مایوس تو نہیں امید سحر سے ہم - نگہت فرمان

ہماری سمجھ نہیں آتا یہاں رکھا کیا ہے مل کیا رہا ہے یہاں آپ کو ؟یہاں کچھ نہیں بدلے گا باہر جانے کی کریں آپ تو آسانی سے جاسکتے ہیں ۔۔یہ وہ جملے ہیں جو ہم سالہا سال سے سنتے آرہے ہیں ہمارے ایک عزیز سے لوگ اکثر اسی طرح کی باتیں کرتے اور انہیں ملک سے "ہجرت " کرنے پر اکساتے ہیں لیکن وہ اللہ کے بندے مسکراتے رہتے ہیں اور کسی قسم کے جواب دینے سے گریز کرتے ہیں انہیں اپنے وطن سے سچی محبت اور اس کی اہمیت کا ادراک ہے۔

وہ ہمیشہ کہتے ہیں بس اللہ سے دعا کرو ان شاء اللہ دن بدلیں گے وہ فصل گل ضرور لہلہاۓ گی جسے زوال کا اندیشہ نہیں ہوگا۔۔وہ کیا ان کا پورا خاندان الحمداللہ بھرپور وسائل کے باوجود وطن چھوڑ کے جانے کا سوچتے بھی نہیں لوگ مذاق اڑاتے ہیں ان کا اور انہیں محب وطن ہونےکا " طعنہ " بھی دیتے ہیں ۔

لیکن یہی محبت اگست کے آتے ہی سب کے دلوں میں انگڑائ لینے لگتی ہے ہر طرف جھنڈے جھندڈیوں اور پاکستان کے جھنڈے کے ہم رنگ دیگر مصنوعات کی بہار آجاتی ہے لوگ خوشی خوشی بچوں کے لۓ ان مصنوعات کو خریدتے ان سے گھرون اور بچوں کو سجاتے و سنوارتے ہیں اسکول و کالج میں روایتی فنکشن ہوتے اور اللہ اللہ خیر صلا ۔۔۔پھر سب واپس اپنی دنیا میں آجاتے ہیں کہ جیسے وطن کا حق ادا ہوگیا اور محبتیں ایک سال کے لۓ دفن ہوگئیں ۔۔۔پھر پورا سال کسی سے بھی بات کرو تو سب وطن سے نالاں رہتے ہیں کہ دیا کیا ہے اس ملک نے ؟ اب تو زبان زد عام ہے یہ پاکستان نہیں مسائلستان ہے۔۔۔سوال یہ ہے کہ کبھی ہم نے خود سے پوچھا کہ ہم نے اپنے ملک کو کیا دیا ؟ ہمیں اگر کچھ نہیں دیا تو شناخت تو دی بعض لوگ تو اس پر بھی ناراض ہوتے ہیں اور اسے اپنی بدقسمتی خیال کرتے ہیں کہ پاسپورٹ پاکستانی ہے کوئ پوچھے کشمیریوں اور بھارتی مسلمانوں سے پاکستان کی قدروقیمت۔۔پھر جب اسے مسائلستان کہتے ہیں تو یہ مسائل کس کے پیدا کردہ ہیں ؟ منافع خوری سے ہم باز نہیں آتے ، قوانین کی پابندی ہم سے نہیں ہوتی۔رشوت خوری سے ہم اجتناب نہیں برتتے،آمدنی بڑھانے کے لۓ حلال حرام کی تمیز ہم بھلا بیٹھے ہیں

