ایک کشمیری کا درد بھرا شکوہ - سعد مقصود

پاکستان وہ لفظ ہے جس سے ہر کشمیری فطری طور پر محبت کرتا ہے، یہ اس کی گھٹی میں شامل ہوتا ہے، پاکستان زندہ باد کے نعروں میں وہ پروان چڑھتا ہے۔ پاکستان کے سبز ہلالی پرچم کو دیکھ کر ایک کشمیری کا سیروں خون بڑھتا ہے، اسے دیکھ کر اس کا جذبہ آزادی جوان ہوتا اور سڑکوں پر ابلنے لگتا ہے، اسی پرچم کو سینوں پر لپیٹے کشمیری نوجوان سڑکوں پر قابض بھارتی فوج پر پتھراؤ کرتے اور جوابا پیلٹ گنوں سے اپنی آنکھیں اور سیدھی گولیوں سے اپنی جانیں پاکستان پر نچھاور کرتے نظر آتے ہیں۔ اور یہ سلسلہ یہاں پر رکتا نہیں ہے، بلکہ ان کی وصیت ہوتی ہے کہ انھیں پاکستان کے پرچم میں دفنایا جائے۔ پاکستان سے محبت کے یہ ایسے انمول جذبات ہے، جنھیں اسلام آباد، کراچی، لاہور، پشاور، کوئٹہ اور ملتان میں بیٹھا کوئی پاکستانی بھی محسوس نہ کر سکے۔

آج اُس پاکستان کا یوم آزادی ہے۔ وہ پاکستان جس کا خواب برصغیر کے مسلمانوں نے ہندو اکثریت کے تسلط سے آزاد ایک اسلامی و فلاحی مملکت کے طور پر دیکھا تھا۔ جس کے بنانے کے لیے بلاشبہ کروڑوں لوگوں نے جدوجہد کی، لاکھوں نے جانوں کی قربانیاں دیں، لاکھوں نے اس سرزمین کو مقدس جان کر اس کی طرف ہجرت کی، ماؤں بہنوں کی عصمتوں کی صورت میں جس کا خراج وصول کیا گیا۔ وہ پاکستان جو ایک مسلسل جدوجہد اور لازوال صبر و استقامت کے نتیجے میں وجود میں آیا۔

آج اس پاک سرزمین کے یوم آزادی پر شکوہ کناں میں ایک کشمیری اپنا دُکھ اور اپنا درد الفاظ میں بیان کرنا چاہتا ہوں۔ وہ خطہ جسے کشمیر کہتے ہیں، وہ خطہ جسے قائداعظم نے پاکستان کی شہ رگ کہا، وہ خطہ جس میں 90 فیصد مسلمان بستے تھے، وہ خطہ جو قدرتی وسائل سے مالامال ہے، وہ قیام پاکستان کے 72 سال کے بعد بھی آزادی سے محروم ہے۔ وہ خطہ کشمیر آج پون صدی گزرنے کے بعد بھی پاکستان کی محبت میں لہو لہو ہے، الحاق پاکستان کے لیے اپنے جوانوں کا خون پیش کیے جا رہا ہے۔ اس کے باسیوں کی خوشیاں پاکستان کے ساتھ ہیں، آج بھی پاکستان کا کرکٹ میچ ہو اور پاکستان جیت جائے تو سری نگر کی گلیاں جشن سے جھوم اٹھتی ہیں، پاکستان زندہ باد کے نعروں اور پٹاخوں کی گونج وادی کی ہر گلی میں سنائی دیتی ہے۔ بھارتی جارحیت کے مقابلے میں ڈٹا وہ بزرگ سید علی گیلانی آج بھی واضح اور دوٹوک انداز میں کہتا ہے ہم پاکستانی ہیں پاکستان ہمارا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   میرے گھر میں آگ لگی ہے - موسیٰ مجاہد

