این جی او چلانے والی بکری ! عطا ء الحق قاسمی

بقر عید آئی بھی اور گزر بھی گئی۔ بکروں کے خریداروں میں ایک میں بھی تھا۔ سارا لاہور بکروں سے بھرا پڑا تھا بلکہ سارے ملک میں بکرے ہی بکرے نظر آ رہے تھے۔ میں اپنے بیٹوں کے ساتھ بکروں کی خریداری کے لئے گھر سے نکلا تو ایک بیوپاری نے میرا راستہ روک لیا۔ اس نے کہا جناب آگے جانے سے پہلے آپ میرے ریوڑ پر بھی نظر ڈال لیں۔ میں نے دیکھا اس کے ریوڑ میں بکرے چھترے اور دنبے سبھی شامل تھے۔ میں نے بکروں کے منہ کھولے تو فوراً پتا چل گیا کہ ان میں سے کونسا دوندا ہے، کونسا چوگا ہے اور کونسا کھیرا ہے۔ میری نظر ایک دوندے پر ٹھہر گئی۔ اس کا قد کاٹھ دیدنی تھا، وہ بکروں کا کونسلر لگتا تھا۔ میں نے اسے ٹٹولنے کے لئے ہاتھ اس کی طرف بڑھایا ہی تھا کہ اس نے مجھے ایک زور دار’’ ٹڈھ‘‘ مارا۔ میں نے دوسری طرف سے اسے پکڑنے کی کوشش کی تو اس نے چیتے جیسی پھرتی کے ساتھ اپنی پوزیشن بدلی اور ایک دفعہ پھر مجھ پر حملہ آور ہو گیا۔

یہ صورتحال دیکھ کر میں نے اسے سمجھانے کی کوشش کرتے ہوئے کہا ’’میاں میں تمہیں اللہ کی راہ میں قربان کرنا چاہتا ہوں، آگے سے مزاحمت کر کے کیوں اپنا ثواب ضائع کرتے ہو‘‘ اس پر اس نے مجھے غصیلی نظروں سے گھورا اور بولا ’’اب ہم بکرے تمہاری باتوں میں نہیں آنے والے، تم ہمیں اپنے مقصد کے لئے استعمال کرتے ہو، ہم تمہاری باتوں میں آ کر اپنی جانیں قربان کرتے آئے ہیں اور یہ سلسلہ سالہا سال سے جاری ہے مگر اب ایسا نہیں ہو گا‘‘۔ میں نے وجہ پوچھی تو پیشتر اس کے کہ بکرا کچھ کہتا، اس کے برابر میں بندھی بکرے کی ماں نے میری طرف دیکھا اور کہا ’’اس بات کا جواب مجھ سے لو، میں اپنے کئی جگر کے ٹکڑے اللہ کی راہ میں قربان کر چکی ہوں مگر اب تم نے اللہ کی راہ میں قربان ہونے والوں کو امریکہ کے حکم پر دہشت گرد قرار دے دیا ہے۔ تم نے ابھی کئی اور مواقع پر بھی ہمارے پاس آنا ہے لیکن اب ہم تمہاری باتوں میں نہیں آئیں گے‘‘۔

میں نے بکرے کی ماں کی یہ گفتگو سنی تو کچھ کھسیانا سا ہو کر میں نے اپنے حوصلے مجتمع کرتے ہوئے کہا ’’کون کہتا ہے کہ اللہ کی راہ میں جانیں دینے والوں کو دہشت گرد قرار دیا گیا ہے، دہشت گرد انہیں کہا گیا ہے جو مذہب کی آڑ میں معصوم لوگوں کی جانیں لیتے تھے، ویسے بھی اس پالیسی کا اطلاق انسانوں پر ہوتا ہے تم پر نہیں؟‘‘ مگر بکرے کی ماں نے میری اس بات کا جواب دینا بھی مناسب نہ سمجھا اور منہ دوسری طرف پھیر لیا۔

