اسلامی دنیا ،نیم دروں نیم بروں- عا رف نظا می

بھارتی آئین کے آرٹیکل 370کی تنسیخ کے بعد مقبوضہ کشمیر میں لاک ڈاؤن کو 14روز گزر چکے ہیں ۔ آٹھ لاکھ کے قریب فوج غاصبانہ بھارتی اقدامات کے خلاف کشمیریوں کی آواز دبانے کے لیے فسطائی ہتھکنڈے استعمال کر رہی ہے ۔مسلسل کرفیو کے باعث پورا مقبوضہ کشمیر جیل خانے میں تبدیل ہو چکا ہے ۔آزادی کا پیدائشی حق مانگنے والوں کو شیلنگ، تشدد اور پیلٹ گنوں کے ذریعے معذور کیا جا رہا ہے ۔محاصرے کے باعث لوگ خوراک اور ادویات کی قلت کا شکار ہو رہے ہیں۔ مقبوضہ کشمیر کا دورہ کرنے والے سول سوسائٹی کے نمائندوں کا کہنا ہے کہ فوجی گھروں سے لڑکیوں کو اغوا کر کے لے جا رہے ہیں وہاں جان محفوظ ہے نہ عزت ۔حریت کانفرنس کی لیڈر شپ سمیت قریبا ہر کشمیری سیاستدان بھی محبوس ہے حتیٰ کہ بھارت کے ایک معروف بیوروکریٹ شاہ فیصل جواب سیاستدان بن چکے ہیںجموں کشمیر پیپلزموومنٹ کے بانی ہیںانھیں نئی دلی ائیر پورٹ پر اس وقت روک لیا گیا جب وہ استنبول جا رہے تھے، انھیں گرفتار کر کے واپس کشمیر لے جا کر محبوس کر دیا گیا ۔شاہ فیصل پہلے کشمیری نوجوان تھے جنہوں نے 2009 ء میں سول سروس کے مشکل ترین امتحان میں ٹاپ کرنے کا اعزاز حاصل کیا لیکن اسی برس جنوری میں بھارتی مظالم کے خلاف سول سروس سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ نریندر مودی کا بھارت کے یوم آزادی کے موقع پرجو پاکستان میں یوم سیاہ کے طور پر منایا گیا، لال قلعے میں اپنے روایتی خطاب میں یہ دعویٰ کرنا کہ ان کا کشمیر کی بچی کھچی خود مختاری ختم کرنے کا فیصلہ تاریخی طور پر ایک نئی جہت ثابت ہو گا۔ ان کے مطابق سات دہائیوں تک کشمیرکے بارے میں ناکام پالیسی کے بعد انھوں نے درست سمت متعین کی ہے۔کشمیریوں پر بے پناہ مظالم ڈھانے کے بعد اب وہ یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ انھوں نے تو بیک جنبش قلم کشمیرکا مسئلہ حل کر دیا ہے ۔اگر ایسا ہوتا تو آرٹیکل 370کی تنسیخ کے بعد کشمیری عوام کو زندہ باد کے ڈونگرے برسانے چاہئیں تھے کہ ہم آزاد ہو گئے ہیں لیکن یہاں تو عملی طور پر الٹی گنگا بہہ رہی ہے ۔ اس ظلم پر پاکستان میں ارتعاش پیدا ہونا فطری تھا، ہم نے کشمیر کی آزادی کے لیے بڑی قربانیاں دی ہیں ، تین جنگیں لڑی ہیں ۔

