ایک سوال - خالد مسعود خان

منیر نیازی مرحوم کا شعر ہے:
ہوئی نجات سفر میں فریب صحرا سے
سراب ختم ہوا، اضطراب ختم ہوا
ہم ایک عرصے سے یہ بات جانتے تھے لیکن اب ماشااللہ سے یہ بات سرکاری طور پر تسلیم کر لی گئی ہے کہ کوئی بھی مسلم ملک بطور مسلم ملک یعنی بطور ''امہ‘‘ ہمارے ساتھ نہیں ہے۔ سب اپنے اپنے کاروبار اور مفادات کے دوست ہیں اور بائیس کروڑ افراد کے ملک کا ڈیڑھ ارب آبادی والی معیشت سے کوئی مقابلہ نہیں۔ لہٰذا ہمارے سارے ''دوست‘‘ بشمول مسلم امہ کے روحانی سربراہ کے، بھارت کے ساتھ کھڑے ہیں۔ امتِ مسلمہ کی حد تک عمران خان صاحب کی ساری ڈرائیوری تقریباً بیکار گئی۔ ہمیں پندرہ ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی محض گولی دی گئی اور پاکستان سے بھارت جا کر پہلے پاکستان سے زیادہ سرمایہ کاری کا اعلان کیا گیا اور اب اس عید پر تو حد ہی ہو گئی۔

جس وقت کشمیری بھارتی فوج کے محاصرے میں پانچواں دن گزار رہے تھے عین اسی روز سعودی کمپنی ''ارامکو‘‘ (یہ سعودی عرب کے قومی تیل و گیس کمپنی ہے) نے بھارت کے سب سے بڑے تجارتی گروپ ریلائنس کے ساتھ بھارتی تاریخ کی سب سے بڑی سرمایہ کاری کا اعلان کیا۔ جب کشمیری عید کی نماز سے محروم کیے جا رہے تھے تب سعودی عرب بھارت کے ساتھ تجارتی پینگیں بڑھا رہا تھا اور جب کشمیری مسلمان عیدِ قربان پر قربانی کے حق سے بزور طاقت روکے جا رہے تھے‘ ریلائنس گروپ اہلِ بھارت کو اس عظیم سرمایہ کاری کی خوش خبری سنا رہا تھا۔ ریلائنس گروپ کا چیئرمین مکیش امبانی بتا رہا تھا کہ یہ بھارت میں آج تک کی سب سے بڑی سرمایہ کاری ہے جو سعودی ارامکو بھارت میں تیل اور کیمیکل کے شعبہ میں کر رہی ہے۔ یہ سرمایہ کاری ریلائنس کے بیس فیصد حصص تک ہو گی اور اس کا مالی حجم پچھتر ارب ڈالر تک ہو گا۔ یعنی سی پیک سے تقریباً گیارہ ارب ڈالر زیادہ۔
اس سے قبل متحدہ عرب امارات بھی بھارت میں بہت بڑی سرمایہ کاری کر چکا ہے اور ہر دو ممالک موجودہ کشمیر تنازعہ میں بھارت کی جانب سے آئین کے آرٹیکل 370 اور 35 اے کے خاتمے کے ساتھ کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کرنے کے اقدام کو بھارت کا اندرونی معاملہ قرار دے چکے ہیں۔ سارے عالمِ عرب میں فی الوقت یہی دو ممالک ہیں جو کچھ کہنے اور کچھ کرنے کی پوزیشن میں ہیں اور وہی دو ملک ہمارے موقف کو یعنی کشمیریوں کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کی روشنی میں حق خود ارادیت دینے کے بجائے اسے خالصتاً بھارت کا اندرونی معاملہ قرار دے رہے ہیں۔ جزیرہ نمائے عرب کے دیگر ممالک میں عراق، شام اور یمن کو اپنی پڑی ہوئی ہے۔ کویت، اومان، بحرین اور قطر وغیرہ خاموش ہیں۔ لے دے کر ایک ترکی ہے جس کے دل میں اسلام کے نام پر درد اٹھتا ہے لیکن بھارت کو ترکی کی کیا پروا ہو سکتی ہے؟ جن ممالک میں لاکھوں بھارتی ملازمتیں کر کے سالانہ اربوں ڈالر کا زر مبادلہ اپنے ملک بھجواتے ہوں وہ تو بھارت کے لیے کسی اہمیت کے حامل ہو سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ بھارت کو کس بات کی پروا ہو سکتی ہے؟ متحدہ عرب امارات میں اٹھائیس لاکھ سے زائد بھارتی کام کر رہے ہیں۔ یہ تعداد یو اے ای کی کل آبادی کا قریب 27 فیصد بنتا ہے۔ یہاں سے بھارتی سالانہ بیس ارب ڈالر بھارت بھجواتے ہیں‘ جو بھارت میں اس کے شہریوں کی جانب سے بھجوائے جانے والے کل زر مبادلہ باسٹھ ارب ڈالر کا قریب تیسرا حصہ ہے۔

