جنوں کے متعلق ایک آپ بیتی - بشارت حمید

میں ان دنوں جاب کے سلسلے میں ملتان ہوا کرتا تھا اور میری فیملی اور بھائی کی فیملی ہمارے آبائی گھر سمندری میں ہوتی تھی۔ سردیوں میں ایک دن مجھے گھر والوں نے ملتان فون کیا کہ رات کو کوئی چھت پر چلتا پھرتا سنائی دیتا رہا ہے . دھند کی سناٹے والی اندھیری راتوں میں چھت پر انجانے قدموں کی چاپ ایک ڈرا دینے والی بات تھی۔

خیر میں نے گھر والوں سے آیت الکرسی پڑھ کر پھونک دینے کو کہا۔ اگلی رات پھر وہی معاملہ پیش آیا۔ بھائی سمیت سب ڈرے ہوئے تھے کہ اوپر والی چھت پر کوئی جن آتا ہے . میں خود ملتان میں کافی پریشان تھا کہ یہ کیا ماجرا ہے ۔ ایک دو دن بعد ویک اینڈ پر میں گھر آیا تو صورت حال کا بغور جائزہ لینا شروع کیا ۔ میں گراونڈ فلور پر اپنے روم میں تھا بھائی اوپر والے فلور پر رہتا تھا اسے کہا کہ جب آواز محسوس ہو تو مجھے فون پر بتانا ۔ کچھ ہی دیر بعد اس نے کال کر دی کہ آواز آ رہی ہے میں نے دراز سے اپنا پسٹل نکالا ٹارچ لی اور دل میں کچھ خوف سا محسوس کرتے ہوئے آیت الکرسی پڑھتے ہوئے اوپر چڑھنے لگا ۔ جب سب سے اوپر والی چھت پر گیا تو دیکھا وہاں بندہ نہ بندے کی ذات اور نہ کسی جن کا نام و نشان ۔ البتہ اوپر ٹاپ پر رکھے واٹر ٹینک سے پانی باہر نکل رہا تھا اور اس ٹینک میں سے آوازیں آ رہی تھیں۔

اصل حقیقت یہ نکلی کہ اس گھر میں ہم نے اوپر والی منزل کے صحن میں لکڑی جلا کر پانی گرم کرنے والا گیزر لگایا ہوا تھا۔ وہ آٹو میٹک بند نہیں ہوتا تھا اس لئے زیادہ لکڑی لگاتے تو پانی ابلنے لگتا اور نیچے مسلسل آگ جلتے رہنے کی وجہ سے اس میں پریشر بن جاتا۔

جب تک گرم پانی استعمال ہوتا رہتا تب تک کوئی مسئلہ نہ بنتا لیکن جب سب سونے لگتے اور پانی مسلسل گرم ہوتا رہتا تو اس سے بننے والا پریشر ریورس ہو کر اوپر واٹر ٹینک میں دھماکوں جیسی آواز بھی پیدا کرتا اور پانی بھی ٹینک بھرا ہونے کی وجہ سے باہر گرنے لگتا۔ وہ گیزر کافی بھاری لوہے کی چادر کا بنوایا ہوا تھا اس لئے پھٹنے سے بچا رہا اور اضافی پریشر کو واپسی ٹینک میں دھکیلتا رہا جسے ہم جنوں کی کارستانی سمجھتے رہے۔ دوسری مخلوقات سے خوف ہمارے لاشعور میں موجود ہے اس خوف سے چھٹکارا حاصل کر لیا جائے تو ہم معاملات کی تہہ تک پہنچ سکتے ہیں۔ ہم مسلمان اگر اللہ پر یقین رکھیں نماز باقاعدگی سے ادا کریں اور روزانہ قرآن مجید کی تلاوت کو اپنا معمول بنا لیں تو میرا یقین ہے کہ کوئی بھی مخلوق ہمیں نقصان نہیں پہنچا سکتی۔

Comments

بشارت حمید

بشارت حمید

بشارت حمید کا تعلق فیصل آباد سے ہے. بزنس ایڈمنسٹریشن میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی . 11 سال سے زائد عرصہ ٹیلی کام شعبے سے منسلک رہے. روزمرہ زندگی کے موضوعات پر دینی فکر کے تحت تحریر کے ذریعے مثبت سوچ پیدا کرنے کی جدوجہد میں مصروف ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.