جنرل محمد ضیاء الحق- ہارون الرشید

جنرل ضیاء الحق کے عہدِ اقتدار کا اگر کوئی سبق ہے تو شاید یہ کہ فوجی حکمران کتنا ہی دانا اور دیانت دار ہو ،قومی فروغ کی ضمانت مہیا نہیں کر سکتا۔ جتنا جھوٹ جنرل محمد ضیاء الحق کے بارے میں لکھا اور بولا گیا ، شاید ہی اس کی کوئی دوسری نظیر ہو ۔ جنرل کے طرزِ حکومت کی تحسین کی جا سکتی ہے اور نا مارشل لا کی ۔ تاریخ کا سبق یہ ہے کہ ہمیشہ سول ادارے ملکوں اور قوموں کو قوت اور بالیدگی عطا کرتے ہیں ۔ اچھی پولیس ، اچھی عدالت ، خدمت گزار سول سروس اور بلدیاتی حکومتیں ۔ اختیار اگر ایک ہاتھ میں مرتکز ہو جائے تو معاشرہ علیل ہو جاتاہے ۔ خرابیاں پھوٹتی ہیں اور بڑھتی چلی جاتی ہیں ۔ سوال مگر ایک طرزِ حکومت کانہیں ، شخصیت کا ہے ۔ جنرل پر وہ جملہ صادق آتاہے ، جو سید ابو الاعلیٰ مودودی نے سر سید احمد خان کے بارے میں کہا تھا : وہ اتنے اچھے نہیں تھے، جتنا کہ ان کے مداح دعویٰ کرتے ہیں مگر اتنے برے بھی نہیں ، جتنا کہ ناقدین کہتے ہیں ۔ ذاتی زندگی میں جنرل ضیاء الحق ایک شائستہ اور اجلے آدمی تھے ۔17اگست 1988ء کے المناک حادثے کے بعد اس موضوع پر لکھا جاتا رہا۔ رفتہ رفتہ وراثت تحلیل ہوتی گئی ‘تا آنکہ 12اکتوبر1999ء کا مارشل لا نافذ ہوا ۔ ہر سال ان کے مزار پہ کھڑے ہو کر جنرل کے مشن کی تکمیل کا اعلان کرنے والے میاں محمد نواز شریف نے جمہوریت کی قبا اوڑھ لی تو بتدریج ان کا دفاع کرنے والے دھیمے پڑتے گئے ۔اب انہیں شریف خاندان کے قصیدے لکھنا تھے۔ جنرل محمد ضیاء الحق پہ تنقید، تحقیر اور توہین کرنے والوں کی چیخ و پکار جاری رہی۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ وہ ظالمانہ اقتدار کی علامت بنتے چلے گئے ۔ نام نہاد بائیں بازو والوں کی تحریروں کو ملحوظ رکھا جائے تو کبھی یہ محسو س ہونے لگتا ہے کہ ملک اور معاشرے کی ساری خرابیاں انہی کے دور میں پیدا ہوئیں اور پروان چڑھتی گئیں ۔ ان سے پہلے کا پاکستان آسودگی اور قرار کا نمونہ تھا ۔

یہ پانچ جولائی 1977ء کی سویر تھی ، جب لڑکا بھاگتا ہوا آیااور بشاشت کے ساتھ بتایا کہ مارشل لا نافذ ہو چکا ۔ پیپلزپارٹی کا ہمدردہونے کے باوجود وہ مطمئن کیوںتھا؟ اس لیے کہ تین ماہ سے جاری خانہ جنگی رک گئی ۔ اس عہد کی سب سے مقبول سیاسی جماعت پیپلزپارٹی کے حامی اور نام نہاد بائیں بازو کے دانشور دعویٰ کرتے ہیں کہ ا نکل سام کے ایما پر جنرل نے ذوالفقار علی بھٹو کے اقتدار کا خاتمہ کیا تھا۔ انکل سام کا اس معاملے سے کیا تعلق؟ دلیل ان کی یہ ہے کہ ایٹمی پروگرام کی وجہ سے امریکہ پاکستان سے نالاں تھا ۔ اگر اس دعوے کو درست مان لیا جائے تو سوال یہ ہے کہ جنرل نے ایٹمی پروگرام کو جاری کیوں رکھا ۔ ڈاکٹر عبد القدیر خان سمیت سائنسدانوں کی پوری کھیپ گواہی دیتی ہے کہ جنرل اس پروگرام کو بے حد عزیز رکھتا تھا ۔ فراوانی سے اس منصوبے کے لیے وہ سرمایہ فراہم کرتا رہا ‘حالانکہ بعض عرب ملکوں نے امداد روک دی تھی ۔ امریکہ نے پاکستان پہ اقتصادی پابندیاں عائد کر رکھی تھیں اور عائد کیے رکھیں ‘حتیٰ کہ افغانستان میں روسی فوج داخل ہوگئی ۔ ہرگز وہ امریکی ایجنٹ نہیں تھا۔ افغانستان میں امریکی امداد اس نے تامّل اور شرائط کے ساتھ قبول کی ۔ اس وقت جب ولی خان سمیت چھوٹے صوبوں کے قوم پرست اور بائیں بازو کے نام نہاد دانشور افغانستان میں سوویت آمد کا خیر مقدم کر رہے تھے ، افغان شہریوں کے قتلِ عام کا جواز پیش کرنے میں لگے رہتے تھے ، امریکیوں کو جنرل نے جتلا دیا کہ براہِ راست افغان مزاحمتی گروپوں کو وہ اسلحہ اور روپیہ نہیں دے سکتے ۔ یہ ذمہ داری انہوں نے آئی ایس آئی کو سونپی ، جو بتدریج دنیا کی بہترین خفیہ ایجنسی بن گئی۔ بھارت کے جارحانہ عزائم کے مقابل جو آج بھی ملک کے دفاع کی سب سے بڑی ضامن ہے ۔

