نئے پاکستان میں قائداعظم - احسان کوہاٹی

وہ پتلا دبلا نحیف مگر بارعب شخص تھا۔ بیضوی چہرے پر ہڈیاں ابھری ہوئی تھیں۔ کشادہ پیشانی اس کی نیک بختی کی گواہی دے رہی تھی۔ جبڑے کی نمایاں ہڈیوں سے اندازہ ہوتا تھا کہ وہ مستقل مزاج اور قول کا دھنی ہے۔ اس کی کھڑی ستواں ناک کے نیچے متناسب ہونٹ اس کی وجاہت میں اضافہ کر رہے تھے۔ سب سے زیادہ متاثر کن اس کی آنکھیں تھیں۔ سفید بال انگریزی طرز کے سلیقے سے تراشے ہوئے تھے۔ اس شخص نے بہت ہی خوبصورت کوٹ پتلون پہن رکھا تھا جس پر ایک بھی سلوٹ نہ تھی۔

سیلانی انھیں دیکھ کر سوچ میں پڑ گیا کہ میں نے انہیں کہاں دیکھا ہے۔ وہ کن اکھیوں سے انھیں دیکھے جا رہا تھا اور یہی سوچ رہا تھا کہ یااللہ! میں نے انھیں کہاں دیکھا ہے؟ ابھی وہ اسی ادھیڑ بن میں تھا کہ وہ سیلانی سے مخاطب ہوئے: ’’یہاں اتنا شور کیوں ہے۔‘‘ ان کا لہجہ ٹھہرا ٹھہرا اور بارعب تھا۔
’’حیرت ہے آپ کو نہیں پتہ آج جشن آزادی ہے۔‘‘
’’اوہ اچھا، اچھا‘‘ اس شخص نے سر ہلایا، اپنی جیب سے سگار نکالا، اس کا سرا چبا کر علیحدہ کرنے کے بعد اسے پھینکنے کے لیے کوئی کچرہ دان تلاش کرنے لگا، لیکن وہاں کوئی کچرہ دان ہوتا تو ملتا۔ سیلانی نے کہا’’یہیں ایک طرف پھینک دیں۔‘‘
اس نے نفی میں سر ہلاتے ہوئے کہا’’نہیں پاکستان گندا ہوجائے گا۔‘‘
’’اب کون سا صاف ہے۔‘‘ جواب میں اس نے گھور کر سیلانی کو دیکھا اس کی نظریں سیلانی کو اپنے جسم میں اترتی ہوئی محسوس ہوئیں۔

’’یہ موٹرسائیکل آپ کا ہے۔‘‘
’’جی‘‘
’’مجھے پاکستان کی سیر کراؤ گے۔‘‘
’’مجھے تو اعتراض نہیں لیکن آپ دیکھ لیں، بارش ہو سکتی ہے، کیچڑ لگ جائے گا، سوٹ خراب نہ ہوجائے۔‘‘
’’ہوجانے دو، بس کردار پر کیچڑ نہیں ہونا چاہیے، لباس تو دھل بھی جاتا ہے۔‘‘ سیلانی نے اثبات میں سرہلایا اور اپنی نیلوفر اسٹارٹ کرتے ہوئے فخریہ انداز میں کہنے لگا: ’’یہ میری نیلوفر ہے۔‘‘
’’گڈ، یہ تو پرشین نیم ہے، کیا یہ پاکستان میں بنتا ہے۔‘‘
’’نہ جی یہ جاپانی ہے، جاپانی ہنڈا ریبل۔‘‘
’’ٹھیک ہے مگر آپ نے پاکستانی موٹرسائیکل کیوں نہیں لیا۔‘‘
’’بنے تو لوں ناں، یہاں تو سوئی بھی نہیں بنتی۔‘‘ سیلانی نے موٹرسائیکل اسٹارٹ کی، وہ ساتھ بیٹھ گئے۔
’’کتنا افسوس کا بات ہے، یہاں ایک موٹرسائیکل بھی نہیں بنتا۔۔۔‘‘

