کھوئی ہوئی جنت ! عصمت اسامہ

کشمیر پاکستان کی کھوئ ہوئ جنت ہے جسے ہر صورت دوبارہ حاصل کرنا ہم پر فرض ہے -تقسیم ہندوستان کے منصوبے کے مطابق کشمیر ,مسلم اکثریتی علاقہ تھا جسے پاکستان میں شامل ہونا تھا لیکن ایسا نہ ہوسکا -اہلیان کشمیر نے19 جولائ 1947 کو الحاق پاکستان کی قرارداد منظور کر لی تھی لیکن 27 اکتوبر 1947 کو ہندوستانی افواج ,کشمیر میں گھس گئیں اور وہاں قبضہ کر لیا -

اس وقت قائداعظم نے پاکستانی کمانڈر انچیف کو حکم دیا تھا کہ وہ پاک افواج کو کشمیر میں داخل کردے ! قائد کا فرمان ہے کہ کشمیر ,سیاسی اور قومی اعتبار سے پاکستان کی شہ رگ ہے ,کوئ خود مختار ملک اور قوم یہ برداشت نہیں کر سکتی کہ اپنی شہ رگ دشمن کے حوالے کردے !" افسوس کہ ہم ابھی تک اپنی شہ رگ کو دشمن سے چھڑوانے میں کامیاب نہیں ہوسکے !-کشمیر ,نہ صرف جغرافیائ بلکہ مذہبی ,سیاسی اور اخلاقی بنیادوں پر پاکستان کا حصہ ہے -یہ تکمیل _پاکستان کا نامکمل ایجنڈا ہے -کشمیری دراصل دفاع _پاکستان کی جنگ لڑ رہے ہیں -ہندوستان نے لاکھوں کی تعداد میں یہاں مسلح افواج داخل کر رکھی ہیں-ایک کشمیری شہری پر تین مسلح فوجی مسلط ہیں -روزانہ مقبوضہ کشمیر سے شہریوں اور فوجیوں کے مابین جھڑپوں کی اطلاعات موصول ہوتی ہیں -لاکھوں مسلمان حصول آزادی کی جدوجہد کرتے کرتے جام شہادت نوش کر گئے ,ہزاروں گھر جلاۓ گئے , املاک تباہ کردی گئیں ,آبادیاں قبرستانوں میں تبدیل ہو گئیں -مومن ,پاکباز عورتوں کی آبرو ریزی کر کے انھیں موت کے گھاٹ اتارا گیا ,نوجوانوں اور بچوں کو پکڑ پکڑ کے ان پر ٹارچر سیلوں میں روح فرسا تشدد کیا گیا ,

لیکن المیہ تو یہ ہے کہ عالمی برادری ,ستر سالوں سے سواۓ اظہار افسوس کرنے کے اور کچھ بھی نہیں کر رہی -کسی ملک میں کوئ مظاہرہ ,کوئ ریلی ہو بھی جاۓ تو عملا" بھارت کے اس خون آشام درندے کو لگام ڈالنے کے لئے کوئی طاقت سامنے دکھائی نہیں دیتی ! پانچ اگست 2019 کا دن ,تاریخ کے سیاہ باب کے طور پر یاد رکھا جاۓ گا جب بھارت نے مقبوضہ کشمیر کی بین الاقوامی ,طے شدہ متنازعہ حیثیت ختم کر کے اسے بھارت میں ضم کر لیا -اس اقدام کو اگرچہ بھارت کے اندر بھی غیرآئینی قرار دیا گیا اور یہ انٹرنیشنل قانون کی خلاف ورزی بھی ہے ,کیونکہ مسئلہ کشمیر کے تین فریق ,کشمیر ,پاکستان اور بھارت ہیں ,بھارت یکطرفہ طور پر ایسا قدم اٹھانے کا مجاز نہیں ہے -اس کے پچھے بھارتی جنتا پارٹی کا وہی اکھنڈ بھارت کا خون آشام نظریہ ہے جس کے تحت وہ سب انسانی حقوق پامال کر رہی ہے -مودی کا یہ کہنا کہ کشمیر پر آج یہ وقت آیاہے ,پاکستان پر کل یہ وقت آۓ گا ! اسی متشدد نظریے کا اعلان ہے -اس خونی نظریے نے کشمیر کو خطے میں فلیش پوائنٹ بنادیا ہے -جس کی وجہ سے دو ایٹمی ممالک پاکستان اور بھارت آپس میں برسر پیکار ہیں -

یہ بھی پڑھیں:   شکست یتیم ہوتی ہے، کامیابی کے ہزار باب پیداہو جاتے ہیں - حسین اصغر

