نفرت سے محبت - الطاف حسن قریشی

یومِ آزادی 14اگست کی خوشیوں میں مجھے 73سال پہلے کے واقعات ایک ایک کر کے یاد آئے جب میں نے دسویں جماعت کا امتحان دیا تھا اور پاکستان بننے کے آثار بہت نمایاں ہو گئے تھے۔ 1945اور 1946کے مرکزی اور صوبائی انتخابات میں آل انڈیا مسلم لیگ نے 98فیصد کے قریب مسلم نشستیں جیت لی تھیں اور یہ ثابت ہو گیا تھا کہ یہی جماعت مسلمانوں کی نمائندگی کرنے کا حق رکھتی ہے، چنانچہ وائسرائے لارڈ ویول اور انڈین نیشنل کانگریس کی قیادت نے بادل نخواستہ آل انڈیا مسلم لیگ کا یہ حق تسلیم کر لیا تھا اور اس کے نتیجے میں ہندوستان کی تقسیم کا اصولی فیصلہ ہو گیا تھا۔ ہندوستان کے بٹوارے کا تصور سب سے پہلے معروف ناول نگار عبدالحلیم شرر نے دیا تھا کیونکہ ہندو اور مسلمانوں کے عقائد اور سماجی رویوں میں فرق بہت وسیع اور گہرا تھا مگر جناب محمد علی جناح جو 1916میں کانگریس اور مسلم لیگ میں ایک ممتاز حیثیت رکھتے تھے، نے اپنی مصالحانہ کوششوں سے دونوں کے مابین لکھنؤ معاہدہ کرایا۔ اُس میں کانگریس نے مسلمانوں کیلئے جداگانہ انتخابات سے اتفاق کر لیا تھا مگر بعد میں آنے والے دس برسوں میں ہندو قیادت نے اس قدر تنگ نظری، منافقت اور نفرت کا مظاہرہ کیا کہ قائداعظم کانگریس کی قیادت سے مایوس ہو گئے۔ اسی دوران 1925میں آر ایس ایس وجود میں آئی جس نے یہ نعرہ دیا کہ ہندوستان میں صرف ہندوؤں کو رہنے اور حکومت کرنے کا حق حاصل ہے جبکہ مسلمانوں کو سعودی عرب چلےجانا چاہئے ورنہ انہیں ہندو مت قبول کرنے پر مجبور کر دیا جائے گا۔

وہ ہندو اور سکھ طلبہ جو پہلی جماعت سے میرے ساتھ پڑھتے آئے تھے اور ہمارا ایک دوسرے کے گھروں میں آنا جانا بھی تھا، کے گھر کی خواتین ہمیں اچھوت سمجھتی تھیں۔ پانی بھی ہمیں کوک سے پلایا جاتا اور کھانا پیپل کے پتوں پر رکھ کر دیا جاتا۔ یہ تو عام رویہ تھا مگر قراردادِ لاہور کے بعد ان کے رویوں میں حیرت انگیز تبدیلی واقع ہوتی گئی۔ ہمارے ہم جماعتوں کی آنکھوں میں حقارت اور نفرت کے شعلے صاف دکھائی دینے لگے، انہوں نے فوجی تربیت لینا شروع کر دی تھی کہ وہ ایک منصوبے کے تحت مسلمانوں کا مکمل صفایا کر دینا چاہتے تھے۔ وہ کہتے کہ پاکستان کا شوشہ انگریزوں نے چھوڑا ہے جو ہماری بھارت ماتا کو تقسیم کرنا چاہتے ہیں حالانکہ وائسرائے لارڈ ویول آخری وقت تک اسی کوشش میں سرگرداں رہے کہ ہندوستان کی تقسیم روکی جائے۔ دراصل کانگریس کو 1937اور 1939کے دوران ہندوستان کے سات صوبوں میں حکومت کرنے کا موقع ملا، مسلم اقلیت پر ایسے ایسے مظالم ڈھائے گئے جن سے اسلامیانِ ہند کی آنکھیں کھل گئیں اور ان کے اندر اپنا وطن حاصل کرنے کا جذبہ بیدار ہوتا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ آل انڈیا مسلم لیگ کے سالانہ اجلاس میں جو 1940میں لاہور میں مسلمانوں کیلئے ایک لائحہ عمل وضع کرنے کیلئے طلب کیا گیا تھا، میں پورے ہندوستان سے ایک لاکھ سے زائد مندوبین شریک ہوئے اور معروف مسلم اکابرین نے حصہ لیا۔ ایک زبردست آئینی جدوجہد کے ذریعے قائداعظم کی بے مثال قیادت میں 3جون 1947کی رات تقسیمِ ہند اور قیامِ پاکستان کا اعلان ہوا۔

