کشمیر کا اَلمیہ اور ہماری خود فریبی - مفتی منیب الرحمن

مقبوضہ کشمیر کے مسلمان کئی عشروں سے جدّوجُہدِ آزادی میں مصروف ہیں۔ اُن کی قربانیاں بے پناہ ہیں۔ کئی تحریکِ آزادی میں اپنی جانیں نچھاور کرچکے، بوڑھے ماں باپ نے اپنے سامنے اپنے جگر پاروں کی لاشوں کو تڑپتے دیکھا، دخترانِ ملت نے اپنی آنکھوں کے سامنے اپنا سہاگ اجڑتے دیکھا۔ راہِ حق کے ایسے ہی جانثاروں کے بارے میں ارشاد ہے: ’’مؤمنوں میں سے کچھ ایسے مردانِ (باوفا) ہیں جنہوں نے اللہ سے کیے ہوئے عہد کو سچا کردکھایا ،سو اُن میں سے بعض وہ ہیں جو اپنی نقدِجاں نذر کرچکے اوراُن میں سے بعض (اپنی باری کے )انتظار میں ہیں اور انہوں نے (اپنے عہد میں)کوئی تبدیلی نہیں کی ،(الاحزاب:23)‘‘۔ کئی حسین وجمیل کشمیری نوجوان عین عالَمِ شباب میں معذور ہوگئے، آبروئیں لٹیں، روزگار تباہ ہوئے، کئی جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہیں۔ بھارتی افواج جس بے دردی سے تحریکِ آزادی کو کچل رہی ہے، اُن مناظر کو دیکھ کر کلیجہ منہ کو آتا ہے۔ امتِ مسلمہ کی بےبسی اور بےحسی ہے کہ اس کا سلسلہ ختم ہونے کو نہیں آرہا۔ ایسا ہی مشکل دور رسالت مآب ﷺ کے جانثاروں کو غزوۂ احزاب میں پیش آیا تھا، جب کفر یکجا ہو کر مسلمانوں پر ٹوٹ پڑا۔ اس کیفیت کو اللہ تعالیٰ نے ان کلمات میں بیان فرمایا: ’’(یاد کرو!) جب کفار تمہارے اوپر سے اور تمہارے نیچے سے تم پر حملہ آور ہوئے اور جب آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں اور کلیجے منہ کو آنے لگے تھے اور تم اللہ کے بارے میں طرح طرح کے گمان کرنے لگے تھے، اس موقع پر مسلمانوں کی آزمائش کی گئی اور انہیں شدت سے جھنجھوڑ دیا گیا۔ (الاحزاب:10-11)‘‘۔

مقبوضہ کشمیر میں ایک ہفتے سے کرفیو نافذ ہے، لوگ کرفیو توڑ کر احتجاج کے لیے نکل رہے ہیں، دواؤں اور اشیائے خوراک کی شدید قلت ہے۔ بی بی سی، الجزیرہ، سی این این، واشنگٹن پوسٹ اور نیویارک ٹائمز اب بھارتی افواج کے مظالم کو رپورٹ کر رہے ہیں۔ کشمیری مظلومین کے صبر واستقامت نے ضُعف کو قوت میں تبدیل کر دیا ہے اور اب سنسر کے باوجود بھارت کے اندر سے بھی آوازیں اٹھنے لگی ہیں۔

نصرتِ الٰہی یقینا نازل ہوتی ہے، لیکن اُس سے پہلے اہلِ ایمان کو اپنے حصے کا کام کرنا ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ’’کیا تم نے یہ گمان کرلیا ہے کہ تم (یونہی)جنت میں داخل ہوجاؤگے، حالانکہ ابھی تم پر ایسی آزمائشیں نہیں آئیں جو تم سے پہلے لوگوں پر آئی تھیں، اُن پر آفتیں اور مصیبتیں پہنچیں اور انہیں جھنجھوڑ کر رکھ دیا گیا یہاں تک کہ (اُس وقت کے) رسول اور اُن کے ساتھ ایمان لانے والے پکار اٹھے: اللہ کی مدد کب آئے گی، (تب نوید آئی:) سنو! بے شک اللہ کی مدد قریب ہے۔ (البقرہ:214)‘‘۔ باری تعالیٰ کی غیبی نصرت کی صورتیں ہر دور میں مختلف ہوتی ہیں۔ غزوۂ احزاب کے موقع پر یہ نصرت تُند و تیز آندھی کی صورت میں نازل ہوئی۔ کفارِ کے خیمے اکھڑ گئے، دیگیں الٹ گئیں، اُن کے اونٹ اور گھوڑے رسیاں تڑا کے بھاگنے لگے اور بالآخر وہ ناکام ونامراد واپس لوٹنے پر مجبور ہوگئے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ’’اے ایمان والو! تم اپنے اوپر اللہ کی اُس نعمت کو یاد کرو، جب تم پر کفار کے لشکر حملہ آور ہوئے تو ہم نے اُن پر آندھی اور ایسے لشکر بھیجے جو تمہیں دکھائی نہیں دیے اور اللہ تمہارے کاموں کو خوب دیکھنے والا ہے۔ (الاحزاب:9)‘‘۔

