زود رنج تھا تو اکیلا ہو چلا تھا - محمود فیاض

زودرنجی کیا ہوتی ہے مجھ سے بہتر شائد کوئی جانتا ہو۔ پرائمری کا امتحان پاس کرکے چھٹی جماعت میں لاہور کینٹ کے ایک اسکول میں داخل ہوا تو زندگی ایک انٹروورٹ لڑکے کے لیے بہت سے دوست لے آئی۔ دوست اور پھر اچھے دوست بھی رزق کی طرح ہوتے ہیں۔ کس وجہ سے آپ پرچھپر پھٹتا ہے، سمجھ نہیں آتا۔

بڑے افکار کی کتابیں چھوٹی عمر میں پڑھ لی جائیں، اور ان کتابوں سے دنیا و مافیہا کا ہلکا سا خاکہ بھی ذہن میں آ جائے تو لڑکپن نشے میں گذرتا ہے۔ ادب و نفسیات کے جملے، بہترین اساتذہ اور جان چھڑکنے والے دوست مل کر احساس کمتری کو ایک نئی شکل دیتے ہیں۔ ۔ ۔ اور وہ خود کو ہر وقت، ہر محفل اور ہر ماحول میں مرکزی اور ناگزیر سمجھنے کی خواہش ہوتی ہے۔ ایسا ہی اس ہائی اسکول کے طالبعلم کے ساتھ ہوا، جس کے دوست اس کو ہتھیلی کا چھالا بنائے رکھتے تھے۔ شروع میں تو ناراض ہو کر ٹیسٹ کیا، پھر طنابیں کھینچ کر انکی زندگیاں عذاب کر دیں۔ آج مجھے ملنے والے مشکل سے یقین کریں کہ میں نے مارشل لاء لگا دیا اپنے ہی دوستوں پر کس سے ملنا ہے، کہاں جانا ہے، کیا کرنا ہے، یہ سب میری مرضی سے طے ہوگا۔ ورنہ میں تین تک گنتی گنوں گا اور ۔ ۔ ۔ اور میرے دوستوں کی محبت کہ یہ نوبت کبھی نہ آتی۔ وہ میری ہر مضحکہ خیز بات بھی مان لیتے۔ اتنی محبت کم نصیب ہوتی ہے، اور کم نصیب اتنی محبت کو سنبھال نہیں پاتے۔

پھر یوں ہوا کہ میٹرک تک جاتے جاتے میرا ایک آدھ کے علاوہ کوئی دوست نہ رہا۔ دلداری کرتے کرتے کون کب راستے میں رہ گیا میری نرگسیت کو اسکی پرواہ کب تھی۔ اسکول ختم ہوا تو اپنی اپنی زندگیوں کی۔طرف روانہ ہو گئے۔ گزرے برسوں نے میری زودرنجیوں کے زخم دوستوں کے دلوں سے مٹا دیے، میں ان کو ڈھونڈ کے ملتا اور وہ مجھے دیکھ کر خوش ہوتے۔ یہ بات جو آپ سے شئیر کر رہا ہوں، یہ تب بھی خیال میں نہ آئی۔

یہ تو برسوں بعد جب زندگی کو مڑ کے دیکھا تو سمجھ میں آیا کہ حد سے بڑھی حساسیت اور زودرنجی نے مجھے کیسی کیسی محبتوں سے محروم کر دیا تھا۔ مڑ کے دیکھا تو شرم و ندامت کے پسینے پیشانی سے آنکھوں تک آ گرے، کہ میرے دوستوں نے میری دوستی کی لاج رکھنے کو کیسی کیسی آزمائشیں سہیں۔ اور تھک کر مجھ سے زرا دور ہوئے بھی تو موقع نکال کر پھر مجھ سے آن ملے۔ یہ بات میں نے انکوبھی نہیں بتائی، شائد وہ اسکو ایسے دیکھتے بھی نہ ہوں۔ مگر میرے دل میں ہے، کہ کسی شام طلعت، شہزاد، شاہد، سلیم، اشتیاق، خالد ریاض، آصف، اور وقاص میرے پاس بیٹھیں اور میں دل سے ابلتے آنسوؤں کے ساتھ ہاتھ باندھ کر ان کو شکریہ کہوں ... کہ انہوں نے ایک زودرنج، بے قیمت و کم فہم کی اتنی دلداری کی اسکو اکیلا نہیں ہونے دیا۔

میری بیٹی اسکول سے آئی تو روزانہ کی طرح کیژوئلی بتانے لگی، اپنے روز کے قصے۔ جیسے ہی اس نے کہا کہ میری فلاں فرینڈ منتیں کر رہی تھی ۔ ۔ ۔ میں نے اسکو روک دیا۔ ادھر آؤ میرے پاس بیٹھو۔ ۔ میری۔سنجیدگی نے اسکو پریشان کر دیا۔ میں نے مختصراً اسکو اپنے اسکول فرینڈز کی بات بتائی۔ ۔ ۔ اور کہا جو بات میں اتنی عمر گذار کر سمجھا ہوں تم ابھی سے سمجھ لو۔ ۔ ۔ جو دوست تمہاری منت کر رہا ہو، جو تمہاری ناراضگی سے پریشان ہو، کبھی اسکا امتحان مت لو۔ کیونکہ اس کھیل میں زودرنج ہمیشہ اکیلا رہ۔جاتا ہے اور منت کرنے والے کے خزانے بھرے رہتے ہیں، اس کو محبتیں بھی ملتی ہیں اور دوست بھی۔ ۔ ۔ وعدہ کرو کل تم جب اسکول جاؤ گی، پہلے اپنی فرینڈ سے بات کروگی۔

Comments

محمود فیاض

محمود فیاض

محمود فیاض نےانگلستان سے ماس کمیونیکیشنز میں ماسٹرز کیا اور بین الاقوامی اداروں سے وابستہ رہے۔ آج کل وہ ایک عدد ناول اور ایک کتاب پر کام کر رہے ہیں۔ اساتذہ، کتابوں اور دوستوں کی رہنمائی سے وہ نوجوانوں کے لیے محبت، کامیابی اور خوشی پر لکھتے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.