حدیث کہانی* *میں جنت جاٶں گا* ام محمد عبداللہ

”امی امی جی!“ کاشف کھیلتے کھیلتے گر گیا تھا۔ گھٹنے پر چوٹ لگ گٸی تھی اور خون بھی نکل آیا تھا۔ امی جی نے دیکھا تو زخم صاف کر کے مرہم پٹی کرنے لگیں۔ کاشف مسلسل ہاٸے واٸے کرتا جا رہا تھا۔ ”بس کرو کاشف بیٹے! یہ دنیا ہے یہاں تو انسان گرتا بھی ہے اور چوٹ بھی لگتی ہے، البتہ جنت میں جتنا چاہو کھیلنا نہ گرو گے نہ چوٹ لگے گی۔ “ ”جنت! جنت تو بہت خوبصورت ہو گی امی جان۔ جنت کی کھجوروں کے تنے سبز زمرد کے ہوں گے اور ٹہنیوں کی جڑیں سرخ سونے کی ہوں گی۔

اس کا پھل مٹکے کے برابر ہو گا جو دودھ سے زیادہ سفید، شہد سے زیادہ شریں اور مکھن سے زیادہ نرم ہو گا۔ مگر جنت جائیں کیسے؟“ امی جان کے سمجھانے پر کھجوروں کے شوقین کاشف کی توجہ چوٹ سے ہٹ کر جنت کی جانب چلی گئی تھی۔ ”ہمارے پیارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو لا الہ الا اللہ کہے گا وہ جنت میں جاٸے گا۔“ کرن جو قریب ہی بیٹھی تھی کاشف کی بات سن کر بولی۔ ”شاباش کرن بیٹی! دادی جان بھی کمرے میں موجود تھیں اور کرن کے حدیث بیان کرنے پر بہت خوش ہوئیں۔“ ”یہ تو آسان ہے۔“ کاشف پڑھنے لگا ”لا الہ الا اللہ“ ============
”لا الہ الا اللہ پڑھتا ہوں، میں جنت جاٶں گا، کبھی نہ چوٹ لگے گی، شہد، کھجوریں کھاٶں گا“ کاشف قالین پر بیٹھا بلاکس کے ساتھ کیھلتے ہوئے اپنی تازہ ترین نظم گنگنا رہا تھا کہ بابا جانی کمرے میں داخل ہوئے اور مسکراتے ہوئے کاشف سے پوچھنے لگے۔ ” اچھا بھائی لا الہ الا اللہ کا مطلب تو بتائئے“ ”اس کا مطلب ہے اللہ کے سوا کوئی الہ نہیں۔“ کاشف نے جھٹ سے ترجمہ سنایا پھر کچھ سوچتے ہوئے بولا ...”بابا جانی الہ کا کیا مطلب ہے؟“

” کوئی الہ نہیں سوائے اللہ کہ یعنی صرف اللہ ہی کی ذات عبادت کے لائق ہے۔ اللہ تعالی ہی تمام جہان کا مالک و حاکم ہے۔ تمام چیزیں اس کی محتاج اور اس سے مدد مانگنے پر مجبور ہیں۔ ہم اسے نہیں دیکھ سکتے اور نہ ہی ہماری عقل اس کی قدرت اور طاقت کا اندازہ لگا سکتی ہے ۔“ بابا جانی نے تفصیلاََ جواب دیا۔
بابا جانی آخر اس کلمے میں ایسی کون سی بات ہے جو اس کے ماننے والوں کو کامیاب اور نہ ماننے والے کو ناکام و نامراد کر دیتی ہے ۔ سلمان کلمے کا مطلب گہراٸی میں جاننے کا خواہاں تھا۔ پیارے سلمان جب کوئی بندہ اپنے دل کی آمادگی اور مکمل عقل شعور کے ساتھ اللہ تعالی کی وحدانیت اور ہر ہر اعتبار سے ہر شے پر اس کی حاکمیت کا اقرار کر لیتا ہے تو اس میں کچھ خصوصیات پیدا ہو جاتی ہیں۔ جو اللہ تعالی کی ذات سے انکار کرنے والوں اور شرک کرنے والوں میں ہو ہی نہیں سکتیں۔“ ”اچھا! وہ کیا“ سائرہ اور کرن بھی وہیں آن بیٹھی تھیں۔ ”لا الہ الا اللہ کااعتقاد انسان کے اندر تمام مخلوقات کے لیے محبت کا جذبہ بیدار کرتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   روشنی کا سفر - ام محمد عبداللہ