سعودی عرب میں قریب پندرہ لاکھ پاکستانی کام کرتے ہیں جبکہ اس کے مقابلے میں چالیس لاکھ سے زائد بھارتی سعودی عرب میں کام کرتے ہیں۔ یہ چالیس لاکھ سے زائد بھارتی سعودی عرب سے سالانہ بارہ ارب ڈالر سے زائد زر مبادلہ بھارت بھیجتا ہے۔ یعنی صرف سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سے بتیس ارب ڈالر کا زر مبادلہ بھارت جاتا ہے۔ یہ دنیا بھر سے پاکستانیوں کی جانب سے پاکستان بھجوائے جانے والے زر مبادلہ سے ڈیڑھ گنا زیادہ رقم ہے۔ بنیے کا سب سے بڑا مسئلہ پیسہ ہوتا ہے اور اگر بنیے کا پیسہ بند ہو جائے تو سمجھیں اس کی ماں مر جاتی ہے۔ ایسے میں اگر یہی دو ممالک اس کا ٹینٹوا دباتے تو مودی کو نانی یاد آ جاتی لیکن بھارت پر دباؤ ڈالنا تو ایک طرف رہا یہ الٹا بھارت میں تاریخی سرمایہ کر کے اسے معاشی طور پر مضبوط تر بنا رہے ہیں تاکہ وہ ہماری لُٹیا پوری طرح ڈبو سکے۔
مکیش امبانی نے اس سعودی سرمایہ کاری کی جو تفصیل بتائی‘ وہ یوں ہے کہ سعودی ارامکو ریلائنس گروپ کے پٹرولیم کے شعبہ کے 20 فیصد حصص خریدے گی اور اس کے عوض پندرہ ارب ڈالر ادا کرے گی۔ جام نگر میں ریلائنس کی ریفائنری ارامکو کیلئے سات لاکھ بیرل یومیہ صاف کرے گی۔ اس ریفائنری کی کل پیداواری استعداد چودہ لاکھ بیرل یومیہ ہے۔ ریفائنری کے علاوہ ریلائنس بی پی کے پٹرول پمپوں پر تیل فروخت کر رہی ہے۔ اس خوردہ کاروبار میں بھی سعودی ارامکو ریلائنس کی 51 فیصد کی شراکت دار ہوگی۔ ریلائنس کے 1400 پٹرول پمپوں اور ہوائی جہازوں کیلئے استعمال ہونے والے ایوی ایشن فیول میں بھی حصہ دار ہو گی۔ اگلے پانچ سالوں میں ان 1400 پٹرول پمپوں کی تعداد بڑھا کر 5500 کر دی جائے گی۔ اس طرح سعودی ارامکو بھارت میں کل 75 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کریگی جو بھارتی تاریخ کی سب سے بڑی سرمایہ کاری ہو گی۔