پاکستان ہی نہیں ، بھارت اور پاس پڑوس کے ممالک میں بھی شاندار نیٹ ورک اس نے قائم کیے ۔ آئی ایس آئی اس قدر طاقتور تھی کہ ضیاء الحق کی موت کے بعد بھی صدر بش سینئر پریشان تھے ۔ امریکی خفیہ ایجنسیوں کے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے آئی ایس آئی کے پر کاٹنے کا حکم صادر کیا ۔ بعد میں وزیرِ اعظم بے نظیر بھٹو نے جنرل حمید گل سے ایجنسی کی قیادت واپس لے کر ، اپنے حامی شمس الرحمٰن کلّو کو سونپی تو غالباً یہ اسی کا شاخسانہ تھا ۔ بہت بعد میں ، جب ایک شب وزیرِ داخلہ رحمٰن ملک نے آئی ایس آئی کو اپنی ماتحتی میں داخل کرنے کا حکم صادر کیا تو امریکی اشارہ ء ابرو کے سوا اس کا سبب کیا تھا ؟ کوئی بھی فوجی حکومت حقیقی استحکام پیدا نہیں کر سکتی ۔ ہمیشہ یہ ایک عارضی انتظام ہوتاہے ۔ اس کے باوجود جنرل کا پاکستان ایک طاقتور ملک تھا ۔ 1987ء میں راجیو گاندھی نے پاکستان پر حملہ کرنے کا فیصلہ کیا تو کرکٹ میچ دیکھنے کے بہانے جنرل بھارت پہنچااور اندرا گاندھی کے فرزند سے وہ بات کہی ، جس کی گونج آج تک سنائی دیتی ہے ۔ خلاصہ یہ تھا : پاکستانی سرحدوں پر اپنی افواج کو آپ نے گولہ بارود جاری کر دیا ہے ۔ میں ایک سپاہی ہوں اور جانتا ہوں کہ اس کا مطلب جنگ کا آغاز ہے ۔ اگر آپ نے ایسا کیا تو اپنا آخری ہتھیار ہم استعمال کریں گے ۔ تاریخ میں بھارت کے بڑے بڑے شہروں کے صرف نام رہ جائیں گے ۔ جیسا کہ جنرل نے بعد میں بتایا اور عینی گواہوں نے تصدیق کی ، راجیو گاندھی کی ٹانگیں عملاً کانپ رہی تھیں ۔ جی ہاں ، جنرل نے بہت سی غلطیاں کیں ۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ ایک سول جمہوری نظام تشکیل دینے اور پیچھے ہٹ جانے کی بجائے جبر کے ساتھ حکومت کی لیکن یہ دعویٰ غلط ہے کہ وہ نامقبول تھا ۔ پیپلزپارٹی اور بالاخر امریکہ کی گود میں جا کر بیٹھ جانے والا بایاں بازوتو ان کا مخالف تھا ہی لیکن عام لوگوں کی اکثریت شاد تھی ۔

1983ء سے 1987ء تک ہونے والے گیلپ کے سروے انکشاف کرتے ہیں کہ گاہے اس کی مقبولیت 52فیصد تک پہنچ جاتی ۔ یہ لیاقت علی خان کے بعد سب سے مقبول حکمران ، بھٹو سے زیادہ تھی ۔ بھٹو کے لیے اس کی پارٹی ہی پورا پاکستان تھی ۔ ضیاء الحق کے بہت سے غلط فیصلوںمیں سے ایک یہ ہے کہ مذہبی طبقات کی حد سے زیادہ سرپرستی کی ‘حتیٰ کہ وہ بے قابوہو گئے ۔ ان کے بارے میں آخری فیصلہ تاریخ ہی صادر کرے گی لیکن اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ذاتی زندگی میں وہ ایک بے حد دیانت دار ،دولت و حشمت سے بے نیاز ، منکسر مزاج آدمی تھے۔ و ہ ایک عظیم محب وطن تھے ۔ پاکستان کے ازلی دشمن بھارت کو انہوں نے پسپا کیے رکھا ۔ ایوانِ اقتدار میں وہ ایک عام آدمی تھے ۔ تکبر اور خودپسندی سے پاک ،جوخوئے غلامی اور احساسِ کمتری کی ماری اشرافیہ کا وطیرہ ہے ۔ تاریخ کا سبق یہ ہے کہ ایک منظم، شائستہ، تعلیم یافتہ اور عصرِ حاضر کے تقاضوں سے ہم آہنگ قوم کی تشکیل ہی ادبار سے نجات کا واحد راستہ ہے ۔ قومی ادارے اور قانون کی بالاتری۔ ایک سوال مگر یہ ہے کہ قائدِاعظم کے سوا، ہمارے سول حکمرانوںمیں سے کیا کوئی ایک بھی ایسا تھا ، اس حقیقت کا جو ادراک رکھتا ہو؟کیا فوجی آمروں کی طرح وہ سب کے سب من مانی اور بے اصولی کے عادی نہ تھے ؟جنرل ضیاء الحق کے عہدِ اقتدار کا اگر کوئی سبق ہے تو شاید یہ کہ فوجی حکمران کتنا ہی دانا اور دیانت دار ہو ،قومی فروغ کی ضمانت مہیا نہیں کر سکتا۔