تیری منڈی میری منڈی روالپنڈی روالپنڈی جیسے نعرے لگانے والی آوازیں آج شکوہ کناں ہیں۔ کیا اہل کشمیر پاکستان سے محبت کسی مال و دولت کی وجہ سے کرتے ہیں؟ کیا اہل کشمیر پاکستان کے ایٹم بم، میزائل پروگرام، ٹینکوں اور بڑی فوج کہ وجہ سے اُس سے محبت کرتے ہیں؟ کیا اہل کشمیر پاکستان سے مُحبت اُس کی سڑکوں کی وجہ سے کرتے ہیں؟

ہرگز ہرگز ایسا نہیں ہے۔ یہ سب چیزیں بھارت کے پاس پاکستان سے زیادہ ہیں۔ اہل کشمیر صرف اور صرف اسلام کی نسبت اور اسلام کے تعلق سے، پاکستان کے نظریاتی تشخص کی وجہ سے اس محبت کرتے ہیں، اس کا حصہ بننا چاہتے ہیں، ورنہ زمین کے ٹکڑے اور اُس کی خاک سے کون محبت کرتا ہے؟ لوگ ٹھوکر مار کر چلے جاتے ہیں۔

مگر افسوس صد افسوس! جب یہ سطریں میں نم آنکھوں سے لکھ رہا ہوں، تب بھارت اپنے آئین میں تبدیلی کے ذریعے مقبوضہ کشمیر کو اپنا حصہ بنا چکا ہے۔ کشمیری ظُلم اور تشدد کی چکی میں پس رہے ہیں، وادی کو جیل بنا دیا گیا ہے اور ایک ایک گھر محاصرے میں ہے۔ ویسے تو یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ کشمیری لاشیں پہلے بھی اٹھا رہے تھے اب بھی اُٹھا رہے ہیں، مگر دُکھ یہ ہے کہ ریاست پاکستان اور مقتتدر طبقے اہل کشمیر کو یہ پیغام دے رہے ہیں کہ ہم اب تمہارے ساتھ نہیں۔ وزیر خارجہ کہہ رہے ہیں کہ لوگ احمقوں کی جنت میں نہ رہیں۔ وزیر اعظم پوچھ رہے ہیں تو کیا میں انڈیا پر حملہ کر دوں؟ آرمی چیف فرماتے ہیں کہ ہم پُرامن حل چاہتے ہیں۔ ایٹمی مُلک کے اہم ترین ذمہ داران کے ان بیانات نے ہم جیسے پاکستان سے محبت کرنے والوں کو بیک فُٹ پر دھکیل دیا ہے۔ قوم پرستوں کے مؤقف کو تقویت دی ہے کہ کشمیر کی جنگ ہماری جنگ نہیں، تم خود لڑو خود مرو۔

یہ بھی پڑھیں:   بگرام جیل، میری یہی کوشش تھی کہ زندہ چھوڑ دیں

اس ساری صورتحال میں بحیثیت کشمیری مجھے اہل پاکستان سے کوئی شکوہ نہیں، اہل اقتدار سے ہے کہ وہ سید علی گیلانی کیا کرے گا؟ وہ آسیہ اندرابی کیا کرے گی؟ وہ کیسے نئی نسل کو پاکستان سے محبت کا درس دے گی؟

اہل کشمیر ان شاءاللہ آزادی کشمیر کے علاوہ کوئی حل قبول نہ کریں گے مگر، ایک دن حشر کا بھی ہوگا، تب تمام مقتدر طبقوں کے گریبان اور سید علی گیلانی سے لے کر مُجھ جیسے ہر مُحب وطن پاکستانی کشمیری کا ہاتھ ہوگا اور رب فیصلہ کرے گا ان شاءاللہ

پاکستان کا یوم آزادی ہر پاکستانی کو مبارک ہو۔ یہ دھرتی ہماری پہلی اور آخری محبت تھی اور رہے گی۔ ان شاءاللہ