کیا ہم کبھی قوم بن بھی پائیں گے ؟ - شبیر بونیری

قوم بننے کے لیے لمبی مسافت درکار ہوتی ہے، انسان سمجھ بوجھ والے ہوں تو تعاون، محبت اور مقصدیت مل کر اس مسافت کو آسان بنا دیتی ہے اور مختلف مشکل مراحل جب ایک ساتھ طے ہوجاتے ہیں تو پھر قوم میں بپھرے ہوئے ہجوم کو ہمیشہ حوصلہ شکن رویوں کا سامنا ہوتا ہے اور یہی کامیابی کی ضمانت ہوتی ہے جب بپھرے ہجوم اور شتر بےمہار انسانوں کو ہر طرف حوصلہ شکن حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ بدقسمتی سے یہ کہنے میں کوئی عار محسوس نہیں ہو رہی کہ خود کو اس بپھرے ہجوم کا حصہ گردانتا ہوں۔

اگر غلط کہا ہو تو ہزار دفعہ معافی کا طلب گار لیکن قوم کے بڑے جب چھوٹی چھوٹی باتوں پر پوری دنیا کے سامنے باہم دست و گریباں ہوجائیں اور یہ ثابت کرنے پر تل جائیں کہ گالیوں اور خرافات کا ذخیرہ ہماری مقدس ایوانوں کے اندر ان لوگوں کے پاس موجود ہوتا ہے. جن کو کروڑوں لوگ عزت دینے کی خاطر مہینوں در در کی دھکے کھاتے ہیں اور پھر کہیں جاکر جب ووٹ اور جمہوریت کا سٹیج ڈرامہ ختم ہوجاتا ہے تو ان پر معززین شہر کی چھاپ لگ جاتی ہے اور کمال تو دیکھئیے نا سیاسی پارٹیوں کے اس نام نہاد جمہوریت کا اس چھاپ کے لگتے ہی معزز ٹہرنے والا مشقت پر اتر آتا ہے تاکہ کسی نہ کسی طرح یہ ثابت کر ہی دیں کہ میں نہ کھبی معزز تھا ،نہ ہوں اور نہ کھبی بن سکتا ہوں ۔ میں کیسے خود کو ایک قوم کا حصہ گردانوں میرے اندر کا انسان سوال پوچھنے سے پہلے ہی جواب دے دیتا ہے کہ نہیں پہلے انسان بنو پھر قوم کا حصہ بننے کی کوشش کرو ۔ سوچا تھا کشمیر کے ایشو ہی پر سہی لیکن کم از کم ایک دو دن کے لئے ہم قوم تو بن جائیں گے لیکن ہوا کیا ؟ پوری دنیا کی بصارتوں نے جب سامنے دیکھا تو نام نہاد جمہوریت کے پیٹ میں پلنے والے جانور نما انسان ایک دوسرے کی ماں بہن یاد کرنے میں مصروف عمل نظر آئے ۔ میں نے تہیہ کیا تھا کہ آج تو لازم ہی خود کو یہ باور دلاکر ہی رہوں گا لیکن سامنے جب دیکھا تو اندر کا انسان میرا مزاق اڑا رہا تھا ۔ حیوان ہو تم کیسے قوم کا حصہ بننے کا خواب دیکھ رہے ہو ۔۔

یہ بھی پڑھیں:   سوشل میڈیا اور ہماری زندگی تحریر: محمد ارسلان رحمانی

ایک نے بے غیرت کہا دوسرے نے ماں باپ کی بے غیرتی یاد دلائی سلسلہ یہاں رکتا تو شاید بائیس کروڑ انسان کامیاب ہوہی جاتے خود کو قوم گرداننے میں لیکن جب سوشل میڈیا اور ذاتی بیٹھکوں میں لب کھولے گئے تو خرافات کی بارش چارسوں موجود تھی ۔ مایوسی اور بھی مظبوط بن گئی اندر کی آواز میں اس بار بلا کا جادو تھا یاد رکھ تم کھبی بھی ایک قوم نہیں بن سکتے کہ قوم بننے کے لئے اخلاقیات حد سے ذیادہ ضروری ہوتے ہیں لیکن تم تو بجائے اپنانے کے پاوں تلے روند کر اس کا جنازہ نکالنے پر تلے ہوئے ہیں ۔ دلاسہ خود کو دینے کا تماشہ خوب کرتے ہو کے مصداق ہم بھی دلاسوں ہی پر جی رہے ہیں اور اس امید پر کہ کھبی اس ملک کی خاطر ہمارا موقف بھی ایک بن ہی جائیگا ایک دن راہی عالم بقاء ہوجائیں گے ۔ اخلاقیات نے قوموں کو فرش سے عرش پر پہنچادیا ہے ۔ جب انفرادی اور اجتماعی سطح پر اخلاقیات لاگو ہوجاتے ہیں پھر چاہے عرب کا گلا سڑا معاشرہ ہو یا چکاچوند سے بھرا یورپ کا معاشرہ ترقی پاکر عزت ہی کماتا ہے ۔۔ میں چشم تصور میں یہی سوچ رہا ہوں کہ کب ہمارے اندر بھی اخلاقیات کا بھرم رکھنے والے پیدا ہوجائیں۔ یہ سوچ جب طول پکڑ لیتی ہے تو اندر سے پھر وہی آواز آجاتی ہے "تم کبھی قوم بن ہی نہیں سکتے" چار و ناچار میں خود سے پوچھ لیتا ہوں "کیا ہم کھبی قوم بن بھی پائیں گے"؟