یہ کاٸنات اس کے لیے خدائے واحد کا تخلیق کردہ ایک کنبہ ہے جس کا وہ خود ایک حصہ ہے اور باقی سب کے ساتھ اسے اپنائیت سے رہنا ہے۔ یہ کلمہ انسان میں خودی کو بیدار کرتا ہے۔ انسان جان لیتا ہے کہ نفع و نقصان کا مالک اللہ تعالی ہے پس وہ غیر اللہ کے آگے جھکنے سے بچ جاتا ہے۔ خودی کے ساتھ ساتھ لا الہ الا اللہ پر ایمان انسان میں انکساری پیدا کرتا ہے اسے معلوم ہوتا ہے کہ اسے عطا کردہ تمام نعمتیں اور صلاحتیں اس کی اپنی نہیں بلکہ اللہ وحدہ لا شریک کی عطا کردہ ہیں اور یہ سوچ غرور کی جڑ کاٹ دیتی ہے۔“ بچے بہت غور سے بابا جانی کی باتیں سن رہے تھے۔ ”اس کلمے کو ماننے والا جانتا ہے کہ نیک عمل کے سوا نجات کا کوئی راستہ نہیں۔ اس لیے وہ نیکیوں کی دوڑ میں آگے سے آگے نکلنے کی کوشش کرتا ہے۔ پھر اسی طرح ایک زبردست خدا کو ماننے والا کبھی مایوس نہیں ہوتا وہ جانتا ہے کہ بظاہر ناممکن اور مشکل ترین حالات کو اس کا اللہ لمحوں میں آسان کر سکتا ہے۔ پس وہ پر امید رہتے ہوٸے اسی کی جانب لپکتا ہے۔

کلمہ پر ایمان رکھنے والا انسان پرعزم اور بہادر ہوتا ہے وہ جانتا ہے کہ اس کی پشت پر زبردست طاقت والا اللہ ہے جو اسے کبھی ضاٸع نہیں کرے گا۔ اسی یقین پر وہ بڑی سے بڑی طاقت اور مشکل کے سامنے ڈٹ جاتا ہے۔ اس کلمے پر ایمان رکھنے والا انسان اللہ کے فیصلوں پر راضی اور دنیاوی شان و شوکت سے بےنیاز ہوتا ہے۔ حسد جیسی بیماریاں اس کے قریب بھی نہیں آتیں۔ سب سے بڑھ کر لا الہ الا اللہ کا اعتقاد انسان کو اللہ کے قانون کا پابند بناتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ اللہ البصیر ہے وہ اسے دیکھ رہا ہے اس لیے لوگوں میں تو درکنار تنہائی میں بھی لا الہ الا اللہ کا اقرار کرنے والا برائی کے قریب نہیں جاتا۔“ بچے بہت انہماک سے بابا جانی کی باتیں سن رہے تھے۔ لا الہ الا اللہ کا مطلب تو مجھے آج سمجھ میں آیا۔ سائرہ نے گہری سانس لیتے ہوئے کہا وہ اس کلمے کی بھاری ذمہ داری اپنے کندھوں پر محسوس کرنے لگی تھی۔ کاشف شہزادے! آپ کو بھی کچھ سمجھ آیا کہ نہیں۔ امی جان نے لاڈ سے کاشف کی ناک کھینچی۔ جی! ... مجھے سمجھ آیا کہ ...مجھے ... ہرشے میرے اللہ کی ہے تو مجھ ہر شے کا خیال رکھنا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   روشنی کا سفر - ام محمد عبداللہ ( قسط نمبر 2 )

نفع و نقصان کا مالک صرف میرا اللہ ہے تو مجھے کسی کے آگے نہیں جھکنا ...ہر کامیابی اللہ کی دی ہے تو غرور نہیں کرنا ...نیکیوں کی دوڑ میں کرن سے آگے نکلنا ہے۔ صرف کرن سے ... سب ہنسنے لگے تھے جبکہ کرن نے ”آگے نہیں نکلنے دوں گی“ کا نعرہ لگایا تھا ...اچھا اور کیا سمجھ آیا ... بابا جانی کو اس کا معصوم انداز بہت پیارا لگ رہا تھا۔ ....اور .....یہ کہ میرا اللہ بہت زبردست طاقت والا ہے اس لیے مجھے کبھی مایوس نہیں ہونا اور بہت بہادر بننا ہے۔ مطمئن رہنا ہے کسی سے حسد نہیں کرنا ....اور اور کاشف سر کھجانے لگا تو کرن بولی ...اور اپنے اللہ کی ہر بات ماننی ہے کیونکہ وہ ہمیں ہر حال میں اور ہر جگہ پر دیکھ رہا ہے اور جلد ہی ہماری اپنے اللہ سے ملاقات بھی ہونی ہے۔ شاباش بچو!! اللہ تعالی آپ سب کو کامیاب فرماٸے۔ بابا جانی خوش ہو کر بولے تو کاشف پھر سے گنگنانے لگا .. میں لا الہ الا اللہ پڑھتا ہوں ....معنی بھی اس کے سمجھتا ہوں ..اور .... اب اس کو عمل میں لاؤں گا ...میں تو جنت جاٶں گا .....کھجوریں کھاٶں گا ..امی جان نے ان شاءاللہ کہا ..اور کاشف کی شاعری پر سب ہنسنے لگے۔..