سیلانی انہیں لے کراسلام آباد کی سیر کو نکل گیا۔ اسلام آباد پرہجوم شہر نہیں ہے، لیکن چودہ اگست کی مناسبت سے یہاں خوب چہل پہل تھی۔ لوگ قومی پرچم لیے سڑکوں پر نکلے ہوئے۔ تھے کاروں کے اسپیکروں سے قومی نغموں پر ٹولیاں جھوم رہی تھیں۔ سیلانی کو اپنے کاندھے پر پیچھے بیٹھے شخص کا سرد لمس محسوس ہوا، یوں لگ رہا تھا جیسے اس کے شانے پر کسی نے برف کا ہاتھ رکھ دیا ہو۔

’’یہ کون سا شہر ہے۔‘‘
’’ارے آپ کو یہ بھی نہیں خبر، یہ پاکستان کا دارالخلافہ اسلام آباد ہے۔‘‘
’’مگر وہ تو کراچی تھا۔‘‘
’’آپ کس زمانے کی بات کر رہے ہیں۔ وہ تو1958ء تک رہا تھا۔ پھر ایوب خان نے دارالخلافہ یہاں منتقل کر دیا۔‘‘

سیلانی انھیں اسلام آباد کی سیر کرانے لگا۔ سیلانی نے انھیں لے کر 135 ایکڑ رقبے پر محیط وزیر اعظم ہاؤس لے آیا۔ ’’یہ وزیراعظم کی سرکاری رہائش گاہ ہے۔ اس میں پانچ باغ اور ایک شاندار تالاب ہے۔ یہ سرخ پتھروں سے بنا محل ہے۔ دو دہائیاں قبل نوازشریف نے اس کا افتتاح کیا تھا۔‘‘
’’یہ تو بہت بڑا ہے۔‘‘ اجنبی شخص کے لہجے میں ناخواشگوار حیرت اور ناراضگی تھی۔
’’بڑا تو ہونا ہے، وزیر اعظم کا محل جو ہوا، اس پر سالانہ کروڑوں روپے کے اخراجات آتے ہیں۔ جب نوازشریف وزیراعظم تھے تو اس کے اخراجات 98 کروڑ 60 لاکھ تھے۔ اب ایک ارب نو کروڑ روپے رکھے گئے ہیں۔ وزیر اعظم کے گھریلو اخراجات کے لیے ساڑھے اکیس کروڑ روپے اور ان کے آنے جانے کے لیے تین کروڑ 69 لاکھ روپے رکھے جاتے ہیں۔‘‘
’’اوہ۔۔ کیا اب پاکستان بہت امیر ملک ہے، لیکن ایسا ہے بھی تو اتنا فضول خرچی کیوں؟‘‘
’’چھوڑیں جی! آئیں آپ کو ایوان صدر دکھاتا ہوں۔‘‘
سیلانی نے نیلوفر کو گیئر لگایا اور انھیں لے کر ایوان صدر کے سامنے پہنچ گیا۔ ’’یہ محل دیکھ رہے ہیں آپ، یہ ایوان صدر ہے 2018ء میں اس کا یومیہ خرچ 98 لاکھ روپے تھا۔‘‘
’’یومیہ مطلب؟‘‘ انھوں نے پیشانی پر بل ڈالتے ہوئے پوچھا
’’یعنی ایک دن کا خرچ 98 لاکھ روپے‘‘
سیلانی کی اس بات پر اس کا ہم سفر زیر لب بڑبڑانے لگا۔ سیلانی بس اتنا ہی سمجھ سکا یہ کون سا پاکستان ہے؟ یہ وہ پاکستان تو ہرگز نہیں ۔۔۔‘‘

یہ بھی پڑھیں:   نئے پاکستان پر یوٹرن کے اثرات - محمد ساجد الرحمن

’’ویل جنٹلمین! یہ بتاؤ کیا پاکستان اب بہت مالدار کنٹری ہوچکا ہے۔‘‘ سیلانی یہ سن کر ہنس پڑا۔
’’سر! آپ کس دنیا سے آئے ہیں، ہمارا تو بال بال قرضے میں جکڑا ہوا ہے، شادے کا قرضہ اتارنے کے لیے ماجے سے قرضہ لیتے ہیں اور ماجے کو سود دینے کے لیے تاجے کے پاس جاتے ہیں۔ شادا، ماجا اور تاجا سود مانگتے ہیں توشیدے کی مٹھی چانپی کرنے پہنچ جاتے ہیں۔ پورا ملک ایک عرصے سے ایسے ہی چل رہا ہے۔‘‘
’’oh no very sad‘‘

