مسلم قوم پرستی اور کشمیر۔اورنگزیب وٹو

چودہ اگست کو ہندوستانی قوم پرستی ہار گئی اور مسلم قوم پرستی جیت گئی۔کشمیر میں آج بھی مسلم قوم پرستی اپنے تشخص اور بقا کی جنگ لڑ رہی ہے۔ 1947 میں مسلم قوم پرستی کی فتح کی صورت ان لوگوں کو شکست ہوٸ جو پورے ہندوستان کو ایک قوم ثابت کرنے پر مصر تھے۔ان میں بڑے بڑے مسلمان رہنما بھی شامل تھے،ابوالکلام آزاد،عبدالغفار خان ،شیخ عبداللہ، حسین احمد مدنی، حسرت موہانی جیسے مشہور و معروف لوگ ہندوستانی قوم پرستی کے پرچارک تھے۔

ان رہنماٶں نے اس تاریخی و تہذیبی تصادم کو جو محمد بن قاسم کی برصغیر آمد سے شروع ہوا تھا،کو نظر انداز کرتے ہوۓ غیر حقیقت پسندانہ نظریات اور بھاٸی چارے کا ڈھنڈورہ پیٹا۔ان باطل نظریات کو ایک اعتدال پسند مسلمان رہنما محمد علی جناح نے استدلال کے ذریعے، مسلمان عوام لکھاریوں طلبا۶ خواتین دانشوروں کے سامنے رد کرتے ہوۓ انہیں اس بات پر قائل کیا کہ وہ اپنا انسانی ،اخلاقی، جمہوری اور سیاسی حق کو استعمال کریں اور مسلم قوم پرستی کے حق میں اپنے ووٹ کا استعمال کریں۔مسلمان جنہیں بر صغیر میں رہتے ایک ہزار سال سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا تھا،وہ جانتے تھے کہ ایک ایسی ریاست جہاں اکثریت کا غلبہ ہو وہاں دو متحارب اقوام امن و سکون سے نہیں رہ سکتیں۔ایسے ملک میں بحیثیت اقلیت زندگی گزارنے کا خیال بھی سوہان روح تھا۔ دو ایسی اقوام جو زندگی کے بنیادی فلسفے کو لے کر ہی دو مختلف انتہاٶں پر ہوں،ان کے درمیان ہمیشہ تصادم اور کشمکش برپا رہتی ہے۔اور اگر ان اقوام کے درمیان جنگ و جدل کی ایک لمبی تاریخ حاٸل ہو تو یہ کشمکش، نفرت اور دشمنی کی صورت اختیار کر لیتی ہے .۔تاریخ اور اس سے جڑی داستانیں ان اقوام کے اجتماعی شعور پر اس قدر غالب ہو جاتی ہیں کہ مستقل مفاہمت و مصالحت کی کوئی صورت نظر نہیں آتی۔

اس حقیقت کو مد نظر رکھتے ہوۓ اقبال نے برصغیر کے لیے ایک پر امن اور خوشحال مستقبل کی تصویر کشی کی۔اقبال چونکہ تاریخ کے بہاٶ اور تہزیبی ارتقا۶ کا ادراک رکھتے تھے انہوں نے مسلم قوم پرستی کا تصور پیش کیا اور اسی تصور کی بنیاد پر ہی پاکستان معرض وجود میں آیا۔پاکستان کے قیام سے نہ صرف ہندو قوم پرستوں کو شکست ہوٸی اور وہ اکثریت کی بنا پر برصغیر پر حکمرانی کرنے کا خواب پایہ تکمیل تک نہ پہنچا سکے بلکہ ہندوستانی قوم پرست مسلمانوں کو مایوسی اور نفرت کی لا متناہی گہراٸیوں میں دھکیل دیا۔ایسی صورت میں غفار خان جو ہندوستان میں رہنے والی ہزاروں اقوام مزہبی لسانی نسلی گروہوں کو ایک قوم سمجھتے تھے انہوں نے پاکستان آ کر نعرہ بلند کیا کہ پٹھان بلوچ سندھی بنگالی پنجابی کشمیری سب الگ الگ قومیں ہیں۔غفار خان جنہیں سرحدی گاندھی کہا جاتا تھا انہوں نے مسلم قوم پرستی کے ہاتھوں ہونے والی شکست کے بعد پاکستان سے بدلہ لینے کی ٹھانی اور علیحدگی پسند تحریک کی بنیاد رکھی۔ادھر ابوالکلام آزاد کو اپنی بقا۶ کی فکر لاحق تھی،ان کا غم بھی وہی تھا جو غفار خان کا تھا۔وہ بھی مسلم قوم پرستی کی فتح کے بعد زخم چاٹ رہے تھے۔

