونسا ملک ہمارا ساتھ دے سکتا اور انڈیا اہم ممالک سے نیگوشیٹ کرک بارہ دن سے کشمیر میں کرفیو لگائے بیٹھا ہے ۔۔۔۔انڈیا کہتا ہے کشمیر بھی لینگے وہاں سے لڑکیاں بھی لینگے اور ہماری غیرت لفظی گولہ باری سے آگے نہیں بڑھتی۔۔۔۔۔ہمارے وزیر اعظم صاحب اینٹ کا جواب پتھر سے دینے کی باتیں کررہے ہیں اور انڈیا جو اینٹ کی جگہ مسلسل سویلین پر گولہ باری کررہا ہے۔۔۔اب جبتک انڈیا اینٹ نہیں پھنکتا ہمارے فوجی اور سویلین اپنی جانیں گنواتے رہینگے۔انڈیا جا جا کشمیر سے نکل جا جیسے گانے گا کر کشمیر آزاد نہیں ہوگا بلکہ اسکے لئے بہادری اور شجاعت کا راستہ اختیار کرنا ہوگا۔۔کشمیر ہمیشہ سے ہمارا تھا مگر ہمارے نااہل حکمرانوں کی ناعاقبت اندیشی نے اسے ہمارا رہنے نہ دیا ۔۔۔۔۔

یہ بھی پڑھیں:   ایک خط - ڈاکٹر صفدر محمود

اب ہماری فوج اور حکمران طبقے کا لب و لہجہ یہی بتا رہا ہے کہ ہم صرف آزاد کشمیر کا دفاع کرینگے اور مقبوضہ کشمیر سے دست بردار ہو جائینگے ۔۔۔قوم کا ذہن بنایا جا رہا ہے کہ ہم مقبوضہ کشمیر سے دستبردار ہو گئے ہیں لیکن آزاد کشمیر کیلئے لڑیں گے۔۔۔۔ اللہ تعالی کشمیری مسلمانوں کی مدد کیلئے کافی ہو افسوس کہ ایٹمی قوت پاکستان اور ڈیڑھ ارب مسلمان اس قابل نہیں کہ اپنے مسلمان بھائیوں پر ہونے والے مظالم کا منہ توڑ جواب دےسکیں۔۔۔

ٹیگز