نیّر زیدی کی امریکہ میں گرفتاری پر خاموشی کیوں؟ - تزئین حسن

بچپن سے جنگ اور اخبار جہاں کے صفحات پر ایک نام دیکھتے رہے، نیّر زیدی، جس کے ساتھ واشنگٹن کچھ ایسے جڑا ہوتا کہ نام کا ہی حصہ محسوس ہوتا۔ انھی نیر زیدی کو 2008ء میں امریکہ میں گرفتار کیا گیا۔ مجھے کوئی تین سال پیشتر ایک پٹیشن نیٹ پر ملی تھی جسے کوئی چالیس کے قریب لوگوں نے سائن کیا تھا۔ پٹیشن کے ساتھ ایک تفصیلی مضمون بھی تھا جس پر کوئی تاریخ موجود نہیں۔ اور کوئی حوالہ بھی موجود نہیں کہ دی گئی معلومات کہاں سے لی گئی ہے۔

نیّر زیدی ورجینیا میں بیس سال سے زائد عرصے سے مقیم تھے، اور جنگ، اخبار جہاں، جیو، بی بی سی اردو، اور بہت سے دوسرے میڈیا کے لیے سیاسی تجزیہ کاری کرتے تھے۔ مضمون کے مطابق انھیں ایف بی آئی نے با قاعدہ ایک جرم میں ملوث کر کے اغوا کیا اور یہ ایک طرح سے وار آن ٹیرر کی سفاکیوں کا شکار ہوئے۔ ایف بی آئی نے نائن الیون کے بعد انھیں اپنا انفارمنٹ یعنی جاسوس بننے کا آفر کی جسے انھوں نے مسترد کر دیا۔ اس کے کچھ عرصے بعد انھیں دہشت گردی کے الزام میں ملوث کرنے کی کوشش کی گئی اور ان کی اپنی جاسوسی کی گئی۔ ان کی فون کالز اور انٹرنیٹ وغیرہ کوٹیپ کیا گیا۔ ایڈورڈ سنو ڈن اور کچھ دیگر گھر کے بھیدیوں نے اس بات کو بےنقاب کیا ہے کہ امریکی حکومت کے محکمے ایسی حرکتوں میں ملوث رہے ہیں۔ اب یہ بات خود امریکا میں بھی تسلیم شدہ ہے۔

پٹیشن کے ساتھ دیے گئے مضمون کے مطابق 2003ء میں سی این این کے جوناتھن مین نامی اینکر نے نیّر زیدی کے ساتھ انسائٹ ود جوناتھن مین میں انٹرویو بھی کیا۔ اس انٹرویو کی ٹرانسکرپٹ ریکارڈ اور وڈیو ہٹا دی گئی ہے۔ اگر آپ نیّر زیدی اور جوناتھن مین کو گوگل کریں تو اس انٹرویو کا ٹرانسکرپٹ لنک سامنے آتا ہے لیکن پیج کام نہیں کر رہا کا انگریزی میسج سامنے آتا ہے-

مضمون کے مطابق 2008ء میں نیر زیدی کو ایک فون کال موصول ہوئی جس کے مطابق ایک ماں نے اپنی تیرہ سالہ بیٹی کے بارے میں بتایا کہ وہ کسی بوڑھے آدمی کے ساتھ جنسی صحبت کرنا چاہتی ہے۔ نیّر زیدی نے ماں اور بیٹی سے پرائیویٹ پلیس پر ملنے سے انکار کر دیا لیکن تجسس سے مجبور ہو کر ایک پبلک پلیس یعنی ایک پارکنگ لاٹ میں ملنے کی آمادگی ظاہر کی۔ وقت مقررہ پر جیسے ہی وہ پارکنگ لاٹ میں گاڑی سمیت داخل ہوئے، وہاں موجود بڑی تعداد میں ایف بی آئی کے نمائندوں نے بغیر کسی وارنٹ کے انھیں گرفتار کر لیا۔ ان پر الزام لگایا گیا کہ انھوں نے انٹرنیٹ پر ایک تیرہ سالہ بچی کو جنسی صحبت کے لیے بھلا پھسلا کر راضی کیا اور اب اس سے ملنے یہ وہاں پہنچے تھے۔ ان کی گرفتاری اور اس الزام کی تصدیق انٹرنیٹ پر موجود دوسرے مضامین سے بھی ہوتی ہے۔ انٹرنیٹ پر موجود دوسرے مضامین کے مطابق الزام میں یہ بات بھی صراحت کے ساتھ موجود ہے کہ فون پر لڑکی کی ماں کی جگہ ایف بی آئی کا کوئی انڈر کور ایجنٹ موجود تھا۔