ادھر یہ عالم ہے کہ پاکستان ایک عرصے سے دو مختلف نظریاتی پراکسی جنگوں کا میدان بنا ہوا ہے۔ سب کو معلوم ہے کہ کون پاکستان میں کیا کر رہا ہے اور کن کے ذریعے کر رہا ہے لیکن تمام تر علم ہونے کے باوجود اس معاملے سے آنکھیں بھی بند کر رکھی ہیں اور خاموشی بھی اختیار کر رکھی ہے۔ وقت آ گیا ہے کہ قومی مفادات کو مقدم رکھتے ہوئے اس سارے ڈرامے کو جو عشروں سے چل رہا ہے ختم کیا جائے۔ اس پراکسی جنگ کے کل پرزوں کی گوشمالی کی جائے۔ سب کو علم ہے کہ اس میں کون کون استعمال ہو رہا ہے۔ دودھ بھارت میں اور مینگنیاں پاکستان میں؟۔
لگتا ہے کہ ساری امہ صرف اور صرف پاکستان پر مشتمل ہے کہ ہر جگہ کا درد صرف ہمیں ہی محسوس ہوتا ہے۔ افغانستان میں جہاد ہو تو ادھر سے نوجوان جائیں اور شہادتیں پائیں۔ بوسنیا میں مسلم کشی ہو تو درد کی لہر خیبر تا کراچی محسوس ہو۔ غزہ میں خون کی ہولی کھیلی جائے تو جلوس یہاں نکلیں۔ برما میں روہنگیا مسلمانوں کا قتل عام ہو تو دعائیں ہماری مسجدوں میں مانگی جائیں اور احتجاجی مظاہرے یہاں ہوں۔ ادھر یہ عالم ہے کہ اس بار حج کے خطبے میں کشمیری مسلمانوں پر ہونے والے ظلم کے خاتمے کے لیے دعا بھی نہیں کی گئی۔ دعا مظلوم کے لیے دنیا میں سب سے کمزور اظہار یکجہتی ہے۔ خدانخواستہ اس سے مراد دعا کی کمزوری نہیں بلکہ مظلوم کے لیے ہماری جانب سے کیا جانے والا سب سے ادنیٰ اظہار ہے کہ ہم ظلم کو ہاتھ سے روکنے یا زبان سے روکنے سے بھی نچلے درجے پر صرف اسے دل سے برا خیال کرتے ہیں اور مظلوم کو اپنی دعا سے مطمئن کرنے اور ٹالنے کی سعی کرتے ہیں لیکن اس بار تو اس کمزور ترین حمایت کی بھی جرأت نہیں ہوئی اور ''مسلم امہ‘‘ کو دعاؤں سے بہلانے کا بھی حوصلہ نہیں کیا گیا کہ کہیں کاروباری شراکت دار ناراض نہ ہو جائیں۔

اس دوران ایک افواہ پھیلی کہ پینتالیس ممالک کی مشترکہ فوج کے کمانڈر راحیل شریف نے کشمیری مسلمانوں کے ساتھ ہونے والے بھارتی ظلم و تشدد اور کرفیو کے باعث عید کی نماز اور قربانی سے محروم کرنے کے خلاف اس نام نہاد اسلامی فوج کی لاتعلقی اور بے حسی کے خلاف استعفیٰ دے دیا ہے؛ تاہم ابھی دل امیدو بیم کے درمیان معلق ہی تھا کہ ایک ''باوثوق ذریعے‘‘ نے اس خوش کن خبر کی تردید کر دی۔ بھلا پانچ ملین ڈالر سالانہ کی تنخواہ یعنی اسی کروڑ روپے سالانہ اور چھ کروڑ چھیاسٹھ لاکھ چھیاسٹھ ہزار چھ سو چھیاسٹھ روپے ماہانہ چھوڑنا آسان کام ہے؟ ویسے بھی جہاں امہ کے وہ ممالک جن کو لوگ مسیحا سمجھتے ہوں اگر وہی کاروبار کی آنکھ سے سب کچھ دیکھتے ہوں تو اکیلے جناب راحیل شریف حب سے کیا گلہ؟ لیکن ایک سوال تو کیا جا سکتا ہے۔ آخر یہ پینتالیس مسلم ممالک کی مشترکہ فوج دھنیا گھوٹنے کے لیے ہے؟ یہ ایک سوال تو آخر بنتا ہے۔