سیلانی انھیں لے کر آبپارہ کے پاس کوئٹہ وال کے ہوٹل پر لے آیا۔ ہلکی ہلکی بارش میں چائے کی طلب ہو رہی تھی۔ اس نے بار والے کو دو دودھ پتی لانے کے لیے کہا لیکن سیلانی کے مہمان نے منع کر دیا اور جیب سے خوشبو دار سگار نکال لیا۔ سیلانی سے رہا نہ گیا۔ اس نے اجنبی مہمان کو کریدنا شروع کر دیا۔
’’آپ کرتے کیا ہیں؟‘‘
’’میں وکیل تھا۔‘‘
’’تھا سے کیا مطلب۔‘‘
’’پھر میں سیاست دان بن گیا۔‘‘
’’اوہ پہلے وکیل اور پھر سیاستدان، آپ تو ٹھیک ٹھاک پارٹی ہوں گے۔ میرا مطلب ہے ایلیٹ کلاس میں سے ہوں گے۔‘‘
’’ہاں میں اچھا وکیل تھا، میری لندن میں ماہانہ آمدنی دو ہزار پاؤنڈ تھی ۔۔۔‘‘
’’صرف دوہزار پاؤنڈ؟‘‘
’’جنٹلمین میں 1930ء کی بات کر رہا ہوں ‘‘
’’ہیں جی! 1930ء ۔۔۔ میں سمجھا نہیں ‘‘
’’آپ ذہن پر زور مت کرو۔‘‘ انہوں نے سگار سلگا لیا۔

’’ آپ وکالت کے بعد سیاست میں کیوں آئے۔‘‘
’’مجھے سیاست میں لایا گیا، میں تو وکالت کر رہا تھا، لیکن دوستوں نے کہا کہ ہمیں اس وقت آپ کی ضرورت ہے، قوم کو آپ کی لیڈرشپ چاہیے۔ میں مان گیا۔‘‘

اب سیلانی چونکا اس نے اجنبی بزرگ کے چہرے کی جانب غور سے دیکھا اور گھبرا کر اٹھ کھڑا ہوا ’’قق، قق، قائد، قائد، مم، میرے قائد اعظم ۔۔۔‘‘
فرط جذبات سے سیلانی کی آنکھیں بھر آئیں، وہ کرسی سے اٹھا اور قائد اعظم کے قدموں میں بیٹھ کر ان کی ٹانگوں سے لپٹ گیا۔
’’آپ اتنی جلدی کیوں چلے گئے ۔۔۔ کچھ عرصہ تو ٹھہر جاتے۔ ہمیں اتنی جلدی یتیم کر گئے۔ آج دیکھیں اپنے پاکستان کو ۔۔۔ ہماری شہ رگ بھی دشمن نے دبوچ رکھی ہے۔ وہ کشمیر ہڑپ کرنا چاہ رہا ہے، کہتا ہے کشمیر میرا اٹوٹ انگ ہے ۔۔۔‘‘ سیلانی روئے جا رہا تھا اور جانے کیا کیا کہے جا رہا تھا۔ قائداعظم نے اسے کاندھوں سے پکڑ کر اٹھایا اور سامنے کرسی پر بٹھا دیا، اور کہا : ’’ہر ایک نے اپنا کردار نبھانا ہوتا ہے، میرے ذمے اتنا ہی کام تھا۔‘‘

