کشمیر میں کچھ ٹھیک نہیں، پوری وادی جہنم بنی ہوئی ہے

بھارتی حکومت کی جانب سے آرٹیکل 370 کے خاتمے کے بعد 5 روز تک مقبوضہ وادی کا دورہ کرنے والے بھارتی صحافیوں کا کہنا ہے کہ وادی میں ’آل از ویل نہیں بلکہ آل از ہیل‘ ہے۔ 9 سے 13 اگست تک مقبوضہ وادی میں حالات کا جائزہ لینے والے بھارتی صحافیوں نے پریس کانفرنس میں مقبوضہ وادی میں امن کے حوالے سے مودی سرکار کے ڈھونگ کا پول کھول دیا۔

تاہم مقبوضہ کشمیر کے حالات دنیا کو بتانے والے صحافیوں کی زبان بند کر دی گئی۔ پریس کانفرنس شروع ہونے سے پہلے ہی ان کو بتایا گیا کہ وہ مقبوضہ وادی سے متعلق تصاویر اور ویڈیو کلپ نہیں دیکھا سکیں گے۔ خاتون بھارتی صحافی کویتا کرشنن کا کہنا تھا ہم نے آرٹیکل 370 کے بعد مقبوضہ کشمیر میں پیدا ہونے والی صورت حال کی تصاویر اور ویڈیوز دکھانے کا وعدہ کیا تھا لیکن ہماری پریس کانفرنس شروع ہونے سے پہلے بتایا گیا کہ اب وہ یہ سب نہیں دکھا سکیں گے۔

صحافیوں کا کہنا تھا کہ کچھ لوگ کہہ رہے ہیں کہ کشمیر میں آل از ویل (کشمیر میں سب ٹھیک) ہے، حقیقت میں کشمیر آل از ہیل (کشمیر مکمل طور پر جہنم بن گیا) ہے۔

کویتا کرشنن نے کہا کہ ’پریس کلب آف انڈیا‘ نے ہم سے کہا کہ ہم یہ سب کچھ دکھانے کے لیے پروجیکٹر کا استعمال نہیں کر سکتے کیونکہ ان پر بہت دباؤ ہے۔ واضح رہے کہ مودی سرکار دنیا کو یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہی ہے کہ کشمیر میں سب ٹھیک ہے اور آرٹیکل 37 کا خاتمہ بھی کشمیریوں ہی کی بھلائی کے لیے کیا گیا ہے۔

درحقیقت، بھارت نے کشمیریوں کی زندگی حرام کر رکھی ہے۔ 11 دن سے فاقہ کش کشمیری کرفیو کے نام پر گھروں میں قید ہیں اور فقط ایک ہفتے کے دوران وادی میں اس قدر گرفتاریاں کی گئی ہیں کہ مقبوضہ کشمیر کی جیلیں تک بھر گئی ہیں۔