پاکستان تین بڑی طاقتوں کے مابین طویل مذاکرات اور معاہدے کے نتیجے میں معرض وجود میں آیا، ایک طرف برطانوی حکومت تھی، دوسری طرف انڈین نیشنل کانگریس اور تیسری طرف آل انڈیا مسلم لیگ۔ وائسرائے لارڈ ماؤنٹ بیٹن جن کے کانگریسی لیڈروں کے ساتھ درپردہ گہرے تعلقات استوار ہو چکے تھے اور بڑے بڑے معاملات وی پی کرشنا مینن کے ذریعے طے پا رہے تھے، دونوں مملکتوں کے مشترکہ گورنر جنرل بننے کے آرزو مند تھے مگر قائداعظم کی ژرف نگاہی نے ان کی یہ خواہش پوری نہ ہونے دی۔ اس پر خفا ہوکر انہوں نے پاکستان کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا۔ ریڈ کلف ایوارڈ میں اس طرح ردوبدل کیا گیا کہ ضلع فیروز پور اور ضلع گورداسپور کے مسلم اکثریتی علاقے بھی بھارت کو دیدیئے گئے اور یوں اسے کشمیر تک زمینی راستہ مل گیا۔ اس کے علاوہ انہوں نے وائسرائے کی حیثیت استعمال کرتے ہوئے پانچ سو سے زائد ریاستیں بھی بھارت میں شامل کروائیں۔ ریاست جموں و کشمیر، جو ہر اعتبار سے پاکستان کا حصہ بنتی تھی، پر بھارت کا غاصبانہ قبضہ کرا دیا۔ ہندوؤں کے رویوں میں مسلمانوں کے خلاف شدید نسلی اور مذہبی نفرت بھری ہوئی تھی، اسی لئے تقسیم کا اعلان ہوتے ہی فسادات پھوٹ پڑے جن میں دس لاکھ سے زائد مسلمان شہید کر دیئے گئے اور ایک کروڑ کے قریب ہجرت کرنے پر مجبور ہوئے۔

آر ایس ایس جو آج بھارتیہ جنتا پارٹی کی صورت میں دو تہائی اکثریت سے اقتدار پر قابض ہو چکی ہے، کی پاکستان کے خلاف نفرت کی شدت کا اندازہ اس المناک واقعہ سے لگایا جا سکتا ہے کہ تقسیم کے بعد بھارتی حکومت نے پاکستان کےاثاثے روک لئے تھے، اس پر مہاتما گاندھی نے اس ناانصافی کے خلاف مرن بھرت رکھا، تو آر ایس ایس کے ایک جیالے نے انہیں قتل کر دیا۔ مودی کے ہاں مسلمانوں کے خلاف مذہبی منافرت جنون کی حدوں کو چھو رہی ہے۔ وہ پاکستان کو زیادہ سے زیادہ نقصان پہنچانے سے دریغ کرے گا نہ انسانی اقدار کا پاس رکھے گا۔ وہ نفرت سے ٹوٹ کر محبت کرتا ہے، اسی لئے اس نے کشمیر کو ہڑپ کرتے وقت اپنے آئین کا خیال رکھا نہ بین الاقوامی معاہدوں اور قانونی ضابطوں کا۔ وہ اس گمان کا شکار ہے کہ اس کا ہاتھ روکنے والا دنیا میں کوئی نہیں۔

اس کٹھن مرحلے میں پاکستان کے آپشن کیا ہیں، اس اہم سوال پر ان دنوں بحث جاری ہے۔ ہمارے حقیقت پسند وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے قوم کو صاف صاف بتا دیا ہے کہ مسلم اُمہ بھارت کے ساتھ مفادات کی اسیر ہے اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں لوگ ہمیں ہار پہنانے کے لئے موجود نہیں ہوں گے۔ اب ایک ہی راستہ باقی رہ گیا ہے کہ پاکستان پوری استقامت کے ساتھ حق کا ساتھ دیتا اور کشمیری عوام کو عملی اقدامات سے اپنی مکمل حمایت کا یقین دلاتا رہے۔ یہ صبر آزما کام دو باتوں کا متقاضی ہے۔ ایک کامل قومی اتفاق اور دوسرا معاشی استحکام۔ قومی اتفاق کیلئے حکومت اور اپوزیشن کو ایک دوسرے پر تیر اندازی اور نفرت کی یلغار کے بجائے اعلیٰ ظرفی، دوربینی اور اعتدال کا راستہ اپنانا اور عوام کو ایک طویل اعصابی جنگ جیتنے کیلئے تیار کرنا ہوگا۔ حالات بڑے نازک ہیں اور اندرونی اور بیرونی چیلنجز میں کئی گنا اضافہ ہو چکا ہے۔ ہر قدم اٹھانے سے پہلے قومی سطح پر گہرے غور و فکر کی اشد ضرورت ہے۔ پوری تیاری کے بغیر سلامتی کونسل میں جانا نئے خطرات کو جنم دے سکتا ہے۔ سمجھوتا ایکسپریس اور تھر ٹرینوں کی آمدورفت اچانک روک دینے سے اُن پاکستانیوں کیلئے مشکلات پیدا ہوں گی جو بھارت جا چکے ہیں۔ آمدورفت ختم ہو جانے سے 1965کی جنگ کے زمانے میں پاکستانی شہری جیل میں ڈال دیئے گئے تھے کیونکہ ان کے ویزے ختم ہو گئے تھے۔