لیکن اب تو ساری دنیا میں ہاہا کار کیوں مچی ہوئی ہے ۔ مغربی میڈیا کو ہی لیں وہاں تو شاذ ہی کشمیر کا نام شائع یا نشر ہوتا تھا اور اگر ہوتا بھی تھا تو اس حوالے سے کہ وہاں دہشت گردی ہو رہی ہے لیکن اب نیویارک ٹائمز جیسے موقراخبار بھی قریباً ہر روز کشمیر کی اندرونی صورتحال پر تفصیلی رپورٹس شائع کر رہے ہیں ،یہی حال واشنگٹن پوسٹ اور گارڈین جیسے اخبارات کا ہے ۔ واشنگٹن پوسٹ نے امریکہ میں پاکستانی سفیر اسد مجید خان کا مسئلہ کشمیر کے حوالے سے مضمون ہمیشہ شائع کیا ہے ۔ نیو یارک ٹائمز میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق مقبوضہ کشمیر کے صحافی انٹرنیٹ ،وائی فائی اوردوسری سہولتوں پر پابندیوں کی بنا پر پنسل کاغذ کے سہارے اپنی رپورٹس لکھ رہے ہیں اور خود موٹر سائیکلوں پر کاپیاں پریس لے کر جاتے ہیں اور کرفیو کی پابندیوں کے باعث گھروں میں جانے کے بجائے دفاتر میں ہی سونے پر مجبور ہیں۔یہ آزادی صحافت کے مقدس مشن کی آبیاری اور اپنے قارئین کو باخبر رکھنے کی بہترین مثال ہے ۔ اسے بین الاقوامی اور پاکستانی صحافتی تنظیموں کو سراہنا چاہیے اور وہ عناصر جو پاکستان میں صحافت کو زیر کرنے کے منصوبے پر عمل پیرا ہیں کو بھی یہ بات ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا ۔ اقوام متحد ہ میں پاکستان کی مستقل مندوب ڈاکٹر ملیحہ لودھی بھی میڈیا اوراقوام متحدہ کے ایوانوں میں خاصی فعال ہیں اور انھیں ہونا بھی چاہیے کیونکہ یہ اب معاملہ سکیورٹی کونسل میں پیش ہو چکا ہے ۔یہ انتہائی افسوسناک عمل ہے کہ ان کی نیو یارک میں پریس کانفرنس میں ایک گھس بیٹھئے نے صحافی کا روپ دھار کر بدتمیزی کرنے کی کوشش کی ۔ان کے خلاف سوشل میڈیا پر بھی بے پناہ پراپیگنڈا کیا جا رہا ہے۔

ٹائمنگ سے صاف ظاہر ہے کہ یہ کون کروا رہا ہے۔ وزیراعظم عمران خان کا آزاد کشمیر کی قانون ساز اسمبلی سے خطاب خاصا جرات مندانہ تھا، انھوں نے مودی کوہٹلر سے تشبیہ دی اور درست طور پر کف افسوس ملا کہ دنیا مقبوضہ کشمیر میں مسلمانوں کی نسل کشی پر خاموش کیوں ہے؟۔ اس ضمن میں انھوں نے مسلم دنیا کا خاص طور پر ذکر کیا ۔ خان صاحب نے مقبوضہ کشمیر کے حالات کو بوسنیا کے مسلمانوں کی نسل کشی سے تشبیہ دی اور کہا کیا اس وقت دنیا خاموش رہی ؟۔ وزیراعظم نے درست نشان دہی کی کہ بھارتی اقدامات کے مسلم دنیا پر بھی منفی اثرات مرتب ہو نگے اور انتہا پسندی کی نئی لہر جنم لے گی۔ خان صاحب کا خد شہ بے جا نہیں ہے کیونکہ داعش ،القاعدہ اور اس قسم کی دیگر تنظیمیں مقبوضہ کشمیر کو اپنی بیس بنا سکتی ہیں بالکل اسی طر ح جیسے کہ افغانستان میں سابق سوویت یونین کی فوج کشی کے نتائج سے دنیا آج تک نبرد آزما نہیں ہو پائی ۔ عیدکے روز وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بھی اسلامی دنیا اور سکیورٹی کونسل میں ویٹو کے خدشات کے حوالے سے حقیقت پسندانہ تصویر پیش کی۔ بات تو اصولی طور پر درست ہے لیکن ایسی باتیں کابینہ کے اجلاس اورپارلیمنٹ میں کرنی چاہئیں ۔ وزیر خارجہ کا کام ہے کہ وہ بولے کم اورسفارت کاری پر توجہ زیادہ دے ۔قریشی صاحب ایک دور میں پیپلزپارٹی میں تھے ۔آصف علی زرداری کے دور میں وزارت خارجہ کا قلمدان ان کے پاس تھا۔ انھیں ذوالفقار علی بھٹو کی خارجہ حکمت عملی کو آ گے بڑھانے کی مثال کو سامنے رکھنا چاہیے جس وقت پاکستان دولخت ہو گیا اور اس کے 90ہزار فوجی بھارت کی قید میں تھے اور کچھ علاقہ بھارت کے قبضے میں تھا تو1972ء میں بھٹو صاحب نے اندرا گاندھی سے مذاکرات کے لیے شملہ کے لیے رخت سفر باندھا ان کی صاحبزادی بے نظیر بھٹو ان کے ہمراہ تھیں، یہ مذاکرات ایک فاتح اور مفتوح کے درمیان تھے ۔ مجھے یاد ہے انھوں نے نہ صرف اپوزیشن کوا عتماد میں لیا بلکہ روانگی سے قبل کسی مایوسی کا اظہا ر نہیں کیا تھا بلکہ عوام سے صرف یہ کہا کہ میں پاکستان کے مفادات پر سودے بازی نہیں کروں گا ۔

انھیں خوب معلوم تھا کہ بھارت 90 ہزار قیدی کب تک رکھے گا۔انھوں نے اندرا گاندھی سے کہا محترمہ آپ مغربی پاکستان میں ہماری جگہ خالی کر دیں۔شملہ معاہدے میں کشمیر کو بھی تنازع تسلیم کیا گیا ۔اگرچہ بھارت نے اس کے بعد یہ بھونڈا استدلال اختیار کیا کہ شملہ معاہدے کے بعد اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل سمیت اب کوئی بین الاقوامی ثالثی نہیں ہو سکتی صرف دو طرفہ بات چیت ہو سکتی ہے لیکن پاکستان نے آج تک اس بھارتی موقف کو کبھی تسلیم نہیں کیا ۔سقوط ڈھاکہ کے بعد کشمیر کی حالیہ صورتحال سے ہمیںسب سے بڑے بحران کا سامنا ہے لیکن اس کے باوجود موجودہ حکومت اپوزیشن کو آن بورڈ لینے پرقطعاً تیار نہیں اور معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر احتساب کے نام پر انتقام کے مشن پر بھرپور طریقے سے گامزن ہیں۔ہونا تو یہ چاہیے کہ اس معاملے میں اپوزیشن کو آن بورڈ لیا جائے اور شاہ محمود قریشی تقریروں کے بجائے اپنا کام کریں ۔یقینا اسلامی کانفرنس کی تنظیم کے رکن ممالک تو باہمی منافقت، پیٹروڈالروں کی سرمایہ کاری پر زیادہ توجہ دے رہے ہیں ۔حال ہی میں بھارت کے سب سے امیر صنعت کار مکیش امبانی نے اعلان کیا کہ سعودی عرب کی کمپنی آرامکو ان کے گروپ کے ساتھ مل کر 75ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کر رہی ہے ۔ یقینا اسلامی دنیا کے اکثر ممالک اپنی حفاظت کے بھی قابل نہیں اور امریکہ کی گود میں بیٹھے ہیں لہٰذا ان سے زبانی جمع خرچ کی بھی توقع عبث ہے ۔ ویسے بھی ہمارے عرب بھائیوں نے اپنے پچھواڑے میں اپنے فلسطینی بھائیوں کیلئے کیا کیا ہے؟جو وہ کشمیر کے غم میں دبلے ہونگے۔ان میں سے بعض کے اسرائیل سے اب قریبی تعلقات ہیں۔