قصوروار کون ؟؟؟ شہزاد حسین

کل کراچی کے ایک انتہائی پوش علاقے، بہادرآباد میں ایک لرزہ خیز واقعہ رونما ہوا جہاں ایک کم سن لڑکے کو چوری یا چھینا جھپٹی کے دوران پکڑ کر یرغمال بنالیا گیا۔
اس لڑکے سے نہ صرف مکمل تفتیش کی گئی (نہ جانے کس واسطے) بلکہ اس کی وڈیو بھی ریکارڈ کی گئی۔ "تفتیش" کے بعد، موقع پر موجود "فاضل عدالت" نے اسے سزائے موت سناتے ہوئے اتنا زد و کوب کیا کہ وہ دھان پان سا لڑکا سخت تشدد کی تاب نہ لاکر جاں بحق ہوگیا۔۔۔

اس حیوانیت پر پولیس حرکت میں آئی اور دو قاتلوں کو گرفتار کرلیا گیا۔ دونوں قاتل شکل و صورت سے پڑھے لکھے اور اچھے خاندانوں کے چشم و چراغ لگ رہے تھے جو اس تمام قضئیے کا ایک اور افسوسناک پہلو ہے۔اب ان قاتلوں کو صرف اپنے مال کی فکر تھی، اپنے نقصان کا غصہ تھا، دوسرا جائے بھاڑ میں۔ اسی لیے انھوں نے بے دردی سے قتل کرڈالا۔ یہ شعور کی انتہائی گراوٹ ہے۔ اب اس کا قیمت وہ خود پر کٹنے والی قتل کی ایف آئی آر کروا کر بھگتیں گے
یہ تو ہوا تصویر کا ایک پہلو - اب دوسری جہت پر آئیے ...
مقتول لڑکے کے والدین، جن پر کم سن اولاد کی موت کی قیامت ٹوٹ پڑی، انھوں نے روتے ہوئے فریاد کی کہ اگر ان کے بیٹے نے چوری کی تھی تو پولیس کے حوالے کرنا چاہئیے تھا۔۔۔وہ صحیح کہہ رہے ہیں۔۔۔ لیکن ، پندرہ سولہ سال کا ایک لڑکا، جو سارا دن باہر گھومتا پھرتا ہے، رات بھر بیٹھک کرتا ہے، چوری چکاریوں میں ملوث ہے اور یقیناً اسکے پاس پیسے بھی موجود رہتے ہوں گے،اس کی ان تمام ایکٹیویٹی کی اسکے گھر والوں کو کوئی خبر نہ ہوگی؟ واضح امکان ہے کہ گھر والے اس بات سے بخوبی آگاہ ہوں گے ..پر، شعور نہ ہونے کی بناء پر وہ کندھے اچکا کر سوچتے ہوں گے کہ ہمارا کیا جاتا ہے۔ بچہ چار پیسے گھر لارہا ہے تو خیر ہے۔ کوئی لٹتا ہے، برباد ہوتا ہے یا کل کلاں کو قتل بھی ہوجاتا ہے تو ہوجائے، جب تک ہماری دال روٹی چل رہی ہے، تب تک خیر ہے۔

شعور کی اس انتہا کی گراوٹ کا نتیجہ جوان اولاد کی دردناک موت کی صورت میں نکلا۔ کاش کے وہ وقت پر اسے روک لیتے۔۔۔
یہ ایک واقعہ نہیں۔ ایسے کتنے ریحان اس شہر میں پنپ رہے ہیں۔ ایسے کتنے ہی والدین ہیں جو سب جانتے بوجھتے بھی، صرف چند ٹکوں کی خاطر اپنے بچوں کے جرائم کی نہ صرف پردہ پوشی کررہے ہیں بلکہ انھیں حوصلہ بھی دے رہے ہیں۔ کچھ عرصے پہلے ایسا ہی ایک کیس اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھ چکا ہوں جہاں دو کم سن لڑکے گاڑیوں کے پارٹس چوری کرنے کے الزام میں تھانے میں بند تھے، انکے باپ پر بھتے کی کالیں کرنے کا الزام تھا اور وہ تھانے میں معافی مانگ رہا تھا کہ غلطی ہوگئی آئندہ میں اور بچے خیال رکھیں گے۔۔۔آپکو کیا لگتا ہے کہ ایسے عناصر واقعی آئندہ خیال رکھیں گے؟ کچی بستیوں اور پرانے اپارٹمنٹس میں جرائم پیشہ لڑکے ایسے پنپ رہے ہیں جیسے گندے جوہڑ میں مچھر اور اس عمل کی catalyst ہے غربت اور تعلیم کی کمی..
اب آتے ہیں تیسری جہت پر ...وہ ہے پولیس۔۔۔کہا جارہا ہے کہ پولیس کے حوالے کیا جاتا۔ اس حوالے سے سی ایم صاحب بھی کافی متحرک ہیں ..
میرا آپ سے سوال ہے کہ پولیس کے حوالے کردینے سے کیا ہوتا؟ وہ بچہ جرائم سے تائب ہوجاتا؟
ابھی دو مہینے پہلے کی بات ہے کہ میری یونیورسٹی کے ایک سینئیر پروفیسر کی ادھیڑ عمر والدہ کسی کام سے کار میں جارہی تھیں۔ اچانک بائک پر سوار دو لڑکوں نے انھیں روکا اور پرس چھیننے کی کوشش کی۔ خاتون نے آگے سے مزاحمت کی تو آنا فانا ان خاتون کے سر پر گولیاں مار کر انھیں آن دی اسپاٹ ہلاک کردیا گیا

