مجھے مایوس ہونے سے بچائیں - عطاء الحق قاسمی

میں کسی زمانے میں یوم آزادی کے جلسوں میں ان مقررین سے بہت چڑتا تھا جو گزرے برسوں کے مصائب لے کر بیٹھ جاتے تھے۔ میں نے کئی دفعہ لکھا کہ قومی محرومیوں اور ناکامیوں کے بیان کے لئے آپ کے پاس سال کے 364دن ہوتے ہیں، ان 364دنوں میں دل کی بھڑاس نکال لیا کریں لیکن جب 365ویں دن 14اگست کو پاکستان کی سالگرہ آئے تو خدا کے لئے اس روز صرف خوشیاں منایا کریں، پاکستان کیلئے دعا کیا کریں اور وہ کامیابیاں گنوایا کریں جو بہت سی ناکامیوں کے باوجود ہم نے حاصل کیں۔ پاکستان کی سالگرہ والے دن مجھے رونا دھونا ایسے ہی لگتا تھا جیسے آپ کی سالگرہ ہو اور اس تقریب کے شرکا آہ و بکا شروع کر دیں کہ گزشتہ برس آپ کی پیاری پھوپھی صاحبہ انتقال کر گئی تھیں، سائیکل چلاتے ہوئے آپ کی دھوتی چین میں پھنس گئی تھی اور آپ سڑک پر گھسٹتے چلے گئے تھے، اس کے باوجود چونکہ آج آپ کی سالگرہ ہے لہٰذا ہیپی برتھ ڈے ٹو یو...!

البتہ گزشتہ 72برسوں میں دو 14اگست ایسے آئے ہیں جن کے صدموں سے باہر نہیں نکل سکا، جنہوں نے مجھے اندر سے توڑ کر رکھ دیا، ایک جب سقوطِ مشرقی پاکستان کا سانحہ پیش آیا تھا اور دوسرا ان دنوں جو سقوطِ کشمیر کا دلدوز واقعہ سامنے آیا۔ میں نے اگرچہ اس بار بھی اپنے گھر کی چھت پر پاکستان کا سبز ہلالی پرچم لہرایا مگر دل تھا کہ کشمیریوں پر ہونے والے بدترین مظالم پر اندر سے گریہ کناں تھا۔ بھارت کا نریندر مودی بدنام زمانہ قاتل ہے، اس نے بھارتی گجرات میں مسلمانوں کا قتل عام کیا تھا اور ایک وقت تھا کہ مہذب ممالک میں اس کا داخلہ بند کر دیا گیا تھا۔ آج یہ ننگِ انسانیت شخص بھارت کا وزیراعظم ہے اور ہندو انتہا پسندوں کی اکثریت سے انتخابات میں کامیابی حاصل کی ہے، چنانچہ اب یہ بدبودار فرقہ پرست ہندو بھارت کی گلیوں اور بازاروں میں دندناتے پھر رہے ہیں اور جہاں کوئی اکیلا مسلمان نظر آئے اس پر بہیمانہ تشدد کرتے ہیں، دوسری طرف بھارت کی آٹھ لاکھ فوج ہے جو کشمیر میں کشمیریوں کے قتل عام میں مصروف ہے۔ وہ ہمارے نوجوانوں اور بوڑھوں کے علاوہ ہماری بیٹیوں، بہنوں اور مائوں کو چاقوئوں، چھریوں اور لاٹھیوں سے صرف لہولہان ہی نہیں کرتے بلکہ خواتین کی بےحرمتی بھی کرتے ہیں۔ بھارتی فوج اب تک ایک لاکھ کشمیریوں کو گولیوں سے بھون چکی ہے مگر ان حریت پسندوں کے جذبہ آزادی اور پاکستان سے بے پایاں محبت میں کوئی کمی نہیں آئی۔ میں سلام کرتاہوں ان شہیدوں اور غازیوں کو اور حریت کی ایک نئی داستان رقم کرنے والے سید علی گیلانی، یٰسین ملک اور دوسرے کشمیری رہنمائوں کو جو ہر طرح کے جبر اور تشدد کے سامنے سیسہ پلائی دیوار کی طرح کھڑے ہیں۔ اب تو محبوبہ مفتی اور عمر فاروق بھی بھارت کی کاسہ لیسی سے باز آکر کشمیریوں کے حق میں آواز اٹھانے پر مجبور ہو گئے ہیں۔

مگر سوال یہ ہے کہ بھارت نے اپنے ہی آئین اور اپنے ہی رہنمائوں کے سابقہ وعدوں اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کو پائوں تلے روندتے ہوئے کشمیر کو بھارت کا حصہ قرار دے ڈالا ہے۔ ابھی تک ہماری طرف سے صرف بیانات کی ’’بمباری‘‘ جاری ہے بلکہ ہمارے وزیر خارجہ تو کہہ رہے ہیں کہ سلامتی کونسل، اقوام متحدہ اور بیرونی دنیا میں ہماری کہیں شنوائی نہیں ہوگی۔ دوسرے لفظوں میں وہ قوم کو ’’ان اللہ مع الصابرین‘‘ کی تلقین کر رہے ہیں۔ میں کیا دنیا کا کوئی فہم و ادراک رکھنے والا انسان جنگ کی تباہ کاریوں سے واقف ہونے کی وجہ سے کبھی بھرپور جنگ کی حمایت نہیں کر سکتا، مگر کم از کم آزاد کشمیر کے بارڈر پر ہماری فوجوں کی وسیع پیمانے پر نقل و حرکت تو نظر آنا چاہئے، کوئی ایک آدھ طیارہ چند سیکنڈز کے لئے مقبوضہ کشمیر کی فضائوں کا چکر کاٹ کر واپس تو آئے، ہمارے ان اقدامات سے کشمیریوں کے حوصلے مزید بلند ہو جائیں گے۔ انہیں احساس ہوگا کہ ایک ایٹمی طاقت کا ہاتھ ان کے سروں پر ہے، ہم غلط وقت پر کشمیریوں سے اپنی عملی ہمدردی جتاتے رہے ہیں، جس سے فائدے کے بجائے الٹا انہیں نقصان پہنچا، اب وقت ہے کہ ہم انہیں ان کے شانہ بشانہ کھڑے نظر آئیں، مگر مجھے ایسا لگتا نہیں ہے، میں زندگی میں نہ صرف کبھی مایوس نہیں ہوا بلکہ بیسیوں کالم ناامیدی کے خلاف لکھ چکا ہوں مگر آج میں مایوس ہوں اور میری مایوسی اس وقت ختم ہوگی جب موجودہ حکومت اور اس کے زیر انتظام ادارے مظلوم کشمیریوں کی آہ و بکا سنیں گے اور پھر کچھ نہ کچھ امید افزا اپوزیشن کی پابند سلاسل قیادت کو اپنے ساتھ لے کر چلنا بھی شامل ہے، اگر یہ کڑوی گولی ہے تو بھی کشمیر اور پاکستان کے استحکام کیلئے نگل لیں۔