بی جے پی کی متشدد اور متعصب حکومت نےآئین کے آرٹیکل 370 اور 35-A کا خاتمہ کر کے جو غیر آئینی اقدام کیا ہے ,اسکی رو سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثت ختم کردی گئ ہے ,اسکا پرچم بھی اب نہیں رہا ہے ,نیز بھارت کے لئے کشمیری زمین خریدنا اب کوئی مسئلہ نہیں رہا اب وہ ہندوؤں کو لا کے یہاں بساۓ گا اور یہاں کی مسلم اکثریتی آبادی کو ظلم و جور کے حیلوں سے اقلیت میں بدل دے گا تاکہ اگر کبھی استصواب راۓ کی نوبت آۓ تو ہندو یہاں اپنے پنجے گاڑ چکے ہوں اور یہ راۓ شماری بھارت کے حق میں جاۓ -بالکل اسی طرح جیسے فلسطینی مسلمانوں کے ساتھ اسرائیل میں ہوا ہے کہ انکی زمینوں پر قبضہ کر لیا گیا ہے -لداخ کو الگ کردیا گیا ہے تاکہ اسے آغاخانی اسٹیٹ بنادیا جاۓ -مزید المیہ یہ کہ بھارت میں چونکہ اکثر بچیوں کو پیدائش سے پہلے ہی مار دیا جاتا ہے اور وہاں خواتین کی تعداد مردوں سے کم ہے ,اب ان کافروں کی نظریں ,کشمیر کے ناموس پر ہیں -ہریانہ کے وزیر کا اعلان کہ ہم کشمیر میں زمین بھی لیں گے اور لڑکیاں بھی ,پوری مسلم دنیا کی غیرت پہ طمانچہ ہے -تیرہ دنوں سے کشمیر میں کرفیو نافذ ہے -وہاں ذرائع مواصلات ,نیٹ سروس بھی بند ہے -کسی صحافی یا رپورٹر کو کشمیر میں جانے کی اجازت نہیں ہے -

اطلاعات کے مطابق ,بھارتی حکومت نے جو مزید تیس ہزار فوج کشمیر میں داخل کی ہے ,وہ دراصل بی جے پی اور آر ایس ایس کے غنڈے ہیں جنہیں آبادی پر حملے کرنے اور خواتین کا گینگ ریپ کرنے کے لئے بھیجا گیا ہے -کشمیر کو مکمل طور پر جیل کی شکل دے دی گئ ہے -وہاں نماز جمعہ اور عید کی نماز پڑھنے کی بھی اجازت نہیں دی گئ -کر فیو کی وجہ سے گھروں میں کھانے پینے کا سامان ختم ہے اور بچے بھوک سے بلک رہے ہیں -یہ صورتحال بہت الارمنگ اور پاکستان سے کوئی عملی قدم اٹھانے کی متقاضی ہے -اگرچہ پاکستان نے سلامتی کونسل کا اجلاس طلب کرنے کی درخواست دی ہے اور ان سطور کے قلمبند ہونے تک شاید وہ اجلاس طلب کیا جا چکا ہو -پاکستان اگر غور کرے تو قدرت نے ایک زبردست موقع اسے دے دیا ہے -پاکستان اصولی لحاظ سے اب دباؤ ڈالنے والی پوزیشن میں آگیا ہے حکومت پاکستان کو چاہئیے کہ وہ اقوام متحدہ میں جارحانہ موقف اپناۓ اور یو این او کو نوٹس دے کہ وہ انڈیا کو اپنی قراردادوں کا پابند بناۓ وگرنہ پاکستان بھی شملہ معاہدہ سے دستبردار ہونے کا اعلان کرتاہے ,مزید برآں پاکستان ,مقبوضہ کشمیر میں اپنی افواج بھیجنے کا اعلان بھی کرے -اگر متنازعہ معاملہ کا ایک فریق ,اپنی فوج بھیج سکتا ہے تو پھر دوسرا فریق بھی ایسا کر سکتا ہے -

یہ بھی پڑھیں:   تقسیم کشمیر کے آخری مراحل ! - علی حسنین نقوی

اگر اس بار بھی اقوام متحدہ ,بھارت کو اپنی قراردادوں کا پابند کرنے میں ناکام رہتی ہے اور پاکستانی اور کشمیری مسلمانوں کو خالی خولی لفظی تسلیوں پر ٹر خادیا جاتا ہے تو پھر ملت اسلامیہ کو اپنی بقا کی خاطر ایک بڑا فیصلہ کرلینا چاہئیے, اور وہ یہ کہ مسلم ممالک پر مشتمل اپنی "اقوام ملت " بنا لینی چاہئیے ! جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں ہوتی ,انکی اطلاع کے لئے عرض ہے کہ آزاد کشمیر بھی پاکستانیوں نے جنگ کر کے ہی چھڑوایا تھا ! افغانستان نے سترہ سال جہاد کر کے آزادی حاصل کر لی جبکہ کشمیر کا مسئلہ ستر سالوں سے اقوام متحدہ جیسے بے جان ادارے نے لٹکا رکھا ہے - ہمیں ہر صورت اپنی کھوئی ہوئ جنت کو دوبارہ حاصل کرنا ہے شیر کی ایک دن کی زندگی ,گیدڑ کی سو سالہ زندگی سے بہتر ہے !اہلیان پاکستان کو ,اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑے ہوکر کشمیر کی جنگ لڑنا ہوگی -اگر اس وقت بھی آپ نہیں اٹھے تو پھر خدانخواستہ اپنےوطن کو بھی کشمیر جیسا مقتل بنتے دیکھو گے -وقت آگیا ہے کہ بھارت سے بھارت کی زبان میں بات کی جاۓ !
درد کہاں تک پالا جاۓ - یدھ کہاں تک ٹالا جاۓ -تو بھی رانا کا ونشج پھینک جہاں تک بھالا جاۓ !
یعنی ہم سب کو اپنے حصے کا بھالا پھینک مارنے کی ضرورت ہے !