دادی ماں اور پاکستان - ام محمد سلمان

اماں کو جب کبھی دادی ماں خواب میں نظر آتیں تو مجھے خوب پیار کرتیں۔ دادی ماں کے ایصالِ ثواب کے لیے صدقہ خیرات کرتیں اور کچھ نہ کچھ مجھے بھی لے کر دیتیں۔ میں پوچھتی یہ میرے لیے کیوں؟ تو اماں کہتیں : "بس تمہاری دادی ماں تم سے بہت پیار کرتی تھیں ناں، اس لیے جب کبھی مجھے ان کی یاد آتی ہے تو بے ساختہ تم پر پیار آتا ہے۔"
ہممممم! میرے دل میں ایک خوشگوار سا احساس ابھرتا...

"اور پتا ہے جب تم چھوٹی سی تھیں تو وہ تمہیں بالکل گود سے نہیں اتارتی تھیں۔" اماں نے میری معلومات میں اضافہ کیا۔ " ہائے کیوں اماں..؟"
کہتی تھیں، "میری پوتی میلی نہ ہو جائے کہیں...." اماں مسکرا کے بتاتیں۔
کچے مٹی کے گھر ہوتے تھے ناں اس وقت.... بچے زمین پر گھٹنوں گھٹنوں چلتے تو مٹی میں لت پت ہو جاتے اسی لیے وہ تمہیں اپنے گھٹنے پر بٹھائے رکھتی تھیں اور جب ذرا تم گرتے پڑتے چلنے کے لائق ہوئیں تو اپنی دادی ماں کی چارپائی کے چاروں طرف چکر لگاتی رہتی تھیں اور وہ خوشی سے پھولے نہ سماتیں۔
وہ تم سے بہت محبت کرتی تھیں ماہین! تمہیں ہر وقت گود میں اٹھائے رکھتیں، تمہیں جھولے میں لٹا کے اللہ ﷲ کی لوری دیتیں... اور جب تم نے بھی اپنی توتلی زبان میں ان کے ساتھ ساتھ پڑھنا شروع کیا... اللہ اللہ .... تو ان کی خوشی دیکھنے والی ہوتی تھی۔
اماں بڑے پیار سے مجھے دادی ماں کے قصے سناتیں۔

ایک بار دادی ماں، اماں کو خواب میں نظر آئیں تو حسب توفیق اماں نے ان کے لیے صدقہ دیا اور پھر مجھے کہنے لگیں "پتا ہے ماہین! میں تمہارے لیے سونے کی بالیاں بنوا رہی ہوں۔
ہائے کیوں اماں...؟ میں نہیں پہنوں گی سونے کی بالیاں۔ " ارے کیوں نہیں پہنو گی بھلا؟" اماں نے حیرانی سے مجھے دیکھا....
" بس اماں مجھے ڈر لگتا ہے سونا پہننے سے۔ بالی کہیں کان سے نکل کے کھو گئیں تو تم مجھ پہ غصہ کرو گی۔" میں نے بڑے نروٹھے پن سے کہا ۔

اماں ہنس دیں..." چل پگلی! کھوئیں گی کیوں بھلا....؟" "بس اماں کھو جاتی ہیں ناں!! میں نہیں پہنوں گی۔ "
لیکن جب میں بارہ تیرہ برس کی ہوئی تو اماں میرے لیے بڑی خوب صورت سی بالیاں بنوا لائیں اور مجھے پہنا دیں اور پھر کہنے لگیں جب تم چھوٹی تھیں تو تمہاری دادی ماں کو بہت شوق تھا کہ ان کی پوتی سونے کی بالیاں پہنے۔ بس انھیں مہلت ہی نہ ملی. فرشتہ اجل انھیں لنے آگیا۔" اور میں بھی دادی ماں کے احساسِ محبت میں مغلوب ہو گئی۔ دو چار دن پہننے کے بعد میں نے کھو جانے کے ڈر سے بالیاں اتار دیں...!