یہ تو ایک کہانی ہے، ایسی ہزاروں کہانیاں آپ بھی سن چکے، دیکھ چکے ہوں گے میں پوچھتا ہوں کہ کیا وجہ ہے کہ دنیا کو ایک استاد، ایک زبردست شہری دینے والی ماں، سڑک پر اس درندگی سے قتل ہوجانے کے باوجود خبر نہ بنی؟ ایک بیٹے سے اسکی جنت چند ہزار روپے کی خاطر چھین لی گئی لیکن اسکے آنسو کسی چینل نے نہ دکھائے؟ آپ جتنے بھی ڈکیت، ٹارگٹ کلرز اور روڈ اسنیچرز کی ہسٹری پڑھئیے، سب کے سب کیرئیر کا آغاز چوری چکاری سے ہی کرتے ہیں۔ ہمت ملتی ہے، گھر سے آنکھیں بند کی جاتیں ہیں بلکہ اکثر و بیشتر کیسز میں حوصلہ افزائی کی جاتی ہے، پیسہ منہ کو لگتا ہے تو یہ سب بڑھتے بڑھتے آخرکار قاتل بن جاتے ہیں جو چند پیسوں کی خاطر کسی کی بھی جان لینے سے ایک لمحے نہیں چوکتے۔اس گھٹیا و تعفن زدہ معاشرے نے پولیس بھی ایسی دی ہے جو جرم کو مائنس کرنے کی بجائے مسلسل multiply کررہی ہے۔ ہر انسان اچھی طرح جانتا ہے کہ کوئی چور تھانے میں جائے گا تو وہاں سے ڈکیت بن کر نکلے گا اس حوالے سے نہ کوئی قانون سازی ہے، نہ ہی کوئی عملی ریفارمز اگر آپ کسی جرم، چوری یا ڈکیتی میں گرفتار ہو بھی جائیں تو پچاس ہزار سے لے کر پانچ لاکھ روپے میں معاملہ طے کرلیجیے اور آئندہ کی وارداتوں میں پولیس کا percentage سیٹ کرلیجیے، آپ کی باآسانی خلاصی ہوجائے گی۔

یہی وجہ ہے کہ کوئی بھی ڈکیت پکڑے جانے کے بعد پولیس موبائل کا منتظر ہوتا ہے۔ اب، مسئلہ یہ ہے کہ عوام بھی اس بات کو اچھی طرح سمجھ چکی ہے لہذا اس نے سڑک پر ہی عدالت لگانا شروع کردی ہیں۔ ایسے کئی واقعات آپ دیکھ اور سن چکے ہوں گے . اس طویل پوسٹ کا مقصد آپ کو معاشرے کے اس بھیانک بگاڑ کی طرف متوجہ کرنا تھا جو ہماری جڑوں میں سرایت کرچکا ہے . اس میں ہم سب کا حصہ ہے .ریحان کے قتل میں اہم کردار اسکے والدین کا تھا جو چند پیسوں کی خاطر اسے آگ میں جھونکتے رہے . ریحان کا قتل میں ملوث وہ دو قاتل ہیں جنھوں نے اپنا غصہ اور فرسٹریشن ایک کمزور اور بے بس لڑکے پر نکالی اور سفاکی کی تمام حدیں پار کرتے ہوئے خود پر نہ صرف دنیا بلکہ آخرت بھی تنگ کرڈالی ریحان کی قاتل وہ پولیس اور وہ حکمران ہیں جنھوں نے اس معاشرے میں عدل، انصاف اور امن قائم کرنے میں صرف اس وجہ سے دلچسپی نہیں لی کہ ان کے زاتی مفادات پر ضرب پڑتی ہے .ریحان کا سب سے بڑا قاتل یہ معاشرہ ہے جو شعور سے نفرت کی بناء پر اپنا ہی وجود قابلِ نفرت بناتا جارہا ہے پر اسے اس بات کا اب تک احساس ہی نہیں۔۔۔۔!!!!

.