کشمیر کی بے بسی - افتخار گیلانی

ریاست جموں و کشمیر کو تحلیل کرنے اور اس کو بھارتی یونین میں ضم کرنے کے حکم نامہ کی سیاہی ابھی خشک بھی نہیں ہوئی تھی کہ حکمران بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے لیڈران بشمول ہریانہ صوبہ کے وزیراعلیٰ منوہر لال کھٹر نے نوید سنائی کہ بھارت کے کنوارے نوجوان اب کشمیر کی گوری لڑکیوں کے ساتھ شادیاں کر سکتے ہیں۔ اس طرح کے طنز آمیز جنسی اور نسلی تعصب سے بھرے ہوئے جملے بھارت کے گلی کوچوں میں سنائے دے رہے ہیں۔ کئی افراد تو فون پر گلمرگ اور سونہ مرگ کی وادیوں میں زمینوں کے بھاؤ پوچھ رہے ہیں۔

ممبئی میں مقیم بھارت کے معروف قانون داں اور جموں و کشمیر معاملوں میں ایک طرح سے حرف آخر، اے جے نورانی نے ایک مرتبہ بھار تی آئین کی دفعہ 370 کو ایک انڈے سے تشبیہ دیتے ہوئے کہا کہ اس میں پائپ لگا کر نئی دہلی کے حکمرانوں نے سرینگر میں موجود اپنے گماشتوں کی مدد سے اس کی سفیدی اور زردی چوس لی ہے۔ اب اس کا صرف چھلکا باقی تھا، جس کو اب بھارت کے نئے وزیر داخلہ امیت شاہ نے کوڑے دان میں پھینک دیا۔

دفعہ 370 اور دفعہ 35 اے ایک طرح سے کشمیر کی انفرادیت، کلچر اور مسلم تشخص کو تحفظ فراہم کرتا تھا، اور بھارت کے تکثیری کلچر اور تنوع میں اتحاد جیسے نعروں کا نقیب تھا، جس کو مہاتما گاندھی کے عدم تشدد کے فلسفہ کے ساتھ، سفارتی سطح پر پوری دنیا میں بھارت بیچتا تھا۔ مجھے یاد ہے کہ مرحوم شیخ محمد عبداللہ دفعہ 370 کو کشمیری خواتین کے جسم پر موجود لباس سے تشبیہ دیتے تھے۔ نیشنل کانفرنس کا کشمیر میں مقبول انتخابی نعرہ ہوتا تھا، ازء ہوند عزت فضء ہوند عزت، ترہت ستت ترہت ستت ۔ ازء اور فضء کشمیر میں خواتین کے مقبول نام ہوتے تھے۔ نعرہ کا مفہوم تھا کہ خواتین کی عزت و آبرو 370 میں ہے۔ شیخ صاحب سے میں کبھی روبرو نہیں ہو سکا۔ تاہم ان کے فرزند اور سابق وزیراعلیٰ ڈاکٹر فاروق عبداللہ سے جب بھی مکالمہ ہوا، وہ آزادی پسند جماعتوں پر طنز کستے تھے کہ مسلم اکثریتی پاکستان میں کشمیری انفرادیت کبھی کی ضم ہوگئی ہوتی، جبکہ بھارت کا جمہور ی اور آئینی تکثیری معاشرہ ہی ریاست جموں وکشمیر کی وحدت و انفرادیت کا ضامن ہے۔

اے جی نورانی کا کہنا ہے کہ دفعہ 370 نے ایک طرح سے جو کپڑے فراہم کیے تھے، وہ کب کے اتر چکے تھے۔ اب شہریت، جھنڈے اور اسمبلی کے نام کا صرف ایک باریک سا زیر جامہ بچا تھا۔ 5اگست 2019ء کو امیت شاہ نے پارلیمان کے ایوان بالا یعنی راجیہ سبھا میں صبح 11 بجے کشمیریوں کے بدن سے یہ زیرجامہ اتار کر ان کو سرعام برہنہ کر دیا۔ کوسوں دور مجھے لگ رہا تھا کہ جیسے بھرے بازار میں میری عزت بھی تار تار کر دی گئی ہو۔ زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف، شاہ نے ریاست کو تحلیل کرنے اور اس کو تقسیم کرکے مرکز کے زیرانتظام دو خطوں میں تبدیل کرنے کا قانون بھی ایوان میں پیش کیا۔ لداخ ، جو مسلم اکثریتی ضلع کرگل اور بدھ اکثریتی لیہ اضلاع پر مشتمل ہے، میں اسمبلی ہی نہیں ہوگی۔ 90 کی دہائی میں اس خطے کی 39.65 فیصد بدھ آبادی نے لداخ کو مرکز کے زیرانتظام علاقہ بنانے کی مانگ کو لیکر ایجیٹیشن کی۔ مگر اس خطے میں آباد 46.40 فیصد مسلم آبادی نے اس کی شدید مخالفت کی۔ مجھے حیرت ہوتی ہے کہ جب دانشور حضرات اور میڈیا جس میں پاکستانی میڈیا بھی شامل ہے، لداخ کو بدھ اکثریتی علاقہ تصور کرتے ہیں۔ 2003ء میں مفتی محمد سعید کی حکومت نے اس خطے کے دونوں اضلاع کے لیے ڈیولپمنٹ کونسل تشکیل دی، جو باضابطہ منتخب نمائندوں پر مشتمل ایک طرح سے منی اسمبلی تھی، اس کو بھی تحلیل کر دیا گیا ہے۔ مرکزی انتظام میں دینے سے قبل اسی علاقہ میں کم از کم ریفرنڈم ہی کرایا جاتا، تو پتہ چلتا، کتنے لوگوں کو یونین ٹیریٹری یا مرکزی انتظام والا میکانزم منظور تھا۔ جموں و کشمیر بھی مرکز کے زیر انتظام خطہ ہوگا، جس میں اسمبلی تو ہوگی، مگر وہ دہلی و پانڈیچری اسمبلی کی طرز پر ایک طرح سے مونسپل کارپوریشن کا کام کرے گی۔ تمام تر اختیارات مرکز کے نمائندے گورنر کے پاس ہوں گے۔ کشمیر ایڈمنسٹریٹو سروس کو معطل کر دیا گیا۔ اب بیوروکریسی کا تعین مرکزی حکومت کرے گی۔

یہ بھی پڑھیں:   احتجاج اوردھرنے صرف تباہی لاتے رہے ہیں - پروفیسر جمیل چودھری

مقتدر صحافی مزمل جمیل کا کہنا ہے کہ کشمیر میں تاریخ کا پہیہ واپس 1846ء میں پہنچ گیا ہے، جب بیع نامہ امرتسر کے بعد ڈوگرہ حکمران مہاراجہ گلاب سنگھ نے سرینگر کی باگ ڈور سنبھالی۔ پچھلی چار صدیوں سے مغل حکمرانوں کی کشمیر آمد کے بعد سے جس طرح عام کشمیری نفسیاتی طور پر اپنے آپ کو سسٹم سے باہر اور بےاختیار تصور کرتا تھا، اب اس میں اور شدت آئے گی۔

ستم ظریفی تو یہ ہے کہ سو سال قبل ڈوگرہ فرمانروا ہری سنگھ نے کشمیری پنڈتوں کے ایما پر ہی اسٹیٹ سبجیکٹ قانون لاگو کیا تھا، جس کی رو سے بیرون ریاستی باشندوں کے لیے ریاستی حکومت میں ملازمت اور غیر منقولہ جائیداد خریدنے پر پابندی عائد کی گئی تھی۔ اس قانون کو دفعہ 370 اور دفعہ 35 اے نے تحفظ فراہم کیا تھا۔ کشمیری پنڈت لاہور اور سیالکوٹ سے آنے والے پنجابی اور محمد دین تاثیر جیسے پنجابی نژاد کشمیریوں سے خائف تھے، جو تعلیم یافتہ ہونے کی وجہ سے سرکاری ملازمتیں حاصل کرکے پنڈتوں کی مسابقت کر تے تھے۔ اس کے علاوہ پنجاب سے زمیندار وغیرہ کشمیری خواتین سے شادیاں کر کے کشمیر میں بس جاتے تھے۔ اس قانوں کی رو سے ان خواتین کو حق وراثت سے محروم کر دیا گیا۔ وہ اپنے والدین کی غیر منقولہ جائیداد کے حق سے سے محروم کر دی گئیں۔ پنڈتوں نے مہاراجہ کو یہ بھی بتایا کہ چونکہ کشمیر اور انگلستان کا موسم یکساں ہے، اس لیے انگریز افسران یہاں آ کر بس سکتے ہیں اور ہمہ وقت مہاراجہ کے سر پر سوار رہیں گے۔