ایک دن اماں بتانے لگیں: " تمہاری دادی ماں کو پوتی کی بڑی خواہش تھی۔ گیارہ بچے ہوئے تھے ان کے یہاں... پر ان کی ساری اولادیں نوجوانی اور بچپن میں ہی ان کی آنکھوں کے سامنے فوت ہو گئیں۔ ایک جوان بیٹی ہجرت کے وقت راستے میں اللہ کو پیاری ہو گئی۔ پاکستان آنے کے بعد تمہارے ابا اور بوا جی پیدا ہوئے اور اللہ نے انھیں زندگی بخشی۔ تو بس انھیں بیٹی کی بڑی چاہ تھی۔ جب اپنے دو بھائیوں کے بعد تم پیدا ہوئیں تو تمہارے ابا اور دادی ماں اتنے خوش ہوئے کہ دیگ پکا کے بانٹی۔ اسی لیے دادی اپنی اکلوتی پوتی سے بہت پیار کرتی تھیں۔ اور ہم دونوں کو سخت تنبیہہ تھی کہ "کبھی میری پوتی کو ہاتھ نہ لگانا۔"

اماں کے منہ سے اسی طرح کی باتیں سنتے سنتے میں بڑی ہو گئی۔ دادی ماں میری پیدائش کے صرف ایک سال کے اندر اندر وفات پا گئیں۔ پر اماں نے ان کا بڑا گہرا نقش بنا دیا تھا میرے دل میں۔ میں انھیں اکثر یاد کرتی ان کے لیے دعا و استغفار کرتی، جنت الفردوس کی دعائیں مانگتی اور انتظار کرتی کہ جب اللہ تعالیٰ کے پاس جائیں گے تو ہمیں دادی ماں وہاں مل جائیں گی۔
_ہائے وہ لوگ جو دیکھے بھی نہیں_
_یاد آئیں تو رلا دیتے ہیں............

یہ بھی پڑھیں:   ناچ نہ جانے آنگن ٹیڑہ - حبیب الرحمن

ہمارے سامنے والے گھر میں دادی ماں کی سہیلی رہتی تھیں جنھوں نے ان کے ساتھ ہی ہجرت کی تھی۔ کبھی کبھار آجایا کرتی تھیں ہمارے گھر۔ مجھے بلاتیں تو میرا نام لینے کی بجائے "سعیدہ کی پوتی" کہا کرتیں۔
کبھی موڈ میں ہوتیں تو تقسیمِ ہند کے واقعات لے کر بیٹھ جاتیں۔ میرے دادا ابا اور دادی ماں کے قصے سناتیں۔ ہجرت کے وقت ہندوستانی مسلمانوں پر ہونے والے ظلم و ستم کی داستانیں سناتیں جنھیں سن کر ہی میرے رونگٹے کھڑے ہو جاتے۔ اور میرے دل میں اتنی قربانیوں کے بعد ملنے والے اپنے وطن کی محبت اور بڑھتی جاتی۔

گلی کے اختتام پر ایک چوبارہ سا تھا جہاں صبح کے وقت محلے پڑوس کی بوڑھی خواتین بیٹھی رہتی تھیں۔ ململ کے دوپٹے، چوڑی دار پاجامے، کھلے کھلے چھینٹ کے کُرتے پہنے... گلے میں چاندی کی ہنسلی اور کُرتے کے گلے میں چاندی کی بنی ہوئی بٹن پٹی لگی ہوتی جسے اتار کے ہر کُرتے کے ساتھ لگا لیا جاتا۔ کسی کسی کے پاؤں میں چاندی کی پازیب بھی ہوتیں۔ سب کے کانوں میں دو دو تین تین سونے یا چاندی کی بالیاں ہوتیں...... بالوں میں تیل لگا کے سر کے اگلے حصے کے بالوں کی چوٹیاں (مینڈیاں ) بنائے وہ دوپٹہ ایسے اوڑھتیں کہ ایک طرف سے گھونگھٹ نکلا رہتا تھا۔ کبھی کروشیا بُنتیں، کبھی چنگیریں بناتیں... اپنے کسی نہ کسی کام میں مشغول وہ اکثر ہندوستان کی باتیں کرتی رہتیں... اپنے گھروں کی، زمینوں اور کھیتوں کی، اپنے مال مویشیوں کی.... بڑے بڑے پیپل اور برگد کے پیڑوں کی.... ان پہ پڑے جھولوں کی.... اور نہ جانے کیا کیا....