آج ہم سفارتی تنہائی کا شکار ہیں، امریکا افغانستان جنگ سے شکست کا تاثر دیے بغیر نکلنے کے لیے کوئی آبرومندانہ حل چاہتا ہے اور اس کے لیے ہمیں استعمال کرنا چاہتا ہے، لیکن ہم پر اعتماد کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ ہمارے مقابلے میں اس کی ترجیحِ اول بھارت ہے، کیونکہ چین کی مخالفت امریکا کی خارجہ اور دفاعی حکمت عملی کا بنیادی ستون ہے اور اس مہم میں بھارت اُس کا حلیف ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   مودی حکومت نے کشمیریوں کے زخم پر مرہم کی جگہ نمک رگڑ دیا ہے

کشمیر کی صورتِ حال پر امریکا کا ہمیشہ کی طرح لگا بندھا بیان آیا ہے: ’’ ہم صورتِ حال کا جائزہ لے رہے ہیں، بھارتی فیصلے کے وسیع مضمرات ہوں گے، خطے میں عدمِ استحکام میں اضافہ ہوسکتا ہے، انفرادی حقوق کا احترام کیا جائے، متاثرین سے مذاکرات کیے جائیں، گرفتاری کا سلسلہ بند کیا جائے، پابندیوں پر تشویش ہے، قضیے کے تمام فریق پُر امن رہیں، ضبط وتحمل سے کام لیں، لائن آف کنٹرول پر امن و استحکام برقرار رکھیں، دہشت گردی کی روک تھام کے لیے سخت اقدام کیے جائیں، ہم کشمیر سمیت تمام متنازع مسائل پر پاک بھارت مذاکرات کی حمایت جاری رکھیں گے ‘‘۔ امریکا کی سفارتی زبان کے الفاظ یہ ہوتے ہیں: ’’تحمل سے کام لیں، باہم مذاکرات کریں، ہمیں اس پر افسوس ہے، ہم اس کی مذمت کرتے ہیں‘‘۔ سو امریکا نے بھارتی اقدام پر نہ اظہارِ افسوس کیا اور نہ اس کی مذمت کی، نیز پاک و ہند تنازع میں جب امریکا دہشت گردی کی روک تھام کی بات کرے ، تو اہلِ نظر سمجھ سکتے ہیں کہ اس کا اشارہ کس طرف ہوتا ہے۔ تحمل سے کام لینے کا مطلب یہ ہے کہ صورتِ حال کو ٹھنڈے دل سے قبول کرلیں، آپس میں مذاکرات کا مطلب یہ ہے کہ ہم سے مداخلت کی کوئی توقع نہ رکھیں، جنابِ وزیر اعظم نے برطانوی وزیراعظم سے ٹیلی فون پر گفتگو کی، انہوں نے بھی بھارتی اقدام کی مذمت نہیں کی۔