یہ بھی پڑھیں:   زندہ قومیں - سعدیہ رضوی

اسی تاریخی لمحے ان کی ملاقات پنڈٹ نہرو سے ہوٸی جن کے آباٶ اجداد کا تعلق کشمیر سے تھا۔پنڈٹ نہرو کو ہندوستان اور اس کے تہزیب و تمدن سے بڑا پیار تھا۔وہ بھارت کو ایک سیکولر سوشلسٹ ملک بنانا چاہتے تھے جو بہت ساری اقوام کا گھر ہو۔انہیں جناح سے شاید اس لیے سب سے زیادہ نفرت تھی کہ اس نے نہ صرف نہرو کے مہان بھارت کے ٹکرے کیے تھے بلکہ ہندوستانی قوم پرستی کے اس نظریے کو شکست دی تھی جس کا پرچار کرنے میں نہ صرف ان کی بلکہ ان کے والد موتی لال نہرو کی بھی زندگی گزری تھی۔ہندوستانی قوم پرستی کا یہ معمار ایک اور شکست خوردہ انسان کا ہم راز تھا جس کا نام شیخ محمد عبداللہ تھا۔شیخ محمد عبداللہ کے خیالات بھی قوم پرستی سے عبارت تھے اور وہ جناح صاحب کے دلاٸل کو کمزور جانتے تھے۔شیخ عبداللہ اپنی شہرہ آفاق سوانح عمری ”آتش چنار“ میں لکھتے ہیں کہ کانگریس نے جناح جیسے بڑے آدمی کو اس کا مقام نہ دیا اور ہندوستانی قوم پرستی جناح کے غصے اور انتقام کی نظر ہو گٸی۔اس تاریخی موقع پر جب پورا ہندوستان فسادات کی لپیٹ میں تھا اور سردار پٹیل اپنی نگرانی میں تشدد کروا رہے تھے،پنڈٹ نہرو،آزاد اور شیخ عبداللہ کی تکون قائم ہوئی۔اس شکست خوردہ اتحاد کو کشمیر کی صورت ایک ایسا موقع نظر آیا جہاں وہ اپنی شکست کا کسی حد تک مداوا کر سکتے تھے۔

کشمیر کے راجہ کو گھیر کر اس سے الحاق کا اعلان کرا دیا گیا اور کشمیر میں فوج داخل کر دی گئی۔اس الحاق کے بعد نہرو کا احساس شکست کچھ قدر کم ہو گیا اور انہوں نے کشمیر کی مثال کو ہندوستانی قوم پرستی کی فتح سے تعبیر کیا اور اپنے سیکولر بھارت پر فخر کرنے لگے۔آزاد اپنے ساتھ رہ جانے والے مسلمانوں کو دلاسا دینے کےلیے کشمیر کا نام لیتے اور بھارت کے ساتھ اپنی وفاداری ثابت کرتے رہے۔شیخ عبداللہ جموں و کشمیر کے صدر ریاست اور وزیراعظم کے عہدوں پر براجمان ہو گٸے اور کشمیر کو سیکولر بھارت کی علامت قرار دینے لگے۔اس کے بعد ایک تاریخ ہے جو گزشتہ ایک ہزار سال سے بالکل بھی مختلف اور غیر متوقع نہیں ہے۔یہی وہ تہزیبوں کا تصادم ہے جو ابن قاسم اور راجہ داہر،غوری اور پرتھوی راج،اورنگزیب اور سیوا جی،جناح اور گاندھی،پاکستان اور ہندوستان کو ایک دوسرے کے سامنے لے آتا ہے۔کشمیر میں مسلم اور ہندو تہزیب کا ٹکراٶ 1947,1965,1971,1998کی جنگوں کی صورت ہو چکا ہے۔گزشتہ 72 سالوں میں ہر دن بھارت کشمیر کو اٹوٹ انگ بنانے پر مصر ہے جبکہ کشمیری کسی صورت اپنی شناخت کی جنگ ہارنے کو تیار نہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   کشمیر کے حوالے سے اپنے الفاظ واپس نہیں لوں گا، مہاتیر محمد

آج ایک بار پھر چودہ اگست لوٹ کر آیا ہے اور تاریخ ہمیں دوبارہ اس مقام پر لے آئی ہے جہاں مسلم قوم پرستی ہندوستانی قوم پرستی کے سامنے کھڑی ہے۔کشمیر بھارت میں سیکولرازم کی علامت تو نہ بن سکا مگر مسلم قوم پرستی کا علمبردار ضرور بن گیا۔کشمیریوں کو کونسا خیال کونسا نظریہ کونسا احساس ہندوستان کا حصہ بن جانے میں مانع ہے؟کیا کوٸی جغرافیاٸی سرحد یا کوٸی معاشی نقصان،نہیں۔کشمیری اس مسلم قوم پرستی کی جنگ لڑ رہے ہیں جس کا بیج ایک کشمیری النسل محمد اقبال نے بویا تھا۔کشمیری ہندوستان کی دوسری ہزاروں اقوام کے رنگوں میں کبھی بھی مدغم نہیں ہو سکتے اور اس کا ثبوت پچھلے 72 سال کی جدوجہد ہے۔کشمیریوں کے ہاتھوں میں آج اس نظریے اس تشخص اس احساس اس حقیقت کی قیادت ہے جو 1947میں محمد علی جناح کے ہاتھوں میں تھی۔کشمیری یقیناً اپنے آپ کو اور پوری دنیا کو یہ باور کروانے میں کامیاب ہو چکے ہیں کہ معاشی سیاسی اور فوجی طاقت کے ذریعے ان دو اقوام جو کہ مسلمان اور ہندو ہیں،ایک نہیں کیا جا سکتا۔تاریخ یہی ہے کہ ان کے درمیان رشتہ غالب اور مغلوب کا ہے۔مسلم قوم پرستی کی بقاء کی یہ جنگ جاری ہے اور جب تک اقوام عالم اور ہندوستان اس جدوجہد کی اساس کا ادراک نہیں کر لیتے،کشمکش جاری رہے گی۔