پھر کبھی گفتگو کا رخ بدلتا اور ہجرت کے واقعات کی طرف مڑ جاتا۔ خاک و خون میں لپٹے وجود یاد آتے، مسلمان عورتوں کی لاشوں سے بھرے کنویں یاد آتے...
کبھی اپنے بچھڑے ہوئے رشتہ داروں کو یاد کرتیں.. اپنے بھرے پرے گھروں کو یاد کرتیں... کبھی ہنستیں اور کبھی آنکھیں نم کر لیتیں۔

ہم بچیاں وہیں آس پاس کھیل رہی ہوتیں مگر میں دھیان سے ان کی باتیں سنا کرتی اور ان کا درد اپنے دل میں محسوس کرتی
ہمارے اس محلے میں قیامِ پاکستان سے پہلے سکھ آباد تھے۔ یہاں ایک گردوارہ بھی تھا جس پہ اکثر تالا لگا رہتا۔ ایک بار میں نے بھی اندر سے جا کر دیکھا، خالی پڑا تھا۔ ایک حصے میں گھر والوں نے بارش میں گیلا ہونے سے بچانے کے لیے ایندھن ذخیرہ کر رکھا تھا۔ تھوڑی دور ایک بہت گہرا کنواں بھی تھا جس میں جھانکتے ہی مجھے خوف کی جھرجھری آجاتی۔ صاحبِ خانہ کی تنو مند اور بہادر عورتیں اس کنوئیں سے پانی کے ڈول کھینچ کھینچ کر گائے بھینسوں کو پانی پلاتیں۔
یہاں کے گھر بہت چھوٹے چھوٹے تھے جب کہ مہاجرین جو اپنے گھر انڈیا میں چھوڑ کر آئے تھے وہ بہت بڑے بڑے دالانوں والے وسیع و عریض گھر تھے۔ کھیت کھلیان بھی آس پاس ہی تھے۔ مال مویشی بھی گھروں میں ہی بندھے رہتے تھے۔
میں سوچا کرتی یہ سب بے چاریاں اپنے بڑے بڑے گھروں کو چھوڑ کر ان چھوٹے چھوٹے گھروں اور گلی کوچوں میں کیسے گزارا کرتی ہیں مگر وقت اور حالات سب کچھ سکھا دیتے ہیں۔ ہر ہر چیز میرے دل میں وطن کی محبت کو سموتی گئی۔

__________

بچپن میں ایک بار گرمیوں کی چھٹیوں میں نانی اماں کے گھر گئے ہوئے تھے۔ ساتھ والوں کے ہاں اخبار آتا تھا جس میں روزانہ نیلم پری کی قسط وار کہانی آتی تھی۔ ہم خالہ زاد بہنیں اس کہانی کے شوق میں اخبار لے کر بیٹھ جایا کرتیں۔

ایک دن کہانی پڑھنے کے بعد میں یونہی اخبار پہ سرسری نظر ڈالنے لگی۔
خبر تھی کہ "دو دن کے اندر اندر انڈیا پاکستان پر حملہ کر دے گا۔"
اور معصوم سی بچی کے دل پر بڑی سی چوٹ لگی... ہائے اللہ انڈیا پاکستان پہ حملہ کر دے گا..؟
"میرے پیارے پاکستان کو بچا لے پیارے اللہ! انڈیا کبھی پاکستان پہ حملہ نہ کر سکے۔" دو دن تک میں بڑی خوار رہی اس خبر کے ہاتھوں..... ننھا منا سا دل اندر ہی اندر گھٹتا رہا ..... گھر میں بھی کسی سے ذکر نہ کیا۔
پھر دو کیا کئی دن گزر گئے.. کچھ نہ ہوا... نہ جانے اخبار میں روز ایسی کتنی خبریں آتی ہوں گی۔ پر مجھے ان سیاسی باتوں کا کیا پتا تھا؟ میرے لیے تو اتنا ہی کافی تھا میرا پیارا پاکستان سلامت ہے۔
_________________

یہ بھی پڑھیں:   بنگلہ دیش کی پاکستان کے ساتھ پیاز ڈپلومیسی

جب میں چھٹی ساتویں جماعت میں پڑھتی تھی تب انڈیا سے کچھ مہمان ہمارے گھر آئے ہوئے تھے ...
ایک دن میں ان خالہ جی کے پاس بیٹھی باتیں کررہی تھی اور ان سے انڈیا کے متعلق پوچھ رہی تھی۔
کہنے لگیں "ہم جہاں رہتے ہیں وہاں ہندوؤں کی اکثریت ہے۔ ہم تو خود آدھے ہندو بن چکے ہیں. انہی کے رسم و رواج انہی کے تہوار... اب تو کلمہ بھی ٹھیک سے یاد نہیں۔"