یہ بھی پڑھیں:   سچ کی تلاش - رعایت اللہ فاروقی

نیّر زیدی کو وارنٹ کے بغیر گرفتار کیا گیا اور 23 مارچ کو تین بعد جب جج کے سامنے پیش کیا گیا تو اس وقت بھی ان کے خلاف کوئی پولیس وارنٹ موجود نہیں تھا جو کہ امریکی آئین کی پانچویں ترمیم کی خلاف ورزی ہے۔ اس کے علاوہ انھیں کسی گرینڈ جیوری کے سامنے بھی پیش نہیں کیا گیا۔ امریکی انٹیلی جنس ایجنسیز نے ان کے وکلاء کو ہراساں کیا اور بالآخر نیّر زیدی نے اپنا کیس خود لڑنے کا فیصلہ یہ جانتے ہوئے کیا کہ امریکا میں یہ بات ہمیشہ مدعا علیہ کے خلاف جاتی ہے۔ یاد رہے ان پر اٹھارہ سال سے کم عمر یعنی ایک تیرہ سالہ بچی کو غیر قانونی (امریکی قانون کے مطابق) جنسی سرگرمی کے لیے اکسانے، ترغیب دینے، ورغلانے، جبر کرنے کا الزام ہے۔

انٹرنیٹ پر ہی ارشاد سلیم، دیس پردیس نامی ویب سائٹ کے ایڈیٹر کا بہت صاف اور شستہ انگریزی میں لکھا ہوا ایک اور مضمون بھی موجود ہے۔ مضمون پر نام موجود نہیں لیکن مصنف کا کہنا ہے کہ جولائی کے مہینے میں نیّر زیدی کی شریک حیات شاہین نے ان سے رابطہ کیا اور انھیں بتایا کہ وہ کوئی تین مہینے سے جیل میں ہیں۔ شاہین نے ان صاحب کو نیّر زیدی کی جیل میں ہونے والے رابطوں کی تفصیلات سے بھی آگاہ کیا۔ پھر ان صاحب کو نیّر زیدی کی فون کال اوہائیو جیل سے موصول ہوئی جس میں ان کی درخواست تھی کہ اس معاملے کو پبلک کیا جائے۔ ارشاد سلیم کے مطابق نیّر زیدی کا کہنا تھا کہ وہ اس سے قبل اوہائیو جیل میں ان قیدیوں کے لیے آواز اٹھانے کے سلسلے میں ریسرچ کرنے آئے تھے جنھیں انصاف ملنے میں رکاوٹ کا سامنا تھا لیکن آج وہ خود اوہائیو جیل میں ایک قیدی کی حیثیت سے موجود تھے۔

ارشاد سلیم کے مطابق انھوں نے کیس پر تبصرہ کیے بغیر نیّر زیدی کو اخلاقی مدد دینے کا وعدہ کیا اور ان دستاویزات کو تفصیلی طور پر دیکھنے کا بھی وعدہ کیا- اس کے بعد انھوں نے پاکستانی ایمبیسی واشنگٹن کے پریس اتاشی کیانی سے رابطہ کیا جس پر کیانی نے انھیں بتایا کہ انھیں حال ہی میں پاکستانی سفیر حسین حقانی سے نیّر زیدی کی گرفتاری کی اطلاع ملی ہے اور حسین حقانی بھی اس پر "تشویش زدہ" ہیں۔