مؤرخ اور سیاسی کارکن پنڈت پریم ناتھ بزاز کا کہنا ہے کہ اس پورے قضیہ میں کشمیری مسلمان کی کسی کو کوئی فکر نہیں تھی، نہ ہی کسی نے اس سے رائے لی، کیونکہ ملازمت کے دروازے کشمیری مسلمان پر بند تھے۔ انتہائی خستہ حال اور غریب کشمیری مسلمان زیادہ تر یا تو کاریگر یا زرعی مزدور تھا۔ اس کو چک داروں ، جاگیرداروں اور سرکار کے ٹیکس بھرنے سے ہی فرصت نہیں ملتی تھی۔ بزاز کے بقول سوسائٹی میں ہندو ہونا عزت و توقیر کی علامت تھی۔ مسلمان کو صرف اپنے مذہب کی بنیاد پر حقارت اور نیچ نظروں سے دیکھا جاتا تھا۔ کشمیر، کشمیریوں کے لیے دراصل کشمیری پنڈتوں کا نعرہ تھا۔ جب یہ قانون عمل میں آیا، تو اس وقت کسی کو بھی مسلم خواتین کے حقوق یاد نہیں آئے، جن کو بس غیر کشمیری کے ساتھ نکاح کی بنیاد پر حق وراثت سے محروم کر دیا گیا تھا۔ ایک صدی بعد یہی کشمیری پنڈت اس قانون کو ہٹانے کی مانگ کر رہے تھے اور اس کو ظالم و خواتین مخالف قرار دے رہے تھے۔ چونکہ اب کشمیری مسلمان تعلیم یافتہ اور ترقی کی دوڑ میں ان کے ہم پلہ آگیا ہے، تو یہ قانون جو ایک صدی قبل ٹھیک تھا، اب پنڈتوں کی آنکھوں میں کھڑکنے لگا۔ جو خدشات ایک صدی قبل کشمیر ی پنڈتوں کو لاحق تھے، وہی خدشات اب کشمیری مسلمان کو لاحق ہیں۔ کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت حکمران ہندو قوم پرست بھارتیہ جنتا پارٹی کے لیڈران کی آنکھوں میں برسوں سے کھٹک رہی تھی۔ یہ وہ پارٹی ہے جس نے صوبوں و مرکز کے اختیارات کے تعین کرنے والے سرکاری کمیشن کے سامنے صوبوں کو انتہائی حساس سکیورٹی کے علاوہ بقیہ سبھی اختیارات تفویض کرنے کی مانگ کی تھی۔ ابھی حال ہی میں جنیوا میں بھارت کے سفیر نے سری لنکا کو مشورہ دیا کہ وہ اپنے آئین کی 13ویں ترمیم کو جلد از جلد لاگو کر کے شمالی سری لنکا میں مقیم تامل ہندو اکثریت کو تحفظ اور پاور فراہم کرے۔ یعنی اوروں کو نصیحت خود میاں فضیحت۔ کشمیر چونکہ مسلم اکثریتی خطہ ہے، اس لیے یہ انسانی حقوق وہاں لاگو نہیں ہوتے۔

یہ بھی پڑھیں:   تقسیم کشمیر کے آخری مراحل ! علی حسنین نقوی

خیر ریاست جموں و کشمیر اب تحلیل ہو چکی ہے۔ کشمیر ی قوم کا تشخص اور انفرادیت پامال ہو چکی ہے۔ دنیا میں شاید ہی کسی کا ضمیر بیدار ہوگا۔ امن عالم کے دعویدار ایک طرف افغانستان میں امن قائم کرنے کے لیے کوشاں ہیں، دوسر ی طرف خطے میں دوسرا افغانستان بنایا جا رہا ہے۔ بھارتی حکومت کی طرف سے اٹھایا گیا یہ قدم، فلسطین میں اسرائیلی کارروائیوں سے بھی کہیں زیادہ سنگین ہے۔ پوری دنیا میں یہودی 10ملین سے زیادہ نہیں ہیں۔ اس سے کچھ آدھے ہی اسرائیل میں رہتے ہیں۔ وہ اگر چاہیں تو بھی عرب ممالک یا پورے فلسطین کا آبادیاتی تناسب بگاڑ نہیں سکتے۔ کشمیر میں تو مقابلہ 1.25 بلین بھارت کی آبادی کے ساتھ ہے، جو چند ماہ میں ہی خطے کا آبادیاتی تناسب بگاڑ کر کشمیری عوام کو اپنے ہی گھروں میں اجنبی بنا دیں گے۔ سابق فوجیوں اور ریٹائرڈ بیوروکریٹوں اور ان کے اہل خانہ کو کشمیر میں بسانے کی مہم تو پہلے سے ہی جاری ہے۔ وزیراعظم مودی نے اپنے قدم کا دفاع کرتے ہوئے یہ بھی ایک دلیل دی، کہ بیرون ریاست بیورکریٹ کشمیر جانے سے کتراتے ہیں، کیونکہ و ہ اور ان کے اہل خانہ وہاں زمین نہیں خرید سکتے ہیں۔ جب بھارت برطانوی تسلط سے آزادی کی مانگ کر رہا تھا، تو ایک بار ونسٹن چرچل نے کانگریسی لیڈروں کو مخاطب کرکے کہا، ’’کہ تم کو آزادی اس لیے چاہیے کہ دبے کچلے طبقوں اور مظلوموں پر حکومت کر کے ان کو دبا دو۔‘‘ آج چرچل کی روح اپنی اس پیشن گوئی کی صداقت پر قہقہے لگا رہی ہوگی۔

کشمیر ایک صدمہ کی کیفیت میں ہے۔ وہ ابھی شاید اس طرح کے ردعمل کا اظہار نہیں کرے گا، جس کی توقع تجزیہ کار کر رہے ہیں۔ یہ ایک پر فریب سکون اور آتش فشاں کی خاموشی ہے۔ 1987ء کے بد نام زمانہ انتخابی دھاندلی کا بدلہ کشمیریوں نے 1989ء میں چکایا۔ کشمیر میں ایک نئے مزاحمتی کلچر کا آغاز پہلے ہی ہو چکا ہے، جس میں فکری مزاحمت کا فوکس مظلومیت کے بجائے تخلیقی سطح پر یادوں کو اجاگر کر کے اور سینوں سے لگا کر باوقار طور پر ابھرنے کی صلاحیت حاصل کرنا ہے۔ بھارتی آئین کی دفعہ 370 کے ساتھ ساتھ ریاست جموں و کشمیر بھی تحلیل ہو گئی ہے، مگر قانون قدرت تحلیل نہیں ہو سکتا۔ تاریخ کا پہیہ ساکت نہیں رہتا، یہ گھومتا رہتا ہے اور اس قوم کے لیے خاصا بے رحم ثابت ہوتا ہے، جو اکثریت اور طاقت کے بل بوتے پر کمزور اور ناتواں کی زندگیاں اجیرن بنا دے۔ میری بےبسی پر ہنسنے والو! تاریخ سے سبق لیکر مستقبل کے آئینے میں اپنی بربادی کا منظر دیکھو۔ 1984ء میں تہاڑ جیل میں پھانسی کے قبل مقبول بٹ نے کسی کو کہا تھا کہ ’’ہمیں معلوم ہے کہ ہم ہیں چراغ آخر شب، ہمارے بعد اندھیرا نہیں اجالا ہے، میری بے بسی پر مت مسکراؤ اے تارو، تم اپنی خیر مناؤ، کہ رات جاتی ہے۔ ‘‘ اور صرف چھ سال بعد ہی کشمیر نے کروٹ لی اور ایک نئے دور کا آغاز ہو گیا۔