کس سے منصفی چاہیں؟ برہم مروت

3ایک ماں ہم سب سے رو رو کر فریاد کر رہی ہیں کہ خدارا مجھے انصاف دلانے کیلئے میرا ساتھ دیں میرا چار سالہ معصوم بیٹا اویس تو واپس نہیں آ سکتا کیونکہ ظالموں نے ایک مہینہ جی ہاں پورا ایک مہینہ میرا لختِ جگر مجھ سے دور رکھا نجانے ان کے ساتھ ان ظالموں نے کیا کیا ہوگا وہ کیسا رویا ہوگا تڑپا ہوگا مجھے پکارا ہوگا بابا بابا کے نعرے مارے ہوں گے یا شاید اس کا منہ بند ہوگا اور دل ہی دل میں گھٹن میں یہ سب کیا ہوگا لیکن اگر آج مجھے انصاف نہیں ملا ظالموں کو قرار واقعی سزا نہیں ملی تو کل اللّٰہ نہ کرے اویس کی جگہ آپ کا بیٹا یا بیٹی بھی ہو سکتے ہیں۔

لکی مروت کے گاؤں گَنڈی خان خیل میں اویس نامی چار سالہ بچہ اپنے گھر کے سامنے سے اغواء ہوتا ہے پہلے ایف آئی آر درج کی گئی لیکن جب پولیس کی جانب سے تسلی بخش اقدامات نہیں کئے گئے تو ہفتے بعد پورا گاؤں احتجاج کیلئے نکل آیا پولیس نے جب جلد از جلد اویس کو ڈھونڈ نکالنے اور مجرمین کو پکڑنے کی یاددہانی کرائی تو احتجاج ختم ہوا اسی غم میں اویس کے گھر والوں نے عید گزاری خود اندازہ لگائیں ایک جیتا جاگتا بچہ جب گھر سے غائب ہو اس کی ماں کی عید کیا عید ہو سکتی ہے؟

مہینہ گزر گیا لیکن پولیس بدستور روایتی غفلت کا مظاہرہ کرتی رہی کہ اویس کی تعفن زدہ لاش گھر کے قریبی کھیت سے بوری سے برآمد ہوئی اویس کی ماں تو جیتے جی مر گئی گاؤں میں کہرام مچ گیا۔

ہم کتنے سفاک معاشرے میں رہتے ہیں جہاں بچوں کو بھی درندگی کا نشانہ بنا دیا جاتا ہے کیا زینب، کیا فرشتہ اور ابھی کل کراچی میں ایک بچے کو قتل کرنے سے لیکر اویس تک ہر واقعے میں سنگدلی اور سفاکیت کے مظاہر ہی نظر آئے ہیں۔

آج اویس کی ماں چھلنی دل اور خشک حلق کیساتھ سراپا احتجاج ہے پورا گاؤں بغیر مرد و عورت، بچے و بوڑھے کے تمیز کے اس احتجاج میں شریک ہیں پشاور کراچی انڈس ہائی وے کو احتجاجاً بند کیا ہوا ہے لیکن ابھی تک کوئی حکومتی اہلکار، ضلعی انتظامیہ اور پولیس نے ان سے رابطہ تک گوارا نہیں کیا پولیس آئی ہے لیکن دور کھڑے ہو کر تماشا دیکھ رہی ہے جب کہ اسی احتجاج کے مقام کے ساتھ جو پولیس چوکی ہے وہ بھی خالی کر چکی ہے۔

آخر ہم عوام جائیں تو کس کے پاس؟ کس سے منصفی چاہیں؟ میری آپ تمام احباب سے گزارش ہے کہ اس بد نصیب ماں کو انصاف دلانے کےلیے ہمارا ساتھ دیں بالکل ویسا ہی جیسے زینب کے لیے ایک ہوئے تھے۔ اس احتجاجی تحریر کو اپنے اپنے وال پر، گروپس میں، واٹس ایپ پر لگا کر حکامِ بالا تک پہنچائیں اور اس دکھیاری ماں کے زخم پر مرہم رکھنے کیلئے اپنی استطاعت کے مطابق احتجاج میں حصہ لیں۔