یہ بھی پڑھیں:   مودی کا ’ہندو ریاست‘ بنانے کا مشن؟ قادر خان یوسف زئی

۔تعلیم یہاں سے حاصل کرتے ہنر یہاں سے سیکھتے ہیں اور وقف خود کو ملٹی نیشنل کمپنیز اور بیرون ملک میں کررہے ہیں ۔۔سچ کو اپنی زندگیوں سے ہم نے نکال دیا ۔اپنے گھروں کا کچرا ہم سڑکوں پر ڈالتے ہیں ۔سڑکوں پر گاڑیوں،رکشوں سے تھوکنا اور کچرا پھینکنا ہم معیوب نہیں سمجھتے پھر ہم ہی ہیں جو تنقیدیں کرنا اپنا فرض خیال کرتے ہیں۔اسلام کے نفاذ سے ہم خوف زدہ رہتے ہیں یہ جانتے ہوۓ بھی دین سراسر امن ہے لیکن دنیا کی خواہشات کو چھوڑ کر شریعت کو اپنانا ہمیں قبول نہیں ۔یہ صحیح ہے کہ قوانین پر عمل کرانا حکومت کی ذمہ داری ہے لیکن بحیثیت شہری اور مسلمان ہم پر بھی ذمہ ادری عائد ہوتی ہے کہ کوئ ایسا کام نہ کریں جس سے دوسرے کو تکلیف ہو یہ اصول اپنالیں تو شاید رفتہ رفتہ مثبت تبدیلی دیکھنے کو ملے۔ جتنی قربانیوں کے بعد یہ خطہ ملا ہونا تو یہ چاہۓ تھا کہ دل وجان سے اس کی آبیاری کرتے لیکن بدقسمتی سے ہمیں دشمن کے ایجنٹ ابتداء ہی سے ملے نتیجتا انہوں نے اسے پنپنے نہیں دیا۔۔اور اب بھی ملک انتہائ بحرانوں کا شکار ہے ہر طرف مایوسی دکھائ دیتی ہے ایسے میں امید کی کرن یہ ننھے بچے نظر آتے ہیں جن کے چہروں پرسبزہلالی پر چم دیکھ کر جو رونق آتی ہے وہ قابل دید ہوتی ہے جو لہک لہک کر دل دل پاکستان ۔

یہ وطن تمہارا ہے ،ہم سب ہیں لہریں کنارہ پاکستان ہے گارہے ہوتے اور پاکستان پائندہ باد و زندہ باد کے نعرے لگا رہے ہوتے ہیں یہ بچے نوید ہیں اس قوم کی بس ان کے جذبات و محبتوں کو ،ان کے جوش و ولولے کو ٹھنڈا نہیں ہونے دینا نا انہیں نغموں و تقریروں تک محدود کرنا ہےانہیں بتانا ہے سمجھانا ہے کہ پاکستان کیوں ضروری تھا کیوں ضروری ہے ؟ اور کتنا خون بہا ،کتنی قربانیاں دی گئیں ،کتنے قافلے لٹے،کتنی مائیں بہنیں درندوں کی بھینٹ چڑھیں ہیں جب جا کہ ہمیں زمین کا ٹکڑا ملا جسے لوگ معمولی سمجھتے ہیں۔ انہیں غلامی کے نقصانات سے آگاہ کریں، کشمیر،فلسطین و دیگر ممالک پر جو ظلم ڈھاۓ جارہے ہیں اور وہ اپنی آزادی کے لۓ جدوجہد کررہے ہیں اس کی اہمیت سمجھائیں مسلمانوں کے ساتھ امتیازانہ سلوک جو آج بھی رکھا جاتا ہے آج بھی سارے دشمن ہاتھوں میں ہاتھ دے کر مسلمانوں کے خلاف یکجا ہوجاتے ہیں ان سازشوں سے ان دشمنوں سے انہیں آگاہ کرنا ضروری ہے انہیں بتائیں کہ ہمیں منتشر رکھنا باہم دست وگریبان رکھنا ان دشمنوں کی سازش ہے ان کی تربیت مسلکی بنیاد پر نہیں اسلام کی بنیاد پر کریں ان کے اندر ابتداء ہی سے دین کی محبت پیدا کریں اللہ کی زمین پر اللہ کے قوانین کا نفاذ کیوں ضروری ہے یہ سمجھائیں تاکہ یہ ملک و دین کے لۓ بہترین ثابت ہوں ایسا ہوا تو نہ کسی پر زمین تنگ ہوگی نہ زندگی وبال۔