یہ بھی پڑھیں:   ایک خط - ڈاکٹر صفدر محمود

کچھ دیر میں سیلانی کا دل ہلکا ہوا تو اس نے قائد اعظم سے پوچھا ’’آپ کو پاکستان کیسا لگا؟‘‘
’’خوشی بھی ہے اور دکھ بھی، میں نے بتایا نا کہ میں بہت کامیاب وکیل تھا۔ میں نے 1930ء سے 1934ء تک سیاست چھوڑ دیا تھا۔ انگلیڈ میں پریکٹس کرتا تھا اور اس وقت صرف پریکٹس سے آمدنی دوہزار پاؤنڈ ماہوار تھا۔ میں ہمپیسٹڈ میں رہتا تھا۔ میرے پاس بینٹلے کار تھا جسے میرا شوفر بریڈ بیوری چلاتا تھا۔ پرآسائش زندگی تھا۔ لیکن مسٹر اقبال نے کہا کہ مسلمانوں کو آپ کا ضرورت ہے، آپ آجاؤ۔ میں آگیا اور اچھا ہوا کہ میں آگیا۔ یہاں مجھے نوابزادہ لیاقت علی خان، راجہ صاحب محمود آباد اور بہت سارے مسلم لیگی ساتھی ملا۔ ان کے ساتھ مل کر ہم نے پاکستان بنایا لیکن یہ وہ والا پاکستان تو نہیں ہے۔ یہاں پاکستان پر اتنا قرضہ ہے اور صدر وزیر اعظم اتنا بڑا بڑا محل میں رہتا ہے ۔۔۔ ان کا اتنا اتنا تنخواہ ہے ۔۔۔ آپ کو بتانے کے لیے کہہ رہا ہوں کہ میں نے پاکستان بننے کے بعد گورنر جنرل کی حیثیت سے اپنا تنخواہ صرف ایک روپیہ رکھا تھا۔ مجھے اس پاکستان کو دیکھ کر دکھ ہوا میں واپس جاتا ہے۔‘‘

قائد اعظم جانے کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے اور سیلانی کے لاکھ روکنے پر بھی نہ رکے، نپے تلے قدم اٹھاتے ہوئے باہر نکلے اور تاریکی میں کہیں گم ہوگئے۔ سیلانی ان کے پیچھے پیچھے باہر نکلا لیکن وہ نظر نہیں آئے۔ سیلانی انہیں آوازیں دینے لگا ’’قائد قائد میرے قائد۔۔۔۔‘‘، اور پھر سیلانی کی ان حقائق کے ساتھ ٓآنکھ کھل گئی کہ وہ شخص جو1920ء میں اپنی شادی پر بنائے جانے والے غسل خانے پر اس وقت کے پچاس ہزار روپے خرچ کر ڈالتا ہے، لیکن پھر جب یہی شخص قائد اعظم بن کر ٹی بی کے موذی مرض میں مبتلا ہوتا ہے تو زیارت کے سرد موسم میں کراچی سے منگوائے گئے گرم موزوں پر سوال کرتا ہے کہ کیا یہ موزے میرے لیے واقعی میں بہت زیادہ ضروری تھے۔ قائد کے سامنے سرکاری استعمال کے لیے فرنیچر کا بل آتا ہے، ایک کرسی کی قیمت پر دائرہ بناتے ہوئے پوچھتے ہیں یہ کرسی کس لیے؟ بتایا گیا کہ فاطمہ جناح نے منگوائی ہے۔ کہنے لگے اس کے سات روپے فاطمہ سے ہی لینا۔۔۔ اگر عالم بالا سے اس فانی دنیا میں آنا ممکن ہو اور قائد اعظم پاکستان کو دیکھنے کی خواہش میں یہاں آجائیں تو کیا ہمارے حکمران ان سے نظریں ملا سکیں گے؟

یہاں تو حال یہ ہے کہ زرداری صاحب سرکاری خرچ سے دبئی کے چالیس چالیس پھیرے ڈال لیتے ہیں، میاں صاحب لندن کے بیس دورے کھڑکا لیتے ہیں، اور رہے عمران خان صاحب، تو وہ ابھی تک دعووں اور یقین دہانیوں کے بیچ میں ہیں، جیسے ہم عوام خوابوں اور تعبیروں کے بیچ لٹک رہے ہیں۔ سیلانی یہ سوچتے ہوئے خواب گاہ کی کھلی کھڑکی سے باہر ہونے والے چراغاں کی روشنیاں دیکھنے لگا، اور دیکھتا رہا دیکھتا رہا اور دیکھتا چلا گیا

Comments

احسان کوہاٹی

احسان کوہاٹی

احسان کوہاٹی کراچی کے سیلانی ہیں۔ روزنامہ اُمت میں اٹھارہ برسوں سے سیلانی کے نام سے مقبول ترین کالم لکھ رہے ہیں اور ایک ٹی وی چینل سے بطورِ سینئر رپورٹر وابستہ ہیں۔ کراچی یونیورسٹی سے سماجی بہبود میں ایم-اے کرنے کے بعد قلم کے ذریعے سماج سدھارنے کی جدوجہد کررہے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.