مسلم ممالک ’’یاشیخ! اپنی اپنی دیکھ‘‘ کا مَظہر ہیں، باہمی تعلقات اپنے اپنے قومی مفادات کے تابع ہیں اور جس کے پاس بے پناہ مالی وسائل ہیں، وہ دوسروں کو ’’برائے خدمت دستیاب‘‘ کے طور پر دیکھتا ہے۔ بھارت نے مقبوضہ کشمیر کی متنازع اور جداگانہ حیثیت ختم کر کے اُسے اپنے یونین میں ضم کر دیا، اس کے بارے میں ردِّ عمل دینے کے لیے پاکستانی پارلیمنٹ کا تاثرکچھ زیادہ حوصلہ افزا نہ تھا۔ اپوزیشن کے بیان پر ردِّعمل دیتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا: ’’اور کیا کروں، جنگ کروں، آپ کوئی متبادل حل بتائیں‘‘۔ یہ الفاظ اس حقیقت کے عکاس ہیں کہ ہمارے پاس اشک شوئی کے بیانات دینے، کچھ علامتی سفارتی اقدامات کرنے کے سوا کوئی زیادہ آپشن نہیں ہیں، نہ ہم جنگ کا آپشن اختیار کرنے کی پوزیشن میں ہیں اورنہ دنیا ہمارے ساتھ کھڑے ہونے کے لیے تیار ہے۔ امریکا، برطانیہ اور مغرب سے یہی پیغام آرہا ہے: ’’پاکستان اور بھارت دونوں تحمل سے کام لیں‘‘، اس کے معنی ہیں: ’’پاکستان تبدیل شدہ صورتِ حال کو اپنے اوپر جبر کر کے قبول کرلے‘‘۔ اقوامِ متحدہ سے بھی حمایت کی توقع کم ہے اور سلامتی کونسل سے بھی کوئی فیصلہ کُن قرارداد آنے کی توقع نہیں ہے، سو حزبِ اختلاف کا توشہ خانہ بھی اس حوالے سے خالی ہے، صرف نمبر گیم ہے۔ یہ بھی قیاس کیا جا رہا ہے کہ بھارتی اقدام کے حوالے سے اُس کی پسِ پردہ امریکا کے ساتھ کوئی نہ کوئی مفاہمت موجود تھی، ہماری پیٹھ تھپکنے کے باوجود امریکا نے ہمیں اس سے بے خبر رکھا۔ تاہم امریکی نائب وزیر خارجہ ایلس ویلز نے کہا: ’’بھارت نے نہ ہمیں اپنے اقدام کی پیشگی اطلاع دی اور نہ مشاورت کی‘‘، حقیقت حال اللہ بہتر جانتا ہے۔

اس وقت پاکستانی سیاست میں حکومت اور حزبِ اختلاف صرف لفاظی کی حد تک ایک دوسرے پر سبقت حاصل کرنے کی کوشش کرسکتے ہیں، جوشِ خطابت کا مظاہرہ کر سکتے ہیں اور ظاہر ہے کہ ایسے حالات میں حکومت دباؤ میں ہوتی ہے، کیونکہ اِقدام کی ذمے داری اس پر عائد ہوتی ہے۔ ہم ایک عرصے سے متوجہ کر رہے تھے کہ ملک معاشی بحران سے دوچار ہے اور سیاسی استحکام کے بغیر معاشی استحکام کی منزلِ مراد کو پانا دشوار ہے اور کسی نہ کسی درجے کی سیاسی مفاہمت یا تعلقاتِ کارحزبِ اختلاف سے زیادہ حکومتِ وقت کی ضرورت ہوتی ہے، لیکن مقتدرہ نے اس نزاکت کا احساس نہیں کیا اور سیاسی انتشار کو حالات کے رحم وکرم پر چھوڑ دیا۔ جنابِ وزیرِ اعظم کا تو مزاج ہی تصادم کے سانچے میں ڈھلا ہے، اُن کے لیے اپنی اُفتادِ طبع اور ذہنی نہاد کو ترک کر کے ملکی اور ملّی نزاکتوں کا ادراک کرنا اور اپنے آپ کو اُن کے مطابق ڈھالنا کافی دشوار ہے ۔فی الوقت تاثر یہ ہے کہ حکومت کے نزدیک کشمیر کے قضیے سے بھی زیادہ اہم حزبِ اختلاف کی مُشکیں کسنا ہے، چنانچہ اس موقع پر جس ہمہ جہتی اتحاد اور ملّی وحدت کی ضرورت تھی، وہ مفقود ہے اور یہ صورتِ حال اہلِ نظر کے لیے افسوس ناک ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   پون صدی کی لاحاصل جنگ - پروفیسر جمیل چودھری

قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں مندرجہ ذیل سفارتی اور سیاسی اقدامات کا فیصلہ کیا گیا ہے: (۱) ہندوستان سے سفارتی تعلقات کو نچلی سطح پر لانا، بھارتی ہائی کمشنر کو واپس بھیجنا اور اپنے نامزد ہائی کمشنر کو روک دینا، (۲) تجارتی روابط کو معطل کرنا، (۳) چودہ اگست کو یومِ یکجہتی کشمیر اور بھارتی یومِ آزادی پندرہ اگست کو یومِ سیاہ کے طور پرمنانا، (۴) اقوامِ متحدہ، سلامتی کونسل اور بین الاقوامی فورمز پر اس مسئلے کو اٹھانا، ظاہر ہے دستیاب حالات میں یہی ہوسکتا ہے۔ جہاں تک چین کا تعلق ہے، لداخ کے مسئلے پر وہ خود متاثرہ فریق ہے، لیکن چین کی طرف سے بھی کوئی زوردار بیان نہیں آیا، اُن کی ترجمانی بھی ہمارے وزیرِ خارجہ جناب شاہ محمود قریشی خود فرما رہے ہیں۔ اقوامِ متحدہ میں پاکستان کی مستقل مندوب محترمہ ملیحہ لودھی نے کہا ہے: ’’ہم سلامتی کونسل کے پندرہ ارکان کے ساتھ رابطے میں ہیں‘‘۔ لیکن ابھی تک ہمیں ایسے شواہد نہیں ملے کہ سلامتی کونسل کے مستقل ارکان کیا اس پر آمادہ ہیں کہ بھارت کو ایک زوردار پیغام دیں کہ وہ مقبوضہ کشمیر کو ہندوستان میں ضم کرنے کے اعلان کو واپس کرے، یعنی Undo کرے اور عدمِ تعمیل کی صورت میں اسے انضباطی اقدامات کی وعید سنائی جائے اور ایسی کسی قرارداد کو کوئی ویٹو نہ کرے۔

وزیرِ اعظم نے سیاسی، سفارتی اور قانونی پہلوئوں کا جائزہ لینے اور تجاویز مرتب کرنے کے لیے آٹھ رکنی کمیٹی تشکیل دی ہے، اس کمیٹی میں وزیرِ خارجہ، وزیر قانون، اٹارنی جنرل، سیکرٹری خارجہ، ڈی جی آئی ایس آئی، ڈی جی ملٹری آپریشنز، ڈی جی آئی ایس پی آر اور وزیرِ اعظم کے نمائندۂ خصوصی جناب احمر بلال صوفی شامل ہیں۔ اگرپورا سچ بیان کیا جائے تو یہ طعن کیا جاتا ہے کہ پست ہمتی اور مایوسی پھیلائی جا رہی ہے، حُبُّ الوطنی پر شبہ کیا جاتا ہے، اگر محض لفاظی اور شوروغوغا سے فتح کا دروازہ کھلتا ہے، تو یہ کارِ خیر ہمارا الیکٹرانک وپرنٹ اور سوشل میڈیااحسن طریقے سے انجام دے سکتا ہے۔ پس سب کو مصلحت پسندی سے کام لینا پڑتا ہے،حقیقت پسندی کا سامنا کرنا کافی دشوار ہے، لیکن جب تک ہم اپنی تحدیدات اور حقائق کا ادراک نہیں کریں گے، حالات کا سامنا کرنے اور مقبوضہ کشمیر کے مظلومین کی مدد کرنے کے لیے کوئی مؤثرلائحۂ عمل بنانے میں کامیاب نہیں ہو پائیں گے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ سولہ دسمبر 1971کے بعد پاکستان کے لیے یہ سب سے مشکل مرحلہ ہے۔

وزیرِ خارجہ جنابِ شاہ محمود قریشی نے اپنے تازہ ترین بیان میں کہا ہے: ’’(۱) اقوامِ متحدہ میں آپ کیاستقبال کے لیے کوئی ہار لیے نہیں کھڑا، سلامتی کونسل میں کوئی بھی سپر پاور ہمارا راستہ روک سکتی ہے، (۲) پاکستانی اور کشمیری کسی خام خیالی میں نہ رہیں، مسلم اُمہ کے محافظوں نے انڈیا میں سرمایہ کاری کر رکھی ہے‘‘۔ ان الفاظ کی مزید تشریح کی ضرورت نہیں ہے، سفارتی میدان میں ہم کہاں کھڑے ہیں، ان سے عیاں ہے، باقی صرف لفاظی ہے، خوش فہمی ہے یا خود فریبی ہے۔