نیٹ ہی پر موجود ایک اور مضمون میں ڈیلی ٹائمز کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ نیّر زیدی سے 2003ء میں ایف بی آئی نے رابطہ کیا اور انھیں بتایا کہ ان کے گھر کے فون نمبر سے نائن الیون کے بعد دس مختلف بیرون کالز کی گئیں جن میں انڈیا، پاکستان، چین، ہالینڈ اور تھائی لینڈ شامل ہیں، اور یہ نمبر نائن الیون کی واردات میں شامل تفتیش ہیں۔ ان سے کہا گیا کہ وہ اپنی ٹیلی فون بک ایف بی آئی سے شئیر کریں۔ نیّر زیدی نے اس درخواست یا حکم کی تعمیل سے انکار کر دیا۔ اس سے قبل نیّر زیدی سے امریکی انٹیلی جنس حکام نے 1995ء میں بھی رابطہ کیا تھا جب یہ پی ٹی وی کے لیے کام کرتے تھے اور انھیں مخبر بننے کی آفر کی تھی جسے انھوں نے مسترد کر دیا تھا۔ اس پٹیشن کے مطابق نیّر زیدی تاحال جیل میں ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   فواد چوہدری، خالی نقشے اور نیپال میں خودکشی - محمد عرفان ندیم

نائن الیون کے بعد امریکا میں صحافیوں کو ہراساں کرنے کے کئی واقعات سامنے آئے ہیں اور انھیں اپنی معلومات کی سورسز شئیر کرنے کے احکامات بھی موصول ہوئے ہیں جیسے نیو یارک ٹائمز کی صحافی جنھوں نے عراق میں بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کی تصدیق پر مبنی مضامین بغیر سورس کا نام لیے شائع کیے۔ لیکن نیّر زیدی کا معاملہ مختلف تھا۔ ان کے کسی مضمون سے امریکی پالیسی سازوں نے استفادہ نہیں کیا تھا۔ جہاں تک بات تیرہ سالہ لڑکی کو جنسی زیادتی کے لیے ورغلانے کی ہے تو اگر واقعی نیّر زیدی اس قسم کا کردار رکھتے تھے تو انھیں لڑکی سے کسی پرائیویٹ جگہ ملنا چاہیے تھا۔ کسی بھی فیملی رکھنے والے بظاہر باعزت پاکستانی کی ترجیح ایسے معاملات میں یہی ہوگی۔

یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جنگ گروپ نے نیّر زیدی کی گرفتاری پر کوئی آواز کیوں نہیں اٹھائی؟ بی بی سی اردو اور دیگر میڈیا ہاؤسز بھی اس پر خاموش رہے۔ نیّر زیدی کی فیملی جو یقیناً امریکی شہری ہے، وہ کیوں خاموش ہے؟ نیّر زیدی کوئی تیس سال سے میڈیا میں سرگرم تھے، ان کے لا تعداد دوست احباب امریکا، پاکستان اور دنیا بھر میں موجود ہوں گے، وہ کیوں خاموش ہیں؟ خود حسین حقانی جو اس وقت امریکہ میں پاکستانی سفیر تھے، انھوں نے اس معاملے میں کچھ کیوں نہیں کیا؟ پاکستان میں کسی صحافی تنظیم نے اس گرفتاری اور پھر جیل میں سزا پر احتجاج نہیں کیا، جبکہ یہ وہ دور تھا جب "سب سے پہلے" کی دوڑ نے پاکستانی ٹی وی چینلوں کو چکرا کر رکھا ہوا تھا۔ پاکستانی میڈیا انتہائی سر گرم میڈیا تھا، پابندیاں بھی نہ ہونے کے برابر تھیں۔

میری ذاتی رائے میں نیّر زیدی کی فیملی کو امریکی حکام نے ہراساں کر کے خاموش رہنے پر مجبور کیا کہ ایسی کسی بھی احتجاجی تحریک میں ان کا کردار مرکزی ہونا تھا۔ اور ان کے عملی تعاون کے بغیر کوئی احتجاجی تحریک شروع نہیں کی جا سکتی تھی۔

کسی کو ان کے بارے میں کچھ معلوم ہے؟ جنگ گروپ یا جیو یا کوئی بھی صحافی تنظیم ان کے لیے کچھ کر رہی ہے؟ کوئی انکی فیملی کو جانتا ہے؟ تو وہ قوم کو ضرور آگاہ کرے۔