شہ رگ سے دستبرداری - خالد مسعود خان

چند روز قبل امریکہ کی اسسٹنٹ سیکرٹری برائے جنوبی ایشیا ایلس ویلز نے پاکستان کا دورہ کیا۔ یہ دورہ عین انہی دنوں تھا ‘جب بھارت نے کشمیر کو حاصل خصوصی سٹیٹس کو آئینی تحفظ فراہم کرنے والے آرٹیکل 370 اور 35اے کو ختم کیا۔ خبر پھیلی کہ (خبر کا مطلب خبر ہوتا ہے‘ افواہ اس سے مختلف چیز ہے) اس بھارتی اقدام کو امریکی آشیرباد حاصل ہے اور بھارت نے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کا فیصلہ امریکی ملی بھگت سے کیا ہے۔ اس خبر پر اپنے وزیر خارجہ مخدوم زادہ شاہ محمود قریشی نے ایک بڑا زور دار بیان داغ مارا کہ امریکہ نے اس بات کی تردید کی ہے کہ حالیہ بھارتی فیصلے سے قبل اسے اعتماد میں لیا گیا اور اس فیصلے میں امریکی رضا مندی شامل تھی۔ یہی بات انہوں نے اپنی پریس کانفرنس میں ہونے والے ایک سوال کے جواب میں بھی کہی۔ ایمانداری کی بات ہے کہ مجھے اپنے وزیر خارجہ کی اس تردید سے رتی برابر اتفاق نہیں ہے اور ان کے بیان پر ٹکے کا یقین نہیں ہے۔

شاہ محمود قریشی تو ایک طرف رہے‘ اگر یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایک پنجابی محاورے کے مطابق ''اگرگرم توے پر بیٹھ کر دیں'' تو بھی مجھے اس پر اعتبار نہیں۔ شاہ محمود قریشی صاحب کی بات اور ہے۔ ان کے بزرگ انگریزوں کی با ت پر‘ بلکہ احکامات پر آنکھیں بند کر کے یقین کر لیتے تھے۔ اب زمانہ بدل گیا ہے اور فی زمانہ برطانوی استعمار کی جگہ امریکہ بہادر نے لے لی ہے‘ لہٰذا میرے شہر دار وزیر خارجہ موجودہ حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے امریکہ کے بیانات پر اندھا یقین کر رہے ہیں۔ وہ اعتبار کر رہے ہیں‘ وہ بھی ٹھیک ہیں اور میں اعتبار نہیں کر رہا‘ میں بھی ٹھیک ہوں۔

وزیراعظم عمران خان نے اسمبلی کے فلور پر یہ فرما کر کہ کیا اب میں جنگ کر دوں؟ جنگ کا دروازہ کم از کم اپنے حساب سے تو بند کر دیا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ فریقین میں سے ایک فریق جنگ شروع کرتا ہے اور دوسرا خود پر مسلط کردہ جنگ سے اسی طرح نپٹتا ہے‘ جیسے ایک محاورے کے مطابق ''گلے پڑا ڈھول بجانا پڑتا ہے‘‘ بیشتر اوقات ایسے کمزوری پر مشتمل بیانات جنگ کے امکانات کم کرنے کی بجائے بڑھا دیتے ہیں۔ اگر دشمن بھارت جیسا مکار اور عیّار ہو تو وہ امن کی خواہش کو کمزوری پر محمول کرتا ہے اور فریق ثانی کی جنگ نہ چاہنے کی ہزار خواہش کے باوجود جنگ کے لیے مجبور کر دیتا ہے۔ اگر مودی جنگ مسلط کرنے کا فیصلہ کر لے‘ تو عمران خان صاحب کی جنگ نہ کرنے کی خواہش کی بھلا کیا اہمیت رہ جاتی ہے؟