اس دوران میں نے ایک اور بکرے کے بارے میں محسوس کیا کہ یہ دوندا ہے اور بالکل بے عیب بھی۔ میں نے اسے ٹٹولنے کی کوشش کی تو وہ ہنستے ہنستے دہرا ہو گیا اور ہاتھ جوڑ کر بولا ’’خدا کے لئے ایسا نہ کرو مجھے گدگدی ہوتی ہے‘‘۔ میں نے سوچا یہ مسخرا بکرا ہے سر پر تلوار لٹک رہی ہے اور اسے ہنسی آ رہی ہے بہرحال جب اس کی ہنسی تھمی تو اس نے مجھے مخاطب کیا اور پوچھا ’’تم مجھے کیوں خریدنا چاہتے ہو‘‘۔ میں نے جواب دیا ’’میں تمہیں اللہ کی راہ میں قربان کرنا چاہتا ہوں‘‘ اس پر اس نے دوبارہ ہنسنا شروع کر دیا اور پھر وہ ایک دم سنجیدہ ہو گیا اور بولا ’’خدا کے لئے مذہب کے نام پر لوگوں کو بیوقوف بنانا چھوڑ دو‘‘ میں نے پوچھا ’’کیا مطلب؟‘‘ بولا ’’تم مجھے خرید کر لے جاؤ گے، میرے پاؤں میں گھنگھرو باندھو گے، گلے میں رنگ برنگے دھاگوں کا ہار پہناؤ گے اور سارا دن تمہارے بچے مجھے گلیوں میں گھسیٹتے پھریں گے۔ لوگ واہ واہ کریں گے کہ قاسمی صاحب نے اللہ کی راہ میں قربان کرنے کے لئے کتنا مہنگا بکرا خریدا ہے، اس کے بعد مجھے ذبح کیا جائے گا، ایک ران روسٹ کرانے کے لئے رکھ لی جائے گی، دوسری کسی افسر کو بھیج دی جائے گی۔ دو دستیاں فریزر میں چلی جائیں گی اور باقی گوشت دو دو تین تین بوٹیوں کی صورت میں رشتہ داروں میں بانٹ دیا جائے گا اور یوں پورے خاندان کو علم ہو جائے گا کہ تم نے قربانی کی ہے۔ یہ سب کچھ تو نام و نمود اور اپنے پیٹ کا دوزخ بھرنے کے لئے ہے، اس میں اللہ کے حکم کی تعمیل کا پہلو کہاں سے آتا ہے‘‘ میں نے اس بدتمیز بکرے کے منہ لگنا مناسب نہ سمجھا ورنہ میں اسے بتاتا کہ میں اوجھڑی، پھیپھڑے اور بکرے کے دوسرے اعضائے رئیسہ ہمیشہ اللہ کی خوشنودی کے لئے غریبوں میں تقسیم کرتا ہوں۔

اس دوران ایک اور بکرے سے میری ملاقات ہوئی یہ بکرا کسی بکری کا ستایا ہوا لگتا تھا۔ جب میں بکروں کے رویے سے مایوس ہو کر واپس جانے لگا تو اس نے میرا راستہ روک لیا اور کہا ’’تم اس عید پر بکرے کے بجائے بکری کیوں نہیں کر لیتے۔ ایک بکری میرے ذہن میں ہے، بکریوں کے حقوق کے نام پر وہ ایک این جی او چلاتی ہے، تم اس سے ڈائریکٹ بات کرو یا اس کے مالک سے بات کر لو یہ بکری قابلِ فروخت ہے‘‘۔ میں نے معذرت کی اور کہا ’’اسلام میں بکری کی قربانی جائز نہیں‘‘ اس پر وہ دل جلا بولا ’’تو پھر اسے کہو کہ وہ بکروں کے خلاف بولنا بند کر دے، قربانی کا بکرا ہر دفعہ ہم بکروں کو بننا پڑتا ہے، بکریوں کو نہیں!‘‘

اس پر میں نے لاحول ولا قوۃ پڑھا اور ایک دوسرے ریوڑ کی طرف متوجہ ہو گیا۔