دنگل - انجینئر عنایت خان

کشمیر سے اٹھنے والی درد بھری صدائیں آرام نہیں ہونے دیتیں، روز کوئی نیا تماشا دیکھنے کو ملتا ہے۔ ستم یہ ہے کہ ساری دنیا ایک مجسمہ بن کے کھڑی ہے۔ سلامتی کونسل سے لیکر تمام مسلم ممالک نے چپ سادھی ہوئی ہے۔ اگر ایک دو اسلامی ممالک بولے بھی ہیں تو صرف علامتی بیان کی حد تک۔ دوسروں سے کیا گلہ ہم نے خود کون سا تیر مار لیا، ہے، سوائے اس کے کہ کشمیریوں نے آج فلاں فلاں جگہ پہ انڈیا کے خلاف مظاہرہ کیا، جس میں آزادی کے نعروں کے ساتھ پاکستان کے پرچم بھی تھے۔ خدا کے بندو! وہاں قتل، ریپ، بھوک اور تشدد سے کشمیری آزادی کی قیمت چکا رہے ہیں، اور ہم اب بھی ٹس سے مس نہیں ہو رہے۔ ہم نے ابھی بھی اقوام متحدہ سے امیدیں باندھ رکھی ہیں اور اس آس پر بیھٹے ہیں کہ ٹرمپ نے ہمیں جو ثالثی کی پیشکش کرائی تھی، میدان میں کود کر ہمارے بھائیوں کی مدد کرے گا۔

ہمارے وزیر اعظم کو افغان طالبان کے ساتھ مذاکرات مسئلہ کشمیر سے مشروط قرار دینے چاہیے تھے، ایسا ہوتا تو آج نتائج یکسر مختلف ہوتے۔ ہمارے خارجہ پالیسی ۱۹۴۷ سے لیکر آج تک اشرفیہ کے ہاتھوں میں رہی، اس وقت وزیر خارجہ کو تمام ہمسایہ ممالک کے ساتھ روس، سعودیہ، یو اے ای، ترکی کو اعتماد میں لینا چاہیے تھا۔ بدقسمتی سے ہم اپنے شہ رگ کو خود کاٹ رہے ہیں۔

دوسری جانب رکن اسمبلی آزاد کشمیر محترمہ نسیمہ وانی صاحبہ نے آبدیدہ ہوکر افواج پاکستان سے اپیل کی ہے کہ کشمیریوں کے مدد کرے اور مؤقف اپنایا ہے کہ اگر انڈیا کے کشمیر میں فوج بھیجنے پر دنیا کچھ نہیں کہتی تو پھر پاکستانی فوج کی مدد پر دنیا کیوں شور مچائے گی؟ بہن ہماری ساری ہمدردیاں آپ کے ساتھ ہیں اور رہیں گی، لیکن اگر اپ کشمیر کے مسئلے پر آصف علی زرداری نے جوائنٹ سیشن سے جو خطاب کیا تھا، وہ سن لیتیں تو آپ کی ساری غلط فہمیاں دور ہو جاتیں، جس میں زرداری صاحب نے حکومت کو کہا کہ اگر آپ کے باڈی گارڈ پر حملہ ہوتا ہے تو وہ اپنا آپ بچانے کے لیے حملہ کرے گا لیکن اگر آپ اسے آرڈر دوگے تو وہ آپ کا حکم کبھی نہیں مانے گا۔

یہ بھی پڑھیں:   کشمیر کی بے بسی - افتخار گیلانی

روس نے بھی کشمیر کا حل دو حصوں میں تقسیم کی صورت میں بتایا ہے جبکہ چین بھی نالاں نظر آتا ہے۔ وہی چین جو کشمیر تو کیا حافظ سعید پر بھی ہر قرارداد ویٹو کرتا تھا۔ ہم نے امریکہ کے دورے سے پہلےحافظ سعید کو گرفتار کرکے سلامتی کونسل میں اسی چین کو شرمندہ کیا۔ کشمیر انڈیا اور پاکستان کا اکھاڑہ ہے اور اکھاڑے میں دنگل ہوتا ہے، مذاکرات نہیں۔ انڈیا یہ جانتے ہوئے اکھاڑے میں کود گیا ہے جبکہ ہم ابھی تک دعائیں کرنے پر اکتفا کیے ہوئے ہیں۔