کیا بھارت نے یہ اقدام سوچے سمجھے بغیر اٹھایا ہے؟ اگر کسی کو یہ غلط فہمی ہے تو وہ باقاعدہ احمقوں کی جنت کا مکین ہے۔ بھارت نے یہ فیصلہ سوچ سمجھ کر‘ دیکھ بھال کر اور اس کے نتائج کو ذہن میں رکھ کر کیا ہے۔ اس پر دو ہی قسم کے رد عمل ہو سکتے ہیں؛ ڈھیلا ڈھالا اور دوسرا سخت قسم کا۔ اگر پہلی قسم کا رد عمل ہوتا ہے تو پھر بھارت کے لیے کوئی مسئلہ نہیں۔ بھلا کسی نرم سے رد عمل سے کیا فرق پڑ سکتا ہے؟ اگر عالمی رائے عامہ‘ بلکہ رائے عامہ کی کسے پروا ہے۔ اگر عالمی طاقتیں اس مسئلے پر بھنگ پی کر بیٹھی رہتی ہیں تو بھارت بھی سردائی پی کرمزے کرے گا۔ رہ گیا ہمارا رد عمل تو بھلا اسے اس کی کیا پروا ہوگی؟ احتجاج‘ بھارت کی بربادی کی دعا‘ جماعت اسلامی کا چار چھ شہروں میں جلوس‘ قومی اسمبلی کی قرارداد‘ چیئر مین سینیٹ کے ڈیڑھ سو ملکوں کے سربراہوں کو خطوط اور ہمارے نام نہاد دوستوں کی طرف سے باہمی بات چیت کا ہومیو پیتھک مشورہ۔ بھلا ان چیزوں سے بھارت پر کیا اثر ہوگا؟ کسی عرب ملک نے کم از کم ابھی تک تو کھل کر بھارت کی مذمت تک نہیں کی اور چین کے علاوہ (اس کی بھی علاقائی اور جغرافیائی وجوہات ہیں‘ چین کا رد عمل ہماری محبت کے پیش نظر ہرگز نہیں ہے) اور کسی قابل ِذکر ملک نے اس بھارتی اقدام کی نہ تو مذمت کی ہے اور نہ ہی کشمیریوں سے اظہارِ یکجہتی کا اعلان کیا ہے۔ رہ گیا اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کا بیان‘ تو اس کی اہمیت ''گونگلوئوں سے مٹی جھاڑنے سے بڑھ کر ہرگز نہیں ہے‘‘ لیکن ہمیں کسی اور سے کیا توقع ہو سکتی ہے؟ ہمارا تو اپنا رد عمل نہایت کمزور‘ پھوکا‘ بودا اور تیسرے درجے کا ہے‘کسی اور سے کیا گلہ کریں؟

بھارت ‘اقوام متحدہ کی قراردادوں کا منکر ہے۔ اس کا کسی نے کیا کر لیا ہے؟ تمام عالمی قوانین اور اصولوں کے برخلاف‘ بھارتی نے ہمارے تین دریائوں کا وہ پانی بھی روک لیا ہے‘ جو کسی دریا میں رہنے والی حیاتِ آبی کے لیے کم از کم درکار ہوتا ہے۔ کسی نے اس کا کیا بگاڑ لیا ہے؟ اس نے اپنے آئین کے منہ پر جوتا مار کر جموں و کشمیر کی اسمبلی کی جانب سے کسی ریزولیوشن آئے بغیر آرٹیکل 370 اور 35 اے ختم کر دیا۔ اس کی صحت پر کیا اثر پڑا ہے؟ آخر ہم معاہدوں کی‘ اخلاقیات کی اور ضمانتوں کی حرمت کے چکر میں کیوں پڑے ہوئے ہیں؟ اگر ہم بھارت کو واقعتاً کوئی سخت پیغام دینا چاہتے ہیں‘ اسے حقیقت میں اپنا رد عمل دینا چاہتے ہیں ‘تو فوری طور پر کم از کم یہ تین کام تو کرنے چاہئیں؛ پہلا یہ کہ بھارت کے لیے ہمیں اپنی فضائی حدود بند کر دینی چاہیے۔ دوسرا یہ کہ زمینی راستے سے بھارت کی افغانستان اور وسطی ایشیائی ریاستوں کے لیے سامان تجارت کی فراہمی روک دینی چاہیے اور اس نمک حرام ملک کی کھیوڑہ سے نمک کی سپلائی بند کر دینی چاہیے۔ معاہدے‘ ضمانتیں اور گارنٹیاں گئیں جہنم میں۔

