کشمیر ہماری شہ رگ - ناہید خان

گزشتہ کئی روز سے مقبوضہ کشمیر سے بڑی لرزہ خیز خبریں آ رہی ہیں سوشل میڈیا پر خون آلود کٹی پھٹی لاشیں خواتین کی بے حرمتی کہ قصے گردش میں ہیں جنہیں دیکھ کر ہر پاکستانی شہری کی روح کانپ گئی ہے وادی میں آنے والے وقت سے ہراساں کشمیری عوام بری طرح خوفزدہ ہیں کیونکہ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق وادی میں کئی روز سے کرفیو نافذ ہے.

تمام زمینی وہ دیگر رابطے منقطع ہیں اور یہ صورتحال کب تک رہے گی تادمِ تحریر کسی کو معلوم نہیں اور اب تک کے حقائق ہمیں یہ باور کروا رہے ہیں کہ کشمیر میں پہلے سے موجود سات لاکھ فوج کے علاوہ مزید فوج بلاناکسی بڑے سانحے کا پیش خیمہ ہے۔مصدقہ اطلاعات یہ ہیں کہ موجودہ کرفیو کا دورانیہ اتنا بڑھایا جائے گا کے کشمیر میں محصور عوام اناج اور پانی کی ایک ایک بوند کو ترس جائیں بھوک و پیاس سے اتنے ادھ موے ہوجائیں کہ پھر ا نھیں قتل کرنا کشمیری بہنوں کی عزتیں پامال کرنا آسان ہوجائے انہیں اتنا زدوکوب کیا جائے کہ ان کی مزاحمت دم توڑ جائے اور بھارت اپنے دیرینہ ناپاک عزائم میں کامیاب ہوجائے ۔آرٹیکل 370 کو منسوخ کرنا اسی گھناؤنی سازش کی ایک کڑی ہے جس کے تحت کشمیری اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کرکے ان کی حمیت خود ارادیت کو ختم کیا جائے ۔سوچنے کی بات یہ ہے کہ بھارت کشمیر میں یہ ننگا ناچ اپنی طاقت کے بل بوتے پر نہیں کر رہا اور یہ فیصلہ بھی فوری طور پر نہیں کیا گیا بلکہ اس کے پیچھے تمام سپرپاورز اور کئی خلیجی ممالک شامل ہیں اور کچھ ہمارے ملک کے میر صادق اور میر جعفر بھی اس میں شریک ہیں۔

ان تمام حقائق کو جاننے کے بعد ہماری حکومت کا یہ رویہ کہ وہ انصاف کے لیے عالمی عدالت سے رجوع کریں گے ایک مضحکہ خیز اور حکومت کی سنجیدگی پر ایک سوالیہ نشان ہے یا پھر پس پردہ کہانی کچھ اور ہے کیونکہ سلامتی کونسل یا اقوام متحدہ سے انصاف ملنے کی امید ہوتی تو یہ مسئلہ کب کا حل ہو چکا ہوتا مودی حکومت نےحالیہ اقدام کرکے اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل کی کھلم کھلا خلاف ورزی کی ہے اور مزے کی بات یہ کہ ثالثی کرنے والے ٹرمپ اور اقوام متحدہ سمیت تمام عالمی چوہدری اپنی اس بےعزتی پر خاموش ہیں ہم جو عالمی عدالت تک جانے کی تیاری کر رہے ہیں کیا یہ بھول گئے ہیں کہ بھارت اب تک شملہ معاہدہ سمیت دیگر کئی قرارداتوں کو ہوا میں اڑا چکا ہے اور شاید ہم اتنے سیدھے اور بھولے ہیں کہ ہمیں اتنا اندازہ نہیں کہ کشمیر میں اس وقت اگر یہودی یا عیسائی مر رہے ہوتے تو اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی تمام تنظیمیں جاگ چکی ہوتی اس کی روشن مثال مشرقی تیمور ً مغربی سوڈان یوگوسلاویہ کی ریاستوں کا آزاد ہونا ہے ۔ ایک طرف ہماری یہ ڈر و خوف والی کیفیت اور دوسری طرف انڈیا کی ایسی بے خوفی کے اسے کچھ کرنے کے لیے کسی کی اجازت کی ضرورت نہیں پڑتی .

یہ بھی پڑھیں:   واضح کرو کہ اصلی ہو یا نسلی -حبیب الرحمن

یہاں یہ بات کہنے کا مقصد ہرگز یہ نہیں کہ بھارت کو ایک نڈر قوم ثابت کیا جائے ایسا ہرگز نہیں کیونکہ گائے کا پیشاب پینے والی قوم اتنی نڈر اور بے خوف کبھی نہیں ہو سکتی بلکہ حقیقت کچھ یوں ہے کہ بھارت جانتا ہے کہ پاکستان کے دیرینہ دوست چین کی بھارت سے تجارت تقریبا 90 بلین ڈالر تک پہنچ چکی ہے اور ایک چین پر ہی کیا موقوف دیگر تقریبا تمام مسلم ممالک کو بھی اپنا مفاد عزیز تر ہے اور اس وقت پاکستان کی معاشی حالت سب کے سامنے ہے جسے اس وقت ہندو بنیے نے کیش کرلیا ہے اگر اس وقت ہم نے ایک موثر حکمت عملی نا اپنائی یا مصلحتاً خاموشی اختیار کی تو بھارت کا اگلا قدم گلگت بلتستان پھر آزاد کشمیر ہوگا کیوں کے خطےمیں اجارہ داری کا تاج بھارت اپنے سر پر سجانا چاہتا ہے۔یہاں اس وقت ان تمام حالات و واقعات کو دہرانے کا مقصد یہ نہیں کہ ہم اپنے دلوں میں خوف ہراس اور نا امیدی کو اپنے دل میں ثبت کر لیں نا یہ کہ خود کو حالات کے رحم وکرم پر چھوڑ دیں بلکہ ہم جو دن رات نعرے لگاتے ہیں کہ ہم زندہ قوم ہیں اس کا عملی ثبوت دیں کیونکہ ہم ہی وہ قوم ہیں جو اپنے اسلاف کی بدولت یہود و ہنود کے دل میں خوف بن کر بیٹھ گئی ہے بے شک حالات ابھی ہمارے حق میں موافق نہیں مگر ناممکن بھی نہیں بس ذرا ہمت پکڑنے کی دیر ہے لا الہٰ الللہ سے جڑنے کی دیر ہے ہم یہ بھی نہیں کہہ رہے کہ فورا جنگ مسلط کردی جائے .

مگر ہمارا مطالبہ حکومت سے یہ ہے کہ آپ کی جو بھی حکمت عملی ہے وہ کشمیریوں کے دل کی آواز ہونی چاہیے عالمی عدالت ضرور جائیں مگر یہ بھی دھیان میں رہے کہ جو خود پاکستان سے ازل سے ڈومور ڈومور کا مطالبہ کرتا آیا ہو وہ ہمیں انصاف کیا دیے گا دنیا میں امت مسلمہ کب سے سسک رہی ہے کہیں فلسطین کہیں شام کبھی روہنگیا تو کبھی دوسری مسلم ریاست جہاں صرف مسلمانوں کا خون سستا ہے اس کی سب سے بڑی وجہ ہمارا ضرورت سے زیادہ مصلحت پسندانہ رویہ ہے ۔پاکستان اسلام کا قلعہ ہے تمام کشمیریوں کے ساتھ دنیا بھر کے مظلوم مسلمانوں کی نظریں اس وقت پاکستان پر ہے آپ کے ساتھ اس وقت دنیا کی صف اول کی فوج کھڑی ہے ڈر کس بات کا ہے ہمیں تو رشک آتا ہے ان کشمیری بچوں پر ان فلسطینیوں پر جن کے ہاتھ میں صرف پتھر ہوتے ہیں اور وہ نڈر بڑی بے خوفی سے مصلح مگر بزدل فوج کا بے جکری سے مقابلہ کرتے ہیں ۔ہم پاکستان کی عوام پاکستان کے ارباب اختیار سے یہ کہنا چاہتے ہیں کہ ہم بارہا اپنے نعروں میں یہ کہتے آئے ہیں کے کشمیر ہماری شہ رگ ہے اور آج گجرات کا قصائی خنجر لیکر اس شہ رگ کو کاٹنے کے درپے ہے اللہ نہ کرے کے ایسا ہو کیونکہ جب شہ رگ کٹ جائے تو جسم لاش بن جاتا ہے اور لاشیں بولا نہیں کرتیں۔