ان کی باتیں سن کے مجھے بہت صدمہ ہوا۔ خدا کا لاکھ لاکھ شکر ادا کیا کہ ہمیں پاکستان ملا جہاں ہمیں مکمل مذہبی آزادی حاصل ہے۔

ابا میاں اکثر 1965ء کی جنگ کے واقعات سنایا کرتے تھے جب ان کی عمر پندرہ سولہ برس ہی ہوگی۔
دادی ماں کی کڑی آزمائشوں کا ذکر کرتے... بتایا کرتے کہ زندگی کے سخت ایام کیسے گزارے... ہندوستان میں اپنی بڑی سی حویلی میں راج کرنے والی دادی ماں، پاکستان آکر ایک چھوٹے سے گھر میں رہنے لگیں۔ کلیم میں تو کچھ بھی نہ مل سکا، جو معمولی سا ملا وہ بھی غربت کے ہاتھوں ختم ہوگیا۔ ہجرت کے چھے سات سال بعد ہی دادا میاں کا انتقال ہو گیا اور میری غیور دادی ماں محنت مزدوری کر کے دونوں بہن بھائیوں کو پالنے لگیں۔

اور یہ سب سنتے سنتے مجھے دادی ماں سے اور محبت ہوتی گئی۔
میری دادی ماں، دادا ابا اور ان کے جیسے اور کتنے ہی لاکھوں لوگ تھے جو اس سرزمین پر لٹے پٹے زخم خوردہ آئے.... مگر یہاں ان کا استقبال کرنے کے لیے انصار مدینہ جیسے لوگ موجود نہ تھے۔ مقامی لوگ نہ جانے کیوں مہاجرین سے بیر رکھتے تھے۔

مجھے اچھی طرح یاد ہے جب بچپن میں، میں اپنی اسکول کی سہیلیوں کے ساتھ کھیل رہی تھی اور کسی جھگڑے پر انھوں نے مجھے کیسے طعنہ دیا تھا... "پتا نہیں کہاں سے آگئے ہیں "پناہ گزین"…"

کیا ہم پناہ گزین ہیں...؟ میری دادی ماں کی قربانیوں کا یہ ثمر ہے کہ لوگ ہمیں "پناہ گزین" کہیں ...؟
پھر زندگی میں کئی بار یہ جملہ سنا....

اور آج پھر ایک سیاستدان صاحب، جو کہ پاکستان کے سابق صدر بھی رہ چکے ہیں، فرما رہے تھے :"پاکستان ہمارا ہے اسے ہم نے بنایا ہے.. یہ ان مہاجروں کا کہاں سے ہو گیا؟
یہ تو لٹے پٹے آئے تھے اس ملک میں، ہم نے انھیں پناہ دی۔"

اور دل پھر دکھ کی اتھاہ گہرائیوں میں ڈوبتا چلا گیا۔
__________________

اے میرے وطن کے لوگو! اے پیارے ہم وطنو!
یہ ملک ہم سب کا ہے چاہے کوئی یہاں پہلے سے رہتا ہو یا پھر کوئی اس کے لیے لاکھوں قربانیاں دے کر آیا ہو.... یہ سرزمین ہم سب کی ہے۔ خدا کا دیا ہوا تحفہ ہے، کلمۂ طیبہ کے نام پر بننے والا یہ ملک کسی کی جاگیر نہیں، یہ اسلام کا قلعہ بننا تھا۔
خدا کے لیے چھوڑ دیں یہ لسانیت اور تعصب کی باتیں.. ہمارے آپس کے اختلافات سے دشمن فائدہ اٹھاتے ہیں ۔ ہم سب ایک ہیں ہمارا نفع نقصان سب ایک ہے۔ ہم نے کیوں اپنے اردگرد دیواریں کھڑی کر رکھی ہیں؟ آخر ہم کیوں ایک دوسرے کے حقوق غصب کرتے ہیں..؟
آخر ہم کیوں مہاجرین و انصار کی طرح بھائی بھائی بن کر نہیں رہ سکتے...؟
آخر کیوں....؟ آخر کیوں....؟
منفعت ایک ہے اس قوم کی نقصان بھی ایک
حرم پاک بھی اللہ بھی قرآن بھی ایک
ایک ہی سب کا نبی دین بھی ایمان بھی ایک
کچھ بڑی بات تھی ہوتے جو مسلمان بھی ایک
فرقہ بندی ہے کہیں اور کہیں ذاتیں ہیں
کیا زمانے میں پنپنے کی یہی باتیں ہیں....؟؟