اگر سخت رد عمل ہوتا ہے‘جو اس بھارتی اقدام پر دوسرا جواب ہو سکتا ہے تو بھارت کیا کرے گا؟ وہ یہ آرٹیکل بحال کر دے گا اور اس کے لیے اس کے پاس بڑا با عزت طریقہ ہے‘ جس سے سانپ بھی مر جائے گا اور لاٹھی بھی نہیں ٹوٹے گی۔ وہ یہ دونوں منسوخ شدہ آئینی آرٹیکلز اپنی سپریم کورٹ کے حکم پر بحال کر دے گا اور پوری دنیا سے اپنی آزاد عدلیہ اور حکومت کی جانب سے عدالتی فیصلے پر فوری عملدرآمد پر حکومتی تابعداری پر داد وصول کر لے گا۔ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کے دعوے پر ایک مہر ثبت کروائے گا‘ لیکن یہ بھی مفت نہیں ہوگا۔ وہ اس کے عوض کشمیر کا مسئلہ مستقل طور پر حل کرنے کی کوشش کرے گا اور کشمیر کی خصوصی حیثیت کی دوبارہ بحالی کے عوض دنیا بھر کو یہ باور کروائے گا کہ وہ کشمیر کو رعایت دیتے ہوئے ان کی وہی حیثیت بحال کر دے گا‘ جو بھارتی آئین میں اور کسی صوبے کو حاصل نہیں ‘لیکن اب یہ ٹنٹا ختم ہونا چاہیے۔ کشمیریوں کو ریاست جموں و کشمیر میں آئین کے آرٹیکل 370 اور 35 اے کے تحت وہی تحفظ دوبارہ مل رہا ہے‘ جو انہیں پہلے حاصل تھا‘ لیکن روز روز کی کھچ کھچ ختم کی جائے اور لائن آف کنٹرول کو مستقل اور بین الاقوامی سرحد تسلیم کر لیا جائے۔ امریکہ‘ بھارت‘ فرانس اور برطانیہ وغیرہ اس کی ہاں میں ہاں ملائیں گے۔ اس حالیہ فیصلے کی واپسی کے عوض بھارت کشمیر پر تسلط جما لے گا۔اس کا ''اٹوٹ انگ'' اس کا بین الاقوامی تسلیم شدہ حصہ بن جائے گا۔ مودی بہتر سالہ پرانا مسئلہ کشمیر اپنی مرضی کے مطابق‘ حل کروا کر ہیرو بن جائے گا۔ ہمارے حکمران بھارتی آئین کا حالیہ منسوخ شدہ آرٹیکل 370 اور 35 اے بحال کروا کر فاتح بن جائیں گے۔ سید علی گیلانی کی عشروں پر مشتمل جدوجہد اور کشمیریوں کے سر پر چھائی ہوئی سات عشروں پر محیط سیاہ رات ختم نہ ہوگی۔ فریقین اپنی اپنی فتح کے شادیانے بجائیں گے۔ ان شادیانوں کے درمیان کہیں ایک لاکھ سے زائد شہیدوں کے گھروں میں ایک بار پھر کہرام مچے گا اور لٹی ہوئی عصمتوں کے زخم ایک بار پھر تازہ ہوں گے۔ اس کے بعد کشمیر ہمارا مسئلہ نہیں رہے گا۔ بھارت کا خالص اندرونی مسئلہ بن جائے گا۔

آئیں اس امکانی صورتحال کا غم دُور کریں ۔ ہم تو آزاد ہیں۔ آئیں آزادی کا مزہ اٹھائیں۔ چودہ اگست والے دن محفلِ موسیقی سے لطف لیں اور موٹرسائیکلوں سے سائیلنسر نکال کر ہنگامہ ہائو ہو مچائیں۔ کشمیری جانیں اور سید علی گیلانی جانے۔ اگر ہم بہتر سال اس شہ رگ کے بغیر زندہ رہ سکتے ہیں تو آئندہ بھی زندہ رہ لیں گے۔ اپنی معاشی حالت بہتر کرتے ہیں۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */